Thursday, 14 November, 2019
سانحہ وزیرستان: وزیراعظم کو جواب دینا ہو گا، خواجہ آصف

سانحہ وزیرستان: وزیراعظم کو جواب دینا ہو گا، خواجہ آصف

اسلام آباد ۔ مسلم لیگ ن کے رہنما خواجہ آصف نے کہا ہے کہ کل شمالی وزیرستان میں پیش آنے والے افسوسناک واقعے پر وزیراعظم، وزیر داخلہ اور وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سے جواب دیں۔

اسپیکر اسد قیصر کی سربراہی میں ہونے والے قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ ہم نے امن کے لیے بڑی قربانیاں دی ہیں، کل شمالی وزیرستان میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا، کہا جا رہا ہے کہ اس واقعے میں ہمارے ایوان کا ایک رکن گرفتار اور دوسرا مفرور ہے، ہمیں اس معاملے کو سنجیدگی سے لینا ہو گا۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم نے 70 سال سے قبائلی علاقوں کے مسائل کے حل پر توجہ نہیں دی لیکن اب تو فاٹا خیبر پختونخوا کا حصہ بن چکا ہے، بالکل اسی طرح جس طرح سے پشاور، مردان اور ڈیرہ اسماعیل خان کے پی کے کا حصہ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کل کے واقعے پر وزیراعظم اور وزیر داخلہ کو جواب دینا چاہیے، وزیراعلیٰ کے پی کے کو اس حوالے سے بولنا چاہیے۔

رہنما ن لیگ کا کہنا تھا کہ بویہ واقعے کی تحقیقات کے لیے کمیٹی بنائی جائے جس میں کے پی کے سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو شامل کیا جائے اور ہم سب کو ان کے مسائل کے حل کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔

حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ ملک میں معاشی بحران روز بڑھتا ہی جا رہا ہے، اس وقت جو لوگ ملک کی معیشت چلا رہے ہیں ان کا تعلق کسی پارٹی سے نہیں ہے، وہ بیگ لیکر آئے ہیں اور بیگ لیکر چلے جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کو وزیر خزانہ نہیں ملا تو انہیں لیز پر لینا پڑا، اتنا دیوالیہ پن کسی اور جماعت میں نہیں جتنا پی ٹی آئی میں ہے، موجودہ وزیر خزانہ مشرف دور اور پیپلز پارٹی کے دور میں بھی رہا، کوئی نیا بندہ تو لے آتے۔

ان کا کہنا تھا کہ سابق وزیر خزانہ بڑے تکبر اور رعونت کے ساتھ اسمبلی میں بات کرتے تھے، جس طرح سے سابق وزیر خزانہ کو نکالا گیا کسی سیاسی کارکن کی اس سے زیادہ تذلیل نہیں ہو سکتی۔

خواجہ آصف نے کہا کہ پی ٹی آئی کے اندر لوگ عمران خان کو تبدیل کرنے کے لیے تیار بیٹھے ہیں۔ انہوں نے اپوزیشن بینچوں پر بیٹھے اراکین سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ کیا آپ لوگوں کو نہیں معلوم؟ انہوں نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی کے ان لوگوں کے نام نہیں لے رہا لیکن ان لوگوں کے نام تو اسپیکر صاحب کو بھی پتہ ہیں۔

اسپیکر قومی اسمبلی نے خواجہ آصف کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ مجھے کیا پتہ ہے؟ مجھے کسی کا نام نہیں پتہ، جس پر ایوان میں قہقہے گونج اٹھے۔

فواد چوہدری کے حوالے سے بات کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ میرے بھائی سے اہم وزارت لیکر ایک غیر منتخب شخص کو وزیر بنا دیا گیا ہے اور میرے بھائی کو بتی کے پیچھے لگا دیا ہے۔

خواجہ آصف نے کہا کہ فواد چوہدری جب سے وزارت سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں آئے ہیں اچھی باتیں کر رہے ہیں، مجھے یقین ہے کہ اگر انہیں دریا کی لہریں گننے پر بھی لگا دیا جائے تو وہ وہاں بھی کوئی کام نکال لیں گے، ان کے اس جملے پر بھی ایوان قہقہوں سے گونج اٹھا۔

چیئرمین نیب کے مبینہ انٹرویو کے حوالے سے اظہار خیال کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ چیئرمین نیب کے معاملے پر حکومت نے شرمناک کردار ادا کیا، حکومت چیئرمین نیب کو بلیک میل کرنا چاہتی ہے۔

رہنما ن لیگ نے کہا کہ اپنے زر خرید چینلز کے ذریعے تشہیر کرتے ہیں، جب آپ لوگوں کی عزتیں نیلام کرتے ہیں تو آپ کی عزت بھی محفوظ نہیں رہتی۔

خواجہ آصف نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتیں نیب کی زد میں ہیں، نیب قوانین کی وجہ سے نواز شریف زد میں ہیں، خواجہ سعد رفیق حراست میں رہے، ان کا بھائی بھی زیر حراست ہے، آصف زرداری، شرجیل میمن، سراج درانی بھی نیب قوانین کی زد میں ہیں۔

انہوں نے چیئرمین نیب کے انٹرویو سے متعلق خصوصی پارلیمانی ٹیم تشکیل دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ معاملے کی چھان بین کر کے دودھ کا دودھ پانی کا پانی کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے اپنے لوگوں کو بچانے کے لیے نیب قوانین میں کچھ ترامیم تجویز کیں، حکومت شخصی بنیادوں پر نیب قوانین میں ترمیم چاہتی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کسی بھی خبر سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ علاوہ ازیں آپ بھی اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر info@mubassir.com پر ای میل کر سکتے ہیں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  90800
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
وزیراعظم عمران خان نے کرتار پور راہداری اور دنیا کے سب سے بڑے گوردوارے دربار صاحب کا افتتاح کردیا۔ کرتار پور راہداری کے افتتاح کے موقع پر سکھ مت کے بانی بابا گرونانک دیو جی کے 550 ویں جنم دن کی تقریبات میں شرکت کے
وزیراعظم عمران خان نے حکومتی مذاکراتی ٹیم سے ملاقات میں کہا ہے کہ میں کسی بھی صورت میں اپنا استعفیٰ نہیں دوں گا، اگر شرط صرف استعفیٰ کی ہے تو پھر مذاکرات کا کیا فائدہ ہے؟ وزیردفاع پرویز خٹک کی سربراہی میں حکومتی مذاکرات
وزیر اعظم عمران خان نے ایک بار پھر ملک میں کرپشن کرنے والے افراد کو این آر او دینے کی سختی سے نفی کر دی۔ ملک میں کرپشن کرنے والوں کے خلاف وزیر اعظم عمران خان نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے فیس بک بیان میں لکھا کہ
جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ موجودہ حکمرانوں کو ملک کے غریب عوام کیساتھ کھیلنے کی مزید اجازت نہیں دی جا سکتی، بہت مہلت دیدی، اب انھیں جانا ہوگا۔

مقبول ترین
وزیراعظم عمران خان نے کرتار پور راہداری اور دنیا کے سب سے بڑے گوردوارے دربار صاحب کا افتتاح کردیا۔ کرتار پور راہداری کے افتتاح کے موقع پر سکھ مت کے بانی بابا گرونانک دیو جی کے 550 ویں جنم دن کی تقریبات میں شرکت کے
بھارتی سپریم کورٹ نے بابری مسجد کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے مرکزی حکومت کو حکم دیا کہ 3 سے 4 ماہ کے اندر اسکیم تشکیل دے کر زمین کو مندر کی تعمیر کے لئے ہندووں کے حوالے کرے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق چیف جسٹس رنجن
وزیراعظم عمران خان نے حکومتی مذاکراتی ٹیم سے ملاقات میں کہا ہے کہ میں کسی بھی صورت میں اپنا استعفیٰ نہیں دوں گا، اگر شرط صرف استعفیٰ کی ہے تو پھر مذاکرات کا کیا فائدہ ہے؟ وزیردفاع پرویز خٹک کی سربراہی میں حکومتی مذاکرات
رہبر کمیٹی کے رکن اور رہنما جے یو آئی (ف) اکرم درانی کا کہنا ہے کہ آزادی مارچ 2 روز کے بعد نیا رخ اختیار کرے گا۔ اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران اپوزیشن رہبر کمیٹی کے رکن اکرم درانی کا کہنا تھا کہ افسوس ہے موسم کے حوالے

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں