Monday, 16 December, 2019
نو جوان طلباء مستقبل کے معمار ہیں، علامہ ساجد نقوی

نو جوان طلباء مستقبل کے معمار ہیں، علامہ ساجد نقوی

اسلام آباد ۔ قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا ہے کہ اصلاحِ معاشرہ کیلئے نوجوانوں کی تعلیمی ، اخلاقی ، نظریاتی ، سیاسی اور فنی تربیت نا گزیر ہے جس سے معاشرے کی اصلاح احوال مذہبی ، سیاسی اور سماجی سطح بہتر طور پر انجام دی جا سکتی ہے۔

جعفریہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کے زیرِ اہتمام چا ر روزہ مرکزی تعمیر سیرت تربیتی ورکشاپ کی اختتامی تقریب میں صدارتی خطاب کرتے ہوئے قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی کا کہنا تھا کہ نو جوان طلباء معاشرے کا اساس اور مستقبل کے معمار ہیں ۔ جنکی تعلیم و تربیت کر کے نہ صرف معاشرے کی بنیاد کو مضبوط اور مستحکم کیا جاتا ہے بلکہ اس معاشرے کے زریعے اقوام عالم میں بلند مرتبہ و مقام بھی پایا جا سکتا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ نوجوان معاشرے کا با ہمت اور حوصلہ مند طبقہ ہے ۔اور وہی اپنی سیرت و کردار کی تعمیر کے بعد معاشرے کو نئی روشنی اور راہوں سے ہمکنار کر سکتے ہیں ۔انہوں نے پانچ نکاتی فارمولہ دیتے ہوئے کہا کہ نوجوان دنیاوی و مذہبی تعلیم و تربیت ، اخلاقیات ، نظریاتی استحکام ، سیاسی فکر میں ارتقاء اور فنی و شعبہ جاتی تربیت کے زیور سے منور ہو کر تخلیقِ انسانیت کا مقدس مقصد پا سکتے ہیں۔

علامہ ساجد نقوی کا مزید کہنا تھا کہ نصاب تعلیم ملی تقاضوں کے مطابق ہونا چاہئے۔بحیثیت مسلمان ،ایک اسلامی جمہوریہ پاکستان کے شہری ہونے کے مطابق جیسی تربیت ہونی چاہئے ان تقاضوں کو پورا کرنا چاہئے یہ ہمارا بنیادی مطالبہ ہے اسے یاد رکھا جائے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ یہاں تعلیم کو بہت سے مسائل در پیش ہیں مسائل کا ذکر کروں تو بات لمبی ہو جائے گی۔ملک میں تعلیمی نظام کو بہت سے حصوں اور درجات میں تقسیم کر دیا گیا ہے ۔حصولِ تعلیم کی کتنی قسمیں و درجات ہیں اور کس کس انداز کے اسکول اور کالجز ہیں غریب کے لیے اور اور امراء کے لیے اور ان کے ما بین ہم آہنگی نہیں ہے ۔یہی ہمارے ملک میں نظامِ تعلیم کا سب سے بڑا مسئلہ ہے کہ وہ کمرشلائز ہو چکی ہے جس کی وجہ سے تعلیم بہت مہنگی ہو چکی ہے اور تعلیم غریب کی پہنچ سے دور ہوتی جا رہی ہے جس کے لیے دورِ حاضر کے تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے حالات کا جائزہ لے کر انقلابی پالیسیاں مرتب کرنی چاہئیں اس کا بھی جائزہ لینا ہو گا کہ سرکاری اداروں میں تعلیم کی کیا حیثیت ہے ۔

قبل ازیں خطاب کرتے ہوئے شیعہ علماء کونسل کے مرکزی رہنماء علامہ ڈاکٹر شبیر حسن میثمی ، اور اسلامی نظریاتی کونسل کے ممبر علامہ افتخار حسین نقوی نے نو جوانوں کو عصرِ زمانہ کے علوم کے ساتھ ساتھ مذہبی علوم پر بھی دسترس حاصل کرنے کی ترغیب دی۔

اس موقع پر اسٹیج پر شیعہ علماء کونسل پاکستان کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات زاہد علی آخو نزادہ ، جے۔ایس۔او۔پاکستان کے مرکزی صدر حسن عباس ، شیعہ علماء کونسل ڈی آئی خان کے صدر علامہ کاظم مطہری ،ضلع پشاور کے صدر آخونزادہ مجاہد علی اکبر اور جے۔ایس۔او۔پاکستان کے سابق مرکزی صدر وفا عباس بھی موجود تھے۔

چار روزہ تعمیر سیرت ورکشاپ کے آخری روز جے ۔ایس۔او۔پاکستان کے جوانوں کے مابین تقریری مقابلوں اور تعلیمی میدانوں میں اعلیٰ نمبر حاصل کر نے والے طلباء میں ٹرافیاں ، تعریفی اسناد ،انعامات بھی تقسیم کیے گئے ۔

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  76486
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
پاکستان اسلام اور قرآن کریم کے نام پر حاصل ہوا، شب نزول قرآن پاکستان کی آزادی کا دن ہے۔ ان خیالات کا اظہار مسئول التنزیل فائونڈیشن سید سجاد حسین نقوی نے تربیت اساتذہ قرآن کریم ورکشاپ کے اختتامیہ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا ہے کہ پاراچنار کے چاروں اطراف قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے سیکورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کے باوجو د
پاکستان کے معروف عالم دین، تحریک منہاج القران علماءکونسل کے مرکزی رہنما اور عالمی ختم نبوت کے نائب امیرعلامہ علی غضنفر کراروی ہزاروں اشک بار آنکھوں کے سامنے سپرد خاک کر دیے گئے۔
علامہ سید علی غضنفر کراروی کی ملک و ملت اور اتحاد امت کے لیے خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ ان کا انتقال ان کے خانوادے کے ساتھ ساتھ اتحاد امت ، مثبت اور تعمیری سیاست اور باہمی یگانگت کی کاوشوں کے لیے ایک عظیم نقصان ہے۔

مقبول ترین
معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ اگر لاڑکانہ میں بھٹو زندہ ہے تو غریب مر چکے ہیں۔ بلاول نے کرپشن سے اپنا رشتہ ابھی تک نہیں توڑا۔ پیپلز پارٹی نے بھٹو کے نظریے کو ختم کر دیا ہے۔
نریندر مودی کی اگلی جیت ہندوستانی شہریت کا ترمیمی ایکٹ ہے، جس نے آسام اور پورے ہندوستان کے مسلمانوں کے اندر بے چینی کو جنم دے دیا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ مودی جی اور کون کون سی غلطیوں کی اصلاح کرتے ہیں۔ ناگالینڈ، ٹیپورہ، خالصتان بھی مودی کا منہ تک رہے ہیں۔ امید ہے فاتح ہندوستان جلد یا بدیر ان غلطیوں کی اصلاح کی بھی کوشش کرینگے۔ آئینی جنگ تو وہ شاید جیت جائیں، تاہم انکے ان اقدامات کے سبب وہ وقت دور نہیں کہ جب ہندوستان کی ساجھے کی ہانڈی بھرے چوراہے میں پھوٹے گی اور تاریخ ایک مرتبہ پھر ہندوستان کی تقسیم کا منظر اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کریگی۔
بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی) مینگل کے سربراہ سردار اختر مینگل کا کہنا ہے کہ ہم چاہتے ہیں جنوبی پنجاب بھی برابرکا ترقی یافتہ ہو، سی پیک سے لاہور میٹروٹرین چلائی گئی لیکن بلوچستان میں کیکڑا بس بھی نہیں دی گئی۔
کوئٹہ میں ورکرز کنونشن سے خطاب میں بلاول بھٹو زرداری کا کہناتھا کہ اس وقت بلوچستان میں لوگوں کو حقوق نہیں دیےجارہے، بلوچستان میں دیگر صوبوں سے زیادہ وسائل ہیں، مگربدقسمتی سے بلوچستان کے لوگ محروم ہیں، نالائق اور نااہل

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں