Monday, 27 September, 2021
امریکہ افغانستان میں بری طرح پھنس چکا ہے، عمران خان

امریکہ افغانستان میں بری طرح پھنس چکا ہے، عمران خان

اسلام آباد - وزیراعظم عمران خان نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ افغانستان کے معاملے پر پاکستان پر بہت بڑا پریشر آئے گا، ہم دباؤ میں آنے کے بجائے عوام کی بہتری کے لیے فیصلے کریں گے۔ وزیراعظم نے یہ بات اسلام آباد میں اپنے زیر صدارت حکومتی رہنماؤں کے ایک اہم اجلاس سے خطاب میں کہی۔ لیڈرشپ کا تقاضا ہے کہ دباؤ برداشت کرنے کی صلاحیت ہونی چاہیے۔ مشکل فیصلے کرنے پھر ان پر کھڑا ہونا ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس کے دوران ہم نے مشکل فیصلے کیے، جن کے بہتر نتائج سامنے آئے۔ انسان کوشش کرکے تو ناممکن کو ممکن بنا سکتا ہے۔ ہم نے ایک نظریے کی بنیاد پر سیاست کا آغاز کیا، آج تحریک انصاف ملک کی سب سے بڑی جماعت بن چکی ہے۔

 

عمران خان نے کہا کہ ہم میں اور اپوزیشن میں نظریے کا فرق ہے، ہم نظریے پر کھڑے رہے تو کبھی ناکام نہیں ہونگے۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں حکومت کی تین سالہ کارکردگی رپورٹ پر تجاویز طلب کی گئیں۔ اجلاس کے دوران 18 اگست کو حکومت کی تین سالہ کارکردگی رپورٹ جاری کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ حکومت 40 لاکھ افراد کو غربت سے نکالنے کا کامیاب پاکستان منصوبہ لانچ کرنے جا رہی ہے۔ وزیراعظم کے زیر صدارت اجلاس میں لوگوں کو کامیاب پاکستان منصوبے کی آگاہی دینے کے لیے مہم چلانے کا فیصلہ بھی کیا گیا، اس موقع پر زراعت کے شعبے میں اصلاحات پر ترجمانوں کو بریفنگ دی گئی۔

 

اس سے قبل وزیراعظم عمران خان نے امریکی نشریاتی ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ میرے خیال میں امریکا افغانستان میں بُرے طریقے سے پھنس چکا ہے، امریکا نے پہلے تنازع کو فوجی انداز میں حل کرنے کی کوشش کی، افغان مسئلے کا کوئی فوجی حل نہیں، افغان تاریخ کا ادارک رکھنے والے بھی کہتے رہے یہ کوئی حل نہیں، جب میں نے کہا افغان مسئلے کا کوئی فوجی حل نہیں تو مجھے طالبان خان کہا گیا، میں نہیں جانتا افغان جنگ کا کیا مقصد تھا۔

 

عمران خان کا کہنا تھا کہ اب پاکستان کا موقف بالکل واضح ہے، اب ہمارا ملک کسی محاذ آرائی کا متحمل نہیں ہوسکتا، جب پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ شروع کی تو خودکش حملے ہو رہے تھے، خود کش حملوں سے تجارت اور سیاحت کے شعبے متاثر ہوئے، اب ہم کسی تصادم کا حصہ نہیں بننا چاہتے، امریکا کو اڈے دینے سے پاکستان دہشت گردی کا نشانہ بنے گا، پاکستان امن میں شراکت دار ہے۔

 

وزیراعظم نے کہا کہ پاک امریکا تعلقات میں ہمیشہ کوئی رخنہ رہا ہے، امریکا نے ہمیشہ اس بات پر اصرار کیا ہم آپ کو امداد دے رہے ہیں، پاکستان کو اس جنگ میں استعمال کیا گیا، پاکستان یہ محسوس کرتا تھا کہ ہمارا اس جنگ سے کوئی تعلق واسطہ نہیں، کوئی ایسا ملک ہے جس نے کسی دوسرے ملک کے لیے 70 ہزار جاںیں دی ہوں، پاکستان سمجھتا ہے ہم امریکا کی جنگ لڑ کر اپنی معیشت کا نقصان کر رہے ہیں، جو امریکی امداد ہے وہ ہمارے نقصان سے کہیں زیادہ کم ہے، افغانستان میں اپنی ناکامیوں کا الزام بھی ہمیں دیا جا رہا ہے۔

 

عمران خان نے مزید کہا کہ بدقسمتی سے امریکا اور نیٹو افواج مذاکرات کی صلاحیت کھو بیٹھے ہیں، جب ڈیڑھ لاکھ فورسز تھیں تب افغان مسئلے کا سیاسی حل نکالا جانا چاہیے تھا، امریکا نے افغانستان سے انخلا کی تاریخ دی تو طالبان سمجھے وہ جیت چکے ہیں، اب طالبان کو سیاسی حل کیلئے مجبور کرنا مشکل ہے وہ خود کو فاتح سمجھتے ہیں، جب اشرف غنی صدارتی الیکشن لڑ رہے تھے اس وقت امریکا اور طالبان کی بات چیت ہو رہی تھی، پاکستان نے امریکا اور طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے میں اہم کردار ادا کیا، جس کا اعتراف امریکی نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد نے بھی کیا۔

 

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ صورتحال کے مطابق اشرف غنی کو صدارتی الیکشن نہیں لڑنا چاہیے تھا، اشرف غنی کو الیکشن منسوخ کر کے سب کو سیاسی دھارے میں لانا چاہیے تھا، اشرف غنی نے صدر بننے کے بعد طالبان کو مذاکرات کی دعوت دی، طالبان نے اسی وجہ سے مذاکرات سے انکار کر دیا تھا، طالبان امریکا اور افغان لیڈرز سے بات چیت کیلئے تیار تھے اشرف غنی سے نہیں، اسی وجہ سے مذاکرات ڈیڈ لاک کا شکار ہوتے رہے، افغان مسئلے کا سیاسی حل نکالا جانا چاہیے۔

 

عمران خان نے کہا کہ افغانستان میں ایسی حکومت ہونی چاہیے جس میں تمام فریق شامل ہوں، افغانستان میں طویل خانہ جنگی ہوئی تو پاکستان پر دوہرے اثرات کا خدشہ ہے، 30 لاکھ افغان مہاجرین پہلے سے موجود ہیں اور بھی آجائیں گے، پاکستان کی معیشت مزید مہاجرین کا بوجھ نہیں اٹھا سکتی، خانہ جنگی پاکستان میں داخل ہوسکتی ہے یہاں بھی کثیر تعداد میں پشتون ہیں، پشتون اس خانہ جنگی کا شکار ہوسکتے ہیں لیکن ہم ایسا کبھی نہیں چاہیں گے، اس جنگ سے پہلے القاعدہ افغانستان میں تھی، پاکستان میں کوئی عسکریت پسند طالبان نہیں تھے۔

 

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ نائن الیون میں کوئی پاکستانی ملوث نہیں تھا، پاکستان نے امریکا کے ساتھ اس جنگ میں شریک ہو کر اپنی تباہی کی، جس جنگ سے ہمارا تعلق نہیں تھا اس میں 70 ہزار پاکستانی شہید ہوئے، اس جنگ میں ہماری معیشت کو 150 ارب ڈالر کا نقصان ہوا، سویت یونین کے خلاف بھی امریکا نے گروپس تیار کیے، ان کی فنڈنگ کی گئی اور کہا گیا دہشت گردی کے خلاف جنگ ہے، 50 مختلف گروپس نے پاکستان کی سیکیورٹی فورسز کو نشانہ بنانا شروع کر دیا۔

 

عمران خان نے کہا کہ امریکا اور نیٹو اپنی شکست کا ذمہ دار ہمیں ٹھہرا رہے ہیں، میرے خیال میں یہ نا انصافی کی انتہا ہے، 10 ہزار جہادی افغانستان میں داخل ہوئے یہ ناقابل فہم ہے، افغانستان کے پاس اگر شواہد ہیں تو ہمارے حوالے کرے، محفوظ پناگاہوں کی بات کرنے والے بتائیں کہاں ہیں پناہ گاہیں، پاکستان میں 30 لاکھ افغان مہاجرین کیمپوں میں موجود ہیں، اگروہاں کوئی ایسے عناصر موجود ہیں تو کیسے علیحدہ کرسکتے ہیں ؟ ہم توکہہ رہے ہیں افغانستان اپنے مہاجرین کو واپس لے جائے، افغانستان میں 40 سال سے خانہ جنگی ہے، افغانستان میں ایسی صورتحال نہیں کہ مہاجرین واپس جاسکیں، افغان مہاجرین پاکستان کی معیشت پر بوجھ ہیں، اگر ان میں طالبان کی حمایت کرنے والے ہیں تو یہ ہم کیسے جان سکتے ہیں۔

 

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان 1500 میل طویل سرحد ہے، سارا علاقہ پہاڑی ہے اسے ڈیورنڈ لائن کہتے ہیں، برطانوی راج میں اسی وجہ سے دونوں اطراف سے قبائل تقسیم ہوئے، اب پاکستان نے الزامات ختم کرنے کے لیے سرحد پر باڑ لگائی، پاکستان نے پہلی بار خطیر رقم خرچ کر کے باڑ لگائی، پاک افغان سرحد پر باڑ لگانے کا کام 90 فیصد مکمل ہوچکا، اب یہاں ایک مکمل سرحد بن رہی ہے جو پہلے نہیں تھی۔

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کسی بھی خبر سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ علاوہ ازیں آپ بھی اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر info@mubassir.com پر ای میل کر سکتے ہیں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  32455
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
وزیراعظم نے کورونا کے دوران چینی تعاون اورویکسین کی فراہمی پرشکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور چین آئرن برادرز ہیں، دشمن قوتوں کو پاک چین تعلقات کو کمزور کرنے کی اجازت نہیں دیں گے، سی پیک خطے میں تبدیلی کےلیے بہترین منصوبہ ہے، پاکستان اورچین سی پیک کی بروقت تکمیل کےلیے مل کر کام جاری رکھیں گے۔
ملی یکجہتی کونسل میں تسلسل کے ساتھ کھلواڑ کیا جارہاہے اور ہائی جیک کرنے کی کوشش کی جارہی ہے یہ غیر دستوری عمل ناقابل قبول ہے ، ترجمان اسلامی تحریک دستور میں عہدوں کا تقرر صدر کرے گااور اس کے بعد مجلس قائدین سے منظوری لے گالیکن اعلامیہ میں کھلواڑ نقطہ عروج پر پہنچ گیا
وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ملک کو آگے بڑھانے کے لیے ایکسپورٹ کو بڑھانا ہوگا۔ پاکستان اگر ایٹمی قوت بن سکتا ہے تو چھوٹی چھوٹی چیزیں کیوں نہیں بنا سکتا؟وزیراعظم عمران خان کا اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب میں کہنا تھا کہ روٹی، کپڑا اور مکان کی بات ہوتی تھی لیکن اس پر کبھی عملی کام نہیں ہوا۔ 40 فی
صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ بھارت افغانستان میں ہمیشہ سے تخریب کار کا کردار ادا کرتا رہا ہے کیونکہ وہ پاکستان کے بارے میں غلط فہمیاں پیدا کرنا چاہتا ہے۔ صدر عارف علوی نے اس امر کا اظہار کیا کہ تمام افغان دھڑے اتفاق رائے سے اپنے مسائل پُرامن طریقے سے حل کریں گے

مقبول ترین
نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم کے بعد انگلینڈ کرکٹ ٹیم کا دورہ پاکستان بھی منسوخ ہوگیا۔ نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم کی جانب سے سیکیورٹی وجوہات کو جواز بناکر اچانک دورہ پاکستان ختم کردیا گیا تھا اور اب آئندہ ماہ انگلینڈ کی میزبانی کی امیدوں پر بھی پانی پھر گیا۔
طالبان نے کابل فتح کرنے کے چار دن بعد افغانستان میں اسلامی حکومت تشکیل دینے کا اعلان کردیا۔ روسی نیوز چینل ’’آر ٹی‘‘ کی انگریزی ویب سائٹ کے مطابق افغانستان میں اسلامی حکومت یعنی امارتِ اسلامی قائم کرنے کا اعلان، افغان طالبان کے ترجمان
افغانستان کی حکومت نے طالبان کے سامنے سرنڈر کر دیا ہے۔ غیر ملکی میڈٰیا کا کہنا ہے کہ صدر اشرف غنی اپنی ٹیم کے ہمراہ ملک چھوڑ کر جا چکے ہیں۔ خبریں ہیں کہ ملک چھوڑنے سے قبل صدر اشرف غنی نے امریکی
افغانستان میں طالبان تیزی سے شہروں کا کنٹرول حاصل کرنے لگے،19 صوبائی دارالحکومتوں پر قبضہ کر لیا، ہرات کے بعد قندھار اور لشکر گاہ کا بھی کنٹرول حاصل کر لیا ،ہرات میں طالبان سے بر سرپیکار ملیشیا کمانڈر اسماعیل خان، گورنر ہرات اور صوبائی پولیس چیف کو طالبان نے گرفتار کر لیا۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں