Thursday, 19 July, 2018
’’شاہراہ جمہوریت پر گامزن قومی قافلہ‘‘

’’شاہراہ جمہوریت پر گامزن قومی قافلہ‘‘
تحریر: ابو علی صدیقی

 

موجودہ دور میں کسی معاشرے کے مہذب اور محترم ہونے کا ایک معیار یہ بھی ہے کہ وہاں کے عوام کو اپنی رائے کے اظہار کی کس قدر آزادی میسر ہے۔ اس تناظر میں دنیا بھر میں جمہوری عمل اور تسلسل کو غیر معمولی دلچسپی اور توجہ سے مشاہدہ کیا جاتا ہے۔ جب بھی کسی ملک میں عام انتخابات کا مرحلہ آن پہنچتا ہے تو عالمی برادری کی نگاہیں اس پر مرکوز ہو جاتی ہیں۔ ایسی ہی صورتحال آج کل وطن عزیز کے حوالے سے دیکھی جا رہی ہے۔ اہل وطن کو خوب احساس اور معلوم ہے کہ تقریباً 3 ہفتہ کے بعد یعنی 25 جولائی کو عام انتخابات کا انعقاد ہوگا۔ یہ انتخابات اس پس منظر میں غیر معمولی اہمیت اختیار کر چکے ہیں کہ قومی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایسے ہوگا کہ یکے بعد دیگرے 2 منتخب جمہوری حکومتوں کے اپنی مقررہ آئینی مدت مکمل کرنے کے بعد تیسری حکومت کے قیام اور تشکیل کا مرحلہ طے پائے گا۔ بنیادی طور پر ان انتخابات کا انتظام اور اہتمام پاکستان الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے لیکن نگران حکومت اس سلسلے میں اپنا کردار بہرحال ادا کرے گی۔ نگران حکومت کے ارباب بست و کشاد کی جانب سے یہ عندیہ دیا گیا ہے کہ وہ محض انتخابات کے انعقاد تک ہی ایوان اقتدار میں موجود ہوں گے۔ اس کا واضح اور غیر مبہم مفہوم یہی ہے کہ عام انتخابات کے نتیجے میں جو سیاسی جماعت یا جماعتیں حکومت تشکیل دیں گی، نگران حکومت ان کو اقتدار سونپ کر اور اپنا آئینی فرض ادا کرکے ایوان اقتدار سے رخصت ہو جائے گی۔ 

عوام کے لئے یہ صورتحال انتہائی اطمینان بخش اور مسرت انگیز ہے کہ انتخابی سرگرمیاں روایتی جوش و جذبے کے ساتھ جاری ہیں۔ سیاسی جماعتوں نے اپنے امیدواروں کو ٹکٹ جاری کر دیئے ہیں اور 25 جولائی کو ہونے والے پولنگ کا شدت سے انتظار کیا جا رہا ہے۔ ریاستی ادارے اپنا اپنا فرض ادا کرنے کے لئے ہمہ وقت مستعد ہیں چنانچہ 26 جون کو الیکشن کمیشن آف پاکستان نے عالمی میڈیا اور مبصرین کے لئے 16 نکاتی ضابطہ اخلاق جاری کر دیا جس میں کہا گیا کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر بین الاقوامی مبصر مشن کا اجازت نامہ منسوخ کیا جا سکتا ہے، بین الاقوامی مبصرین اور میڈیا کو حلف نامہ بھی جمع کرانا ہوگا، حلف نامے کے مطابق بین الاقوامی مبصرین ملکی قوانین کی پاسداری کریں گے، بین الاقوامی مبصرین پر ملک کی خود مختاری، شہریوں کے بنیادی حقوق اور آزادی کا خیال رکھنا لازم ہوگا۔ ضابطہ اخلاق کے مطابق بین الاقوامی مبصرین اور میڈیا کو ملکی قوانین، الیکشن کمیشن کے اختیارات اور حکام کا خیال رکھنا لازم ہوگا، الیکشن کمیشن اور سکیورٹی اداروں کی طرف سے دی جانے والی ہدایات پر عمل کرنا ہوگا، بین الاقوامی میڈیا اور مبصرین کسی سیاسی وابستگی اور امیدواروں کے ساتھ غیرجانبدارانہ رویہ رکھنے کے پابند ہوں گے، ایسی سرگرمی سے اجتناب کرنا ہوگا جس سے سیاسی جماعت سے وابستگی ظاہر ہو، بین الاقوامی مبصرین اور میڈیا کے پاس الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کردہ کارڈ ہونا ضروری ہے، بین الاقوامی مبصر ذرائع ابلاغ میں اپنی ذاتی رائے نہیں دے سکے گا، مبصر تنظیموں کی جانب سے نامزد شخص جنرل الیکشن سے متعلق رائے دے سکے گا، مبصر تنظیمیں عام انتخابات سے متعلق اپنی تجاویز، آرا اور سفارشات سے الیکشن کمیشن کو آگاہ کریں گی، بین الاقوامی مبصرین بروقت ویزا کے حصول کے لئے درخواست دیں گے اور ویزا کی مدت ختم ہونے کے بعد ملک میں مزید قیام نہیں کر سکیں گے۔ 

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اسی روز اسلام آباد میں پاک فوج نے عام انتخابات کے لئے بیلٹ پیپرز کی چھپائی کے دوران سکیورٹی کو یقینی بنانے کے لئے پرنٹنگ کارپوریشن آف پاکستان (پی سی پی) کا کنٹرول سنبھال لیا چنانچہ پاک فوج کے جوانوں کو اس ادارے کی عمارت کے چاروں اطراف تعینات کرکے عام افراد کا داخلہ بند کر دیا گیا ہے جبکہ پی سی پی میں کام کرنے والوں کو بھی فوج کی تعیناتی کے دوران دفتر آنے جانے کے لئے سخت چیکنگ کا سامنا کرنا پڑے گا، فوج 26 جولائی تک یہاں تعینات رہے گی۔
 نیشنل پرنٹنگ سکیورٹی کمپنی کراچی اور پاکستان پوسٹ فاؤنڈیشن اسلام آباد پر بھی فوج 26 جولائی 2018ء تک تعینات رہے گی۔ الیکشن کمیشن نے عام انتخابات 2018ء کے لئے پولنگ سٹیشنز کے باہر اور اندر پاک فوج کو تعینات کرنے کے لئے بھی وزارت دفاع کو باضابطہ مراسلہ ارسال کر دیا، مراسلے میں پولنگ سٹیشنوں پر 23 تا 26 جولائی تک فول پروف سکیورٹی کے لئے پاک فوج کی تعیناتی عمل میں لانے کا کہا گیا ہے۔ بیلٹ پیپر کی چھپائی اور ترسیل کے دوران پرنٹنگ کارپوریشن آف پاکستان اسلام آباد، نیشنل پرنٹنگ سکیورٹی کمپنی کراچی اور پاکستان پوسٹ فاؤنڈیشن اسلام آباد پر 27 جون سے 26جولائی 2018ء تک فوج تعینات کرنے کی استدعا بھی الیکشن کمیشن نے کی تھی۔ 

دریں اثناء شرعی بورڈ آف پاکستان کے چیئرمین نے ووٹ کو مقدس امانت قرار دیتے ہوئے کہا کہ نیک، اہل علم اور باصلاحیت امیدوار کو ووٹ دینا شرعی و قومی فریضہ ہے اور ووٹ نہ دینا یا نااہل امیدوار کو دینا جرم ہے، مرکزی اہل سنت جامعہ اسلام آباد میں شرعی بورڈ آف پاکستان کے چیئرمین ڈاکٹر مفتی ظفر اقبال جلالی کی زیر صدارت اجلاس میں مسئلہ ووٹ کے بارے میں قرآن و سنت اور احادیث کے حوالہ جات کی روشنی میں بحث کی گئی، ڈاکٹر ظفر اقبال جلالی نے بحث کا خلاصہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ دور میں انقلاب مصطفی، غلبہ اسلام اور قرآن و سنت کی بالادستی کے لئے دیگر ذرائع کی طرح الیکشن بھی ایک ٹھوس اور موثر ذریعہ ہے جس کے ذریعے اچھے اور برے حضرات ایوان اقتدار تک پہنچتے اور ملک کی باگ ڈور سنبھالتے ہیں، ہر فرد کا شرعی، اخلاقی اور قومی فریضہ ہے کہ وہ اپنے ووٹ کا درست استعمال کرے، ووٹر حضرات کا مالی مفاد، دباؤ، دنیاوی لالچ، جھوٹے وعدوں اور نعروں، ذاتی تعلقات، برادری اور لسانی و علاقائی تعصب کی بنیاد پر ووٹ کا حق استعمال کرنا سنگین غلطی اور جرم ہے۔ ووٹ کے صحیح استعمال پر قیامت کے دن اجر و ثواب اور غلط استعمال پر گناہ اور عذاب ہوگا۔ اس لئے عوام اپنا ووٹ سوچ سمجھ کر استعمال کریں تاکہ پاکستان ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکے۔

اس بارے کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہے کہ وطن عزیز میں جمہوریت کے استحکام اور فروغ کی خاطر اہل وطن نے جان و مال کی بے مثال قربانیاں دی ہیں اور اسی کے نتیجے میں آج شاہراہ جمہوریت پر قومی قافلہ گامزن ہے۔ایک عامی بھی خوب جانتا ہے کہ عام انتخابات کے موقع پر اس کے اور دیگر عوام کے ووٹ کی کیا اہمیت ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ووٹ کا استعمال قومی مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جائے اور اس سلسلے میں فروعی، جماعتی، شخصی اور علاقائی یا لسانی رحجانات کو راستے کی رکاوٹ نہ بنایا جائے۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھ info@mubassir.com پر ای میل کریں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  85670
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
ایران کے روحانی پیشوا آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے گزشتہ دنوں کشمیر کے مظلوم مسلمانوں کی حمایت میں دو مرتبہ پے درپے گفتگو کی اس کی بازگشت ابھی تک دنیا میں جاری ہے۔ اگرچہ وہ اس سے قبل بھی کئی مرتبہ کشمیر
مقبوضہ کشمیر میں جاری ہندوستانی بربریت کی نئی لہر کو 100 روز مکمل ہو گئے لیکن وادی کے حالات بدستور کشیدہ ہیں جب کہ حالیہ کشیدگی میں قابض فوج کے ہاتھوں اب تک 110 کشمیر شہید اور 12 ہزار سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔
یہ بات یاد رکھنی چاہیئے کہ اگر دبائو اور انتشار کے ذریعے سے حکومت گرانے کی کوشش کی گئی تو بہت ہی خطرناک صورت حال پیدا ہو جائے گی
ایک ماتحت ادارے کو انتہائی غیر معمولی طاقت حاصل ہونے کا فطری نتیجہ باقی ریاستی ڈھانچے کی کمزوری کی صورت میں سامنے آتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ آج ملک کو درپیش ہر مسئلے کا حل نکالنے کے لیے جی ایچ کیو اور چیف آف آرمی سٹاف سب سے آگے آگے ہیں

مزید خبریں
افغانستان میں جنگ کو تیرہ برس گزرگئے اور 2014ء اس جنگ کے باقاعدہ اختتام کا سال ہے۔یہ برس عالمی تاریخ میں خاص اہمیت اختیار کرتاجارہا ہے۔پرائم ٹارگٹس پر مزاحمت کاروں کے حملے اس حقیقت کو واضح کرتے ہیں کہ طالبان آج تیر ہ سال بعد بھی افغانستان میں طاقت ورہیں۔
15 فروری 2014ء کو سندھ حکومت کے زیر انتظام دوہفتوں سے انعقاد پذیر ثقافتی سرگرمیوں کا میلہ ’’ سندھ فیسٹیول ’’ ختم ہوا تو صوبہ کے ایک دور افتادہ ضلع میں ’’ ڈیتھ فیسٹیول ‘‘ کا آغاز ہوچکا تھا۔
صحرائے تھر کی زمین پانی اور بچے دودھ کو ترس گئے، قحط سالی کے باعث بھوک نے انسانی زندگیوں کو نگلنا شروع کردیا ہے، حکومت نے تھرپارکر کو آفت زدہ تو قرار دے دیا مگر متاثرین کیلئے مختص گندم محکمہ خوراک کے گوداموں میں سڑ رہی ہے۔

مقبول ترین
سینیٹ قائمہ کمیٹی میں بریفنگ دیتے ہوئے نمائندہ جی ایچ کیو نے بتایا پاک فوج کا الیکشن سے کوئی تعلق نہیں، آرمی صرف امن اومان کی صورتحال بہتر رکھنے کے لئے کام کر رہی ہے، آرمڈ فورسز ہمیشہ سول اداروں کو سپورٹ دیتی رہی ہے۔
اڈیالہ جیل میں قید سابق وزیراعظم نوازشریف اورمریم نواز کی ان کے وکلا سے ملاقات منسوخ کردی گئی ہے۔ میڈیا کے مطابق نوازشریف اورمریم نواز کا آج اڈیالہ جیل میں چھٹا روزہے جب کہ کیپٹن ریٹائرڈ صفدرکو جیل کا مکین ہوئے 11 دن ہوگئے۔
ترجمان دفترخارجہ ڈاکٹرفیصل کا کہنا ہے کہ بلوچستان اور خیبرپختون خوا میں انتخابی امیدواروں پر دہشت گردانہ حملوں سے پاکستان خوفزدہ ہونے والا نہیں ملک میں جمہوری انتخابی عمل جاری رہے گا۔
ترکی کی حکومت نے ناکام فوجی بغاوت کے بعد لگائی جانے والی ایمرجنسی دو سال بعد ختم کردی۔ 15 جولائی 2016 کو ترک فوج کے ایک دھڑے نے صدر رجب طیب اردوان کا تختہ الٹنے کی کوشش کی تھی جو ناکام ہوگئی تھی۔ اس بغاوت میں فوجیوں سمیت تقریب

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں