Monday, 16 December, 2019
علامہ کراروی کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا، ثاقب اکبر

علامہ کراروی کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا، ثاقب اکبر

اسلام آباد ۔ علامہ سید علی غضنفر کراروی کی ملک و ملت اور اتحاد امت کے لیے خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ ان کا انتقال ان کے خانوادے کے ساتھ ساتھ اتحاد امت ، مثبت اور تعمیری سیاست اور باہمی یگانگت کی کاوشوں کے لیے ایک عظیم نقصان ہے۔ 

علامہ نے اپنی ان تھک زندگی اسلام کی سربلندی اور پاکستان کے استحکام کے لیے وقف کیے رکھی، وہ کئی ایک مذہبی و سیاسی اتحادوں کاحصہ رہے، انھوں نے کئی تحریکوں کی بنیاد رکھی، تحریک ختم نبوت کے اہم راہنما تھے۔ 

ان خیالات کا اظہار جناب ثاقب اکبر نے علامہ سید علی غضنفر کراروی کی رحلت کے حوالے سے ایک تعزیتی بیان میں کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ علامہ سید علی غضنفر کراروی ایک مرنجاں مرنج شخصیت تھے اور ایک توانا خطیب تھے۔کہنہ سالی کے باوجودلوگوں سے ملنا جلنا، ان کی احوال پرسی اور ان کے ہمراہ حسن سلوک علامہ سید علی غضنفر کراروی کا خاصہ تھا ۔ 

یاد رہے کہ علامہ سید علی غضنفر کراروی ایک طویل علالت کے بعد کل شب خالق حقیقی سے جا ملے۔ ان کی عمر قریبا سو برس تھی ۔مرحوم نے پسماندگان میں ایک بیٹا، ایک بیٹی اور متعدد پوتے، پوتیاں اور ان کے بچے چھوڑے ہیں۔

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  4511
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
پاکستان اسلام اور قرآن کریم کے نام پر حاصل ہوا، شب نزول قرآن پاکستان کی آزادی کا دن ہے۔ ان خیالات کا اظہار مسئول التنزیل فائونڈیشن سید سجاد حسین نقوی نے تربیت اساتذہ قرآن کریم ورکشاپ کے اختتامیہ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا ہے کہ اصلاحِ معاشرہ کیلئے نوجوانوں کی تعلیمی ، اخلاقی ، نظریاتی ، سیاسی اور فنی تربیت نا گزیر ہے جس سے معاشرے کی اصلاح احوال مذہبی
قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا ہے کہ پاراچنار کے چاروں اطراف قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے سیکورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کے باوجو د
پاکستان کے معروف عالم دین، تحریک منہاج القران علماءکونسل کے مرکزی رہنما اور عالمی ختم نبوت کے نائب امیرعلامہ علی غضنفر کراروی ہزاروں اشک بار آنکھوں کے سامنے سپرد خاک کر دیے گئے۔

مقبول ترین
16 دسمبر 1971ء پاکستان کی تاریخ کا سب سے المناک، عبرتناک اور ہولناک دن تھا۔ جب پاکستانی فوج کے ایک بزدل اور بے غیرت جرنیل نے ڈھاکا کے ریس کورس گرائونڈ میں اپنے بھارتی ہم منصب کے آگے سرنڈر کرتے ہوئے
بھارت میں مسلم مخالف متنازع قانون کے خلاف احتجاج وسیع اور پرتشدد ہوگیا ہے جس کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد 6ہوگئی ہے جس میں ایک طالب علم بھی شامل ہے جو پولیس کی فائرنگ کانشانہ بنا۔احتجاج کے چوتھے روز دارالحکومت
16 دسمبر سال 2014ء کا روز، تاریخ میں سیاہ ترین دن کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ جب سفاک دہشت گردوں نے پشاور کے آرمی پبلک اسکول میں وحشت اور بربریت کی انتہا کر دی اور 149 گھروں میں صف ماتم بچھا دی گئی۔
معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ اگر لاڑکانہ میں بھٹو زندہ ہے تو غریب مر چکے ہیں۔ بلاول نے کرپشن سے اپنا رشتہ ابھی تک نہیں توڑا۔ پیپلز پارٹی نے بھٹو کے نظریے کو ختم کر دیا ہے۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں