Monday, 25 September, 2017
ہماری پالیسی

 


1۔جملہ حقوق بحق مبصرڈاٹ کام محفوظ ہیں۔

2۔مبصرڈاٹ کام رپورٹس مختلف اداروں کے تعاون سے شائع کرتا ہے اور دنیا بھر میں پھیلے ہوئے اپنے نامہ نگاروں،تجزیہ نگاروں اور کالم نویسوں سے حاصل شدہ مواد بھی پیش کرتا ہے۔

3۔مبصرڈاٹ کام پر تمام مواد کافی غوروخوض اور چھان بین کے بعد پیش کیا جاتا ہے تاہم ادارہ کسی قسم کی تکنیکی یا مواصلاتی غلطی کا ذمہ دار نہیں ہو گا۔

4۔مبصرڈاٹ کام اپنے نیٹ ورک کا کوئی بھی مواد دیگر اداروں کو شائع کرنے کیلئے دے سکتا ہے۔

5۔مبصرڈاٹ کام پر شائع ہونے والا کسی قسم کا مواد کوئی بھی ادارہ بغیر اجازت کے شائع کرنے کا حق نہیں رکھتا۔

6۔مبصرڈاٹ کام پر شائع ہونے دالے کسی ایسے مواد اور اس میں کسی ایسی خطا کا ذمہ دار نہیں ہو گا جو قارئین کرام کی طرف سے ارسال کردہ ہو۔ادارے کا اپنے سامعین اور قارئین کرام کی رائے سے متفق ہونا بھی ضروری نہیں۔

7۔مبصرڈاٹ کام پر شائع ہونے والے کسی بھی قسم کے مواد کوادارہ بغیر اطلاع دیئے کسی بھی وقت ختم کر سکتا ہے یا اس میں کانٹ چھانٹ کر سکتا ہے۔

8۔مبصرڈاٹ کام اپنی ادارتی اور تکنیکی پالیسی میں کسی بھی ردوبدل کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

9۔مبصرڈاٹ کام کسی بھی ناگہانی صورت یاتکنیکی خرابی کے باعث اطلاع دیئے بغیر سروس روک سکتا ہے۔

10۔مبصرڈاٹ کام پاکستان کے تمام قوانین کا پابند ہے۔ادارہ اسلام اور پاکستان کے خلاف کوئی بھی لفظ شائع نہ کرنے کی ڈاکٹرائن پر کاربند ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایڈیٹروں کے لیے ضابطہ اخلاق ۔۔۔۔۔۔

مبصر ڈاٹ کام سے وابستہ تمام اراکین اس ضابطہ اخلاق کے پابند رہیں گے جو برطانیہ میں پریس کمپلینٹس کمیشن کی جانب سے مرتب کیے گئے ہیں جس کی نقل ذیل میں بیان کی جارہی ہے۔

پریس سے وابستہ افراد کی یہ ذمے داری ہے کہ وہ بلند ترین پیشہ ورانہ معیارات برقرار رکھیں گے۔ وہ ضوابط جس میں یہ تعارفی نوٹ بھی شامل ہے اور عوامی مفاد کی شقیں بھی جو نیچے بیان کی جارہی ہیں، یہ دونوں ملکر ان اخلاقی اقدار کا تعین کرتے ہیں جن کے تحت کسی کے انفرادی حقوق اور عوام کے جاننے کے حق کا تحفظ کیا جاتا ہے۔ یہی وہ بنیاد ہے جس کے تحت ایک خود نگہداری کا نظام بنتا ہےاوراس سے (صحافتی) صنعت وابستگی کا اظہار کرتی ہے۔

یہ بہت ضروری ہے کہ متقفہ ضابطے کے نہ صرف الفاظ بلکہ اس کی مکمل روح کا بھی احترام کیا جائے۔ اسے نہ تو اتنا تنگ ہونا چاہیے کہ انفرادی حقوق کے تحفظ کے وعدے پر حرف آئے اور نہ ہی اتنا پھیلایا جائے کہ یہ آزادی اظہار کے ساتھ غیر ضروری خلل پیدا کرے یا شائع شدہ مواد کو عوامی مفاد سے دور رکھے۔

یہ ناشر(پبلشر) اور مدیران ( ایڈیٹرز) کی ذمے داری ہے کہ وہ ضابطہ اخلاق کو پرنٹ اور آن لائن دونوں ورژنز پر لاگو کریں۔ انہیں اس بات کو یقینی بناتے ہوئے اس بات کا خیال رکھنا چاہئے کہ پرنٹ اور آن لائن صحافت سے وابستہ افراد یعنی نہ صرف  ایڈیٹوریل اسٹاف بلکہ اس سے باہر کے افراد بشمول غیرصحافی بھی اس پر سختی سے عمل پیرا رہیں ۔

درستگی

پریس کے لیے ضروری ہے کہ وہ غلط ، گمراہ کن، اور مسخ شدہ معلومات اور تصاویر شائع نہ کرے۔

اگر غیرمعمولی غلطی، گمراہ کن بیان اور حقائق توڑ مروڑ کر پیش کرنے کا عمل سامنے آئے تو اسے فوری طور پر درست کرکے واضح کیا جائے اور اگر ضروری ہے تو معذرت بھی شائع کی جائے۔

پریس حمایت کرنے میں آزاد ہے لیکن اسے حقائق، بیانات اور نتائج کے درمیان فرق کو واضح رکھنا ہوگا۔
کسی کی ہتکِ عزت کی صورت میں اگر پریس فریق ہے تو ضروری ہے کہ اس کی وضاحت میں درستگی اور غیرجانبدارانہ انداز اختیار کیا جائے اس وقت تک کہ جب تک کہ کوئی متقفہ مفاہمتی معاہدہ سامنے نہیں آجاتا یا  جب کوئی معاہدہ سامنے آجائے تو اسے بھی شائع کیا جائے۔

جواب کے مواقع فراہم کرنا

(اشاعتی) غلطیوں کی صورت میں جواب اور وضاحت کے بھر پور مواقع لازمی فراہم کئے جائیں۔

پرائیویسی

صحافی پر لازمی ہے  کہ وہ ہر شخص خواہ مرد ہو یا عورت کے نجی اور خاندانی معاملات، گھریلو، صحت اور ڈجیٹل روابط سمیت دیگر رابطوں کا احترام کرے۔

ایڈیٹروں سے یہ توقع رکھی جاتی ہے کہ وہ بلا اجازت کسی کی ذاتی زندگی میں دخل انداز ہونے کی صورت میں اس کی وضاحت کریں گے۔  بصورتِ دیگر شکایت کنندہ کی جانب سے اس کی ذاتی معلومات عوام میں افشا کرنے پر کارروائی کی جاسکتی ہے۔

پرائیوٹ مقامات پر کسی شخص کی اجازت کے بنا اس کی تصویر لینا کسی بھی طرح قابلِ قبول نہیں۔

نوٹ: یہاں پرائیوٹ (ذاتی) اور پبلک (عوامی) مقامات سے مراد وہ جگہیں ہیں جہاں ایک حد تک پرائیوسی کا خیال رکھا جاتا ہو۔

ہراساں کرنا   


صحافی کو کسی کو ہراساں کرنے، دباؤ ڈالنے یا خوفزدہ کرنے کے عمل میں ملوث نہیں ہونا چاہئے۔

اگر کوئی شخص فون کرنے، تصویرلینے اور سوال کرنے سے منع کردے تو صحافی کو بھی رک جانا چاہیے۔ اگر وہ اپنی جگہ یا مکان پر صحافی کو مزید ٹھہرنے سے منع کرے تو اسے باہر آجانا چاہیے اور اس کا پیچھا نہیں کرنا چاہیے۔

ایڈیٹرز کے لئے ضروری ہے کہ وہ ان اصول و ضوابط کو ان افراد پر بھی لاگو کریں جو ان کے لیے کام کررہے ہیں اوراس بات کو یقینی بنائیں کہ وہ کسی دوسرے ذرائع سے ایسا مواد تو نہیں لارہے جو (اخلاقی ضوابط) کے تحت ناقابلِ عمل ہے۔

غم ذدہ اور سنجدیدہ ماحول میں دخل اندازی

ذاتی اور شخصی صدمے اور غم کی صورتحال میں صحافی کا رویہ ہمدردانہ اوررحمدلانہ ہونا چاہئے اور اسے شائع کرتے وقت معاملے کی حساسیت کا خیال رکھنا چاہیے۔ اسے قانونی چارہ جوئی میں کسی رکاوٹ کی وجہ نہیں بننا چاہئے۔

خودکشی کے واقعہ کی رپورٹنگ کرتے وقت خودکشی کے عمل کی غیرضروری اور اضافی تفصیل بیان کرنے سے گریز کیا جائے۔

بچے

نوعمر بچوں کو یہ حق ہونا چاہیے کہ وہ کسی غیرضروری مداخلت کے بغیر اسکول میں اپنا وقت مکمل کریں۔

کوئی بچہ جس کی عمر 16 سال سے کم ہو اس سے اس کے ذاتی اور دوسرے بچے کے معاملے پر انٹرویو نہ کیا جائے اور نہ ہی اس وقت تک تصاویر لی جائیں جب تکہ اس کے والدین سامنے نہ ہوں یا ان کی اجازت نہ مل جائے۔

اسکول انتظامیہ کی اجازت کے بغیر نہ ان بچوں کی تصاویر لی جائیں اور نہ ہی ان سے بات کی جائے۔

جب تک بچے کی دلچسپی واضح نہ ہو ، اس وقت بچوں کی فلاح کے لیے کسی چیز کی خریداری کے لیے رقم نہ دی جائے، اورنہ ہی والدین اور سرپرستوں کو کوئی رقم فراہم کی جائے۔

ایڈیٹروں کے نزدیک کسی بچے کی ذاتی زندگی پر تفصیلات شائع کرنے کا جواز اس کے والدین یا سرپرست کی مثبت اور منفی شہرت اور معاشرتی مقام نہیں ہونا چاہیے۔

بچے اور جنسی کیسز

خواہ اس کی قانونی اجازت بھی  ہو تب بھی پریس 16 سال سے کم عمر کے ایسے بچے کی شناخت ظاہر نہ کرے جس پر جنسی حملہ کیا گیا ہویا پھر وہ کسی واقعہ کے عینی شاہد ہوں۔

اگر جنسی حملے کا کوئی واقعہ ہو تو خیال رہے کہ :

بچے کی شناخت ظاہر نہ کی جائے۔

بالغ کی شناخت ظاہر کی جاسکتی ہے۔

خونی رشتوں کی جانب سے جنسی حملے کی صورت میں ’انسیسٹ‘ کا لفظ استعمال نہ کیا جائے تاہم بچے کی شناخت ظاہر کی جاسکتی ہے۔

اپنی رپورٹ میں احتیاط رکھیے کہ رپورٹنگ میں ملزم اور بچے کے درمیان تعلق کو ظاہر نہ کیا جائے۔

اسپتال
معلومات جمع کرنے کے لیے اسپتال کی اہم اور پرائیویٹ جگہوں پر جانے سے قبل صحافی اپنی شناخت ظاہر کریں اور کسی ذمے دار سے اجازت لیں۔

اسی طرح اسپتال اور اس جیسے اداروں میں معلومات حاصل کرنے کے لیے  کسی کی پرائیوسی میں دخل اندازی پر بھی یہی پابندیاں عائد ہوتی ہیں۔

جرائم کی رپورٹنگ

جب تک جرم میں براہِ راست تعلق ثابت نہ ہو اس وقت تک کسی جرم میں ملوث ملزم یا مجرم کے عزیزوں، دوستوں اور رشتے داروں کی شناخت ظاہر نہ کی جائے ۔

اگر ممکنہ طور پر کوئی بچہ کسی جرم کا گواہ یا خود شکار ہو اس پر خصوصی توجہ دی جائے لیکن قانونی چارہ جوئی میں کوئی رکاوٹ نہیں ہونی چاہیے۔

خفیہ آلات اور دھوکے سے معلومات حاصل کرنا  

پریس کو چاہیے کہ وہ اجازت کے بغیر خفییہ کیمروں، سن گن لینے کے آلات، ذاتی فون کالز کی ریکارڈنگ، ای میلز اور میسجز، یا تصاویر اور دستاویز کا بغیراجازت حصول یا انٹرنیٹ کے ذریعے معلومات حاصل نہ کرے اور نہ ہی شائع کرے۔

جب تک کوئی اور راہ نہ ہو اور صرف عوامی مفاد ہی مقدم ہو تب ہی دھوکہ دہی یا خفیہ انداز میں معلومات حاصل کی جائیں خواہ وہ ایجنٹوں سے لی جائیں یا درمیان کے افراد سے حاصل ہوں۔

جنسی حملوں کے شکار

جب تک قانونی طور پر آزادی نہ ہو یا مناسب وضاحت موجود نہ ہو پریس اس وقت تک جنسی حملوں کے شکار افراد کی شناخت ظاہر نہ کرے اور کسی اشارے سے بھی ان کا اظہار نہ کیا جائے۔

تفریق اور امتیاز

پریس کو کسی مرد و زن کو اس کے مذہب، رنگ و نسل، ذات، کسی ذہنی اور جسمانی مرض کی بنا پر تعصب اور تفریق کا نشانہ نہیں بنانا چاہیے۔

جب تک رپورٹنگ میں اس کی حقیقی ضرورت نہ ہو اس وقت تک کسی فرد کے مذہب، رنگ و نسل، جنس، ذات اور کسی ذہنی اور جسمانی مرض کو ظاہر کرنے سے گریز کیا جائے۔

معاشی صحافت

یہاں تک کہ اگر قانون اس میں رکاوٹ نہ ڈالے اس وقت بھی صحافی پہلے سے حاصل شدہ معاشی معلومات کو اپنے مفادات کے لیے استعمال نہ کرے اور نہ ہی یہ معلومات کسی دوسرے کے حوالے کرے۔

اسی طرح ایڈیٹر اور بزنس ایڈیٹر کو بتائے بغیر کاروباری معاملات اور اسٹاک ایکسچینج کے شیئرز کے بارے میں ملنے والی ابتدائی معلومات اور رازوں کو اپنے اہلِ خانہ کو نہ بتائے تاکہ وہ اس سے مالی فوائد حاصل نہ کرسکیں۔

اگر کسی کمپنی کے شیئرز کے بارے میں وہ لکھ چکے ہیں یا لکھنے کا ارادہ کررہے ہیں تو براہِ راست یا کسی دوست اور ایجنٹ کے ذریعے اس کے شیئرز اور سیکیوریٹیز کی خرید و فروخت نہ کی جائے۔

خفیہ ذرائع

صحافیوں کی یہ اخلاقی ذمے داری ہے کہ وہ معلومات کے خفیہ ذرائع کا تحفظ کریں۔
جرائم کے مقدمات میں گواہان کو رقم کی فراہمی

قانونی اور عدالتی کارروائی شروع ہونے کے بعد کسی ایسے شخص کو رقم دی جائے یا نہ رقم کی پیشکش کی جائے جو گواہ ہو یا ممکنہ طور پر گواہ بن سکتا ہو۔

یہ پابندی اس وقت جاری رہنی چاہیے جب تک  پولیس مشتبہ شخص کو کسی فردِجرم کے بغیر غیرمشروط طورپر رہا نہ کردے یا ضمانت نہ ہوجائے یا عدالتی کارروائی ختم نہ ہوجائے؛ یا کورٹ میں اعترافِ جرم کرچکا ہو یا نہیں کیا ہو یا عدالت نے اس کا فیصلہ سنادیا ہو۔

اور جہاں عدالتی کارروائی ابھی شروع نہ ہوئی ہو لیکن مستقبل میں اس کے جاری ہونے کا امکان ہو تو ایڈیٹروں کو چاہیے کہ اگر کوئی شخص ممکنہ طور پر گواہ بن سکتا ہو تو اسے اس وقت تک ہرگز رقم نہ دیں اور نہ ہی اس کی پیشکش کریں جب تک معلومات کی عوامی مفاد میں شائع کرنے کی ضرورت پیش نہ آجائے یا رقم دینے کی بہت ذیادہ ضرورت نہ ہو۔ اس معاملے میں بھی یہ خیال رکھا جائے کہ گواہ کو دی جانے والی رقم گواہان کی گواہی اور ثبوت پر پر کسی بھی طرح اثر انداز نہ ہو ۔ کسی بھی طرح رقم کی ادائیگی مقدمے کے نتائج سے مشروط نہیں ہونی چاہیے۔

مجرموں کو رقم کی ادائیگی

کسی جرم کو عمومی طور پر منظرِ عام پر لانے کے لیے یا اس اسٹوری کو پروان چڑھانے کے لیے درکار ضروری تصاویر، معلومات، اور اسٹوری کے لیے رقم براہِ راست یا کسی ایجنٹ کے ہاتھوں اس مجرم یا اس کے ساتھیوں تک نہیں پہنچنی چاہیے جن میں اس کے اہلِ خانہ اور دوست بھی شامل ہیں۔

ایڈیٹرز اگر عوامی مفاد کے تحت رقم دے رہے ہیں تو اس کا جواز ظاہر کرنا ہوگا کہ اس میں عوامی مفاد کو مقدم رکھا گیا ہے اور اگر رقم دینے کے باوجود بھی عوامی فائدہ نہیں ہورہا تو بہتر ہے کہ اس مواد کو شائع نہ کیا جائے۔

عوامی مفاد

مندرجہ ذیل عوامی مفادات ہوسکتے ہیں لیکن یہ صرف اسی تک محدود نہیں:

جرم کی شناخت اور بے نقاب کرنا یا سنجیدہ اور گھمبیر صورتحال سے پردہ اُٹھانا

عوامی صحت اور سلامتی کا تحفظ

کسی فرد یا ادارے کے بیان اور عمل سے عوام کو گمراہ ہونے سے بچانا

اظہارِ رائے کی آزادی خود ہی عوامی مفاد کا ایک حصہ ہے ۔

جب بھی عوامی مفاد پیشِ نظر ہو پریس کو ایسے ایڈیٹرز درکار ہوتے ہیں جو اس بات کا خیال رکھیں کہ جو کچھ وہ بیان کررہے ہیں یا شائع کرنے جارہے ہیں یا اسے شائع کرنے پر غور کررہے ہیں وہ کس طرح اور کیسے عوامی مفاد میں ہوگا ۔

مبصر ڈاٹ کام عوامی دسترس میں موجود معلوماتی مواد کی مزید توسیع کے لیے کوشش کرتا رہے گا اور اسے مزید عوامی رسائی تک لائےگا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پاکستان:  الیکٹرانک میڈیا ضابطہ اخلاق2015 ۔۔۔۔۔

مختصر عنوان یا لفظ اور ان کے استعمال کا طریقہ کار

کونٹینٹ: پروگرام اور اشتہارات

کرنٹ افیئرز: وہ پروگرام جن میں حالات حاضرہ پر تبصرہ کیا جائے

فارن کونٹینٹ: غیر ملکی کمپنی یا براڈکاسٹرز کا تشکیل کردہ کونٹینٹ یا مواد

Foreigner's shall have the same meaning as assigned under the Foreigner Act, 1946 or any other law of the time being in force.

فرقہ وارانہ یا فرقہ واریت: انسداد دہشت گردی ایکٹ 1977 میں درج شدہ مطلب کو مدنظر رکھتے ہوئے استعمال یا دورِ حاضر میں لاگو قانون کے مطابق استعمال

دہشت گردی یا دہشت گرد: انسداد دہشت گردی ایکٹ 1977 میں درج شدہ مطلب کو مد نظر رکھتے ہوئے استعمال یا دورِ حاضر میں لاگو قانون کے مطابق استعمال

بنیادی ہدایات

خبردار! وہ کونٹینٹ یا مواد ہرگز نشر نہ کیاجائے جو:

اسلامی روایات، پاکستان، قائد اعظم اور علامہ اقبال کے بتائے اصولوں کے خلاف ہوں

جو آئین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جمہوری نظام کو ٹھیس پہنچانے کے لیے فرد ، افراد یا کسی گروپ کو اکسائے
کسی مخصوص طبقے، گروپ یا عوام کو پاکستان کے خلاف، پاکستان کی سالمیت و دفاع کے خلاف ہتھیار اٹھانے پر اکسائے۔

فوٹیج، تبصرہ یا ایسا کوئی مواد جس سے مذہبی، فرقہ ورانہ، نسلی فسادیا کسی مخصوص گروپ، فرد میں مخالف گروپ یا فرد کے خلاف نفرت پیدا ہو۔

کسی بھی قسم کا فحش، بیہودہ اورنامناسب مواد یا ایسا مواد جوعوامی اخلاقیات پرمنفی اثرات مرتب کرے یا اسے مجروح کرنے کاسبب بنے۔

ایسامواد جس سے اشتعال پھیلے یاتشدد کی حوصلہ افزائی ہو۔۔ایسا موادجوامن وامان کی صورتحال کو خراب کرنے کا باعث بنے۔

ایسا مواد جو دانستہ طور پر غلط اور توہین آمیز ہو۔

عدلیہ، افواج پاکستان کو بدنام کرنے باعث ہو۔

ایسامواد جس کا مقصد کسی شخص کو ذاتی طورپربدنام کرنا ہو ۔

سگریٹ نوشی سے لے کر کسی بھی ممنوعہ نشے کی ترغیب کا باعث بنے ۔۔ سگریٹ نوشی یا نشے کے استعمال کے حوالے سے مواد صرف اس صورت میں نشر کیا جاسکتا ہے اگر ان اشیا کے نقصانات کے بارے میں پیشگی انتباہی معلومات فراہم کی جارہی ہو۔

پارلیمان اور صوبائی اسمبلیوں کی کارروائی کی رپورٹنگ کے دوران چیرمین اور اسپیکر کی حذف شدہ کارروائی نشر نہیں کی جائے گی۔ایوانوں کی منصفانہ کارروائی رپورٹ کرنے کی ہرممکن کوشش کی جائے گی۔

کسی بھی ایسی تنظیم یا ایسی تنظیموں کے نمائندوں کے بیانات ہرگز نشر نہ کیے جائیں جن پر پابندی عائد ہو ۔۔ 

جب تک وہ بیانات عوامی مفاد میں نہ ہوں جن میں اپنی غلطیوں، مذہب کا استحصال وغیرہ کا اعتراف نہ کیا گیا ہو ۔۔ اور ایسے بیانات کو نشر کرتے وقت بھی اس بات کا خیال رکھا جائے کہ ان سے کسی طرح بھی ایسی تنظیموں کی تشہیر یا ان کی مدد نہ ہو رہی ہو۔

کسی کی ذاتی معلومات ، رویے، بات چیت یا خط و کتابت کو پبلک ڈومین میں نہ لایا جائے جب تک یہ ساری باتیں عوامی مفاد میں نہ ہوں۔

ہدایت

نیوز اینڈ کرنٹ افیئرز

نیوز بلیٹن اور کرنٹ افیئرز شوز میں خبر اور معلومات درستگی اور توازن کے ساتھ نشر ہوں۔

سیاسی یا تجزیاتی پروگرام بامقصد طریقے سے کیے جائیں جن میں باعزت طریقے سے متعلقہ مہمانوں کی شمولیت یقینی بنائی جائے۔

جو معمولات عدالت میں زیرسماعت یا عدالتی فیصلے کے منتظر ہوں ان کو تعصب سے بالا تر ہو کر پیش کیا جائے اور اس بات کا خیال رکھا جائیکہ عدالتی و قانونی کارروائی خطرے میں نہ پڑے۔

نیوز بلیٹین میں ذاتی رائے، تجزیے شامل کرنے سے گریز کیا جائے ۔ نیوز اور کرنٹ افئیرز میں فرق رکھا جائے۔

کسی قسم کے خون خرابے یا بے رحمی سے قتل ہونے والے افراد کی فوٹیج ہر گز نشر نہ کی جائیں۔

کورٹ اور پولیس کارروائی سے لی گئی تفصیلات صحیح طریقے سے نشرکی جائیں۔

معلومات، خبر یا تجزیے نشر کرتے وقت خیال رکھا جائے کہ وہ صرف حقائق پر مبنی ہو اور ہرگز کسی ذاتی، اشتہاری یا کسی ادارے کے مفاد کی خاطر گمراہ کن نہ ہو۔

نیوز اور کرنٹ افئیرز کے بلیٹن یا پروگرام سے عدالتی و قانونی کارروائی خطرے میں نہ پڑے۔

پروگرام ہوسٹ اور پروڈیوسرز لائیو یا ریکارڈنگ سے پہلے پیمرا کے ظابطہ اخلاق کو ضرور مدِ نظر رکھیں۔ ظابطہ اخلاق کے خلاف ورزی پر کمیشن ان سے وضاحت طلب کرنے کا مجاز ہے اور قانونی کارروائی کا حق رکھتا ہے۔

لائیو اپ لنکنگ یا لائیو کوریج میں ٹائم ڈیلے میکینزم پر عمل درآمد لازمی بنایا جائے تاکہ کسی بھی قسم کا ایسا مواد آن ائیر جانے سے روکا جو ضابطہ اخلاق کے خلاف ہو۔

کونٹینٹ تیار کر نے کے ذمہ داران کسی خبر یا معلومات کو اپنی ذاتی مفاد کی خاطر اسے نشر کرنے یا رکوانے کی کوشش ہر گز نہ کریں ۔۔ اپنے پیشے کو ذاتی زندگی یا مفاد کی خاطر استعمال کرنے سے گریز کیاجائے۔

کسی بھی دوسرے چینل یا سورس سے کانٹینٹ لیتے وقت اس سورس یا چینل کو کریڈیٹ دینا یقینی بنایا جائے
حقائق اور اعدادوشمار نشر کرتے وقت معلومات کے ذریعے یا سورس سے آگاہ کرنا لازم ہے، اگر ہوسٹ سورس کی معلومات نہیں رکھتا تو اس بارے میں بھی وہ ناظرین کو آگاہ کرے۔

کسی حادثے یا جرم کی کوریج کرتے وقت خیال رکھا جائے کہ اس جرم کی تشہیر نہ ہورہی ہو اور یہ بھی خیال رکھا جائے کہ کوریج کی وجہ سے سیکیورٹی، اسپتال یا ریسکیو کارروائی خطرے میں نہ پڑے۔

خون خرابے یا بے رحمی سے قتل ہونے والے افراد کی فوٹیج ہر گز نشر نہ کی جائیں۔

جنسی زیارتی، ریپ جیسے کیسز کی کوریج یا انہیں نشر کرتے وقت انتہائی احتیاط کا مظاہرہ کیا جائے۔

جنسی زیادتی کے شکار افراد اور خاص کر بچوں کی شناخت ان سے اور ان کے اہل خانہ کی اجازت کے بغیر ہرگز نشر نہ کی جائے۔

کسی بھی سیکیورٹی آپریشن کے دوران متعلقہ افراد کی شناخت ، تعداد یا اہم معلومات بغیر سیکیورٹی انچارج کی اجازت یا اس کی تصدیق کے ہر گز نشرنہ کی جائے۔

کسی بھی سیکیورٹی آپریشن کی لائیو کوریج ہر گز نشر نہ جائے۔۔ صرف وہی معلومات یا فوٹیج نشر کی جائے جو سیکیورٹی ایجنسی سے تصدیق شدہ ہو۔

کسی ملزم ، دہشت گرد کیسر کی قیمت بغیر مجاز اتھارٹی کی اجازت کینشر نہ کی جائے۔

متنازع زون کی کوریج کرتے وقت خیال رکھا جائے کہ اس جگہ رپورٹنگ کسی بھی تعصب سے بالاتر ہو تاکہ سیکیورٹی آپریشن کی راہ میں رکاوٹیں حائل نہ ہوں۔

کانفلیکٹ زون میں کیمرہ مین یا رپورٹر کا داخلہ اس وقت تک ممنوع ہے جب تک سیکیوٹی انچارج اس کی اجازت نہ دے۔

چینل پر لازم ہے کہ وہ کیمرا مین، رپورٹر اور دیگر افراد کو کانفلیکٹ زون بھیجتے وقت بلٹ پروف جیکیٹ سمیت دیگر حفاظتی اشیا فراہم کرے۔

جنسی جرائم کی ری انیکمنٹ (ڈرامائی تشکیل )نشرنہ کی جائے۔

فوٹیج، تبصرہ یا ایسا کوئی مواد نشر نہ کیا جائے جس سے مذہبی، فرقہ ورانہ، نسلی فساد، کسی مخصوص گروپ، فرد میں مخالف گروپ یا فرد کے خلاف نفرت پیدا ہو۔

کسی کا بھی عقیدہ درست طریقے سے نشر کیا جائے اور مذہبی ہم آہنگی کو ہمیشہ فروغ دینے کا خیال رکھا جائے
بلا اجازت کسی فرد کا انٹرویو اس وقت تک نہ لیا جائے جب تک کم از کم ایک دفعہ اس شخص نے آپ کی انٹرویو ریکارڈ کرنے کی درخواست مسترد نہ کردی ہو ۔۔ ایسے انٹرویو جو بلااجازت لیے جائیں وہ عوامی مفاد میں ہونے لازم ہیں۔

کوئی انٹرویو بغیر اجازت طلب کئے نشر نہ کیا جائے۔

بچوں کے لیے نشر ہونے والے پروگرام اور اشتہارات اخلاقیات کے دائرے میں ہوں۔

ایسے پروگرام اور اشتہارات میں خوف اور خون خرابا ہرگز شامل نہ ہوں۔

کوئی مواد جو بچوں کے لیے موزوں نہ ہو اسے نشر کرنے سے پہلے ڈسکلیمر یا پورے پروگرام کے دورران ڈسکلیمر چلائیں۔

نیوز اور پروگرامنگ میں غیراخلاقی زبان استعمال کرنے سے پرہیز کریں۔

اگر کوئی مہمان دانستہ یا نا دانستہ طور پر غیر اخلاقی گفتگو کرنے کا مرتکب ہوجائے تو میزبان پر لازم ہے کہ وہ اس سے فوری معافی طلب کروائے۔

بچوں کے لیے نشر ہونے والے اشتہارات میں بچوں سے براہ راست مصنوعات خریدنے کی درخواست نہ کی جائے
سگریٹ، ممنوعہ نشہ آور اشیا اور شراب کے اشتہارات نشر نہ کیے جائیں۔

صحت سے متعلق کوئی بھی اشتہار بغیر وفاقی یا صوبائی حکومت کی اجازت کے نشر نہ کیے جائیں ۔ اور اجازت کے بعد نشر کرتے وقت بھی حکومت کی طرف سے تشکیل کردہ قواعد و ضوابط کا خیال رکھا جائے۔

پاکستان پینل کوڈ ایکٹ کے تحت لاٹری یا کسی بھی قسم کے جوے کے اشتہارات نشر کرنا سخت منع ہے ۔۔
کالا جادو، جعلی ڈاکٹرز یا سفلی عمل کے متعلق اشتہارات نہ نشر کیے جائیں۔

مذہبی اور قومی جذبات یا مذہبی اور قومی علامات اور ترانے کا استحصال کرکے مصنوعات کو فروغ نہ دیا جائے
اشتہار اور پروگرام میں فرق واضع رکھا جائے۔

اشتہارات جن میں سب ٹائٹل، لوگو یا سلائڈنگ ٹیکسٹ ہوں وہ ون ٹینتھ اسکرین سے تجاوز نہ کریں۔

اسپانسر، مشتہر یا کوئی بھی ایسی اتھارٹی کسی بھی طریقے سے چینل کے کانٹینٹ کو اثر انداز کرنے کے مجاز نہیں ۔۔ یہ افراد یا ادارے چینل کی ادارتی پالیسی کو اثرانداز یا نقصان پہنچانے کے مجاز نہیں۔

پروگرام اور اشتہارات اس وقت کے لاگو قانون کے مطابق نشر کیے جائیں۔

جن اشتہارات کو نشر کرنے سے پہلے اجازت کی شرط ہے تو لازم ہے کہ پہلے اجازت طلب کی جائے۔

چینلز پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کے وہ ضابطہ اخلاق پر عمل درآمد کریں اور اس پر عمل درآمد پر چیک اینڈ بیلنس رکھنے کے لیے ان ہاس مانیٹرنگ کمیٹی تشکیل دیں۔

کسی غلط خبر یا معلومات نشر ہونے کی صورت میں چینل پر لازم ہے کہ وہ فوری طور پر اسی انداز کو اپناتے ہوئے جس انداز میں غلط خبر نشر کی گئی تھی اپنی خبر کو صحیح کرکے نشر کرے۔

پروگرام میں شامل مہمان اپنی رائے کو حقائق بتا کر بیان کرے تو میزبان پر لازم ہے کہ وہ ناظرین کو آگاہ کرے کہ یہ بات درحقیقت ایک رائے ہے حقیقت نہیں۔

اسی طرح اگر میزبان بذات خود کوئی اپنی رائے دے تو اس پر لازم ہے کے وہ واضع کرے کے یہ اس کی ذاتی رائے ہے حقائق نہیں۔

چینل اپنے ملازمین کی ٹریننگ کرائے تاکہ وہ قواعد و ضوابط کا خیال رکھتے ہوئے اپنی ڈیوٹی انجام دیں۔

عوامی مفاد کے مطلب کے وہ مواد جو:

جرائم کو بے نقاب کریں:

سماج مخالف رویوں کی نشاندہی کریں
کرپشن اور نا انصافی کو بے نقاب کریں
عوام کی زندگی و صحت کا خیال کریں
لوگوں کو ورغلانے یا گمراہ کرنے سے بچائیں
وہ معلومات ظاہر کریں جو عوام کو مفاد عامہ کے تحت فیصلے کرنے کی طرف لے جائے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

چینل اس وقت تک سنگین الزامات پر مبنی خبر نشر نہ کرے جب تک اس الزام کی اچھی طرح تصدیق نہ کرلے اور جس شخص یا ادارے پر الزام لگایا جارہا ہے اس کو دفاع کرنے کا پورا موقع نہ دیا جائے۔

جس شخص پر الزام لگایا گیا ہو اگر وہ وضاحت دینے یا اپنا دفاع کرنے کے لیے دستیاب نہیں تو اسے اصولی طور پر مجرم ہونے تک بے قصور سمجھا جائے اوراس شخص کی دستیابی کی ہرممکن کوشش جاری رکھی جائے۔

سنگین الزام کی صورت میں چینل پر لازم ہے کہ وہ کسی بھی قسم کا گمراہ کن مواد ثبوت کے طور پر ہر گز نشر نہ کرے۔

نفرت انگیز تقریر جیسے کسی کو پاکستان مخالف، غدار یا اسلام دشمن کہنا اس قسم کے الزامات نشر نہ کیے جایئں ۔۔ اگر کوئی مہمان اس قسم کی الزام تراشی کسی پر کرے تو ہوسٹ یا اینکر پر لازم ہے کے وہ اسے روکے اور اسے اور نظرین کو آگاہ کرے کہ اس قسم کی تہمت لگانے کی کسی کو اجازت نہیں۔

نفرت انگیز تقریر یعنی وہ مواد:

جو تشدد پر اکسائے
مذہب، قومیت، رنگ، نسل،جنس،ذات، ذہنی و جسمانی طور پر عوام کو نفرت اور امتیازی سلوک پر اکسائے۔

 
مقبول ترین
انجیلا مرکل انتخابات میں کامیابی حاصل کرکے چوتھی بار جرمنی کی چانسلر منتخب ہوگئیں۔ میڈیا کے مطابق جرمنی میں ہونے والے فیڈرل الیکشن میں انجیلا مرکل کی سیاسی جماعت کرسچین ڈیموکریٹک یونین(سی ڈی یو) اور اس کی اتحادی
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس حوالے سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک ٹوئٹ کیا جس میں ان کا کہنا تھا کہ ابھی اقوام متحدہ میں شمالی کوریا کے وزیر خارجہ کے خطاب کو سنا، اگر وہ 'لٹل راکٹ مین' کی ہی سوچ کی تائیدکرتے ہیں تو پھر وہ بہت دیر تک نہیں رہیں گے۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے کہا کہ جمہوریت کو مضبوط کرنے کیلیے صاف شفاف الیکشن کرائے جائیں، شاہد خاقان عباسی بہت کمزور وزیراعظم ہیں، ان پر خود ایل این جی کرپشن کا دھبا ہے۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری بیان کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا ہے کہ ہر قیمت پر مادر وطن کے دفاع کی قسم کھائی ہے، ہم قربانیاں دیتے آئے ہیں، قربانیاں دے رہے ہیں اوردیتے رہیں گے

براہ راست نشریات
روس کے ساتھ تعلقات دوستانہ، خوشگوار اور پائیدار بنانے کے سلسلے میں عوامی اور سیاسی سطح پر اتفاق رائے پایا جاتا ہے۔ یہی وہ بنیادی نکتہ ہے کہ عالمی سیاسی حلقوں اور تزویراتی موضوع پر قائم تھنک ٹینکس
ظلم کی سیاہ رات بہت تاریک تو ضرور ہوتی ہے لیکن سحر بہت روشن ہوتی ہے ۔کشمیر میں ظلم کی سیاہ رات کے گہرے سائے ہیں لیکن آزادی کی سحر قریب ہے ۔بھارتی فوج ظلم کے تمام حربے آزما کر تھک چکی ہے لیکن کشمیریوں
شمالی کوریا نے ایک عرصہ سے میزائیل تجربات کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ حالیہ دنوں میں امریکی صدر ٹرمپ نے میزائیل تجربوں سے باز نہ آنے پر شمالی کوریا کو براہ رست حملے کی دھمکیاں بھی دی ہیں

کیا میانمار کا مسئلہ فقط مذہبی ہے؟
نتائج ملاحظہ کریں
پاکستان
 
وزیراعظم ملک میں نئے انتخابات کا اعلان کریں، عمران خان
 
آپریشن ردالفساد، ڈی آئی خان میں 3 دہشت گرد ہلاک
 
شہید لیفٹیننٹ ارسلان کی مکمل سرکاری اعزاز کے ساتھ تدفین
 
تحریک انصاف اور ایم کیوایم قومی اسمبلی میں تبدیلی پر متفق
 
شہید ہونے آئے ہیں، گولی کا انتظار ہے، شہید لیفٹیننٹ ارسلان عالم
 
عمران کے گوشوارے: تفصیلات سپریم کورٹ میں جمع
 
 
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں