Friday, 13 March, 2026
سیرینا عیسیٰ کو سماعت کا پورا حق نہیں دیا گیا، سپریم کورٹ

سیرینا عیسیٰ کو سماعت کا پورا حق نہیں دیا گیا، سپریم کورٹ

اسلام آباد - سپریم کورٹ نےجسٹس قاضی فائز عیسیٰ نظرثانی کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کردیا۔ سپریم کورٹ نے کیس کا مختصر فیصلہ 26 اپریل 2021 کو سنایا تھا اور عدالت نے 9 ماہ 2 دن بعد نظر ثانی درخواستوں کا تحریری فیصلہ جاری کیا جس میں جسٹس یحییٰ آفریدی نے اضافی نوٹ تحریر کیا ہے جب کہ فیصلہ 45 صفحات پر مشتمل ہے۔

عدالت عظمیٰ کے 10 رکنی لارجربینچ نےچھ چارکے تناسب سے سرینا عیسیٰ کے حق میں فیصلہ سنایا اور عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہےکہ جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کی اہلیہ سریناعیسیٰ کی نظرثانی درخواستیں اکثریت سے منظور کی جاتی ہیں۔

فیصلے میں کہا گیا ہےکہ فیصلہ واضح الفاظ سے سنایا جاتا ہےکہ اس عدالت کےجج سمیت کوئی قانون سے بالاترنہیں، کوئی بھی چاہے وہ اس عدالت کاجج کیوں نہ ہو اسے قانونی حق سے محروم نہیں کیاجاسکتا، ہر شہری اپنی زندگی، آزادی، ساکھ اور جائیداد سے متعلق قانون کے مطابق سلوک کاحق رکھتا ہے جب کہ آئین کے آرٹیکل9 سے 28 ہر شہری کے بنیادی حقوق کا تحفظ کرتے ہیں۔

فیصلے میں مزید کہا گیا ہےکہ عدلیہ کا احتساب ضروری ہے لیکن قانون کے مطابق ہونا چاہیے، کھلی عدالت شیشےکےگھر جیسی ہے، ججزبڑوں بڑوں کےخلاف کھل کر فیصلے دیتے ہیں۔

فیصلے میں کہا گیا ہےکہ سرینا عیسیٰ سے بیان میں معاملہ ایف بی آر بھیجنے کا نہیں پوچھا گیا تھا، سرینا عیسیٰ کو اہم ترین معاملے پر سماعت کا پوراحق نہیں دیاگیا، آئین کے تحت شفاف ٹرائل ہرخاص وعام کابنیادی حق ہے لہٰذا صرف جج کی اہلیہ ہونے پر سرینا عیسیٰ کو آئینی حقوق سے محروم نہیں کیا جاسکتا، قانون کےمطابق فیصلوں سےہی عوام کا عدلیہ پر اعتماد بڑھےگا۔

تحریری فیصلے میں کہا گیا ہےکہ جسٹس فائز عیسیٰ نے کہا کہ ان کی اہلیہ کے آزادانہ ٹیکس معاملات میں انہیں مورد الزام نہیں ٹھہرایا جاسکتا، سرینا عیسیٰ اور ان کے بچے عام شہری ہیں، ان کے ٹیکس کا 184/3 سے کوئی تعلق نہیں جب کہ سرینا عیسیٰ کے ٹیکس کا کیس سپریم جوڈیشل کونسل نہیں بھیجا جاسکتا، سپریم جوڈیشل کونسل کا دائرہ اختیار صرف ججز تک محدود ہے، عدالتی فیصلےمیں کہا گیا تھاجوڈیشل کونسل کی کارروائی پرایف بی آرکے خلاف اپیل اثر انداز نہیں ہوگی، ایسابھی ممکن تھا، چیئرمین ایف بی آرکی رپورٹ پر جسٹس فائز عیسیٰ برطرف ہوجاتے، جج کی برطرفی کے بعدایف بی آرکیخلاف اپیل سرینا عیسیٰ کےحق میں بھی آسکتی تھی، برطرفی کے بعد اپیل میں کامیابی کا فیصلہ ہونے تک جسٹس فائز عیسیٰ ریٹائر ہوچکے ہوتے، ایسا بھی ممکن تھا کہ سپریم جوڈیشل کونسل ایف بی آر رپورٹ تسلیم نہ کرتی۔

فیصلے میں کہا گیا ہےکہ ازخودنوٹس لینے کی ہدایت دینا سپریم جوڈیشل کونسل کی آزادی کے خلاف ہے، آئین کے تحت سرکاری افسران ججز کےخلاف شکایت درج نہیں کرا سکتے، چیئرمین ایف بی آرکی رپورٹ دراصل جسٹس فائز عیسیٰ کےخلاف شکایت ہی تھی، سپریم کورٹ کی جانب سے ایف بی آر کو تحقیقات کا حکم دینا غلط تھا، ججزکےخلاف کارروائی صدرپاکستان کی سفارش پرسپریم جوڈیشل کونسل کرسکتی ہے۔

فیصلے میں مزید کہا گیا ہےکہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور ان کے اہلخانہ کاٹیکس ریکارڈ غیر قانونی طریقے سےاکٹھا کیا گیا، مرکزی کیس میں بھی جسٹس قاضی فائز اور ان کی اہلیہ کا مکمل مؤقف نہیں سنا گیاتھا۔ عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہےکہ کسی ایک جج کےخلاف کارروائی سے پوری عدلیہ کی آزادی پر سوال اٹھتا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کسی بھی خبر سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ علاوہ ازیں آپ بھی اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر info@mubassir.com پر ای میل کر سکتے ہیں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  10266
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
وزیر اعظم میاں شہباز شریف نے قوم سے خطاب میں کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں اِس وقت جنگ کا ماحول ہے، بدقسمتی سے پورے خطے میں اِس وقت شدید کشیدگی ہے، اِن حملوں اور انسانی جانوں کے ضیاع کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہوں۔
کویٹہ میں جرگہ سے خطاب کرتے ہوئے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا کہ بھارتی پراکسی وار اب چھپی نہیں بلکہ کھلی جارحیت میں تبدیل ہو چکی ہے، دشمن کی ہر سازش کو ناکام بنائیں گے، چاہے اندرونی ہو یا بیرونی۔
چیف آف آرمی سٹاف سید عاصم منیر کو ’بیٹن آف فیلڈ مارشل‘ سے نواز دیا گیا۔ آرمی چیف سید عاصم منیر کو ’بیٹن آف فیلڈ مارشل‘ دینے کی تقریب ایوان صدر اسلام آباد میں ہوئی، تقریب میں صدر مملکت آصف علی
خضدار میں زیرو پوائنٹ کے قریب اسکول بس کو دھماکے سے نشانہ بنایا گیا جس میں 3 طالبات سمیت 5 افراد شہید اور متعدد زخمی ہو گئے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق بلوچستان کےعلاقےخضدار میں اسکول

مقبول ترین
وزیراعظم شہباز شریف نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات کی جس میں خطے کی موجودہ صورتحال اور باہمی تعاون کے امور پر گفتگو کی گئی۔
صدر مملکت نے وزیراعظم کی ایڈوائس پر آئین کے آرٹیکل 48 اور 101 کے تحت منظوری دی۔ صدر مملکت نے نہال ہاشمی کو گورنر سندھ تعینات ہونے پر مبارکباد اور نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔
ایران کے نئے سپریم لیڈر سید مجتبیٰ خامنہ ای نے منصب سنبھالنے کے بعد اپنا پہلا آڈیو پیغام جاری کرتے ہوئے مشرقِ وسطیٰ میں موجود تمام امریکی فوجی اڈوں کو فوری طور پر بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ اگر یہ اڈے بند نہ کیے گئے تو ان پر حملے کیے جائیں گے۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے ایران کی جانب سے خلیجی ممالک پر کیے گئے حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے ایک قرارداد بھاری اکثریت سے منظور کرلی۔ قرارداد کے حق میں 13 ارکان نے ووٹ دیا جبکہ چین اور روس ووٹنگ کے دوران غیر حاضر رہے۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں