Monday, 16 December, 2019
علامہ علی غضنفر کراروی سپرد خاک کر دیے گئے

علامہ علی غضنفر کراروی سپرد خاک کر دیے گئے

علامہ کراروی ، اتحاد امت کے داعی اور جرات مند خطیب تھے ، شفا نجفی 
اسلام آباد۔ پاکستان کے معروف عالم دین، تحریک منہاج القران علماءکونسل کے مرکزی رہنما اور عالمی ختم نبوت کے نائب امیرعلامہ علی غضنفر کراروی ہزاروں اشک بار آنکھوں کے سامنے سپرد خاک کر دیے گئے۔ نماز جنازہ علامہ محمد شفاءنجفی کی اقتدا میں جامع مسجدالصادق ، اسلام آباد میں بعد از نماز جمعہ ادا کی گئی ۔علامہ محمد شفاءنجفی نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہاکہ علامہ کراروی ، اتحاد امت کے داعی اور جرات مند خطیب تھے ۔ بعد از نماز جنازہ مرحوم کوایچ الیون قبرستان میں سپرد خاک کر دیا گیا ۔
واضح رہے کہ مرحوم ۶۱ مئی بروز منگل وفات پا گئے تھے۔ مرحوم کی اتحاد امت اوربین المسالک ہم آہنگی کے لئے گراں قدر خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ وہ اسلامی نظریاتی کونسل کے رکن بھی رہے۔ ان کی عمر تقریبا 100 برس تھی۔ 
 نماز جنازہ میں ممتاز دانشورآغا مرتضی پویا، ملی یکجہتی کونسل کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل ثاقب اکبر،شیعہ پولیٹیکل پارٹی کے صدر پیر نوبہار شاہ، جامعہ کوثر کے محقق اور استاد علامہ آفتاب جوادی ، عوامی تحریک کے رہنما میر واعظ ترین اور دیگر سیاسی ، مذہبی اور سماجی رہنماوں کے علاوہ عوام نے کثیر تعداد میں شرکت کی ۔ جنازہ کے شرکاءنے مرحوم کی علمی اور مذہبی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ مرحوم نے فروغ امن کے پیغام کی ترویج و اشاعت کے لیے تادم مرگ جدوجہد کی

 

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  90089
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
پاکستان اسلام اور قرآن کریم کے نام پر حاصل ہوا، شب نزول قرآن پاکستان کی آزادی کا دن ہے۔ ان خیالات کا اظہار مسئول التنزیل فائونڈیشن سید سجاد حسین نقوی نے تربیت اساتذہ قرآن کریم ورکشاپ کے اختتامیہ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا ہے کہ اصلاحِ معاشرہ کیلئے نوجوانوں کی تعلیمی ، اخلاقی ، نظریاتی ، سیاسی اور فنی تربیت نا گزیر ہے جس سے معاشرے کی اصلاح احوال مذہبی
قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا ہے کہ پاراچنار کے چاروں اطراف قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے سیکورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کے باوجو د
علامہ سید علی غضنفر کراروی کی ملک و ملت اور اتحاد امت کے لیے خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ ان کا انتقال ان کے خانوادے کے ساتھ ساتھ اتحاد امت ، مثبت اور تعمیری سیاست اور باہمی یگانگت کی کاوشوں کے لیے ایک عظیم نقصان ہے۔

مقبول ترین
16 دسمبر 1971ء پاکستان کی تاریخ کا سب سے المناک، عبرتناک اور ہولناک دن تھا۔ جب پاکستانی فوج کے ایک بزدل اور بے غیرت جرنیل نے ڈھاکا کے ریس کورس گرائونڈ میں اپنے بھارتی ہم منصب کے آگے سرنڈر کرتے ہوئے
بھارت میں مسلم مخالف متنازع قانون کے خلاف احتجاج وسیع اور پرتشدد ہوگیا ہے جس کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد 6ہوگئی ہے جس میں ایک طالب علم بھی شامل ہے جو پولیس کی فائرنگ کانشانہ بنا۔احتجاج کے چوتھے روز دارالحکومت
16 دسمبر سال 2014ء کا روز، تاریخ میں سیاہ ترین دن کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ جب سفاک دہشت گردوں نے پشاور کے آرمی پبلک اسکول میں وحشت اور بربریت کی انتہا کر دی اور 149 گھروں میں صف ماتم بچھا دی گئی۔
معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ اگر لاڑکانہ میں بھٹو زندہ ہے تو غریب مر چکے ہیں۔ بلاول نے کرپشن سے اپنا رشتہ ابھی تک نہیں توڑا۔ پیپلز پارٹی نے بھٹو کے نظریے کو ختم کر دیا ہے۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں