Wednesday, 29 January, 2020
'کم بہت ہی کم':کلیاتِ شاکر عروجی کی تقریب رونمائی

'کم بہت ہی کم':کلیاتِ شاکر عروجی کی تقریب رونمائی
ناصر مغل

 


اکادمی ادبیات پاکستان اور ادبی و ثقافتی تنظیم پراگا اسلام آباد کے زیر اہتمام تحریک پاکستان کے کارکن اور مدیر ماہنامہ' پرچم' فیصل آباد چودھری محمد حسین بندیشہ المعروف پروفیسر شاکر عروجی کے دیوان 'کم بہت ہی کم' کی تقریب رونمائی کا انعقاد اکادمی کے کانفرنس ہال میں کیا گیا۔

تقریب کی صدارت فیصل آباد سے مہمان شاعرڈاکٹر ریاض مجید نے کی ۔ مہمانان خصوصی پروفیسر یوسف حسن،ڈاکٹر وحید احمداور انجم خلیق تھے۔ نظامت کے فرائض نواسہ شاکر عروجی ،معروف صحافی حضرت شام نے اداکیے۔

 ڈ اکٹر ریاض مجیدنے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ فیصل آباد کی علمی ادبی تاریخ کا ایک اہم حوالہ شاکر عروجی کی وہ ہمہ جہت کارکردگی ہے جو چھ سات دہائیوں پر پھیلی ہوئی ہے ۔شاکر نے صحافت اور شعر وادب کے میدان میں نمایاں خدمات انجام دیں۔ قیامِ پاکستان کے بعد 1948ء سے ماہنامہ ''پرچم'' اُن کی اہم شناخت رہا۔اس جریدے کی فائلز اُن کی فنّی ریاضت،ادبی مساعی اور ادارتی ذمہ داریوں کی گواہ ہیں۔ انہوں نے نظم ،غزل کے علاوہ،سوانح عمری ،وقائع نگاری اور سفر نامے کے باب میں بھی گراں قدر ادبی نمونے پیش کئے۔

ڈاکٹر ریاض نے مزید کہا کہ اگرچہ عروجی کے کلیات غزل کی اشاعت بہت تاخیر سے ہورہی ہے مگر یہ غزلیں اپنے مزاج،انفرادیت اور فنی مہارت کے سبب آج بھی قاری کی توجہ اپنی طرف کھنچتی ہیں۔ ان کے کلام میں حیات سے کائنات تک کے مسائل و مضامین کا بیان ہے ۔مجھے امید ہے شاکر عروجی کی غزلوں کی اشاعت کے بعد ان کی شخصیت اور کلا م کے حوالے سے تنقید و تحقیق کے کئی نئے درواہوں گے اور ان کی غزلوں کی زمینوں،بحروں اور قافیہ و ردیف ،انتخابِ الفاظ اور طرزِ ادا کے اعتبار سے جداگانہ مضامین ومقالات لکھے جائیں گے۔

مہمان خصوصی نے کہا کہ مجھے امید ہے اس مجموعے کی اشاعت کے بعد شاکر عروجی کی تخلیقی مساعی کی ازسرنو دریافت ہو گی جیسے جیسے ان کے دوسرے مجموعے شائع ہوں گے ان کا پورا ادبی ورثہ قارئین کی توجہ حاصل کرے گا۔زیر نظر مجموعہ اس آئس برگ کی طرح ہے جس کا بڑا حصّہ زیر آب ہوتا ہے اور دیکھنے والے کی آنکھ سے چھپا ہوا۔'کم بہت ہی کم' کی اشاعت سے ہم شاکر عروجی کے تخلیقی محیط کا مختصر حصّہ دیکھ سکتے ہیں لیکن ان کی دیگر تصانیف کی اشاعت کے بعد ہمیں ان کی ہمہ جہت شخصیت کے پورے قدوقامت کا اندازہ ہوگا۔

ڈاکٹر ریاض مجید کا کہناتھاکہ مَیں اس کلیات غزل کی تدوین و ترتیب پر حضرت شام کا شکریہ اداکرتا ہوں انہوں نے جس توجہ اور انہماک سے ان غزلوں کی جمع آوری کی ہے اس سے وہ جہاں ایک خاندانی ذمہ داری سے بہ حسن و خوبی عہدہ برا ہوئے ہیں وہاں انہوں نے فیصل آباد کے بنیادی ادبی ڈھانچے کے ایک اہم مگر فراموش کردہ حوالے کو بھی محفوط کر لیاہے۔ شاکر عروجی نے ادب اور صحافت کے شعبہ میںنصف صدی سے زائد کام کیا۔سرکاری ادبی اداروں کو چاہئے کہ وہ وفات پا جانے والے ادیبوں شاعروں کے لئے فنڈ قائم کریں تاکہ ان کا غیر مطبوعہ کلام شائع کیا جاسکے۔

انجم خلیق نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عروجی کی شاعری اعلیٰ معیار کی ہے۔ان کی ایک غزل جو صنعت تکرار میں کہی گئی،فنی خوبصورتی کا نادر نمونہ ہے۔

پروفیسر یوسف حسن نے کہا کہ شاکر عروجی ایک متحرک اور تکلیفوں کا مردانہ وار مقابلہ کرنے کا درس دینے والے ایک ترقی پسند شاعر تھے۔

حسن عباس رضا نے کہا کہ پانچ سو صفحات کے اس ضخیم دیوان کا مطالعہ کر کے میں شاکر عروجی مرحوم کی قادرالکلامی اور شاعری پر مکمل دسترس کی داد دیئے بغیر نہ رہ سکا۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شاکر عروجی مرحوم کی صاحبزادی فرحت ناز نے کہا کہ اباجی نے اپنی معاشی اور صحافتی زندگی کا آغاز 1937ء میں ''پیامِ زندگی'' سرگودھا سے بطور کاتب اختیار کیا۔پھر مجید امجد کے ہفتہ وار اخبار''عروج'' جھنگ مگھیانہ میں 1939ء تا1943ء تک وابستہ رہے۔ ہمارے لئے یہ بات وجہ صد افتخار ہے کہ 12نومبر1942کو بانی پاکستان محمد علی جناح کے دورہ لائل پور(فیصل آباد) کے موقع پر میرے والد نے انہیں منظوم خراج عقیدت پیش کیا۔ ارباب اختیار اور ضلعی انتظامیہ فیصل آباد سے گذارش ہے کہ وہ فیصل آباد میں کسی شاہراہ کو شاکر عروجی کے نام سے منسوب کرے ۔

اطہر ضیا نے شاعر کی ایک غزل پیش کی، رانا سعید دوشی، خرم خلیق،طارق بھٹی اوراختر رضا سلیمی نے شاکر عروجی کے دیوان پر سیر حاصل تبصرہ کیا۔ دیگر شرکاء میںسعید گل، وحید ناشاد، توحید الاسلام، چودھری وقاص احمد ناصر بندیشہ تقلید الاسلام ، عمار احمد بندیشہ شامل تھے

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  49192
کوڈ
 
   
مقبول ترین
عرب میڈیا کے مطابق سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے امریکی صدر کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل اور فلسطین کے درمیان تنازع کے خاتمے کے لیے امن منصوبہ ’ ڈیل آف سینچری‘ پیش کرنے اور فریقین کے درمیان امریکی سرپرستی میں
فلسطین کے صدر محمود عباس نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشرق وسطیٰ کے امن منصوبے کو ’’صدی کا تھپڑ‘‘ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا برطانوی خبررساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر کے اعلان کے بعد سے غزہ
دفتر خارجہ نے ہندوستانی وزیراعظم نریندر مودی کے حالیہ متشدد بیانات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس کا نوٹس لے۔ دفتر خارجہ کی جانب سے جاری اہم بیان میں کہا گیا ہے کہ بھارتی انتہا پسند بیانیہ
مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ جسے امن منصوبے کا نام دے رہے ہیں وہ دراصل” امن کے خلاف جنگ“ (War Against Peace )ہے ۔اسے عالمی قوانین کی

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں