Monday, 21 October, 2019
حکومت پاکستان کی طرف سے انتظار حسین ادبی ایوارڈ کااعلان،ہرسال دیا جائے گا

حکومت پاکستان کی طرف سے انتظار حسین ادبی ایوارڈ کااعلان،ہرسال دیا جائے گا
سپیشل اسائنمنٹس ڈیسک

 


اسلام آباد۔ حکومت پاکستان کی طرف سے انتظار حسین کی ادبی خدمات کے اعترف میں ''انتظارحسین ایوارڈ'' کا اعلان کیا گیاہے جو ہر سال دیا جائے گا اور اس کی رقم بھی خاصی معقول ہوگی۔ 
 وزیر اعظم پاکستان کے مشیر برائے قومی تاریخ و ادبی ور ثہ عرفان صدیقی نے اکادمی ادبیات پاکستان کے زیر اہتمام عہد ساز افسانہ نگار انتظار حسین کی یاد میں  منعقدہ ریفرنس کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے اس ایوارڈ کا اعلان کیا ۔ وہ اس تقریب کے مہمان ِ خصوصی تھے۔صدارت کشور ناہید نے کی۔
 ڈاکٹر محمد قاسم بگھیو،چیئرمین ، اکادمی ادبیات پاکستان، پروفیسر فتح ملک ملک، محمد حمید شاہد، مضمر علی سید،استقبال مہدی، انور زاہدی، علی اکبر عباس، پروفیسر قیصرہ علوی، ڈاکٹر احسان اکبر،پروفیسر جلیل عالی اور دیگر نے اظہار خیال کیا۔ نظامت انجم خلیق نے کی۔ 
عرفان صدیقی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انتظار حسین خوبصورت قلمکار ہونے کے ساتھ ساتھ اچھے انسان بھی تھے۔ ان کی رحلت سے جو ادبی خلا پیدا ہوا وہ اتنی آسانی سے پُر نہیں ہو سکے گا اس کے لیے ہمیں ایک اور انتظار حسین کا طویل انتظار کرنا پڑے گا۔ انہوںنے کہا کہ جنوبی ایشیا میں افسانہ ایک اہم صنف سمجھا جاتا ہے اور اس حوالے سے انتظار حسین سر فہرست افسانہ نگار تھے، جو ماحول، کیفیت ، فضا ، لفظ اور داستانوی اسلوب انتظار حسین کے ہاں ہے اس کا کہیں اور تک شائبہ تک نظر نہیں آتا۔ انہوں نے اپنا اسلوب خود استوار کیا جو کمال کی بات ہے ، فکشن میں اپنی شناخت اور مقام بنانا کافی مشکل ہوتا ہے۔ اُن کا اگر کوئی پیرا گراف اُن کے کسی افسانے سے نکال کر پڑھا جائے تو پتا چلتا ہے کہ یہ تحریر انتظار حسین کی ہو سکتی ہے۔ انتظار حسین کی بیمار ی کے دوران میں نے اور چیئرمین اکادمی نے اُن کے علاج معالجے کے لیے اپنے طور پر کوششیں کیں، وزیر اعلیٰ پنجاب نے بھی اس سلسلے میں تعاون کیا لیکن موت کا ایک دن معین ہوتا ہے اس لیے وہ ہم سے ہمیشہ کے لیے جدا ہوگئے ۔ انتظار حسین اپنی سوچ اور نظریات کے حوالے سے آنے والے دور میں بھی زندہ رہیں گے۔

اسی بارے میں :انتظا رتمام ہوا:اردو کے نامور ادیب انتظار حسین وفات پاگئے

کشور ناہید نے کہا کہ انتظار حسین ، ہمیشہ یہ بات کہتے تھے کہ ہم مذہبی انتہا پسندوں کے گھیرے میں ہیں ، دوسری طرف خواتین شاعرات ہمارا دفاع کرر ہی ہیں۔ وہ ظلم کے زمانے کو برداشت نہیں کرسکتے تھے۔ اُن سے پچاس سالہ رشتے کو بیان کرنا اس مختصر وقت میں ممکن نہیں ۔ اُن کے حوالے سے لکھنے کی خواہش رہے گی لیکن کیا میں اُن کی طرح لکھ سکوں گی۔ 
عطاء الحق قاسمی نے اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ انتظار حسین نے بھر پور زندگی گزاری اور ہمیں بہت کچھ دے کر رخصت ہوئے۔ وہ سچے اور کھرے مسلمان اور پاکستانی تھے۔ وہ اچھے قلمکار ہونے کے ساتھ ساتھ اچھے انسان بھی تھے۔
اکادمی کے صدر نشین ڈاکٹر محمد قاسم بگھیو نے کہا کہ انتظار حسین نے اردو ادب کو ایک نیا رنگ اور اسلوب دیاا ور شناخت اور اسلوب ہی باقی رہنے والی چیزیں ہیں۔ انہوں نے صحافت کے ساتھ ساتھ ادب میں بھی ایک مقام بنایااور بھر پور زندگی گزاری۔ انہوں نے ادب کے میدان میں نوجوان لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی اور پذیرائی کی۔ وہ نئے اسلوب اور روایتوں کی وجہ سے تاریخ کا حصہ بن گئے ۔ 
پروفیسر فتح محمد ملک نے کہا کہ انتظار حسین ہمارے درمیان موجودنہیں لیکن ادبی اور روحانی سطح پر ہمارے ساتھ ہیں۔ ان کی شاہکار ادبی تصنیفات ہر نسل کے ادیبوں کے لیے فیضان کاباعث ہوں گی۔
 محمد حمید شاہد نے کہا کہ انتظار حسین خالص اردو تہذیب کا آخری نمائندہ تھے۔ خوبصورت ادبی نثر میں تہذیبی رچائو کے ساتھ انہوں نے ماضی کو مستقبل کا حصہ بنایا۔
علی اکبر عباس نے کہا کہ انتظارحسین کی تخلیقات کی کلید ہجرت ہے۔ اُن کا ماضی کبھی ماضی نہیں بن سکا کیونکہ وہ اسے بسر کر رہے تھے اور آخری وقت تک اُسی میں سرشار رہے۔
قیصرہ علوی نے اس موقع پر اپنی بیٹی کا مضمون پڑھ کر سنایا۔ انہوں نے کہا کہ سائرہ علوی انشاء اللہ اسلام آباد کے علاوہ امریکہ میں بھی میں انتظار حسین میموریل لیکچر کا انتظا م کرے گی ا
 پروفیسر جلیل عالی نے کہا کہ انتظار حسین ادبی چھتنار تھے جس کے سائے میں آج ہم بیٹھے ہیں۔ انتظار نے اپنے تہذیبی روایت سے افسانہ تخلیق کیا۔ اُن کی تخلیقات پر کسی تحریک کا اثر نہیں ہوا۔
انور زاہدی ،ثروت محی الدین ،ڈاکٹر احسان اکبر،استقبال مہدی اور مضمر علی سید نے  بھی اپنے اپنے خیالات کا اظہارکیا۔ 
            

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  8577
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
پہلی تربیتی ورکشاپ ''فکشن''(نثری تخلیقی ادب) کے حوالے سے 10تا12اگست 2016بروز بدھ تا جمعتہ المبارک ، صبح 10بجے تاشام 5بجے تک ، اکادمی ادبیات پاکستان کے کانفرنس ہال میں منعقد ہوگی
افغانستان کے ثقافتی اتاشی پروفیسر اے۔ رحمان حبیب زئی نے اکادمی کے چیئر مین ڈاکٹر قاسم بگھیو سے ملاقات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور افغانستان دونوں ممالک ایک دوسرے کی ادبی تخلیقات کے تراجم کرائیں ۔
ڈ اکٹر ریاض مجیدنےکہا کہ فیصل آباد کی علمی ادبی تاریخ کا ایک اہم حوالہ شاکر عروجی کی وہ ہمہ جہت کارکردگی ہے جو چھ سات دہائیوں پر پھیلی ہوئی ہے ۔شاکر نے صحافت اور شعر وادب کے میدان میں نمایاں خدمات انجام دیں۔
پانی سفارت خانہ ہرسال ہائیکو مشاعرے کا اہتمام کرتا ہے حال ہی میں ہائیکو ورکشاپ کا انتظام کیا گیا

مقبول ترین
وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ یہ پہلی اسمبلی ہے جو’ڈیزل‘ کے بغیر چل رہی ہے اگر فضل الرحمان کے لوگ میرٹ پر ہوئے تو انہیں بھی قرضے دیے جائیں گے۔ وزیراعظم عمران خان نے نوجوانوں کے لیے ’کامیاب جوان پروگرام‘ کا افتتاح کردیا ہے۔
وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت تحریک انصاف کی کورکمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں پنجاب اور خیبر پختونخوا کے وزرائے اعلیٰ اورتین گورنرز نے شرکت کی۔ حکومت نے مولانا فضل الرحمان سے مذاکرات کے لیے کمیٹی بنانے کا فیصلہ کیا ہے
اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے فواد چوہدری نے کہا کہ نوکریاں حکومت نہیں نجی سیکٹر دیتا ہے یہ نہیں کہ ہر شخص سرکاری نوکر ی ڈھونڈے ، حکومت تو 400 محکمے ختم کررہی ہے مگرلوگوں کا اس بات پر زور ہے کہ حکومت نوکریاں دے۔
وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ پاکستان خطے میں امن اور استحکام کے لئے اپنا کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔ ایرانی صدر سے ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ایرانی صدر حسن روحانی نے کہا کہ پاکستان اور

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں