Monday, 21 October, 2019
انتظار تمام ہوا:اردو کے نامور ادیب انتظار حسین وفات پاگئے

انتظار تمام ہوا:اردو کے نامور ادیب انتظار حسین وفات پاگئے
سپیشل اسائنمنٹس ڈیسک

 

اسلام آباد۔اردو کے عالمی شہرت یافتہ ادیب انتظار حسین وفات پاگئے ہیں۔و ہ کچھ دن سے علیل تھے۔
انتظار حسین پاکستان کے پہلے ادیب تھے جن کا نام مین بکر پرائز کے لیے شارٹ لسٹ کیا گیا تھا ۔ انھیں حکومت پاکستان نے ستارہ امتیاز اور اکادمی ادبیات پاکستان نے پاکستان کے سب سے بڑ ے ادبی اعزاز کمال فن ایوارڈ سے نوازا تھا ۔
 انتظار حسین 21 دسمبر 1923کو میرٹھ ضلع بلند شہر میں پیدا ہوئے تھے۔میرٹھ کالج سے بی اے کیا اورقیام پاکستان کے بعد لاہور میں قیام پذیر ہوئے جہاں پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے اردو کرنے کے بعدوہ صحافت کے شعبے سے وابستہ ہوگئے۔ ان کا پہلا افسانوی مجموعہ گلی کوچے  1954میں شائع ہوا۔ روزنامہ مشرق میں طویل عرصے تک چھپنے والے کالم لاہور نامہ کو بہت شہرت ملی۔ اس کے علاوہ ریڈیو میں بھی کالم نگاری کرتے رہے۔ افسانہ نگاری اور ناول نگاری میں ان کو ایک خاص مقام حاصل ہے۔
انتظار حسین اردو افسانے کا ایک معتبر نام تھے۔تصانیف میں آخری آدمی، شہر افسوس،آگے سمندر ہے، بستی، چاند گہن، گلی کوچے، کچھوے، خالی پنجرہ ،خیمے سے دور، دن اور داستان، علامتوں کا زوال، بوند بوند،شہرزاد کے نام، زمیں اور فلک اور، چراغوں کا دھواں،دلی تھا جس کا نام،جستجو کیا ہے ، قطرے میں دریاجنم کہانیاں، قصے کہانیاں،شکستہ ستون پر دھوپ ،سعید کی پراسرار زندگی، کے نام سر فہرست ہیں ۔
ۖاکادمی ادبیات پاکستان کے صدر نشین ڈاکٹر محمد قاسم بگھیو نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا ہے کہ انتظار حسین ادب کی ایک صدی تھے،ان کے انتقال سے اردو ادب یتیم ہوگیاہے۔وہ پاکستانی ادبی لیجنڈ کی حیثیت رکھتے تھے۔انہوںنے کہا کہ اکادمی ادبیات پاکستان انتظارحسین ادبی ریفرنس کا انعقاد کررہی ہے۔یہ ریفرنس 9فروری کو شام 4بجے اکادمی کے کانفرنس ہال میں منعقد ہوگا۔

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  37278
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
وزیر اعظم پاکستان کے مشیر برائے قومی تاریخ و ادبی ور ثہ عرفان صدیقی نے اکادمی ادبیات پاکستان کے زیر اہتمام عہد ساز افسانہ نگار انتظار حسین کی یاد میں منعقدہ ریفرنس کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے اس ایوارڈ کا اعلان کیا

مقبول ترین
وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ یہ پہلی اسمبلی ہے جو’ڈیزل‘ کے بغیر چل رہی ہے اگر فضل الرحمان کے لوگ میرٹ پر ہوئے تو انہیں بھی قرضے دیے جائیں گے۔ وزیراعظم عمران خان نے نوجوانوں کے لیے ’کامیاب جوان پروگرام‘ کا افتتاح کردیا ہے۔
وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت تحریک انصاف کی کورکمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں پنجاب اور خیبر پختونخوا کے وزرائے اعلیٰ اورتین گورنرز نے شرکت کی۔ حکومت نے مولانا فضل الرحمان سے مذاکرات کے لیے کمیٹی بنانے کا فیصلہ کیا ہے
اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے فواد چوہدری نے کہا کہ نوکریاں حکومت نہیں نجی سیکٹر دیتا ہے یہ نہیں کہ ہر شخص سرکاری نوکر ی ڈھونڈے ، حکومت تو 400 محکمے ختم کررہی ہے مگرلوگوں کا اس بات پر زور ہے کہ حکومت نوکریاں دے۔
وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ پاکستان خطے میں امن اور استحکام کے لئے اپنا کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔ ایرانی صدر سے ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ایرانی صدر حسن روحانی نے کہا کہ پاکستان اور

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں