Wednesday, 18 September, 2019
اسحاق ڈار کی بذریعہ اشتہار طلبی کا نوٹس آویزاں

اسحاق ڈار کی بذریعہ اشتہار طلبی کا نوٹس آویزاں

اسلام آباد ۔ اسلام آباد کی احتساب عدالت نے آمدن سے زائد اثاثہ جات ریفرنس میں مسلم لیگ (ن) کے رہنما اورسابق وفاقی وزیرخزانہ اسحاق ڈارکی مسلسل عدم پیشی پر انہیں اشتہاری قرار دینے کیلئے کارروائی کا آغاز ہو گیا ہے۔احتساب عدالت نے اسحاق ڈار کی طلبی کا اشتہار عدالتی نوٹس بورڈ اور انکی رہائشگاہوں کے باہر آویزاں کر کے دس روز میں پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔ نوٹس احتساب عدالت کے جج محمد بشیر کے دستخط سے ساتھ جاری کیا گیا ہے

تفصیلات کے مطابق آمدن سے زائد اثاثہ جات ریفرنس میں سابق وزیر خزانہ کی طلبی کا اشتہار عدالتی نوٹس بورڈ اور انکی اسلام آباد اور لاہور کی رہائشگاہوں کے باہر آویزاں کر دیا گیا ہے۔ نوٹس کے مطابق اسحاق ڈار کو دس روز میں عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا گیا ہے۔ نوٹس احتساب عدالت کے جج محمد بشیر کے دستخط سے ساتھ جاری کیا گیا ہے۔ عدم پیشی کی صورت میں سابق وزیر خزانہ کو اشتہاری ملزم قرار دیا جائے گا۔

دوسری جانب احتساب عدالت میں اسحاق ڈار کی 50 لاکھ روپے کی ضمانت ضبطی سے متعلق سماعت ہوئی، تاہم سابق وزیر خزانہ کے وکیل اور ضامن عدالت میں پیش نہیں ہوئے جس کے باعث عدالت نے اسحاق ڈار کے ضامن اور وکیل کے آنے تک سماعت میں وقفہ کردیا ہے۔

بعد ازاں اسحاق ڈار کے ضامن احمد علی قدوسی عدالت کے روبرو پیش ہوئے تو انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ اسحاق ڈار ملک میں نہیں اس لئے پیش کرنے کے لئے وقت دیا جائے۔ اس موقع پر نیب پراسیکیوٹر عمران شفیق نے کہا کہ ملزم پیش کرنے کے لئے ضامن کو پہلے ہی کافی وقت دیا جا چکا ہے اور 4 مرتبہ نوٹسز بھی جاری کئے گئے ہیں۔

ضامن احمد علی قدوسی نے عدالت کو بتایا کہ اسحاق ڈار کی انجیو گرافی ہو چکی ہے، اور اب رپورٹس کا انتظار ہے تاہم ان کا پتہ کرنے خود بھی برطانیہ جا رہا ہوں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اسحاق ڈار کے پہلے بھی 2 دفعہ اسٹنٹ ڈالے جا چکے ہیں جس پر نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ کوئی ملزم کے اسٹنٹس لیک اور کوئی شریانیں لیک ہونے کا بتاتا ہے۔

اس موقع پر ضامن نے کہا کہ اسحاق ڈار کی وطن واپسی کے لئے 3 سے 4 ہفتے درکار ہیں۔
عدالت نے دلائل سننے کے بعد اسحاق ڈار کے ضامن کو ملزم پیش کرنے کا آخری موقع دیتے ہوئے سماعت چار دسمبر تک کے لئے ملتوی کردی۔

واضح رہے کہ احتساب عدالت نے وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی حاضری سے استثنی کی درخواست مسترد کرتے ہوئے ان کے قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری برقرار رکھے ہیں ۔اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج محمد بشیر اسحاق ڈار کے خلاف اثاثہ جات ریفرنس کی آئندہ سماعت 4 دسمبر کو کریں گے جب کہ فاضل جج نے اسحاق ڈار کے ضامن کو جواب داخل کرانے کے لیے آج طلب کر رکھا ہے۔

واضح رہے اسحاق ڈار بطور ملزم اب تک 7 مرتبہ عدالت کے سامنے پیش ہوئےجبکہ 5 سماعتوں پر وہ غیر حاضر رہے ہیں۔ اب تک 5 گواہوں نے اپنے بیانات قلمبند کرائے، تین پر جرح مکمل کر لی گئی۔ 14 نومبر کو عدم حاضری پر عدالت نے استثنیٰ کی درخواست مسترد کرتے ہوئے نا قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کئے تھے جبکہ 21 نومبر کو عدالت نے سابق وزیر خزانہ کو مفرور قرار دیدیا تھا۔

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  45608
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
سپریم کورٹ نے پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رہنماء اور سابق صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن کی ضمانت کی درخواست پر قومی احتساب بیورو (نیب) کو نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت جنوری کے پہلے ہفتے تک ملتوی کردی تاہم اس کی حتمی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا۔
سپریم کورٹ نے عدالتی حکم کے باوجود ڈاکٹرعاصم کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) سے نہ نکالنے پر سیکرٹری داخلہ کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کردیا ہے جبکہ کیس کی مزید سماعت آئندہ منگل تک کیلئے ملتوی کردی ہے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے فیض آباد انٹر چینج پر مذہبی جماعتوں کا جاری دھرنا ختم کرنے کے عدالتی احکامات پرعمل درآمد کے بجائے ٹال مٹول کرنے پر وزیر داخلہ احسن اقبال کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر طلب کرلیا ہے۔ جبکہ کیس کی سماعت 27 نومبر پیر تک کیلئے ملتوی کردی گئی ہے۔
عدالت نے اٹارنی جنرل کو دھرنے والوں کی کھانے پینے کی سپلائی لائن منقطع کرنے اور ان کے بینک اکاؤنٹس منجمند کرنے کی ہدایت جاری کردی ہے۔ عدالت نے اپنے ریمارکس میں کہا ہے کہ پہلے سے اطلاع کے باوجود پنجاب حکومت نے دھرنا روکنے کے لئے اقدامات نہیں کئے،

مقبول ترین
قومی احتساب بیورو نے پیپلزپارٹی کے اہم رہنما خورشید شاہ کو اسلام آباد سے گرفتار کرلیا۔ ترجمان نیب کے مطابق پیپلزپارٹی کے رہنما خورشید شاہ کو گرفتار کرلیا گیا، خورشید شاہ کو سرکاری پلاٹوں پر قبضے، آمدن سے زائد اثاثوں کے الزام میں گرفتار
امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی تیل تنصیبات پر حملہ کرنے والوں کے ساتھ جنگ نہ کرنے عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہم جنگ نہیں چاہتے اور نہ ہی کبھی امریکا نے سعودی عرب سے اس کی حفاظت کرنے کا وعدہ نہیں کیا۔ برطانوی خبر
وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ پہلی مرتبہ احتساب کا عمل سیاسی مداخلت سے آزاد ہے لہذا کوئی ڈیل نہیں ہوگی۔ وزیراعظم عمران خان سے بابر اعوان نے ملاقات کی جس میں حکومت کے آئینی اور قانونی معاملات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا
وفاقی حکومت کی معاشی ٹیم نے نیشنل بینک آف پاکستان (این بی پی) اور اسٹیٹ لائف انشورنس کی نجکاری کا اشارہ دے دیا۔ وزیراعظم عمران خان کے مشیر برائے خزانہ ڈاکٹر حفیظ شیخ اور چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) شبر زیدی

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں