Wednesday, 20 November, 2019
حکومتی فیصلے ملکی سلامتی کیلئے خطرہ بن چکے ہیں، کل جماعتی کانفرنس

حکومتی فیصلے ملکی سلامتی کیلئے خطرہ بن چکے ہیں، کل جماعتی کانفرنس

اسلام آباد ۔ جمعیت علمائے اسلام (ف) کی میزبانی میں اپوزیشن کی کثیرالجماعتی کانفرنس وفاقی دارالحکومت میں ہورہی ہے، جس میں بڑی جماعتیں مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے وفود نے شرکت کی۔ اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے ممکنہ طور پر حکومت مخالف احتجاجی تحریک کو ایک پلیٹ فارم سے شروع کرنے، بجٹ کی منظوری رکوانے اور دیگر امور پر تبادلہ خیال کرنے کے لیے کثیرالجماعتی کانفرنس منعقد ہوئی۔

بجٹ پر ووٹنگ کے عمل کے دوران اپنے اراکین قومی اسمبلی کی موجودگی یقینی بنانے کے نقطہ نظر کے ساتھ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) جے یو آئی ف کی میزبانی میں مقامی ہوٹل میں منعقد ہونے والی اس کانفرنس میں شرکت کی۔

کانفرنس میں مسلم لیگ (ن) کے وفد کی قیادت شہباز شریف جبکہ پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے شرکت کی۔

خیال رہے کہ کانفرنس سے قبل قومی اسمبلی میں متحدہ اپوزیشن جماعتوں کی پارلیمانی پارٹیوں کا اجلاس ہوا تھا، جس کی صدارت قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے کی، اس اجلاس میں چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری، مولانا اسعد محمود اور دیگر شریک ہوئے تھے، ان اجلاس میں بلاول بھٹو زرداری کا کثیر الجماعتی کانفرنس میں شرکت کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

کثیرالجماعتی کانفرنس میں عوامی نیشنل پارٹی، قومی وطن پارٹی، نیشنل پارٹی اور پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے رہنما بھی شریک ہیں، تاہم اپوزیشن بینچز پر بیٹھنے والی جماعت اسلامی نے پہلے ہی خود کو اس کثیر الجماعتی کانفرنس سے دور کرلیا تھا جبکہ اسی طرح حکومتی بینچوں پر بیٹھنے کے باوجود اپوزیشن اجلاسوں میں شریک رہنے والی بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) کانفرنس میں شرکت سے متعلق تذبذب کا شکار تھی، تاہم بعد ازاں انہوں نے اے پی سی میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

کانفرنس میں جو اہم رہنما شریک ہیں ان میں مسلم لیگ (ن) سے شہباز شریف، مریم نواز، شاہد خاقان عباسی، ایاز صادق اور راجا ظفر اللہ ہیں، پیپلزپارٹی کے اہم رہنماؤں میں یوسف رضا گیلانی، شیری رحمٰن، رضا ربانی، قمر زمان کائرہ، فرحت اللہ بابر ہیں، اس کے علاوہ عوامی نیشنل پارٹی سے اسفند یار ولی خان، میاں افتخار اور امیر حیدر خان ہوتی ہیں جبکہ نیشنل پارٹی سے ان کے صدر میر حاصل خان بزنجو، پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے چیئرمین محمود خان اچکزئی اور قومی وطن پارٹی کے چیئرمین آفتاب شیرپاؤ و دیگر شامل ہیں۔

میڈیاکے مطابق پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن نے آل پارٹیز کانفرنس میں اسمبلیوں سے استعفے کے بارے جمعیت علمائے اسلام کے امیر مولانا فضل الرحمان کی تجویز کی مخالفت کر دی ہے۔ میڈیا کے مطابق دونوں بڑی جماعتوں نے موقف اختیار کیا کہ اسمبلیوں سے استعفیٰ ملکی مسائل کا حل نہیں ہے، پارلیمنٹ سے باہر رہ کر اپنا موقف بہتر طریقے سے نہیں دے سکیں گے، پارلیمنٹ کے اندر اور پارلیمنٹ کے باہر موثر اور مشترکہ کردار ادا کرنا چاہیے۔

آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) کے مشترکہ اعلامیہ میں کہا گیا کہ پاکستان میں عوام کے نمائندہ حکمران موجود نہیں، نام نہاد حکمرانوں کا ٹولہ 2 جولائی 2018ء کے انتخابات میں بدترین دھاندلی کے بعد مسلط ہوا، ان انتخابات کو ملک کی تمام سیاسی جماعتیں مسترد کر چکی ہیں۔
 
اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ موجودہ حکومت کا ایجنڈا ملکی مفاد کے بجائے گھناؤنی سازش کا حصہ ہے، بیرونی ادائیگیوں کا دباؤ ملکی سلامتی کے لیے بڑا چیلنج ہے۔ حکومت 11 ماہ میں کارکردگی کے اعتبار سے اپنی نااہلی پر مہر ثبت کر چکی ہے۔
 
اجلاس کے بعد جاری اعلامیہ میں کہا گیا کہ اس سے قبل کہ ملک کسی سانحہ کا شکار ہو، ہمیں متفقہ بیانیہ پر متحد ہونا ہوگا۔ اے پی سی رہنماؤں نے ڈگمگاتی معیشت کو بچانے، ملکی سلامتی، سٹریٹجک اثاثے اور سی پیک جیسے منصوبوں کو دشمن قوتوں سے بچانے کے عزم کا اظہار کیا۔ اعلامیے میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ مذہبی معاملات کے حوالے سے اپنی غلطیوں پر قوم سے معافی مانگے۔

میڈیا کے مطابق اے پی سی کی اکثریتی جماعتوں نے چیئرمین سینیٹ کو ہٹانے پر اتفاق کر لیا ہے تاہم اس کے طریقہ کار پر مشاورت جاری ہے، اس کے علاوہ حکومت کے خلاف تحریک چلانے پر بھی اکثریتی جماعتوں نے اتفاق کیا ہے تاہم بلاول بھٹو زرداری نے تحریک چلانے کی تاحال حمایت نہیں کی، دیگر جماعتوں کی بلاول کو قائل کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔

چیئرمین سینیٹ کو ہٹانے کے لیے پہلے مرحلے میں قرارداد پیش کی جائے گی۔ نئے چیئرمین کے نام کے لیے کمیٹی کے قیام پر بھی اتفاق کر لیا گیا ہے۔ کمیٹی میں تمام اپوزیشن جماعتوں کے ارکان شامل ہونگے۔ اس کے علاوہ اے پی سی میں شامل جماعتوں نے 25 جولائی کو یوم سیاہ منانے پر اتفاق کر لیا ہے۔ 25 جولائی کو یوم سیاہ منانے کی تجویز مولانا فضل الرحمان نے دی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کسی بھی خبر سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ علاوہ ازیں آپ بھی اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر info@mubassir.com پر ای میل کر سکتے ہیں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  78594
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
وزیراعظم عمران خان نے حکومتی مذاکراتی ٹیم سے ملاقات میں کہا ہے کہ میں کسی بھی صورت میں اپنا استعفیٰ نہیں دوں گا، اگر شرط صرف استعفیٰ کی ہے تو پھر مذاکرات کا کیا فائدہ ہے؟ وزیردفاع پرویز خٹک کی سربراہی میں حکومتی مذاکرات
سابق وزیراعظم نوازشریف سروسز اسپتال سے ڈسچارج ہونے کے بعد جاتی امرا منتقل ہو گئے ہیں۔ سابق وزیراعظم نوازشریف سروسز اسپتال سے ڈسچارج ہونے کے بعد جاتی امرا پہنچے، سروسز اسپتال سے روانگی کے وقت نواز شریف اسپتال
پرویز خٹک نے حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے ارکان کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کو گرفتار کرنے کے بیان پر مولانا فضل الرحمن کے خلاف عدالت جانے کا فیصلہ کیا ہے، کل کی تقریروں پر افسوس ہوا، تیس چالیس
حکومت اور تاجروں کے درمیان مذاکرات کامیاب ہوگئے ہیں اور شناختی کارڈ کی شرط موخر کرنے پر اتفاق ہوگیا ہے۔ وفاقی وزارت خزانہ میں مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ اور مرکزی تنظیم تاجران کے وفد کے درمیان مذاکرات ہوئے جس میں معاہدہ طے پاگیا

مقبول ترین
سابق وزیراعظم کو گاڑی کے ذریعے جاتی امرا سے لاہور ایئر پورٹ کے حج ٹرمینل پہنچایا گیا، ایئر پورٹ پر کارکنان کی بڑی تعداد حج ٹرمینل کے باہر موجود تھی جنہوں نے نواز شریف کے حق میں نعرے بازی کی، نواز شریف کی گاڑی کے ساتھ
وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ عدلیہ طاقتور اور کمزور کےلیے الگ قانون کا تاثر ختم کرے۔ ہزارہ موٹروے فیز 2 منصوبے کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ پچھلے دنوں کنٹینر
لاہور ہائیکورٹ نے سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ ن کے قائد میاں محمد نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالتے کا حکم دیتے ہوئے انہیں 4 ہفتے کیلئے بیرون ملک جانے کی اجازت دیدی جبکہ عدالت کی طرف سے کوئی گارنٹی نہیں مانگی گئی۔
وفاقی دارالحکومت اسلام آباداور کراچی سمیت ملک کے مختلف شہروں میں جمعیت علماء اسلام (ف) کے کارکنوں نے دھرنے دے کر سڑکیں بلاک کردیں۔ مولانا فضل الرحمان کے آزادی مارچ کے ’پلان بی‘ کے تحت ملک بھر میں دھرنوں کا سلسلہ

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں