Friday, 06 March, 2026
دنیا مودی کے نفرت انگیز بیانات کا نوٹس لے، پاکستان

دنیا مودی کے نفرت انگیز بیانات کا نوٹس لے، پاکستان

اسلام آباد - پاکستان نے بھارتی وزیراعظم کے گجرات میں دئیے گئے حالیہ بیان کا سخت نوٹس لیا ہے اور کہا ہے کہ ایک ایٹمی ملک کے وزیراعظم سے اس طرح کے بیان کی توقع نہیں تھی۔

ترجمان دفتر خارجہ کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا کہ پاکستان نے وزیر اعظم نریندر مودی کے حالیہ بیان کا نوٹس لیتے ہوئے کہا ہے کہ جوہری اسلحہ رکھنے والی ریاست کے رہنما کی حیثیت سے بھارتی وزیر اعظم سے سنجیدگی کی توقع کی جانی چاہیے۔

بیان میں کہا گیا کہ لیکن انہوں نے اس کی بجائےگجرات میں ریلی سے اپنے خطاب میں پھر ڈرامہ بازی کی ، بھارتی وزیر اعظم کی طرف سے اس موقع پر تشدد پر ابھارنے کا نفرت انگیز بیان نہ صرف اپنے مواد بلکہ اس وجہ سے بھی تشویشناک ہے کہ یہ خطے میں پہلے سے موجود عدم استحکام کی صورت حال میں ایک اور خطرناک مثال ہے۔

بھارتی قیادت کی طرف سے سنجیدگی اور معقولیت سے تسلسل کے ساتھ گریز افسوسناک ہے۔ عالمی برادری بھارت کی طرف سےاشتعال انگیز بیان بازی میں اضافے ، علاقائی استحکام اور دیرپا امن کے امکانات کو نقصان پہنچانے کا سنجیدگی سے نوٹس لے۔

بیان میں بھارتی وزیر اعظم کے اشتعال انگیز بیان پر سخت رد عمل کا اظہار کرتے ہوئےاسے انتخابی مہم کے دوران ماری گئی بڑھک قرار دیا گیا ہے۔

ترجمان نے کہا کہ جوہری ہتھیار رکھنے والی ریاست کے رہنما سے اس کی توقع نہیں کی جاسکتی۔ بھارتی وزیراعظم کے بیان میں نفرت پر مبنی تشدد کی دعوت انتہائی تشویشناک ہے کیونکہ خطے میں صورتحال پہلے سے ہی خطرناک ہے۔

ترجمان نے کہا کہ اس طرح کے بیانات اقوام متحدہ کے چارٹر کے بنیادی اصولوں کی صریح خلاف ورزی ہیں جو رکن ممالک کو تنازعات کو پرامن طریقے سے حل کرنے اور دوسری ریاستوں کی خودمختاری یا سیاسی آزادی کے خلاف دھمکی یا طاقت کے استعمال سے باز رہنے کا پابند کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان بھارتی وزیر اعظم کے اس بیان کو ایک اشتعال انگیزی کے طور پر دیکھتا ہے جس کا مقصد بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں و کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور آبادیاتی انجینئرنگ سے توجہ ہٹانا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ اقوام متحدہ کے قیام امن میں سرکردہ شراکت دار کے طور پر پاکستان کا ریکارڈ اور انسداد دہشت گردی کی عالمی کوششوں میں اس کا مسلسل تعاون کسی بھی مخالف آواز سے زیادہ بلند ہے۔

ترجمان نے کہا کہ اگر انتہا پسندی واقعتاً بھارتی حکومت کے لئے تشویش کا باعث ہے تو یہ بہتر ہو گا کہ وہ اس بات کا جائزہ لے کہ بھارت میں محض اکثریت پسندی(کثرت تعداد کی بنیاد پر فیصلوں کے رجحان )، مذہبی عدم برداشت اور سفاکانہ ہندوتوا نظریے کے تحت اقلیتوں کو منظم طریقے سے نشانہ بنایا جارہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان باہمی احترام اور خودمختار مساوات پر مبنی امن کے لئے پرعزم ہے، تاہم اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے مطابق وہ اپنی سلامتی یا علاقائی سالمیت کے لئے کسی بھی خطرے کا مقابلہ مضبوط اور متناسب اقدامات کے ساتھ کرے گا۔

ترجمان نے کہا کہ عالمی برادری کو بھارت کی بڑھتی ہوئی بیان بازی کا سنجیدگی سے نوٹس لینا چاہیے کیونکہ یہ علاقائی استحکام اور دیرپا امن کے امکانات کے لئے نقصان دہ ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کسی بھی خبر سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ علاوہ ازیں آپ بھی اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر info@mubassir.com پر ای میل کر سکتے ہیں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  16592
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
پاکستانی آرمی چیف سے وائٹ ہاؤس میں اہم ملاقات کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات اعزاز ہے، ان کا شکریہ کہ وہ جنگ کی طرف نہیں گئے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان اور امریکا کے تعلقات نئے دور میں داخل ہورہے ہیں اور دونوں ممالک تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہیں۔ اسلام آباد میں امریکی سفارتخانے میں یوم آزادی کی تقریب
فیلڈمارشل نے آپریشن بنیانِ مرصوص کے شہدا کو خراجِ عقیدت، لواحقین سے یکجہتی کا اظہار کیا اور کہا کہ قومی قیادت کے تحت پاکستان کے عوام مادرِ وطن کے دفاع کیلئے فولادی دیوار بن گئے۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر کا کہنا تھا کہ یہ اعزاز پوری قوم، افواجِ پاکستان، خاص کر سول اور ملٹری شہداء اور غازیوں کے نام وقف کرتا ہوں، صدر پاکستان، وزیرِ اعظم اور کابینہ کے اعتماد کا شکر گزار ہوں۔

مقبول ترین
پاکستانی آرمی چیف سے وائٹ ہاؤس میں اہم ملاقات کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات اعزاز ہے، ان کا شکریہ کہ وہ جنگ کی طرف نہیں گئے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کو دو ہفتے قبل بات کرنی چاہیئے تھی، اب بہت تاخیر ہوچکی ہے۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق میڈیا سے گفتگو میں امریکی صدر نے واضح کیا ک ایران کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران کو سرنڈر کرنے کے انتباہ کو مسترد کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایران کبھی سرنڈر نہیں کرے گا۔
ایران نے اسرائیل کے دارالحکومت تل ابیب اور حیفہ شہر پر چوتھی بار بیلسٹک میزائل اور ڈرون داغے، جس کے نتیجے میں اسرائیل میں سائرن بجنے لگے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق، حیفہ کے رمات ڈیوٹ ایئر بیس کو نشانہ بنایا گیا۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں