Tuesday, 11 December, 2018
سعودی عرب: استعماری قوتوں کا آلہ کا ر

سعودی عرب: استعماری قوتوں کا آلہ کا ر
تحریر: حافظ شاہد احمد

 

تقریبا سوسال پہلے سعودی عرب ایک مملکت کے طور پر صفحہ ہستی پر وجود میں آیا ۔سعودی عرب کا وجود بذات خود خلافت اسلامیہ کے ٹوٹنے کے اسباب میں سے ایک ہے۔ اسلئے دینی طبقہ نے ابتداء میں اسکو پذیرائی نہیں بخشی۔ حرمین شریفین کے علماء ومشائخ آل سعود کی اس بے باکی وجرأت پر نالاں تھے۔ اسکی ایک وجہ وہابی ازم کا پرچار بھی تھا ۔دھیرے دھیرے ایک مخصوص طبقہ کے علماء نے اسکو قبول کیا جبکہ برصغیر، ایران ،ترکی اور دیگرکئی اسلامی ممالک کے اکثر علماء اہلسنت نے سعودی عرب کو دل سے تسلیم نہ کیا۔ وجہ یہی تعصب ،تشدد اور انتہاء پسندی پر مشتمل عقائد اور اصول تھے جسکی وجہ سے امت مسلمہ ایک سو سال سے ایک دوسرے کے ساتھ دست و گریباں ہیں۔ اس حقیقت سے خود شہزادہ محمدبن سلمان نے پردہ اٹھایا کہ کچھ عرصے سے ہم ایک مخصوص طبقہ کو نوازتے تھے جبکہ سردجنگ کے دوران روس کے خلاف امریکی تجویزسے ہم نے پوری دنیا میں مساجد ومدارس بنائے تاکہ روس کا راستہ روک سکیں۔

شہزادہ محمدبن سلمان نے جو سچ بولا ہے اس مناسبت سے ہمارے سامنے سعودیہ حکومت کے تین ادوار ہیں۔ تحقیق کے مطابق سعودیہ کے وجود مسعود کیلئے برطانیہ نے جاسوس کے ذریعے خلافت عثمانیہ کے خلاف آواز اٹھائی۔ نہتے مسلمانوں کو قتل کیا اور کسی حد تک ایک خاص علاقے میں اپنا اثر و رسوخ قائم کرلیا۔

پھر برطانیہ کی پرزور تاکیداور اثرونفوذ سے محمدبن عبدالوہاب صاحب کو حکومت سعودیہ کا حصہ بنادیا گیا اور جزیرۃ العرب کا باقی ماندہ حصہ پر قبضہ کرنے کا موقع دیا گیا۔ علاقائی اور لسانی عصبیت کی وجہ سے ہزاروں لوگ ہلاک ہوئے ۔لیکن دینی عصبیت اور عقائد کے بنا پر لاکھوں لوگ تہ تیغ کردیئے گئے ۔حرمین شریفین کے تین ہزار علماء ،محدثین ، أئمہ کرام اور چارہزار مشائخ کو زندہ وہاں سے اٹھایا گیا جن کا آج تک زندہ یا مردہ ہونے کا معلوم نہ ہوسکا۔سعودی عرب اور برطانیہ میں بارہ شرائط کا معاہدہ ہوا جسکی پاسداری اور عملداری کرنے پر آج بھی سعودی عرب مجبور ہے۔برطانیہ کا سورج غروب ہوا ۔

لیکن انکے لگائے ہوئے پودے کو خوراک دینے کی ضرورت تھی چاہے وہ خون عرب کیوں نہ ہو۔آل سعود نے عرب لیگ کے ذریعے کچھ خیرخواہوں سے اسرائیل تسلیم کرایا جبکہ خود بیک پر بیٹھ کر تماشہ دیکھتا رہا۔جلد ہی امریکی اثرورسوخ کا نفوذہوا۔ امریکہ بھی اسرائیلی حفاظت پر مامور تھا اس لئے سعودی عرب روس کے بجائے امریکی کیمپ کا حصہ بن گیا۔شہزا دہ محمدبن سلمان نے اس حوالے سے کہا ہے کہ روسی جارحیت اور خطے میں اثرونفوذ کو روکنے کیلئے امریکہ کے کہنے پر ہم نے دنیا بھر میں مساجد اور مدارس بنائے تاکہ روس کا راستہ روک سکیں۔یہ وہ شاندارمنصوبہ ہے جس کی بدولت اہلسنت والجماعت کے مساجدکے بغل میں بڑے بڑے مساجد ومدارس بنا دیئے گئے ۔یہ ان افکار کے علمبردار ہیں جو اکثریت کے مخالف ہیں۔پوری دنیا میں انہوں نے اسلامی اتحاد کو افتراق میں تبدیل کیا جگہ جگہ مناظرے مباحثے ہوتے رہیں اور مسلمان آپس میں دست بگریباں رہیں۔ ایک سو سال تک آل سعود نے اپنے منصوبہ بندی سے اپنے اہل کار علماء کے ذریعے اسلام کا شیرازہ ایک نہ ہونے دیا ۔سعودی عرب امریکہ کی ایماء پر یہ فرقہ وارانہ حرکتیں کرتا رہا تاکہ مسلمان ایک نہ ہو۔اسرائیل جسکی مثال ایک شہر کی سی تھی پھیل گیا اور فلسطین سکڑ گیا۔سعودی خواہش اور فنڈ پر داعش کو سامنے لایا گیا امریکہ اور برطانیہ میں پلے بڑ ے جدید ٹیکنالوجی سے مانوس یہ نوجوان خلافت کے داعی تھے اسلامی ریاستوں کومزید ٹکرے کرکے خلافت کا قیام کرنا انکا ''بیانیہ ''تھا۔

اس افراء تفری میں عراق اور شام مزید کمزور ہوگئے ۔عرب دنیا سعودیہ کی اس خواہش کی وجہ سے آج ماتم کدہ بنا ہوا ہے ۔ عراق ، شام ، یمن ،لبنان کا شکست خوردہ ذہنیت آل سعود اب خود دباؤ میں آگیا۔کیونکہ اسرائیل کو جلد از جلد بین الاقوامی آقا تسلیم کرنا ضروری سمجھا گیا ہے ۔اور خطے میں اس کیلئے آگے بڑھنے کیلئے ایک لبرل ذہنیت ضروری ہے ۔ لہذا اب محمدبن سلمان ڈاکٹرائن آگیا۔ برطانوی وعدوں کو تسلسل دینے کیلئے دین وشریعت کو خیرباد کہ کر اصلاحات کرنے پر آمادہ ہوگیا ہے ۔

اصلاحات کیا ہے؟ جو عوام کا حق ہے جمہوریت ،آزادی اظہار،بیت المال کا منصفانہ تقسیم کار مملکت میں عوام کو شریک کرنا اس قسم کی کوئی اصلاحات نہیں ہورہے ہیں ۔ بلکہ بڑے بڑے شاپنگ مال بنائے جائیں گے۔سینماہال ،کنسرٹ پروگرامز اور دیگر فحاشی وعریانی کو عام کرنا ہے جو کہ پہلے سے انٹر نیٹ کے ذریعے سعودی عرب کو لپیٹ میں لے چکا ہے ۔غضب تو یہ ہے کہ بت پرستی کیلئے عرب امارات اور سعودی عرب نے نہ صرف اجازت دیں بلکہ خود بھی اس رنگ میں رنگنے لگے۔جہاں سے بت پرستی کو سات سمندر پارکردیا گیا تھا وہاں اب حکمراناں وقت خود ھبل ، لات ، عزی کو نصب کرنے کیلئے بے چین ہیں۔

اسی طرح دوسری آفت اسرائیل کا تسلیم کرنا ہے آج کل کے معاملات سے پتہ چلتا ہے کہ سعودی عرب نے بہت پہلے سے اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کئے تھے ۔نریندرمودی اور ٹرمپ کا عالیشان استقبال یہی تو ثابت کررہا ہے ۔ ایسی طرح ہفتہ رفتہ میں انڈیا براستہ سعودی عرب اسرائیل میں داخل ہوگیا اور جلد ہی سعودی عرب بھی اسرئیل میں سفارتخانہ کھولنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ عرب ایک بار پھر حرمین شریفین کی سودا کرنے جارہے ہیں ۔اسرائیل جلدہی گریٹر اسرئیل کا نعرہ لگائے گا ۔مدینہ پاک اسکے زد میں ہے۔ شہزادہ محمدبن سلمان سے التماس ہے کہ وہ عالم اسلام کے مسائل ومشکلات پر نظر رکھیں اور سرخروں ہونے کیلئے کچھ کریں۔ پچاس سال حکومت کیا بعض تجزیہ نگار کے نزدیک تو آل سعود مزید پانچ سال تک بھی مشکل سے نکال سکیں گے ۔بنوأمیہ اور بنو عباس کا عہد زرین خیال مبارک میں لائیے ۔کیسے کیسے فرعون زمیں تلے دب گئے۔ رہے نام خدا کا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھ info@mubassir.com پر ای میل کریں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  56524
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے حکم پر کرپشن الزامات میںزیر حراست الولید بن طلال دوران حراست شدید غصہ دکھائے جا رہے ہیں اور وہ اپنی حراست کو توہین سمجھتے ہوئے اپنا غصہ تھوکنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔
اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی نے 10دسمبر2017 کو ایران کی پارلیمان سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ سعودی عرب سے اپنے تعلقات بہتر کر سکتے ہیں اگر وہ اسرائیل
ایرانی وزیرخارجہ جواد ظریف کا اس سے قبل کہنا تھا، ’’ایران اس اجلاس کو سعودی عرب پر تنقید کے لیے استعمال نہیں کرنا چاہتا، مگر سعودی عرب نے شام اور لبنان میں فائربندی کی ہرکوشش کو مسترد کیا ہے۔‘‘
مکہ مکرمہ اور مدینہ منورة وہ شہر ہیں جہاں غیرمسلموں کو داخلے کی اجازت نہیں اور یہی وجہ ہے کہ روس میں پیدا ہونے والے اسرائیلی یہودی شخص کی مسجد نبوی کے اندر لی جانے والی

مزید خبریں
افغانستان میں جنگ کو تیرہ برس گزرگئے اور 2014ء اس جنگ کے باقاعدہ اختتام کا سال ہے۔یہ برس عالمی تاریخ میں خاص اہمیت اختیار کرتاجارہا ہے۔پرائم ٹارگٹس پر مزاحمت کاروں کے حملے اس حقیقت کو واضح کرتے ہیں کہ طالبان آج تیر ہ سال بعد بھی افغانستان میں طاقت ورہیں۔
15 فروری 2014ء کو سندھ حکومت کے زیر انتظام دوہفتوں سے انعقاد پذیر ثقافتی سرگرمیوں کا میلہ ’’ سندھ فیسٹیول ’’ ختم ہوا تو صوبہ کے ایک دور افتادہ ضلع میں ’’ ڈیتھ فیسٹیول ‘‘ کا آغاز ہوچکا تھا۔
صحرائے تھر کی زمین پانی اور بچے دودھ کو ترس گئے، قحط سالی کے باعث بھوک نے انسانی زندگیوں کو نگلنا شروع کردیا ہے، حکومت نے تھرپارکر کو آفت زدہ تو قرار دے دیا مگر متاثرین کیلئے مختص گندم محکمہ خوراک کے گوداموں میں سڑ رہی ہے۔

مقبول ترین
خیبرپختونخوا حکومت پر براجماں تبدیلی کے دعویداروں نے بے روز گار نوجوانوں پر بم گرانے کی تیاری کر لی۔ خیبر پختون خوا حکومت نے سرکاری ملازمین کی ریٹائرمنٹ کی عمر میں اضافے پر غور شروع کر دیا ہے اور اس سلسلے میں ملازمین کیلئے مدت ملازمت
میڈیا کے مطابق قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف کو لاہور کی کوٹ لکھپت جیل سے بذریعہ موٹروے اسلام آباد پہنچا دیا گیا، وہ قومی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کریں گے۔ اسپیکر اسد قیصر کی جانب سے شہباز شریف کے پروڈکشن آرڈر جاری کرنے کے
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق کور کمانڈر لاہور لیفٹیننٹ جنرل عامر ریاض کا تبادلہ کرکے انہیں نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کا صدر تعینات کیا گیا ہے جب کہ نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کے صدر لیفٹیننٹ جنرل ماجد احسان کو نیا کور
چیف جسٹس میاں ثاقب نثارکا کہنا ہے کہ میں رہوں نہ رہوں سپریم کورٹ کا یہ ادارہ برقرار رہے گا اور میرے بعد آنے والے مجھ سے زیادہ بہتر ہیں۔ کوئٹہ میں بلوچستان بار میں اپنے خطاب میں چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا کہ ڈیم کی تعمیرآنے والی نسلوں

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں