Wednesday, 29 January, 2020
ثاقب اکبر کی کتاب زلیخا عشق مجازی سے عشق حقیقی تک شائع ہو گئی

ثاقب اکبر کی کتاب زلیخا عشق مجازی سے عشق حقیقی تک شائع ہو گئی

اسلام آباد ۔ علمی و تحقیقی ادارے البصیرہ کے صدر نشین، معروف محقق و دانشور ، شہرہ آفاق کتاب” پاکستان کے دینی مسالک “کے مصنف نیز دسیوں دیگر تحقیقی و علمی کتب کے لکھاری ثاقب اکبر کی ایک اور اچھوتی اور امتیازی تحریر ”زلیخا عشق مجازی سے عشق حقیقی تک “منظر عام پر آگئی ہے۔ یہ کتاب ایک مختصر مگر اپنے موضوع کے عنوان سے جامع اور امتیازی کتاب ہے۔ اس کتاب نے اس موضوع پر فکر کے نئے دریچوں کو بھی کھولا ہے جو صاحبان فکر و نظر اور شناوران بحر تحقیق کے لیے دعوت فکر ہے ۔کتاب علمی و تحقیقی ادارے البصیرہ کے شعبہ نشرو اشاعت نے شائع کی ہے۔

مصنف  ثاقب اکبراپنی اس کتاب کے عنوان سے کہتے ہیں کہ آج تک یوست زلیخا کی داستان کو حضرت یوسف کے حوالے سے دیکھا اور بیان کیا گیا ہے ، زلیخا کے عنوان سے زلیخا کا مطالعہ شاید بعض نئے گوشوں تک پہنچنے کا باعث بن جائے ۔ ان کا کہنا ہے کہ شاید ہم تاریخ اور اس کی ساخت و ارتقاءمیں عورت کے کردار کے حوالے سے بعض نئے نکات تک پہنچ سکیں یا کم از کم زلیخا کے تاریخی کردار اور اس کی شخصیت کو بہتر طور پر سمجھ سکیں ۔ وہ کہتے ہیں کہ شاید وقت نے یہ کام اس دور کے لیے اٹھا رکھا تھا جب انسانی وجدان عورت کو ایک حقیقی ، باقاعدہ اور الگ وجود سمجھنے اور ماننے کے لیے تیار ہو چکا ہے ۔

یاد رہے کہ اس سے قبل البصیرہ کے صدر نشین جو ملی یکجہتی کونسل کے ڈپٹی سیکریٹری جنرل بھی ہیں کی کئی ایک کتابیں اپنا لوہا منوا چکی ہیں جن میں ” پاکستان کے دینی مسالک “، ”امت اسلامیہ کی شیرازہ بندی “،شعری مجموعہ ”نغمہ یقیں “، ”حروف مقطعات “اور دیگر کئی کتب شامل ہیں ۔ یہ کتاب ایک مختصر مگر اپنے موضوع کے عنوان سے جامع اور امتیازی کتاب ہے۔ اس کتاب نے اس موضوع پر فکر کے نئے دریچوں کو بھی کھولا ہے جو صاحبان فکر و نظر اور شناوران بحر تحقیق کے لیے دعوت فکر ہے ۔کتاب علمی و تحقیقی ادارے البصیرہ کے شعبہ نشرو اشاعت نے شائع کی ہے

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  23242
کوڈ
 
   
مقبول ترین
عرب میڈیا کے مطابق سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے امریکی صدر کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل اور فلسطین کے درمیان تنازع کے خاتمے کے لیے امن منصوبہ ’ ڈیل آف سینچری‘ پیش کرنے اور فریقین کے درمیان امریکی سرپرستی میں
فلسطین کے صدر محمود عباس نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشرق وسطیٰ کے امن منصوبے کو ’’صدی کا تھپڑ‘‘ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا برطانوی خبررساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر کے اعلان کے بعد سے غزہ
دفتر خارجہ نے ہندوستانی وزیراعظم نریندر مودی کے حالیہ متشدد بیانات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس کا نوٹس لے۔ دفتر خارجہ کی جانب سے جاری اہم بیان میں کہا گیا ہے کہ بھارتی انتہا پسند بیانیہ
مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ جسے امن منصوبے کا نام دے رہے ہیں وہ دراصل” امن کے خلاف جنگ“ (War Against Peace )ہے ۔اسے عالمی قوانین کی

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں