Wednesday, 29 January, 2020
فیض کا 106 واں یوم پیدائش آج منایا جارہا ہے

فیض کا 106 واں یوم پیدائش آج منایا جارہا ہے

کراچی ۔ ملک کے نامور شاعراور دانشور فیض احمد فیض کا 106واں یوم پیدائش آج منایا جارہا ہے۔

فیض 13 فروری 1911 کو شاعر مشرق علامہ اقبال کے شہرسیالکوٹ میں پیدا ہوئے، انہوں نے تدریسی مراحل اپنے آبائی شہر سیالکوٹ اور لاہور میں مکمل کیا، اپنے خیالات کی بنیاد پر 1936 میں ادبا کی ترقی پسند تحریک میں شامل ہوئے اوراسے بام عروج پر بھی  پہنچایا، دوسری جنگ عظیم کے دوران انہوں نے برطانوی فوج میں شمولیت اختیارکی لیکن بعد میں ایک بار پھرعلم کی روشنی پھیلانے لگے جو زندگی کے آخری روز تک جاری رہا۔

فیض احمد فیض کا تخلیقی سرمایہ 9 شعری ، 2 نثری اورایک مجموعہ خطوط پرمحيط ہے۔ 1963 میں فیض کو لینن پیس ایوارڈ سے نوازا گیا اوروہ یہ ایوارڈ حاصل کرنے والے پہلے ایشیائی ادیب تھے، فیض کا کلام دنیا کی کئی زبانوں میں منتقل ہوچکا ہے جب کہ ان کے الفاظ ، استعارے اورشاعرانہ اسلوب آج بھی آگہی کے محرک کے طورپراستعمال ہورہا ہے۔ ان کے مقبول شعری مجموعوں میں نقش فریادی، زندان نامہ، میرے دل میرے مسافر شامل ہیں اور ان کے تمام مجموعے نسخہ ہائے وفا کے نام سے شائع ہوچکے ہیں۔

فیض کی شاعری مجازی مسائل پر ہی محیط نہیں بلکہ انہوں نے حقیقی مسائل کو موضوع بنایا، جس میں روٹی کی بات بھی ہے اور سلامتی اورامن کی خواہش بھی، ان کی شاعری میں استعمال کئے گئے استعارے، الفاظ، موسیقیت اور شاعرانہ خاکے کبھی متروک ہوتے دکھائی نہیں دیتے، ان کی شاعری میں ہر دور کے لوگوں کی قلبی وارداتوں کا ذکر ہے۔ مسحور کن شاعر اور ادیب فیض احمد فیض کو دنیا سے بچھڑے 31 برس بیت گئے ہیں لیکن ان کا کلام آج بھی پڑھنے والوں میں امید کی کرنیں پیدا کرتا ہے۔

فیض انسانیت کے لئے ضمیر اور یقین کی ایک ایسی آواز بن چکے تھے جو کہ ظالم زمانے کے خلاف ڈٹ جانے کا درس دیتے تھے اور ان کی شاعری انقلاب کی ایک گرج بن چکی تھی۔ فیض کی فلمی انڈسٹری کے لئے خدمات بھی ناقابل فراموش ہیں ان کا کلام محمد رفیع، ملکہ ترنم نور جہاں، مہدی حسن، آشا بھوسلے اور جگجیت سنگھ جیسے گلوکاروں کی آوازوں میں ریکارڈ کیا گیا۔ 

فیض نے درجنوں فلموں کے لئے غزلیں، گیت اور مکالمے بھی لکھے اور 20 نومبر 1984 کو 73 برس کی عمر میں اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  87129
کوڈ
 
   
مقبول ترین
عرب میڈیا کے مطابق سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے امریکی صدر کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل اور فلسطین کے درمیان تنازع کے خاتمے کے لیے امن منصوبہ ’ ڈیل آف سینچری‘ پیش کرنے اور فریقین کے درمیان امریکی سرپرستی میں
فلسطین کے صدر محمود عباس نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشرق وسطیٰ کے امن منصوبے کو ’’صدی کا تھپڑ‘‘ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا برطانوی خبررساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر کے اعلان کے بعد سے غزہ
دفتر خارجہ نے ہندوستانی وزیراعظم نریندر مودی کے حالیہ متشدد بیانات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس کا نوٹس لے۔ دفتر خارجہ کی جانب سے جاری اہم بیان میں کہا گیا ہے کہ بھارتی انتہا پسند بیانیہ
مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ جسے امن منصوبے کا نام دے رہے ہیں وہ دراصل” امن کے خلاف جنگ“ (War Against Peace )ہے ۔اسے عالمی قوانین کی

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں