Friday, 14 August, 2020
پروین شاکر کو بچھڑے 21 برس بیت گئے

پروین شاکر کو بچھڑے 21 برس بیت گئے

 کراچی ۔ خوابوں ، خوشبوؤں اور نوجوانوں کی زندہ دل شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے بچھڑے 21 برس بیت گئے لیکن ان کی خوبصورت شاعری انہیں چاہنے والوں کے درمیان آج بھی زندہ رکھے ہوئے ہے۔

نوجوانوں کی زندہ دل شاعرہ پروین شاکر 24 نومبر 1952 میں کراچی شہر میں ادبی خاندان میں آنکھ کھولی جس کی وجہ سے وہ اپنے گھر میں ہی کئی شعراء کے کلام سے روشناس ہوئیں جب کہ انہوں نے جامعہ کراچی سے انگریزی ادب  میں ایم اے کی ڈگری حاصل کی اور پی ایچ ڈی کرنے کے بعد  درس و تدریس کے شعبہ سے وابستہ ہوگئیں تاہم  9 سال بعد ہی شعبہ تدریس کو خیرباد کہتے ہوئے  انہوں نے سرکاری ملازمت اختیار کرلی اور ساتھ ساتھ وہ ریڈیو پاکستان کے مختلف علمی ادبی پروگراموں میں شرکت کرتی رہیں۔

خوابوں اور خوشبوؤں کی شاعرہ نے  انتہائی کم عمری میں ہی شعر گوئی شروع کردی تھی یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اپنی منفرد شاعری کی پہلی کتاب ’’خوشبو‘‘ سے اندرون و بیرون ملک بے پناہ مقبولیت حاصل کی اور آدم جی ایوارڈ اپنے نام کیا جب کہ ان کے کئی  شعری مجموعے ’’خود کلامی‘‘،’’ صد برگ‘‘،’’ انکار‘‘،’’ ماہ تمام‘‘ اور’’ کف آئینہ‘‘  کو بے پناہ پذیرائی حاصل ہے تاہم اردو لہجے کی منفرد شاعرہ ہونے کی وجہ سے پروین شاکر کو بہت ہی کم عرصے میں شہرت حاصل ہو گئی۔

پروین شاکرکی پوری شاعری ان کے اپنے جذبات و احساسات کا اظہار ہے  جو پوری ایک نسل کی نمائندگی کرتی ہے کیونکہ ان کی شاعری کا مرکزی نکتہ عورت ہے جس کے باعث ان کے کلام میں ایک نوجوان دوشیزہ کے شوخ و شنگ جذبات کا اظہارہے تو کہیں زندگی کی سختی کا اظہار بھی ملتا ہے یہی وجہ ہے کہ ان کے شاعری میں احساس کی جو شدت ہے وہ ان کی دیگر ہم عصر شاعرات کے یہاں نظر نہیں آتی۔

اردو ادب کے منفردلہجے کی شاعرہ پروین شاکر26 دسمبر 1994 کو 42 سال کی عمر میں  اسلام آباد میں ایک ٹریفک حادثے میں چل بسیں لیکن  آج بھی  ان کا کلام انہیں زندہ رکھے ہوئے ہے۔

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  69691
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
خوشبو سے لب و لہجے والی منفرد شاعرہ پروین شاکر کی22 ویں برسی آج منائی جارہی ہے۔ اس سلسلے میں پروین شاکر کے مداحوں نے شاعرہ کو خراج تحسین پیش کرنے کیلئے ملک بھر میں مختلف تقاریب کے انعقاد کا اہتمام کیا ہے

مقبول ترین
لاک ڈاؤن نے جہاں ہماری زندگی میں معیشت کا پہیہ جام کیا وہیں بہت سارے سبق بھی دے گیا۔ لاک ڈاؤن نہ ہوتا تو ہم شاید اپنی مصروف زندگی میں اتنے مصروف ہو جاتے کہ رشتوں، ناطوں کی اہمیت اور فیملی سسٹم کی خوبصورتی اور چاشنی سے مزید دور ہوتے چلے جاتے۔ وہ جو اک زندگی ہے نا کہ جس میں بیٹا دفتر جا رہا ہے، بیٹی یونیورسٹی جا رہی ہے، سب گھر والے ادھرادھر بکھرے پڑے ہیں۔
قومی اسمبلی سے انسداد دہشتگردی ترمیمی بل 2020 کو کثرت رائے سے منظور کرلیا گیا، شرکت داری محدود ذمہ داری سمیت پانچ بلز منظور کرلئے گئے۔ تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی میں انسداد دہشتگردی ترمیمی بل 2020 کو کثرت رائے سے منظور کرلیا گیا جس میں کمپنیز ترمیمی بل اور نشہ آور اشیا کی روک تھام کا بل بھی شامل ہے۔
وفاقی وزیر برائے مذہبی امور پیر نورالحق قادری نے کہا ہے کہ اسرائیل میں موساد کی ایک خاتون جعلی اکاؤنٹ سے فرقہ وارانہ مواد پھیلا رہی ہے۔ یہ خاتون فرقہ وارانہ موادسوشل میڈیا پربھیج دیتی ہے اورپھر آگے شیعہ اور سنی خود سے اسے پھیلاتے ہیں۔
سعودی عرب کے سابق انٹیلجنس افسر کی شکایت پر واشنگٹن کی ایک امریکی عدالت نے سعودی بن سلمان ولی عہد کو طلب کرلیا ہے۔ سابق سعودی انٹیلی جنس ایجنٹ کو مبینہ طور پر ناکام قاتلانہ حملے میں نشانہ بنایا گیا تھا۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں