Friday, 18 October, 2019
’’وزیراعظم لیاقت علی خان سے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی تک‘‘

’’وزیراعظم لیاقت علی خان سے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی تک‘‘
رپورٹ: سدھیر احمد کیانی

 

اسلام آباد ۔ پاکستان مسلم لیگ ن کے امیدوار شاہد خاقان عباسی ملک کے  اٹھارویں وزیراعظم منتخب ہو گئے ہیں۔ یکم اگست 2017 کو پارلیمنٹ کے ایوان زیریں نے شاہد خاقان عباسی کے حق میں 221 ووٹ دے کر انھیں قائد ایوان کےمنصب پر فائز کیا ہے۔ 

اس سے قبل پاکستان کی تاریخ میں سترہ وزرائے اعظم گزر چکے ہیں تاہم بد قسمتی سے پاکستانی تاریخ میں کسی بھی وزیراعظم کو اپنی مدت پوری نہیں کرنے دی گئی۔ پاکستان کی تاریخ میں سب سے طویل عرصے تک وزیراعظم رہنے کا اعزاز پاکستان پیپلز پارٹی کے سید یوسف رضا گیلانی کو حاصل ہے جو 25 مارچ 2008 سے لیکر 19 جون 2012 تک ٹوٹل چار سال دو ماہ اور 24 دن یہ ذمہ داریاں نبھاتے رہے۔ جبکہ اس عہدے پر سب سے کم عرصہ ایوب خان 24 اکتوبر 1958 سے 28 اکتوبر 1958 تک صرف پانچ دن وزیراعظم رہے۔ جبکہ  پاکستان مسلم لیگ کے نورالامین سات دسمبر 1971 سے لیکر 20 دسمبر 1971 تک صرف 14 دن تک یہ منصب سنبھال سکے۔ پاکستان مسلم لیگ ن کے میاں محمد نواز شریف کو سب سے زیادہ تین بار اس عہدے پر رہنے کا شرف حاصل ہے تاہم وہ تینوں بار اپنی مدت پوری کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکے۔ پاکستان پیپلزپارٹی کی شہید محترمہ بینظیر بھٹو کو دو باروزیراعظم رہنے کا موقع ملا مگروہ بھی اپنی مدت پوری کرنے میں کامیاب  نہیں ہو سکیں اور دونوں باراسبملی توڑ کرانھیں برظرف کر دیا گیا۔ 

پاکستان کے پہلے وزیراعظم تحریک پاکستان کے سرگرم رکن اور بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کے دست راست مسلم لیگ کے خان لیاقت علی خان تھے جو پاکستان کے قیام سے لیکر 16 اکتوبر 1951 تک اس عہدے پر رہے۔ خان لیاقت علی خان 16 اکتوبر کو راولپنڈی کے کمپنی باغ جو آجکل لیاقت باغ سے مشہور ہے کے مقام پر ایک جلسے کےموقع پر ایک سید اکبر نامی شخص کے ہاتھوں گولی لگنے سے شہید ہو گئے تھے۔ پاکستان کے دوسرے وزیراعظم مسلم لیگ کے خواجہ ناظم الدین تھے جو 17 اکتوبر 1951 سے لیکر 17 اپریل 1953 تک،  تیسرے مسلم لیگ کے محمد علی بوگرہ سات اپریل 1953 سے 12 اگست 1955 تک، چوتھے مسلم لیگ کے چوہدری محمد علی 12 اگست 1955 سے 12 ستمبر 1956 تک، پانچویں مسلم لیگ کے حسین شہید سہروردی 12 ستمبر 1956 سے 17 اکتوبر 1957 تک، چھٹے مسلم لیگ کے ابراہیم اسماعیل  چندریگر 17 اکتوبر 1957 سے 16 دسمبر 1957 تک، ساتویں ریپبلیکن پارٹی کے فیروز خان نون 16 دسمبر 1957 سے سات اکتوبر 1958 تک، آٹھویں محمد ایوب خان آزاد 24 اکتوبر 1958 سے 28 اکتوبر 1058 تک، نویں پاکستان مسلم لیگ کے نورالامین سات دسمبر 1971 سے 20 دسمبر 1971 تک، دسویں پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی قائد ذوالفقار علی بھٹو 14 اگست 1973 سے 5 جولائی 1977 تک، گیارہویں پاکستان مسلم لیگ کے محمد خان جونیجو 24 مارچ 1985 سے 29 مئی 1988 تک اس عہدے پر کام کرتے رہے۔ 

راولپنڈی میں اوجڑی کیمپ دھماکوں کے بعد صدر جنرل ضیاء الحق کے ساتھ اختلافات کے بعد محمد خان جونیجو کی حکومت کو برطرف کر دیا گیا اور صدر ضیاءالحق نے غیرجماعتی انتخابات کروانے کا اعلان کیا مگر شومئی قسمت کہ ان کو یہ انتخابات کروانے کی مہلت نہ ملی اور وہ 17 اگست 1988 کو بہاولپور کے قریب ایک طیارے کے حادثے میں جاں بحق ہو گئے اور اس وقت سینٹ کے چیئرمین اسحاق خان نے صدرات سنبھال لی اور جماعتی انتخابات کروانے کا اعلان کیا ۔ 1988 کے انتخابات میں پیپلز پارٹی نے بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی اور  پاکستان پیپلز پارٹی کی شریک چیئرپرسن محترمہ بینظیر بھٹو نے دو دسمبر 1988 کو پاکستان کی بارویں اور عالم اسلام کی پہلی خاتون وزیراعظم کی حیثیت سے حلف اٹھایا تاہم  صدر اسحاق خان نے چھ دسمبر 1990 کو محترمہ بینظیر بھٹو کی حکومت برطرف کر دی اور اسمبلیاں توڑ دیں گئیں اور نیشنل پیپلز پارٹی کے سربراہ غلام مصطفےٰ جتوئی کو نگران وزیراعظم مقرر کیا گیا۔  غلام مصطفےٰ جتوئی نے 1990 کے عام انتخابات کروائے اور انتخابات میں کامیاب ہونے والی جماعت پاکستان مسلم لیگ ن کے سربراہ میاں محمد نواز شریف چھ نومبر 1990 کو پہلی بار پاکستان کے تیرہویں وزیراعظم بن گئے جو 18 اپریل 1993 تک اس منصب پر فائز رہے۔

18 اپریل 1993 کو صدر اسحاق خان نے ایک بار پھر اسمبلی اور منتخب وزیراعظم کو چلتا کیا اور بلخ شیر مزاری نگران وزیراعظم بن گئے جو 26 مئی 1993 تک نگران وزیراعظم رہے۔ نواز شریف نے سپریم کورٹ میں اسمبلی اور حکومت کی بحالی کیلئے پٹیشن دائر کی اور سپریم کورٹ نے 26 مئی 1993 کو اسمبلی اور نواز حکومت بحال کر دی مگر 18 جولائی 1993 کو ایک بار پھر نواز حکومت کا خاتمہ ہو گیا اور ورلڈ بینک کے ملازم معین الدین قریشی کو پاکستان کے نگران وزیراعظم کی ذمہ داری سونپی گئی جو  19 اکتوبر 1993 تک پاکستان کے نگران وزیراعظم رہے۔

 1993 کے عام انتخابات میں ایک بار پھر پاکستان پیپلز پارٹی نے اکثریت حاصل کی اور 19 اکتوبر 1993 کو محترمہ بینظیر بھٹو دوسری بار ملک کی وزیراعظم بن گئیں جو 5 نومبر 1996 تک اس عہدے پر رہیں۔ 5 نومبر 1996 کو پاکستان پیپلز پارٹی کے منتخب کردہ صدر فاروق احمد خان لغاری نے بینظیر بھٹو کی حکومت ختم کر دی اور ملک معراج خالد کو نگران وزیر اعظم مقر کیا گیا۔ 1996 کے عام انتخابات میں پاکستان مسلم لیگ ن ایک بار پھر اکثریتی جماعت کی صورت میں سامنے آئی اور 17 فروری 1997 کو میاں محمد نواز شریف دوسری بار وزیراعظم کے عہدے پر براجمان ہو گئے۔ مگر پھر کارگل واقعے پر  وزیراعظم نواز شریف اور اس وقت کے آرمی چیف پرویز مشرف کے درمیان اختلافات کی وجہ سے 12 اکتوبر 1999 کو وزیراعظم نے پرویز مشرف کی دورہ سری لنکا واپسی پران کو آرمی چیف سے برطرف کر کے جنرل ضیاءالدین کو آرمی چیف بنانے کا فیصلہ کیا مگر پاک فوج نے ان کے اس منصوبے کو ناکام بنا دیا اور انکی حکومت کا تختہ الٹ دیا اور نوازشریف اور انکے ساتھیوں کو گرفتار کر لیاگیا۔ اور پرویز مشرف نے ملک کا آئین معطل کر دیا اور خود ملک کے چیف ایگزیکٹو بن گئے۔ 

2002 کے انتخابات کے بعد پاکستان مسلم لیگ ق کی حکومت قائم ہوئی اور 23 نومبر 2002 کو میر ظفراللہ خان جمالی وزیراعظم بن گئے جو 26 جون 2004 تک  وزیراعظم رہے اور پھر 30 جون 2004 کو پاکستان مسلم لیگ ق کے صدر چوہدری شجاعت حسین کو عبوری وزیراعظم بنایا گیا جو 26 اگست 2004 تک اس عہدے پر رہے اور پھر قرعہ میر ظفر اللہ جمالی کی کابینہ میں وزیرخزانہ شوکت عزیز کے نام نکلا اور 28 اگست 2004 کو انھوں نے یہ عہدہ سنبھال لیا اور 15 نومبر 2007 تک اس عہدے کے مزے لیتے رہے۔ 

15 نومبر کو اسمبلی کی مدت پوری ہونے کے بعد محمد میاں سومرو کی سربراہی میں نگران حکومت قائم ہوئی اور 25 مارچ 2008 کو پاکستان پیپلز پارٹی کے سید یوسف رضا گیلانی نے ملف کے وزیراعظم کا عہدہ سبھالا اور 19 جون 2012 کو سپریم کورٹ کی طرف سے سوئس بینکوں کو صدر آصف علی زرداری کیخلاف کیس ری اوپن نہ کرنے کی پاداش میں نااہل ہو نے پر اس عہدے سے الگ ہوئے اور ان کی جگہ پیپلز پارٹی نے راجہ پرویز اشرف کو وزیراعظم نامزد کیا جنھوں نے 22 جون 2012 کو وزارت عظمیٰ کی کرسی سنبھال لی اور 24 مارچ 2013 کو اسمبلی کی مدت ختم تک اس عہدے پر رہے۔ 

25 مارچ 2013 کو میر ہزار خان کھوسہ کو نگران وزیراعظم مقرر کیا گیا جھنوں نے 5 جون 2013 تک یہ ذمہ داری نبھائی۔2013 کے عام انتخابات میں ایک بار پھر پاکستان مسلم لیگ ن نے کامیابی حاصل کی اور نواز شریف 5 جون 2013 کو تیسری بار وزیراعظم بن گئے جن کو 28 جولائی 2917 کو سپریم کورٹ نے پاناما کیس میں نا اہل قرار دیدیاہے۔

قارئین کرام!  جس کے بعد یکم اگست 2017 کو پاکستان مسلم لیگ ن کے شاہد خاقان عباسی  221 ووٹ لے کر پاکستان کے نئے وزیراعظم منتخب ہوگئے ہیں۔

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  64395
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
پارا چنار شہر کے مرکزی بازار میں دھماکے کے نتیجے میں آج ہونے والے ہولناک دھماکے میں اب تک کی اطلاعات کے مطابق 25 سے زیادہ افراد شہید ہو چکے ہیں جب کہ زخمیوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔
پاکستان کے اعلیٰ عدلیہ سپریم کورٹ کے واضح عدالتی احکامات کے باوجود اردو زبان کو کسی سرکاری اور نیم سرکاری ادارے میں مکمل طور پر نافذ نہیں کیا جا سکا۔
سانحہ اے پی ایس کے شہدا کی برسی کے موقع پرملك بھر میں سیاسی و سماجی تنظیموں ،سول سوسائٹی ،این جی اوزاور تعلیمی اداروں كے زیر اہتمام مختلف تقریبات كا اہتمام كیا گیا
جنرل راحیل شریف کے بھارتی مداخلت سے متعلق بیان کے فوراً بعد پاکستان کے دوشہروں میں دہشت گردی کے واقعات پیش آنا دو جمع دو چار کی طرح ظاہرکرتاہے کہ ان کارروائیوں کے پیچھے بھارت ہے۔

مقبول ترین
وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ یہ پہلی اسمبلی ہے جو’ڈیزل‘ کے بغیر چل رہی ہے اگر فضل الرحمان کے لوگ میرٹ پر ہوئے تو انہیں بھی قرضے دیے جائیں گے۔ وزیراعظم عمران خان نے نوجوانوں کے لیے ’کامیاب جوان پروگرام‘ کا افتتاح کردیا ہے۔
وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت تحریک انصاف کی کورکمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں پنجاب اور خیبر پختونخوا کے وزرائے اعلیٰ اورتین گورنرز نے شرکت کی۔ حکومت نے مولانا فضل الرحمان سے مذاکرات کے لیے کمیٹی بنانے کا فیصلہ کیا ہے
اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے فواد چوہدری نے کہا کہ نوکریاں حکومت نہیں نجی سیکٹر دیتا ہے یہ نہیں کہ ہر شخص سرکاری نوکر ی ڈھونڈے ، حکومت تو 400 محکمے ختم کررہی ہے مگرلوگوں کا اس بات پر زور ہے کہ حکومت نوکریاں دے۔
وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ پاکستان خطے میں امن اور استحکام کے لئے اپنا کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔ ایرانی صدر سے ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ایرانی صدر حسن روحانی نے کہا کہ پاکستان اور

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں