Wednesday, 22 January, 2020
’’شہید جنرل قاسم سلیمانی‘‘

’’شہید جنرل قاسم سلیمانی‘‘
تحریر: عمر چوہدری

 

جنرل قاسم سلیمانی کی شہادت نے امریکی دہشت گردی پر مہر ثبت کر دی ہے دنیا بھر میں امن اور اخلاقیات کا درس دینے کا دعویدار ''امریکا ''عالمی دنیا کو جنگ و جدل کے گھنائونے کاروبار میں اُلجھا کر اپنی ساکھ کے بچائو اور اسلحہ کی وسیع منڈیاں تلاش کرنے کے رحجان میں مبتلا ہے۔ آج جنرل قاسم سلیمانی کی شہادت نے اقوام عالم کو رُلا دیا مثبت سوچ رکھنے والے تقریباً تمام ممالک نے جنرل سلیمانی کی شہادت پر سخت رد عمل کا اظہار کیا ہے جبکہ امریکہ کے انکل سام نے اپنی منفی سوچ کا اظہار اس وقت کیا جب جنرل سلیمانی کی شہادت کی خبر کے بعد ٹویٹر پر امریکی پرچم کی تصویر شیئر کی۔ 

بلا شبہ جنرل سلیمانی اپنے ملک کی حفاظت اور پالیسیوں کے سب سے بڑے رہنما ثابت ہوئے۔ 

جنہوں نے ایران کے صوبہ کرمان کے ایک چھوٹے سے گائوں میں آنکھ کھولی 1979ء میں آپ ایران کی انقلابی گارڈ میں شامل ہو گئے آپ ایران کے شہنشاہ رضا شاہ پہلوی کی حکومت کے خاتمے اور آیت اللہ خامنہ ای کے اقتدار میں آنے کے دنوں کے گواہ تھے ،ابتدائی طور پر انہوں نے سرزمین فارس کی حفاظت اور نگہبانی کیلئے اپنے ہی گائوں سے سپاہ اکٹھی کی اور ان کی عملی تربیت کا بیڑہ اٹھایا ،جلد ہی جنرل قاسم سلیمانی دشمن ممالک کے عسکری اداروں کی آنکھ میں کھٹکنے لگے تا ہم وہ اپنی دُھن میں مگن رہے۔

جنرل قاسم سلیمانی سیاسی معاملات سے اجتناب کرتے تا ہم شام اور عراق میں ملائیشیا کی دبنگ کارروائیوں کی وجہ سے ان کا نام میڈیا کی زینت بنتا رہا ،خصوصاً جنرل قاسم سلیمانی کی خداداد صلاحیتوں سے خوفزدہ اسرائیل اور امریکہ نے ان پر پراکسی وار اور جنگی کارروائیوں میں ملوث ہونے کے الزامات عائد کیے القدس فورس کے سربراہ جنرل سلیمانی نے اپنی فورس کی کارروائیوں کو لبنان ،شام اور عراق تک پھیلا دیا جس میں فورس کے اہلکاروں کو شام کے صدر بشار الاسد کیخلاف طویل جنگ میں ان کی حمایت کیلئے تعینات کیا گیا ۔

جنرل سلیمانی کے بااثر ہونے کا اندازہ اس امر سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ جب شام کے صدر بشار الاسد کی حمایت کیلئے لڑنے کے ساتھ ساتھ انہوںنے عراق اور شام میں شدت پسند گروپ داعش کے خلاف کارروائیاں کرنے والی فورسز کو مشورے دینا شروع کر دیے ،امریکہ تسلسل سے یہ کہتا رہا ہے کہ جنرل سلیمانی کی زیر قیادت اہلکاروں کو امریکی عہدیداروں کیخلاف استعمال کیا جا سکتا ہے خصوصاً اُن کی فورس کے اہلکاروں کو سڑک کے کنارے بم نصب کرنے کی تربیت بھی دی گئی تھی جنرل سلیمانی ایرانیوں کے ہیرو کے طور پر یاد رکھے گئے ایرانیوں کا استدلال ہے کہ وہ بیرون ملک ایران کے دشمنوں کے خلاف بر سر پیکار رہے۔

جنرل سلیمانی کی ہلاکت کے بارے میں ماضی میں بھی کئی بار خبریں سامنے آئیں 2006ء میں ایران کے شمال مغرب میں ہیلی کاپٹر کے ایک حادثہ میں بھی ان کی ہلاکت کی خبریں گرم رہیں جبکہ 2012ء میں دمشق میں بم حملے میں ا ن کی رحلت کی خبر گردش کرتی رہی جس میں شام کے صدر بشار الاسد متعدد فوجی افسران کیساتھ ہلاک ہو گئے تھے ۔تین جنوری کی بد قسمت صبح بغداد ایئر پورٹ پر جنرل قاسم سلیمانی اس وقت امریکی میزائل حملے کا شکار ہوگئے جب وہ شام سے بذریعہ طیارہ یہاں پہنچے تھے ان کی میت کی شناخت انکی انگلی میں موجود انگوٹھی سے کی گئی۔ امریکہ کے دفاعی ادارے نے بعد ازاں ایک سرکاری ہینڈ آئوٹ میں بتایا ہے کہ میزائل حملہ امریکی صدر ٹرمپ کے احکامات کے بعد کیا گیا کیونکہ امریکی وزارت دفاع کے مطابق جنرل سلیمانی خطے میں امریکی سفارتی عملے اور فورسز پر حملے کا منصوبہ بنا رہے تھے، جنرل سلیمانی اور قدس فورسز سینکڑوں امریکی فوجیوں کو مارنے اور زخمی کرنے میں ملوث ہے۔

پاکستانی دفتر خارجہ نے مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے علاقائی امن واستحکام کو سنگین خطرہ ہے۔پاکستانی دفتر خارجہ کی جانب سے جاری اہم بیان میں کہا گیا ہے کہ خود مختاری اور سا  لمیت کا احترام اقوام متحدہ چارٹر کے بنیادی اصول ہیں۔ یکطرفہ اقدامات اور طاقت کے استعمال سے گریز بہت اہم ہے۔

ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت پر امریکی ایوان نمائندگان نینسی پلوسی نے کہا ہے کہ حملے سے خطے میں کشیدگی خطرناک حد تک بڑھنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے جنرل سلیمانی کی موت پر شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن نے راکٹ حملے سے داعش کو کمزور کرنے کا بدلہ لیا ہے۔ وزیر خارجہ جواد ظریف نے ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ جنرل سلیمانی پر حملہ عالمی دہشت گردی ہے، امریکا کو اس حرکت کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔

چینی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ چین نے ہمیشہ بین الاقوامی معاملات میں طاقت کے استعمال کی مخالفت کی ہے، چین نے امریکی حکومت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ کشیدگی سے بچنے کے لیے امریکا تحمل سے کام لے۔

روس کی جانب سے بھی امریکی حملے میں ایرانی جنرل کی ہلاکت کی مذمت کی گئی، روسی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ایرانی جنرل کی ہلاکت سے مشرق وسطیٰ میں کشیدگی میں اضافہ ہوگا۔
 شام نے بھی ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت پر شدید الفاظ میں امریکی جارحیت کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ حملے کے باعث کشیدگی میں اضافہ ہوگا جب کہ عراق میں عدم استحکام کا ذمہ دار امریکا ہوگا۔

عراق کے نگران وزیراعظم نے امریکی حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے جارحیت قرار دے دیا۔ انہوں نے کہا ہے کہ امریکی حملے سے عراق میں تباہ کن جنگ کا آغاز ہو گا۔ ادھر عراقی سیاستدان اور ملیشیا لیڈر مقتدیٰ الصدر نے مہدی آرمی دوبارہ فعال کرنے کااعلان کر دیا ہے۔

مسلم امہ کے آپس کے نفاق نے اسلام دشمن طاقتوں کو ان پر غرانے اور چڑھ دوڑنے کی ہمت فراہم کر رکھی ہے آج شدت سے اس امر کی ضرورت ہے کہ مسلم ممالک کے رہنما اپنی ذاتی انا اور مفادات کو پس پشت ڈال کر اسلامی دنیا کی یکجہتی ،استحکام اور سا  لمیت کیلئے غیر معمولی اقدامات کریں اور اسلام کے دشمنوں کو جہنم واصل کرنے میں اپنا کلیدی کردار ادا کریں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھ info@mubassir.com پر ای میل کریں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  65781
کوڈ
 
   
مقبول ترین
ماں۔۔۔۔مجھے معلوم تھا کہ آپ میرے اس عارضی دنیا میں واپس آنے کے لیے کتنی پرجوش تھیں۔۔۔۔۔یہ لیں، آج آپ کی دیرینہ خواہش پوری کیے دے رہی ہوں۔۔۔۔ارے دیرینہ یوں بولا ہے کہ جب سے میرا آپ کا ساتھ چھوٹا، وہ بندھن ٹوٹا جس نے مجھے آپ کی سانسوں کی ڈور سے باندھ رکھا تھا،تب سے محسوس ہونے لگا کہ اب مجھ میں کچھ باقی نہیں رہا۔
وزیراعظم عمران خان اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ورلڈ اکنامک فورم کے موقع پر اہم ملاقات ہوئی جس میں باہمی دلچسپی کے امور اور اہم ایشوز پر تبادلہ خیالات کیا گیا۔ ورلڈ اکنامک فورم کی سائیڈ لائنز پر ہونے والی اس اہم ملاقات میں امریکی
حکومت اور اپوزیشن نے نئے چیف الیکشن کمشنر کے لیے سکندر سلطان راجہ کے نام کا اعلان کردیا ہے۔ الیکشن کمیشن ممبران و چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کے لیے چیئرپرسن شیریں مزاری کی زیر صدارت حکومت اور اپوزیشن کی پارلیمانی
وزیراعظم عمران خان عالمی اقتصادی فورم (ورلڈ اکنامک فورم) کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس روانہ ہوگئے۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں