Friday, 18 October, 2019
بھارت اسرائیل گٹھ جوڑ کے خطہ پر اثرات

بھارت اسرائیل گٹھ جوڑ کے خطہ پر اثرات

 

بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی آج سے اسرائیل کا تین روزہ دورہ کر کررہے ہیں۔ ان کے اس دورے کو تل ابیب اور نئی دہلی کے درمیان تعلقات کے ایک نئے موڑ اور تاریخی اہمیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ دورہ اس اعتبار سے بھی انفرادیت کا حامل ہے کہ اسرائیل کو تسلیم کیے جانے کے بعد کسی بھارتی وزیراعظم کا یہ صہیونی ریاست کا پہلا دورہ ہے۔ اپنے اس دورے میں وہ خلاف روایت صرف اسرائیلی عسکری اور سیاسی قیادت سے ملاقاتیں کریں گے اور دو طرفہ معاہدوں کی منظوری کے بعد فلسطینی اتھارٹی کے ہیڈ کواٹر کا دورہ کیے بنا واپس لوٹ آئیں گے۔

العربیہ چینل کے آن لائن ایڈیشن کے مطابق بھارت میں عوامی اور سیاسی سطح پر نریندر مودی کے دورے کو متنازع قرار دیا جا رہا ہے۔ بھارتی پارلیمنٹ کے رکن اور سرکردہ مسلمان مذہبی رہ نما اسد الدین اویسی نے نریندر مودی کے دورہ اسرائیل پر کڑی تنقید کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مودی اس دورے میں فلسطین پر ناجائز اسرائیلی قبضے کی حمایت کرنے جا رہے ہیں۔

وزیر اعظم نریندر مودی تل ابیب کے ہوائی اڈے پر جب منگل کو اتریں گے تو ان کا والہانہ استقبال کیا جائے گا۔ وزیر اعظم بنجمن نتین یاہو اور ان کی کابینہ وزرا سمیت دسیوں اہم شخصیات ان کے خیر مقدم کے لیے ہوائی اڈے پر موجود ہوں گے۔

اسرائیلی اخبارات کے مطابق اگرچہ وزير اعظم مودی کی طرف سے یہ زور دے کر کہا گیا ہے کہ دفاعی تجارت اس دورے کا کلیدی پہلو نہیں ہے لیکن اس دورے میں کئی دفاعی معاہدوں پر دستخط کیے جانے کی توقع ہے۔ اسرائیل بھارت کو میزائل اور ڈرون طیارے سمیت دفاعی ساز وسامان فراہم کرنے والا اہم ملک ہے.

العربیہ کے مطابق کچھ عرصے پہلے تک ان دفاعی سودوں کو راز میں رکھا جاتا تھا لیکن وقت کے ساتھ تعلقات بہت گہرے ہوئے ہیں اور گذشتہ پانچ برس میں اسرائیل نے ہر برس اوسطاً ایک ارب ڈالر کے ہتھیار بھارت کو فروخت کیے ہیں۔
ہتھیاروں کی خرید دونوں ملکوں کے درمیان باہمی تعلقات کا سب سے اہم پہلو رہا ہے۔ اسرائیل، حالیہ برسوں میں امریکہ کے بعد بھارت کو ہتھیار سپلائی کرنے والا دنیا کا دوسرا سب سے بڑا ملک بن گیا ہے۔ مودی کے دورے سے قبل گذشتہ اپریل میں بھارت نے اسرائیل ایرو سپیس انڈسٹری کے ساتھ ڈیڑھ ارب ڈالر کے سودے کا معاہدہ کیا ہے۔

بھارت کے چار بحری جنگی جہازوں پر براک میزائل نصب کرنے کا بھی 630 ملین ڈالر کا معاہدہ ہوا ہے۔ ان معاہدوں کو اسرائیل کی دفاعی تاریخ کی سب سے بڑی فروخت بتایا جا رہا ہے۔

بھارتیہ جنتا پارٹی ابتدا سے ہی اسرائیل کی حامی رہی ہے۔ سنہ 2014ء میں بی جے پی کے اقتدار میں آنے کے بعد دونوں ملکوں کے تعلقات بہت گہرے ہوئے ہیں۔

العربیہ کے مطابق اسرائیل کی ایک اسپیس انڈسٹری کمپنی کے وائس چیئرمین ایلی الفاسی کا کہنا ہے کہ ان کی کمپنی بھارت کو ڈرون طیارے، راڈار، جدید مواصلات آلات اور بھارت میں انٹرنیٹ کے شعبے میں استعمال ہونے والے آلات فراہم کررہی ہے۔ توقع ہے کہ مودی کے تازہ دورہ اسرائیل کے دوران دنوں ملکوں میں دفاعی شعبے میں تاریخ ساز سمجھوتے کیے جائیں گے۔

اس بارے میں مقامی نشریاتی ادارے ’’ایکسپریس‘‘ نے ایک خبر میں بتایا ہے کہ بھارت اور اسرائیل کے مابین خفیہ معلومات کا تبادلہ بھی اس دورے کے نتیجے میں بہت بڑھ سکتا ہے جبکہ اسرائیل نے سفارتی، سیاسی اور دفاعی حوالوں سے بھارت پر واضح کردیا ہے کہ جس طرح اس کے ارد گرد کئی اسلامی ممالک ہیں اسی طرح بھارت کے سامنے بھی ’’اسلامی خطرہ‘‘ موجود ہے۔

ان تمام باتوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ نریندر مودی کا دورہ اسرائیل اس پورے خطے کےلیے دور رس نتائج کا باعث بن سکتا ہے اور ممکنہ طور پر اس کے اوّلین اثرات مقبوضہ کشمیر میں اضافی بھارتی مظالم اور پاک بھارت سرحد پر جاری کشیدگی میں اضافے کی صورت میں ظاہر ہوسکتے ہیں۔

بھارت اسرائیل گٹھ جوڑ کے خطہ پر اثرات
اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  42911
کوڈ
 
   
مقبول ترین
وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ یہ پہلی اسمبلی ہے جو’ڈیزل‘ کے بغیر چل رہی ہے اگر فضل الرحمان کے لوگ میرٹ پر ہوئے تو انہیں بھی قرضے دیے جائیں گے۔ وزیراعظم عمران خان نے نوجوانوں کے لیے ’کامیاب جوان پروگرام‘ کا افتتاح کردیا ہے۔
وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت تحریک انصاف کی کورکمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں پنجاب اور خیبر پختونخوا کے وزرائے اعلیٰ اورتین گورنرز نے شرکت کی۔ حکومت نے مولانا فضل الرحمان سے مذاکرات کے لیے کمیٹی بنانے کا فیصلہ کیا ہے
اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے فواد چوہدری نے کہا کہ نوکریاں حکومت نہیں نجی سیکٹر دیتا ہے یہ نہیں کہ ہر شخص سرکاری نوکر ی ڈھونڈے ، حکومت تو 400 محکمے ختم کررہی ہے مگرلوگوں کا اس بات پر زور ہے کہ حکومت نوکریاں دے۔
وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ پاکستان خطے میں امن اور استحکام کے لئے اپنا کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔ ایرانی صدر سے ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ایرانی صدر حسن روحانی نے کہا کہ پاکستان اور

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں