Monday, 26 August, 2019
پروین شاکر کی برسی آج منائی جارہی ہے

پروین شاکر کی برسی آج منائی جارہی ہے

 

 کراچی ۔  خوشبو سے لب و لہجے والی منفرد شاعرہ پروین شاکر کی22 ویں برسی آج منائی جارہی ہے۔ اس سلسلے میں پروین شاکر کے مداحوں نے شاعرہ کو خراج تحسین پیش کرنے کیلئے ملک بھر میں مختلف تقاریب کے انعقاد کا اہتمام کیا ہے، جن میں شاعرہ کو خراج عقیدت پیش کیا جائے گا۔

بخت سے کوئی شکایت نہ افلاک سے ہے
یہی کیا کم ہے کہ نسبت مجھے اس خاک سے ہے

24 نومبر 1952ء کو شاکر حسین زیدی کے گھر جنم لینے والی پروین شاکر نے کچھ ایسے انداز میں پرورش پائی کہ طبعیت ادب آشنا سی ہوگئی۔ اس پر مستزاد فطرت کو محسوس کرنے اور بیان کرنے کی صلاحیت نے دو آتشہ کام کیا۔ یوں خوشبو، عکس خوشبو، انکار، خود کلامی، صد برگ اور قریہ جاں کی تکمیل ماہ تمام کی صورت میں گئی۔

عورت اور جذبات پروین شاکر کا موضوع ہیں اور ان فطری جذبات کی عکاسی اتنی بے ساختگی سے کی ہے کہ برسوں سے ان کے مقابل کوئی اور نہ آسکا۔

اس منفرد شاعرہ کی ایک منفرد غزل جو رومانوی ذوق رکھنے والے دلوں کو ہمیشہ سوز آشنا کرتی رہے گی۔

کُو بہ کُو پھیل گئی بات شناسائی کی
اُس نے خوشبو کی طرح میری پذیرائی کی

کیسے کہہ دوں کہ مُجھے چھوڑ دیا ہے اُس نے
بات تو سچ ہے مگر بات ہے رُسوائی کی

وہ کہیں بھی گیا، لَوٹا تو مرے پاس آیا
بس یہی بات ہے اچھی مرے ہرجائی کی

ترا پہلو، ترے دل کی طرح آباد ہے
تجھ پہ گُزرے نہ قیامت شبِ تنہائی کی

اُس نے جلتی ہُوئی پیشانی پہ جب ہاتھ رکھا
رُوح تک آ گئی تاثیر مسیحائی کی

اب بھی برسات کی راتوں میں بدن ٹوٹتا ہے
جاگ اُٹھتی ہیں عجب خواہشیں انگڑائی کی

1994 کو 26 دسمبر کی ہی ایک کہر آلود صبح ٹریفک حادثے میں کومل اور نازک جذبوں کی ترجماں اپنے خالق حقیقی سے جاملی اور خوشبو کا یہ باب بند کرگئی۔

مر بھی جاوں تو کہاں لوگ بھلا ہی دیں گے
لفظ میرے، مرے ہونے کی گواہی دیں گے

لوگ تھرّا گئے جس وقت منادی آئی
آج پیغام نیا ظلّ الہی دیں گے

جھونکے کچھ ایسے تھپکتے ہیں گلوں کے رخسار
جیسے اس بار تو پت جھڑ سے بچا ہی دیں گے

ہم وہ شب زاد کہ سورج کی عنایات میں بھی
اپنے بچوں کو فقط کور نگاہی دیں گے

آستیں سانپوں کی پہنیں گے گلے میں مالا
اہل کوفہ کو نئی شہر پناہی دیں گے

شہر کی چابیاں اعدا کے حوالے کرکے
تحفۃَ پھر انہیں مقتول سپاہی دیں گے

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  84316
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
نوجوانوں کی زندہ دل شاعرہ پروین شاکر 24 نومبر 1952 میں کراچی شہر میں ادبی خاندان میں آنکھ کھولی جس کی وجہ سے وہ اپنے گھر میں ہی کئی شعراء کے کلام سے روشناس ہوئیں جب کہ انہوں نے جامعہ کراچی سے انگریزی ادب میں ایم اے کی ڈگری حاصل کی
ملک بھر میں تعزیتی ریفرنسز ،سیمینارز ،کانفرنسز ،ورکشاپس ،مذاکرے ،مباحثے اوردیگر خصوصی تقریبات کا اہتمام کیا جائے گا۔ ادبی حلقے اس موقع پر قرآن خوانی اور فاتحہ خوانی کا اہتمام بھی کریں گے

مقبول ترین
حریت رہنما سید علی گیلانی نے پاکستانی عوام اور مسلم امہ سے کشمیریوں کی مدد کے لیے فوری طور پر میدان عمل میں آنے کی اپیل کی ہے۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین سید علی گیلانی نے اپنے کھلے خط میں
وادی میں بھارتی فوج کے خلاف زبردست مظاہرہ کیا گیا، کشمیری نوجوانوں نے سر پر کفن باندھ لیا۔ خواتین بھی احتجاج میں شریک ہوئیں، بھارتی فوج کی فائرنگ اور پیلٹ گن سے درجنوں کشمیری زخمی ہوگئے۔ ظالم بھارتی فوج نے گھروں میں محصور
متحدہ عرب امارات کے ولی عہد شیخ محمد بن زاید النہیان نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو اعلیٰ ترین سول اعزاز سے نوازا ہے۔ متحدہ عرب امارات نے رواں سال اپریل میں بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کو اعلیٰ ترین سول اعزاز دینے کا اعلان کیا تھا۔
صدر آزاد کشمیر مسعود خان کا کہنا ہے کہ امیت شاہ اور راج ناتھ سنگھ سن لو ہم کشمیر میں تمہارا اور بھارتی فوجیوں کا قبرستان بنادیں گے۔ کشمیریوں سے اظہار یکجہتی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے صدر آزاد کشمیر سردار مسعود خان کا کہنا تھا کہ آرٹیکل

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں