Tuesday, 15 October, 2019
’’سعودیہ اور ایران کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ‘‘

’’سعودیہ اور ایران کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ‘‘

 

روم ۔ سعودی عرب اور ایران کے وزرائے خارجہ نے روم میں ایک اجلاس کے دوران ایک دوسرے پر سخت نوعیت کے الزامات عائد کیے۔ اطالوی دارالحکومت روم میں سعودی عرب کے وزیرخارجہ عادل الجبیر نے کہا، ’’انہوں نے ہمارے خطے اور دنیا بھر میں موت کا بازار گرم کر رکھا ہے۔‘‘

جمعے کے دن ’’ایک مثبت ایجنڈا‘‘ کے نام سے تین روزہ کانفرنس میں شریک سعودی وزیرخارجہ الجبیر نے ’’بحران سے آگے‘‘ نامی سیشن میں ایران اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ کے درمیان تند و تیز جملوں کا تبادلہ ہوا۔ الجبیر کا کہنا تھا کہ ایران خطے کو انتہائی منفی طریقے سے متاثر کر رہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا، ’’سن 1979 سے اب تک ایران دنیا بھر میں دہشت گردی کا سب سے بڑا مددگار ہے۔‘‘

ایران اور سعودی عرب شام، عراق، یمن، لبنان اور متعدد گیر ممالک میں پراکسی جنگ لڑ رہے ہیں۔ الجبیر نے کہا کہ ایران سیاہ دھن اور منشیات کی آمدن سے لبنان میں حزب اللہ سمیت متعدد دہشت گرد تنظیموں کو پناہ اور معاونت دیتا ہے۔

ایرانی وزیرخارجہ جواد ظریف کا اس سے قبل کہنا تھا، ’’ایران اس اجلاس کو سعودی عرب پر تنقید کے لیے استعمال نہیں کرنا چاہتا، مگر سعودی عرب نے شام اور لبنان میں فائربندی کی ہرکوشش کو مسترد کیا ہے۔‘‘

جواد ظریف کا کہنا تھا، ’’اسلامک اسٹیٹ کی مدد یہ سوچ کر کون کرتا رہا کہ وہ شامی حکومت کو تین ہفتوں میں ختم کر دے گی۔ قطر کی ناکہ بندی کے پیچھے کون ہے؟ لبنان کے وزیراعظم کو عہدہ چھوڑنے پر مجبور کس نے کیا؟‘‘

جواد ظریف کا کہنا تھا، ’’ہمیں یقین ہے کہ تمام ممالک کو مل کر رہنا اور کام کرنا ہے مگر کچھ افراد چاہتے ہیں کہ ہمیں الگ کر دیا جائے۔‘‘

الجبیر نے اس کے جواب میں کہا کہ سعودی عرب کو نہیں ایران کو خطے میں اپنے دوست اور اتحادی ڈھونڈنے میں مشکلات کا سامنا ہے اور اس کی وجوہات کا جائزہ ایران خود لے۔‘‘ الجبیر کا کہنا تھا، ’’ہماری دنیا کے تقریباﹰ تمام ممالک سے اچھے تعلقات ہیں، سوائے ایران اور شمالی کوریا کے۔ ایران کا دوست کون ہے سوائے بشارالاسد اور شمالی کوریا کے؟‘‘

اس موقع پر دونوں وزرائے خارجہ کے درمیان ان شدید تندوتیز جملوں کا سلسلہ جاری تھا، جب روسی وزیرخارجہ سیرگئی لاوروف نے مداخلت کی اور کہا کہ دونوں ممالک ایک دوسرے کے خلاف سخت جملوں کے استعمال کی بجائے مذاکرات کے ذریعے مسائل کے حل کی کوشش کریں۔ بہ شکریہ ڈی ڈبلیو

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کسی بھی خبر سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ علاوہ ازیں آپ بھی اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر info@mubassir.com پر ای میل کرسکتے ہیں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  66116
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی نے 10دسمبر2017 کو ایران کی پارلیمان سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ سعودی عرب سے اپنے تعلقات بہتر کر سکتے ہیں اگر وہ اسرائیل
مکہ مکرمہ اور مدینہ منورة وہ شہر ہیں جہاں غیرمسلموں کو داخلے کی اجازت نہیں اور یہی وجہ ہے کہ روس میں پیدا ہونے والے اسرائیلی یہودی شخص کی مسجد نبوی کے اندر لی جانے والی
ماضی قریب کے سعودی بادشاہ عبداللہ قدرے مناسب حکمران تھے۔ اُن کی وفات کے بعد سعودیہ میں بہت تبدیلیاں آئی ہیں اور یہ سلسلہ ابھی تک جاری ہے۔ مرحوم شاہ عبداللہ کے دور میں ایران اور خطے کے دیگر ممالک
کچھ دن پہلے سعودی عرب کے کلچرل چینل الثقافیہ نے کئی دہائیوں بعد مصر کی مشہور مغنیہ ام کلثوم کا گانا چلایا جسے پورے دنیا میں حیرت کی نظر سے دیکھا گیا۔ سنا یہ گیا ہے کہ اس سال کے آخر میں

مقبول ترین
وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ پاکستان خطے میں امن اور استحکام کے لئے اپنا کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔ ایرانی صدر سے ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ایرانی صدر حسن روحانی نے کہا کہ پاکستان اور
اسلام آباد میں وزیراعظم آفس کے سامنے مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی مظالم کیخلاف انسانی زنجیر بنائی گئی۔ وزیراعظم عمران خان نے بھی اس تقریب میں شرکت کی اور قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی فوج نے مقبوضہ کشمیر میں
برطانوی پولیس نے 2016 میں برطانیہ سے بیٹھ کر پاکستان میں نفرت انگیز تقریر کرنے سے متعلق تفتیش میں متحدہ قومی مومنٹ (ایم کیو ایم) کے بانی الطاف حسین پر دہشت گردی کی دفعہ کے تحت فرد جرم عائد کردی۔
وزیراعظم کی چین کے صدر شی جن پنگ سے ملاقات ہوئی جس میں مقبوضہ کشمیر کی صورت حال اور علاقائی سیکیورٹی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیراعظم عمران خان اور چین کے صدر شی جن پنگ کے درمیان بیجنگ کے اسٹیٹ گیسٹ ہاؤس میں ملاقات ہوئی۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں