Monday, 16 December, 2019
شہباز کبھی لندن کی عدالت نہیں جائیں گے، شہزاد اکبر

شہباز کبھی لندن کی عدالت نہیں جائیں گے، شہزاد اکبر

اسلام آباد ۔ وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر نے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ وہ برطانوی اخبار ڈیلی میل میں شائع خبر پر ان کے خلاف لندن کی عدالت نہیں جائیں گے۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے شہزاد اکبر نے کہا کہ 14 جولائی کو ڈیلی میل نے خبر شائع کی جس کا بنیادی مضمون یہ تھا کہ اربوں ڈالر کی منی لانڈرنگ ہوئی جس میں برطانیہ کی سرزمین بھی استعمال ہوئی۔

شہزاد اکبر نے کہا کہ اس کرپشن میں شہباز شریف کے داماد کو ایرا کی فنڈنگ کے منصوبے سے براہ راست ادائیگیاں بھی کی گئیں۔

معاون خصوصی کا کہنا تھا کہ خبر شائع ہونے کے بعد شہباز شریف اور مسلم لیگ(ن) کی ترجمان نے پریس کانفرنسز کیں اور قوم سے وعدہ کیا کہ وہ لندن کی عدالتوں میں ڈیلی میل، وزیراعظم عمران خان اور میرے خلاف قانونی چارہ جوئی کریں گے۔

اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ شہباز شریف نے ڈیڑھ گھنٹہ طویل پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ ’ ڈیلی میل کی خبر غلط ہے، زلزلہ 2005 میں آیا تھا اور وہ اس وقت میں جلا وطن تھے تو وہ پیسے کیسے چوری کرتا لہذا میں اس خبر کے خلاف برطانیہ کی عدالت میں جارہا ہوں اور شہزاد اکبر پر بھی مقدمہ کروں گا‘، بعد ازاں میں نے شہباز شریف سے وعدہ لیا تھا کہ ’ انہوں نے مجھ پر ضرور مقدمہ کرنا ہے اور میں تمام ثبوت عدالت میں پیش کروں گا‘۔

معاون خصوصی نے کہا کہ 25 جولائی کو شہباز شریف نے برطانیہ کی عدالت میں مقدمہ دائر کرنے کا دعویٰ کیا جبکہ ’ لا فرم کی پریس ریلیز میں لکھا ہے کہ پاکستان کے اپوزیشن لیڈر نے سیاست زدہ کیس سے متعلق باضابطہ شکایت کی ہے‘۔

پریس کانفرنس میں شہزاد اکبر نے کہا کہ برطانوی اخبار کو 4 صفحات پر مشتمل کی گئی شکایت میں شہباز شریف نے کہا کہ موقف دینے کا موقع نہیں دیا، رپورٹنگ عوام کے مفاد میں نہیں تھی، ان 4 صفحات پر مشتمل شکایت میں شہباز شریف نے خبر میں عائد ایک بھی الزام کو مسترد نہیں کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ میں نے چیلنج دیا تھا کہ مجھے عدالت میں لے جائیں میں تمام ثبوت پیش کروں گا، شاید وہ ان کے اس دعوے سے ڈر گئے ہیں۔

شہزاد اکبر نے کہا کہ 25 جولائی کو ڈیلی میل کے خلاف مقدمے کا نام نہاد دعویٰ کیا گیا جبکہ اصل میں صرف اخبار کو شکایت کی گئی ہے، لہٰذا اگر شہباز شریف سچے ہیں تو عدالت میں جائیں۔

معاون خصوصی نے کہا کہ شہباز شریف نے دوسرا دعویٰ کیا تھا کہ شہزاد اکبر کو عدالت میں لے کر جائیں گے کیونکہ بقول شہباز شریف کے ان کے خلاف خبر کروائی گئی، اگر ایسی بات ہے تو میرے خلاف مقدمہ کریں۔

ان کا کہنا تھا کہ ڈیلی میل کا صحافی آج بھی اپنی خبر پر قائم ہے، اس کہانی کا کردار آفتاب محمود لاہور جیل میں ہے۔

شہزاد اکبر نے کہا کہ مجھے یقین ہے کہ شہباز شریف میرے خلاف عدالت سے رجوع نہیں کریں گے اور اگر مجھ پر مقدمہ نہیں کریں گے تو میں وعدہ کرتا ہوں کہ میں خود برطانیہ کی عدالت میں جاؤں گا اور شہباز شریف کی کرپشن کے تمام ثبوت پیش کروں گا، اس خبر میں جو ثبوت پیش کیے گئے وہ صرف 5 فیصد ہے باقی 95 فیصد ثبوت میرے پاس ہیں۔

اس موقع پر سابق وزیراعظم نواز شریف کے معاون خصوصی عرفان صدیقی کو ہتھکڑی لگا کر عدالت میں پیش کرنے سے متعلق سوال کے جواب میں شہزاد اکبر کا کہنا تھا کہ یہ اسلام آباد پولیس کا معاملہ ہے اور جب یہ واقعہ رپورٹ ہوا تو وزیراعظم نے بھی ہتھکڑی لگانے کا نوٹس لیا۔

معاون خصوصی نے کہا کہ میں نہیں سمجھتا کہ ہتھکڑی لگانے پر پیشہ معنی رکھتا ہے بلکہ ان کی عمر زیادہ اہم ہے کیونکہ وہ بزرگ شخص ہیں اور وہ کہیں نہیں جارہے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارے یہاں اس طرح کی چیزیں ہوتی رہتی ہیں، میں اتفاق کرتا ہوں کہ اس کی انکوائری ہونی چاہیے اور جو لوگ اس میں ملوث ہیں ان کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کسی بھی خبر سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ علاوہ ازیں آپ بھی اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر info@mubassir.com پر ای میل کر سکتے ہیں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  17135
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
وزیراعظم آفس کی جانب سے جاری بیان کے مطابق پی ایس ڈی پی پلس کے تحت مختلف منصوبوں پر عمل درآمد پورے ملک میں ہوگا جب کہ پروگرام جائزے کے لئے تمام وزارتوں کو بھیج دیا گیا ہے، حکومتی ترقیاتی منصوبوں میں نجی شعبے
چیف جسٹس پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ کا کہنا ہے کہ لاہور میں پیش آنے والا واقعہ افسوس ناک اور قابل مذمت ہے۔ سپریم کورٹ میں فوری اور سستے انصاف کی فراہمی سے متعلق قومی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس
پولیس نے پنجاب انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (پی آئی سی) پر حملے میں ملوث وزیراعظم عمران خان کے بھانجے حسان خان نیازی کی گرفتاری کے لیے ان کے گھر پر چھاپا مارا۔ دو روز قبل لاہور میں دل کے اسپتال پر ہونے والے وکلاء کے حملے میں
پنجاب انسٹیٹوٹ آف کارڈیالوجی (پی آئی سی) پر حملے کے الزام میں گرفتار وکلاء کی رہائی کے لیے سماعت کرنے والا دو رکنی بینچ تحلیل ہو گیا۔ لاہور ہائیکورٹ میں پی آئی سی میں ہنگامہ آرائی کرنے والے وکلاء کی گرفتاری کے خلاف

مقبول ترین
16 دسمبر 1971ء پاکستان کی تاریخ کا سب سے المناک، عبرتناک اور ہولناک دن تھا۔ جب پاکستانی فوج کے ایک بزدل اور بے غیرت جرنیل نے ڈھاکا کے ریس کورس گرائونڈ میں اپنے بھارتی ہم منصب کے آگے سرنڈر کرتے ہوئے
بھارت میں مسلم مخالف متنازع قانون کے خلاف احتجاج وسیع اور پرتشدد ہوگیا ہے جس کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد 6ہوگئی ہے جس میں ایک طالب علم بھی شامل ہے جو پولیس کی فائرنگ کانشانہ بنا۔احتجاج کے چوتھے روز دارالحکومت
16 دسمبر سال 2014ء کا روز، تاریخ میں سیاہ ترین دن کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ جب سفاک دہشت گردوں نے پشاور کے آرمی پبلک اسکول میں وحشت اور بربریت کی انتہا کر دی اور 149 گھروں میں صف ماتم بچھا دی گئی۔
معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ اگر لاڑکانہ میں بھٹو زندہ ہے تو غریب مر چکے ہیں۔ بلاول نے کرپشن سے اپنا رشتہ ابھی تک نہیں توڑا۔ پیپلز پارٹی نے بھٹو کے نظریے کو ختم کر دیا ہے۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں