Wednesday, 03 June, 2020
بارش سے مٹی کی خوشبو پر تحقیق سے اہم سائنسی راز منکشف

بارش سے مٹی کی خوشبو پر تحقیق سے اہم سائنسی راز منکشف

سویڈن: کبھی آپ نے سوچا کہ بالخصوص بارش کے بعد مٹی سے خوشبو کیوں آتی ہے؟

جب اس کی وجہ پر غور کیا گیا تو ایک سائنسی راز کا انکشاف بھی ہوا۔ بوئے گِل یعنی بارش کےبعد یا اس سے پہلے مٹی سے اٹھنے والی خوشبو ایک طرح بیکٹیریا اسٹریپٹو مائسس سے پیدا ہوتی ہے لیکن آخر ایسا کیوں ہوتا ہے؟

اس کا جواب پانے کےلیے سویڈش زرعی یونیورسٹی کے پال بیشر اور ان کے ساتھیوں نے کئی جگہوں سے مٹی کے نمونے دیکھے ہیں جن میں اسٹریپٹو مائسس کے جتھے تھے۔ پہلے خیال تھا کہ ان سے خارج ہونے والی خاص بو انہیں زہریلا ثابت کرنے کے لیے ہوتی ہیں کیونکہ اس گروہ کے بعض بیکٹیریا زہریلے بھی ہوتے ہیں۔
لیکن اب معلوم ہوا ہے کہ بیکٹیریا یہ بو اس لیے خارج کرتے ہیں کہ وہ ریڑھ کی ہڈی کے بغیر کیڑوں اور کیچووں کو اپنی جانب راغب کرسکیں تاکہ وہ بیکٹیریا کے پاس آکر انہیں مزید فاصلے تک لے جاسکیں۔ یہ عمل بارش کے بعد مزید تیز ہوجاتا ہے۔

اس کے لیے مٹی میں پائے جانے والے ایک قسم کے کیڑے اسپرنگ ٹیل کو پہلے اسٹریپٹومائسس والی مٹی کے پاس رکھا گیا تو وہ اس جانب راغب ہوئے لیکن جب مٹی میں سے بیکٹیریا ہٹائے گئے تو کیڑے مٹی کی طرف نہیں پھٹکے۔ دوسری جانب مٹی میں اسٹریپٹو مائسس ملائے گئے اور اس بار مکڑیوں اور بڑے کیڑوں کو اس جانب بلایا گیا لیکن وہ اس طرح نہیں آئے۔

اس کے بعد کیڑوں کے اعصاب پر باریک برقیرے یعنی الیکٹروڈز لگا کر بھی ان کی آزمائش کی گئی تو اسٹریٹو مائسس کی دو اقسام  جیوسمائن اور 2 ایم آئی بی کی موجودگی میں کیڑوں کے وہ اعصاب سرگرم ہوئے جو کسی دلچسپی کو ظاہر کرتے ہیں۔

اس طرح کہا جاسکتا ہے کہ اسپرنگ ٹیل ان بیکٹیریا کی جانب راغب ہوتے ہیں اور اسے اپنے بدن پر چپکا کر مزید دور دور تک پھیلاتے ہیں۔ لیکن اس عمل میں بعض اسٹریپٹو مائسس کے  زہریلے اثرات کا ان کیڑوں پر کوئی اثر نہیں ہوتا اورشاید اس کی وجہ یہ ہے کہ کیڑے مسلسل اس ماحول میں رہ کر ان کے منفی اثرات کو برداشت کرنا سیکھ چکے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بشکریہ ایکسپریس
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کسی بھی خبر سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ علاوہ ازیں آپ بھی اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر info@mubassir.com پر ای میل کر سکتے ہیں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  79879
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
ایک سائنسی مطالعے کے مطابق پانی کی ضرورت مند نباتات، مٹی کےاندر سے ابلنے والے پانی کی آواز سننے کی صلاحیت رکھتے ہے۔ اسی طرح حشرات الارض کا احساس اور ہوا کی لرزش کو بھی سنتے ہیں۔
ایچ آر ٹی کی کچھ اقسام درحقیقت خواتین میں چھاتی کے سرطان سے بچاؤ میں مدد گار ثابت ہوسکتے ہیں۔
پاکستان ٹیلی کمیونکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے چیئرمین میجر جنرل (ر) عامر عظیم باجوہ نے تجویز دی ہے کہ حکومت پالیسی بنا کر سماجی رابطے کی ویب سائٹس کو مقامی سطح پر بلاک کرے یا پی ٹی اے کی تکنیکی صلاحیت بڑھائی جائے۔
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی نے ملک بھر میں سوشل میڈیا سائٹس کی بحالی کا حکم دے دیا۔ گزشتہ روز اسلام آباد میں مذہبی جماعت پر پولیس اور ایف سی کے آپریشن کے فوری بعد ملک بھر میں سوشل میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا پر

مقبول ترین
آج یہ کہتے ہوئے دل کر رہا ہے کہ مسلسل ہنستی رہوں کہ سپر پاورامریکہ۔۔۔ جی ہاں! وہی امریکہ جس نے افغانستان کو کھنڈرات میں بدل دیا وہی امریکہ جس نے عراق پر ایک عرصہ جنگ مسلط کیے رکھی، کبھی بمباری کر کے تو کبھی داعش کی شکل میں کیڑے مکوڑوں کی فوج بنا کے، عراق پر اپنا تسلط برقرار رکھنا چاہا۔
علامہ محمداقبال رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے فرمایا ہے کہ”ثبات ایک تغیرکو ہے زمانے میں“،گویا اس آسمان کی چھت کی نیچے کسی چیز کو قرارواستحکام نہیں۔تاریخ گواہ ہے کہ اس زمین کا جغرافیہ ایک ایک صدی میں کئی کئی مرتبہ کروٹیں بدلتارہا ہے۔سائنس کی بڑھتی ہوئی رفتار کے ساتھ جغرافیے کی تبدیلی کا عمل بھی تیزتر ہوتاجارہاہے،چنانچہ گزشتہ ایک صدی نے تین بڑی بڑی سپر طاقتوں کے ڈوبنے کا مشاہدہ کیا،
صوبائی وزیر مرتضیٰ بلوچ کورونا وائرس کے باعث کئی روز سے ہسپتال میں زیر علاج تھے۔ ان کا تعلق پاکستان پیپلز پارٹی سے تھا۔ میڈیا کے مطابق صوبائی وزیر کچی آبادی غلام مرتضیٰ بلوچ کورونا وائرس کے باعث انتقال کر گئے ہیں۔ مرحوم کچھ روز
نظریہ مہدویت ایسا موضوع ہے، جو صدیوں سے انسانوں کے درمیان زیر بحث رہا ہے۔ اس اعتقاد کے ساتھ انسان کا مستقبل روشن ہے، یہ عقیدہ کسی ایک قوم، کسی فرقے یا کسی مذہب کے ساتھ مخصوص نہیں ہے بلکہ مہدویت ایک ایسی عالمگیر حکومت کا نام ہے کہ جس کی بنیاد تمام انسانوں کے مابین عدل و انصاف اور اخلاق و محبت پر ہوگی۔ مہدویت ایسی آواز ہے، جو کہ ہر روشن خیال انسان کے اندر فطری طور پر موجود ہے۔ ایسی امید ہے، جو زندگی کو تروتازہ اور غم و اندیشہ سے دور کرکے نور الٰہی کی طرف لے جاتی ہے۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں