Monday, 26 August, 2019
’’البصیرہ کے زیر اہتمام محفل مسالمہ کا انعقاد‘‘

’’البصیرہ کے زیر اہتمام محفل مسالمہ کا انعقاد‘‘

اسلام آباد ۔ گزشتہ دنوں اسلام آباد میں ایک یادگار اور ایمان پرور محفل مسالمہ معروف علمی تحقیقاتی ادارے البصیرہ کے زیر اہتمام منعقد ہوئی۔یہ محفل مسالمہ ہر سال سلسلہ نوشاہی قادری کے روحانی بزرگ مخدوم سید اکبر علی شاہ نقوی البخاری کی برسی کے موقع پر منعقد ہوتی ہے۔اس سال یہ محفل ملک کے ممتاز اور مایہ ناز دانشور اور عصر حاضر کے بزرگ شاعر پروفیسر ڈاکٹر احسان اکبر کی زیر صدارت منعقد ہوئی ۔ محفل کے مہمان خصوصی استاذ الشعراء پروفیسر جلیل عالی تھے ۔اس ایمان افروز تقریب میں ملک عزیز کے نامور شعرائے کرام نے شہدائے کربلا اور خانوادہ رسول کے حضورمیں رنگا رنگ گلہائے عقیدت پیش کیے ۔ اس موقع پر ڈاکٹر احسان اکبر نے صوفی بزرگ حضرت مخدوم سید اکبر علی شاہ کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے اس یادگار سالانہ محفل کو اسلام آباد میں منعقد ہونے والی محفلوں میں ایک ممتاز اور تاریخی محفل قرار دیا انھوں نے کہا کہ ہم سال بھر اس روحانی محفل کا انتظار کرتے ہیں جس کا اہتمام البصیرہ کے سربراہ سید ثاقب اکبر اپنے والد بزرگوار کی یاد میں بڑے شوق و ذوق اور جذبہ ایمانی سے کرتے ہیں ۔ محفل کے آغاز میں مولانا آفتاب احمد صابری نے تلاوت کلام مجید سے محفل کو نورانی کیا اور نعت رسول مقبول کے خوبصورت شعروں سے گل افشانی کی ۔ محفل کی نظامت کے فرائض جواں سال اور پختہ کار شاعر جناب علی یاسر نے انجام دیئے۔اس محفل میں شعراء نے خوبصورت منقبتیں اور سلام پیش کرکے حاضرین سے خوب داد و تحسین وصول کی ۔ رات گئے تک یہ وجد انگیز محفل جاری رہی ہم ذیل میں چند شعراء کے کلام کا ایک مختصر انتخاب نذر قارئین کرتے ہیں ۔

 

پروفیسر ڈاکٹر احسان اکبر:

قدر قیام اہل بیت ہم ابھی کربلا میں ہیں

اہل خیام اہل بیت ہم ابھی کربلا میں ہیں

نذر جو گردنوں کی دیں وہ سخی کربلا میں ہیں

مبتدی کربلا میں ہیں منتہی کربلا میں ہیں

 

پروفیسر جلیل عالی:

وہ حسین ابن علی اس سے انساں کا بھرم

کر گیا اس کا لہو غم کی تہذیب رقم

کیسے آنکھ اس کو کہیں وہ جو ہوتی نہ ہو نم

 

سید ثاقب اکبر:

پھر تو تاریخ بشر اس کے قدم سے پھوٹی

کربلا تجھ پہ عجب وارث آدم آیا

میں اور ذکر محمد کی آل کا ثاقب

یہ انتخاب ہے توفیق ہے نظر ہوئی ہے

 

میاں تنویر قادری:

خاک طیبہ ہے یا ہے خاک نجف

اور ترے درد کی دوا کیا ہے

اگر جیو تو زمانے میں سر اٹھا کے جیو

یہ رسم حضرت شبیر سے چلی ہوئی ہے

 

انجم خلیق:

آئی صدا کی طشت سے بس اک خوشی اٹھاؤ گے

ہم نے حسین غم ترا چن کے لیا نصیب سے

سنتا تھا ذکر پنجتن کرتا ہوں ذکر پنجتن

وہ بھی ملا نصیب سے یہ بھی ملا نصیب سے

 

منظر نقوی:

یہ کربلا ہے کوئی حادثہ نہیں منظر

شعور چاہیے یہ داستاں رقم کرتے

 

عبدالقادر تاباں:

خرد کے پاس اگر دل کا آئینہ ہوتا

یہ درد سارے زمانے کا درد ہو جاتا

 

ڈاکٹر فاخرہ نورین:

جو ایک بار میں نسبت سمجھ نہ پائے مری

میں ان سے کہتی ہوں بار دگر، حسین سے ہوں

آپ کے نام سے لرزتا ہے

ظلم کا ہر نظام، مولا حسین!

 

محترمہ کنول ملک:

آبرو دیں کی رکھ لی مولا نے

کیا یہ احسان کم حسین ؑ کا ہے

پھر یوں ہوا اندھیرے کا مطلب بدل گیا

خیمے میں جب چراغ بجھائے حسین نے

 

ناصر مینگل:

کتنا اصغر نے پانی پینا تھا

حرملہ ہوتا شرمسار اے کاش

تنویر حیدر:

کسی کو وہ سمجھتے ہیں کسی منصب کے لائق تو

اسے اپنی ثنا خوانی کا وہ اعزاز دیتے ہیں

 

نصیر زندہ:

ملک ارم آباد کا سلطاں ہے حسین

ہے فخر زماں رشک سلیماں ہے حسین

قدرت کو ہے انسان کی عظمت پر ناز

دستار سر حضرت انساں سے حسینؑ 

 

طاہر یاسین طاہر :

شبیہ رخ مصطفی کھینچتے ہیں 

جمال خدا برملا کھینچتے ہیں

ریاض محمد اجاڑا گیا ہے

چمن میں گل اپنی قبا کھینچتے ہیں 

 

ڈاکٹر ارشد محمود ناشاد:

تو نے وہ کام کیا جس کی نہیں کوئی نظیر

فاتح کرب و بلا تجھ کو زمانوں کا سلام

کہاں گئے وہ ستم کیش پست قامت لوگ

حریف اوج ثریا تو ایک سر ہوا ہے

 

علی قسور

جب منقبت عابد بیمار سنا دی 

گویا کہ مریضان سماعت کو شفا دی 

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کسی بھی خبر سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ علاوہ ازیں آپ بھی اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر info@mubassir.com پر ای میل کرسکتے ہیں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  37639
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
علمی و تحقیقی ادارے البصیرہ کے صدر نشین، معروف محقق و دانشور ، شہرہ آفاق کتاب” پاکستان کے دینی مسالک “کے مصنف نیز دسیوں دیگر تحقیقی و علمی کتب کے لکھاری ثاقب اکبر کی ایک اور اچھوتی اور امتیازی تحریر ”زلیخا عشق مجازی سے عشق حقیقی تک “منظر عام پر آگئی ہے۔

مقبول ترین
حریت رہنما سید علی گیلانی نے پاکستانی عوام اور مسلم امہ سے کشمیریوں کی مدد کے لیے فوری طور پر میدان عمل میں آنے کی اپیل کی ہے۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین سید علی گیلانی نے اپنے کھلے خط میں
وادی میں بھارتی فوج کے خلاف زبردست مظاہرہ کیا گیا، کشمیری نوجوانوں نے سر پر کفن باندھ لیا۔ خواتین بھی احتجاج میں شریک ہوئیں، بھارتی فوج کی فائرنگ اور پیلٹ گن سے درجنوں کشمیری زخمی ہوگئے۔ ظالم بھارتی فوج نے گھروں میں محصور
متحدہ عرب امارات کے ولی عہد شیخ محمد بن زاید النہیان نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو اعلیٰ ترین سول اعزاز سے نوازا ہے۔ متحدہ عرب امارات نے رواں سال اپریل میں بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کو اعلیٰ ترین سول اعزاز دینے کا اعلان کیا تھا۔
صدر آزاد کشمیر مسعود خان کا کہنا ہے کہ امیت شاہ اور راج ناتھ سنگھ سن لو ہم کشمیر میں تمہارا اور بھارتی فوجیوں کا قبرستان بنادیں گے۔ کشمیریوں سے اظہار یکجہتی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے صدر آزاد کشمیر سردار مسعود خان کا کہنا تھا کہ آرٹیکل

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں