Monday, 17 December, 2018
’’آئیڈیاز 2018ء‘‘ اور قومی تقاضے

’’آئیڈیاز 2018ء‘‘ اور قومی تقاضے
تحریر: ابو علی صدیقی

 

اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ موجودہ دور میں ہر ملک اور قوم کو اپنی آزادی اور خودمختاری کو محفوظ اور یقینی بنانے کے لئے عسکری اور تذویراتی تناظر میں تسلی بخش اقدامات اور انتظامات کرنے ہوتے ہیں۔ اس حوالے سے یہ امر واقعہ نہایت قابل فخر اور مسرت انگیز محسوس ہوتا ہے کہ وطن عزیز کے ذمہ دار ادارے، ماہرین اور پالیسی ساز شخصیات اپنا کردار نہایت احسن طریقے سے انجام دے رہے ہیں۔ یہ حقیقت اس وقت مزید اجاگر ہوئی جب کراچی میں ’’آئیڈیاز2018ء‘‘ کے عنوان سے دفاعی مصنوعات کی نمائش اور ایک بین الاقوامی سیمینار کا انعقاد 27 تا 30 نومبر کیا گیا۔ اس موقع پر ایک طرف تو وطن عزیز میں تیار کردہ دفاعی مصنوعات کو عالمی برادری کے سامنے پیش کیا گیا اور دوسری طرف دفاعی تعاون کے فروغ اور خاص طور پر ان ہتھیاروں کے استعمال برائے امن کے حوالے سے فکرانگیز سطح پر تبادلہ خیال کا اہتمام کیا گیا۔ مذکورہ تقریبات کا اہتمام وزارت دفاعی پیداوار اور ڈیفنس ایکسپورٹ پرموشن آرگنائزیشن (DEPO) نے کیا تھا۔

اہل وطن کے لئے یہ خبر بجا طور پر خوشی اور مسرت کا باعث ثابت ہوئی کہ پاکستان آرڈننس فیکٹریز کے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق دشمن آبدوزوں کو سمندر کی گہرائی میں تباہ کرنے کا نیا ہتھیار تیار کر لیا گیاہے۔ ’’ڈیپتھ چارج(Depth Charge )، مارک ٹو، ایم او ڈی تھری‘‘ نامی یہ ہتھیار فضا سے سب میرین کو نشانہ بنانے کے لئے داغا جاتا ہے۔ جو سمندر میں 70 فٹ کی گہرائی پر پھٹتا ہے اور کسی اجنبی سب میرین کو نشانہ بنانے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔ اس آبدوز شکن ہتھیار کی لمبی 97 سینٹی میٹر ہے اور فائرنگ کی گہرائی 70 فٹ ہے۔ اس کے چارج کا وزن 135 کلوگرام ہے۔ صدر مملکت نے پاکستان نیوی کے لئے نیا ہتھیار تیار کرنے والی پی او ا یف کی آر اینڈ ڈی ٹیم کو مذکورہ ہتھیار تیار کرنے پر مبارکباد پیش کی۔ چیئرمین پی او ایف لیفٹیننٹ جنرل صادق علی نے صدر مملکت کو پی او ایف کی صلاحیتوں کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ پی او ایف پاکستان کی مسلح افواج کے اسلحہ و گولہ بارود کی سوفیصد ضروریات پوری کر رہی ہے۔ بعدازاں جنرل زبیر محمود حیات، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی نے پی او ایف سٹال پر پی او ایف کی تیار کردہ ٹینک شکن باروی سرنگوں کی نمائش کا افتتاح کیا۔ چیئرمین پی او ا یف بورڈ نے مزید بتایا کہ پی او ایف میں پرانے پلانٹ اور مشینری کو تبدیل کیا جا رہا ہے اور زیادہ تر پیداواری یونٹس میں جدید پلانٹ اور مشینری لگا دی گئی ہے جس سے پی او ایف کی مصنوعات کی کوالٹی اور معیار میں اضافہ ہوا ہے۔ 

دفاعی تیاری کے نمایاں ادارے گلوبل انڈسٹریز ڈیفنس سلوشنز نے نمائش (آئیڈیاز 2018ء) میں ڈرون طیارہ براق عالمی سطح پر فروخت کے لئے پیش کر دیا۔ اس موقع پر کمپنی کے ڈائریکٹر مارکیٹنگ اسد کمال نے براق کی رونمائی کے بعد میڈیا کو بتایا کہ ڈرون ٹیکنالوجی مکمل طور پر پاکستان میں تیار کی گئی ہے، براق ڈرون 12 ہزار فٹ کی بلندی سے مسلسل 8 گھنٹے تک نگرانی کی صلاحیت رکھتا ہے۔ براق میں نصب جدید کیمراسسٹم زومر بھی مقامی سطح پر ہی تیار کیا گیا ہے جس سے دن کے علاوہ رات میں بھی نگرانی ممکن ہے۔ اس کے علاوہ اس ڈرون کے ذریعے ہدف سے خارج ہونے والی حرارت کی بنیاد پر بھی نگاہ رکھی جا سکتی ہے۔ براق میں لیزررینج فائنڈر بھی نصب ہے جو ہدف کے فاصلے، سمت اور زاویے کی پیمائش کرتا ہے۔ براق گذشتہ 3 سال سے افواج پاکستان کے زیر استعمال ہے۔ مزید برآں پاکستان آرڈیننس فیکٹری کے ڈائریکٹر ایکسپوز عثمان علی بھٹی نے میڈیا کو بتایا کہ ہمارا مقصد جدید ہتھیاروں کو متعارف کرانا تھا۔ ہمارے پاس سمال آرم ایمونیشن، ایئرکرافٹ، اینٹی ایئرکرافٹ، ٹینک اور اینٹی ٹینک ہتھیار دستیاب ہیں جو دور جدید کی جملہ سہولیات اور جدت سے آراستہ ہیں۔ 

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ ترجمان پاک بحریہ کے مطابق وائس چیف آف نیول اسٹاف، وائس ایڈمرل کلیم شوکت نے اردن، اٹلی، ترکی، پولینڈ اور سری لنکا کے مندوبین سے ملاقاتوں میں پیشہ وارانہ امور پر تبادلہ خیال کیا۔ غیر ملکی مندوبین نے خطے میں امن اور طاقت کے توازن کے لئے پاک بحریہ کی کوششوں کو سراہا۔ وائس چیف آف نیول اسٹاف نے این آر ٹی سی کے نیول ڈویژن کا افتتاح بھی کیا۔ نمائش میں ترکی، روس، چین سمیت مختلف ممالک کی دفاعی مصنوعات کے اسٹالز پر جدید چھوٹے اور بڑے ہتھیاروں میں شرکاء کی دلچسپی نظر آئی۔ جے ایف تھنڈر طیاروں کی خاصیت یہ ہے کہ فیول ختم ہونے کی صورت میں فضاء میں ہی یعنی دوران پرواز فیولنگ کی جا سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے جے ایف تھنڈر غیر ملکی مندوبین کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ اس طیارے کی ایوی آنکس جدید دور کے مطابق ہے جو دشمن کو پیغام دیتا ہے کہ ہم ہر چیلنج کے لئے تیار ہیں۔اس موقع پرپاک بحریہ کی سرپرستی میں ایک میری ٹائم کانفرنس منعقد کی گئی۔ وائس چیف آف نیول اسٹاف وائس ایڈمرل کلیم شوکت تقریب کے مہمان خصوصی تھے۔ وفاقی وزیر برائے بحری امور جناب علی حیدر زیدی نے بھی کانفرس میں شرکت کی۔ اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان ہیرے کی کان کی دہلیز پر بیٹھا ہے اور میر ٹائم سیکٹر کی آگاہی میں پاک بحریہ کا کردار قابل ستائش ہے۔ دور حاضر میں انڈین اوشن ریجن کی اہمیت اور ساحلی ممالک کو درپیش سکیورٹی چیلنجز کو اجاگر کرتے ہوئے وائس چیف آف نیول اسٹاف وائس ایڈمرل کلیم شوکت نے کہا کہ بحری قذافی اور دہشت گردی، ماحولیاتی آلودگی، غیر قانونی بحری سرگرمیاں، انسانی اور ہتھیاروں کی اسمگلنگ، مختلف ممالک کے مابین حل طلب تنازعات اور تذویراتی مسابقت بحری ہند کی سکیورٹی کو سنگین خطرات سے دوچار کرتے ہیں۔ ان چیلنجز کی نوعیت کا تقاضا ہے کہ ان سے نبرد آزما ہونے کے لئے مشترکہ کاوشیں کی جائیں۔ 

سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے پاک فضائیہ کے سربراہ ایئرچیف مارشل مجاہد انور خان نے کہا کہ موجودہ دور میں ایئر اور سپیس پاور دفاعی مضبوطی کے لئے اہم عنصر بن چکے ہیں۔ ایئرپاور کو مزید ترقی دینے کے لئے خلائی جہاز سے لے کر بغیر پائلٹ اڑنے والے جہاز جیسے جدید حالات تیار کیے جا رہے ہیں۔ ریسرچ، ایجادات اور ترقی کا اس میں کلیدی کردار رہا ہے۔ مشترکہ آپریشنز کے فوائد کا ادراک کرتے ہوئے پاک فضائیہ نے ایئرپاور سینٹر آف ایکسیلینس کے نام سے ایک جدید تربیتی ادارہ قائم کیا ہے۔ دریں اثناء وفاقی وزیر برائے دفاعی پیداوار زبیدہ جلال نے آئیڈیاز 2018ء کے دوران پی او ایف سٹال پر سپیڈ ناپنے کے سسٹم کا افتتاح کیا۔ یہ سسٹم فائر کئے گئے راؤنڈ کی سرعت ناپتا ہے اور یہ انفرادی اور برسٹ شارٹس دونوں کی ولاسٹی جانچنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ تقریباً 2 ملی میٹر سے 20 ملی میٹر گولی کی ولاسٹی کو جانچنے کے لئے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ اندرونی ماحول اور بیرونی دونوں قسم میں ولاسٹی کو صحیح طور پر معلوم کر لیتا ہے۔ یہ سسٹم 50 سے 1600 میٹر فی سیکنڈ گولی کی ولاسٹی کو معلوم کر لیتا ہے۔ اس کی خاصیت یہ ہے کہ فائر کی شرح 100 سے 3000 راؤنڈ فی منٹ کو بھی ناپنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس جدید سسٹم سے ایمونیشن کی کوالٹی کو بہتر بنانے میں بہت مدد ملے گی۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھ info@mubassir.com پر ای میل کریں۔ ادارہ

’’آئیڈیاز 2018ء‘‘ اور قومی تقاضے
اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  26449
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
کراچی کے ایکسپو سینٹر میں دفاعی نمائش آئیڈیاز 2016ء کا باقاعدہ افتتاح وزیراعظم نے کیا اس موقع پر آرمی چیف جنرل راحیل شریف سمیت تینوں مسلح افواج كے سربراہان سمیت دیگر وفاقی وزراء بھی موجود تھے۔
کراچی میں دفاعی نمائش آئیڈیاز 2016ء میں چونیتس ممالک کی 184 کمپنیاں سٹالز لگائیں گی، الخالد ٹینک، جے ایف 17، سپر مشاق ایئر کرافٹس، فاسٹ اٹیک کرافٹ میزائل بوٹس بھی نمائش کیلئے پیش ہوں گی۔
حقیقت یہ ہے کہ ،مبینہ طورپر،جعلی ڈگریاںبیچ کر دولت کمانے والا ادارہ ''بول '' کے پلیٹ فارم سے صحافیوں کو خطیر معاوضے دے کر کوئی بڑا کام نہیں کررہاتھا۔ناجائز دولت کمانے والا پاکستان کا یہ اولین ادارہ ہے
بول اور ایگزیکٹ کے چیف ایگزیکٹو شعیب شیخ نے یکم رمضان سے ”بول “ کی ٹرانسمیشن کے آغاز کا اعلان کر دیا، انہوں نے کہا کہ ہم مجبور ہو کر اسے جلد لانچ کر رہے ہیں

مزید خبریں
افغانستان میں جنگ کو تیرہ برس گزرگئے اور 2014ء اس جنگ کے باقاعدہ اختتام کا سال ہے۔یہ برس عالمی تاریخ میں خاص اہمیت اختیار کرتاجارہا ہے۔پرائم ٹارگٹس پر مزاحمت کاروں کے حملے اس حقیقت کو واضح کرتے ہیں کہ طالبان آج تیر ہ سال بعد بھی افغانستان میں طاقت ورہیں۔
15 فروری 2014ء کو سندھ حکومت کے زیر انتظام دوہفتوں سے انعقاد پذیر ثقافتی سرگرمیوں کا میلہ ’’ سندھ فیسٹیول ’’ ختم ہوا تو صوبہ کے ایک دور افتادہ ضلع میں ’’ ڈیتھ فیسٹیول ‘‘ کا آغاز ہوچکا تھا۔
صحرائے تھر کی زمین پانی اور بچے دودھ کو ترس گئے، قحط سالی کے باعث بھوک نے انسانی زندگیوں کو نگلنا شروع کردیا ہے، حکومت نے تھرپارکر کو آفت زدہ تو قرار دے دیا مگر متاثرین کیلئے مختص گندم محکمہ خوراک کے گوداموں میں سڑ رہی ہے۔

مقبول ترین
جنگ کسی بھی معاشرے کیلئے نہ صرف بربادی کا سامان فراہم کرتی ہے بلکہ جنگ زدہ علاقے معاشی طور پر بھی ترقی اور تعمیر کے عمل میں پیچھے رہ جاتا ہے۔ جنگوں کی وجہ سے تقسیم ہونے والے خاندانوں کے دل کی کیفیت اور کرب تو وہی لوگ سمجھ سکتے ہیں
امریکی کانگریس نے قرارداد منظور کی ہے کہ امریکہ یمن سعودی جنگ میں سعودی عرب کی حمایت سے دستبردار ہو جائے.امریکہ کی وزارت خارجہ کے وزیر پومپیو نے کہا کہ ہم امریکی کانگریس کی منظور کی گئی قرارداد کا احترام کریں گے.
سابق صدر آصف زرداری نے کہا ہے کہ گرفتار ہوا تو کیا ہوگا، جیل دوسرا گھر ہے، ان کو غلط فہمی ہے کہ ہم خوف میں مبتلا ہیں، اداروں کو کمزور نہیں کرنا چاہتے۔ سیاست سوچ سمجھ کر کی جاتی ہے، ان کو کھیلنا آتا ہی نہیں، یہ انڈر 16 کھلاڑی ہیں۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے سانحہ اے پی ایس کے شہدا اور والدین کو سلام اور خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم سانحہ آرمی پبلک سکول (اے پی ایس) کے شہدا کو نہیں بھولے

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں