Wednesday, 17 October, 2018
ٹرمپ دودھ ختم ہونیکے بعد گائے کا کیا کرینگے

ٹرمپ دودھ ختم ہونیکے بعد گائے کا کیا کرینگے
تحریر: ثاقب اکبر

 

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنی انتخابی مہم کے دوران میں سعودیہ کے لئے دودھ دینے والی گائے کا لفظ استعمال کرچکے ہیں۔ انھوں نے کہا تھا کہ وہ ہمارے لئے ایک دودھ دینے والی گائے ہے، ہم جب بھی چاہیں گے، اس سے سونا اور ڈالر دوہیں گے اور جب اس کا دودھ ختم ہو جائے گا، ہم اسے ذبح کر دیں گے۔ مسٹر ٹرمپ نے وائٹ ہاﺅس میں آنے کے بعد بھی بارہا کیمروں اور ذرائع ابلاغ کی موجودگی میں بن سلمان اور سعودی عرب سے دودھ دوہنے کا لفظ استعمال کیا۔ یہ بات ہمیں گذشتہ منگل کے روز (2 اکتوبر 2018ء) کو امریکی ریاست مسیسپی کے شہر ساﺅتھ ہیون میں ایک ریلی میں ان کے خطاب سے یاد آئی، جس کا ایک حصہ آج پوری دنیا میں زبان زد عام ہے۔ اس میں انھوں نے سعودی عرب اور اس کے فرمانروا کے بارے میں بہت توہین آمیز انداز سے کہا کہ ہم سعودی عرب کی حفاظت کرتے ہیں، کیا آپ کہیں گے کہ وہ امیر ہیں اور مجھے بادشاہ پسند ہے، بادشاہ سلمان؟ لیکن میں نے اسے کہا تھا کہ بادشاہ! ہم تمھاری حفاظت کر رہے ہیں، ہمارے بغیر تم دو ہفتے بھی نہیں رہو گے۔ لہٰذا فوجی تعاون کی قیمت میں اضافہ کرو۔ میں نے اس سے کہا کہ تمھارے پاس کئی کھرب ڈالر موجود ہیں۔ اللہ ہی جانتا ہے کہ اگر سعودیہ پر حملہ ہوگیا تو اس کا کیا بنے گا۔ انھوں نے کہا کہ میں نے کہا اے بادشاہ! شاید تم اپنے ہوائی جہازوں کی بھی حفاظت نہیں کرسکتے، لیکن اگر ہمارے ساتھ رہو گے تو پرسکون رہو گے، لیکن اس کے بدلے میں ہمیں جو کچھ ملنا چاہیے وہ نہیں مل رہا۔
 
اس سے پہلے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں صدر ٹرمپ نے اوپیک کے رکن ممالک کے بارے میں کہا کہ وہ معمول کے مطابق پوری دنیا کو لوٹ رہے ہیں۔ اس خطاب میں ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہم ان میں سے بیشتر ممالک کا بلاوجہ دفاع کر رہے ہیں اور وہ ہم سے اس کا فائدہ بھاری قیمتوں میں تیل دے کر حاصل کر رہے ہیں، یہ اچھا نہیں ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ وہ قیمتیں نہ بڑھائیں، ہم چاہتے ہیں کہ وہ قیمتوں میں کمی کریں۔ قبل ازیں رواں سال جون میں صدر ٹرمپ نے اپنے ٹویٹر اکاﺅنٹ پر لکھا تھا کہ انھوں نے شاہ سلمان سے کہا ہے کہ وہ تیل کی پیداوار میں 20 لاکھ بیرل یومیہ کا اضافہ کریں۔ انھوں نے یہ بھی لکھا کہ شاہ سلمان نے ان کی یہ بات قبول کرلی ہے، جبکہ سعودی عرب پہلے ہی ایک کروڑ بیرل روزانہ پیدا کر رہا تھا۔ اب صدر ٹرمپ سعودی عرب سے اس پیداوار میں مزید اضافے پر زور دے رہے ہیں۔ اگرچہ عالمی تجزیہ کاروں کی رائے ہے کہ سعودی عرب نہیں چاہتا کہ اس کی روزانہ کی پیداوار ایک کروڑ بیرل سے زیادہ ہو۔
 
مشرق وسطیٰ کے ممالک سے دفاع کے بدلے زیادہ سے زیادہ دولت اینٹھنے کی مسٹر ٹرمپ کی خواہش اتنی روزافزوں ہے کہ انھوں نے کئی مرتبہ فرانس کے صدر امانوئیل میکرون سے کہا ہے کہ ہم نے مشرق وسطیٰ میں 7 کھرب ڈالر خرچ کئے ہیں اور ہمارے ہاتھ کچھ نہیں آیا۔ اس خطے میں بہت مالدار ممالک ہیں، جنھیں آپ خوب جانتے ہیں، وہی یہ خرچ ادا کریں گے، ورنہ ہم انھیں مجبور کریں گے کہ وہ خود اپنی فوج شام روانہ کریں اور ہم اپنی فوج کو گھروں میں واپس بلا لیں گے۔ صدر ٹرمپ عرب حکمرانوں کی جس قدر کھلے عام تحقیر کرتے ہیں، اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ وہ اپنے لوگوں میں بیٹھ کر ان پر کیسے کیسے جملے کستے ہوں گے۔ چنانچہ ایک عرب ذریعے نے واشنگٹن سے ایک امریکی رکن کانگریس کے حوالے سے گذشتہ ماہ خبر دی تھی کہ ٹرمپ نے بن سلمان سے ملاقات کے بعد وائٹ ہاﺅس میں اپنے کارندوں سے کہا کہ ان تمام کرسیوں اور چیزوں کو جنھیں بن سلمان نے چھوا ہے یا جن پر بیٹھا ہے، انھیں جھاڑ لینا، تاکہ اگر ان میں کوئی جوئیں رہ گئی ہوں تو نکل جائیں اور اچھی طرح صفائی کر لینا۔
 
مشرق وسطی کے ایک تجزیہ کار کا کہنا ہے کہ صدر باراک اوباما کے دوسرے دور صدارت میں سعودی امریکی تعلقات تنزل کا شکار ہوگئے تھے۔ سعودی عرب نے امریکی ضروریات سے بڑھ کر علاقے میں پراکسی جنگیں شروع کر دی تھیں۔ اوباما کی رائے یہ تھی کہ آل سعود کو درپیش زوال کے داخلی خطرات میں امریکہ ان کی حمایت نہیں کرسکتا۔ یہی وجہ ہے کہ صدر اوباما نے سعودیہ سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے اطوار حکمرانی کو تبدیل کرے اور اپنے ملک میں داخلی اصلاحات کو بروئے کار لائے، لیکن ٹرمپ نے اوباما کی پالیسی کو الٹ پلٹ کر دیا اور واضح کر دیا کہ سعودی عرب امریکہ اور دیگر مغربی ممالک سے جو اسلحہ خریدتا ہے، وہ اس کی حمایت کے لئے کافی نہیں۔ ان کا اس بات پر زور ہے کہ سعودی برآمدات اور خاص طور پر تیل کی ترسیل کا نظام جن خطرات سے دوچار ہے، اس سے نمٹنے کے لئے وہ پورا نظام امریکہ کے حوالے کر دے۔ امریکہ کی رائے ہے کہ اس طرح سے وہ تیل کی پیداوار میں اضافہ بھی کرسکے گا اور تیل کی قیمت کو بھی کم کر لے گا۔ اس پیداوار میں اضافے کا ایک مقصد ایران پر عائد کی گئی امریکی پابندیوں کی وجہ سے تیل کی برآمدات میں کمی ہے۔ اس کمی کے باعث تیل کی قیمتیں مزید بڑھنے کا اندیشہ ہے، جس سے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی زوال پذیر معیشت پر مزید بوجھ بڑھ جائے گا۔
 
تیل کی قیمت کم ہونے کی وجہ سے سعودی عرب کو اپنے سالانہ بجٹ میں پہلے ہی 30 ارب ڈالر کا خسارہ درپیش ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سرکاری اخراجات میں کمی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اتنی بڑی رقم کے فرق کی وجہ سے سعودی عرب کے غریب عوام پر بوجھ مزید بڑھ گیا ہے۔ ظاہر ہے کہ اس کمی کا کوئی نقصان آل سعود کے شہزادوں کو نہیں ہوگا بلکہ یہ سارا بوجھ عوام ہی کو برداشت کرنا پڑے گا۔ ایک اور تجزیے کے مطابق صدر ٹرمپ سعودی عرب کی معیشت کو دیوالیہ کرنے کا منصوبہ رکھتے ہیں، اس لئے ان کی خواہش یہ ہے کہ سعودی عرب کی تیل کی سب سے بڑی کمپنی آرامکو کو پرائیویٹائز کر دیا جائے، تاکہ یہ پوری طرح امریکہ کے ہاتھ آجائے۔ اس طرح ٹرمپ سعودیہ سے 2 ہزار ارب ڈالر نکال سکیں گے۔ ایک احتمال کے مطابق ٹرمپ اس سے بھی آگے بڑھنا چاہتے ہیں اور وہ سعودی عرب کو یہاں تک پہنچانا چاہتے ہیں کہ وہ عالمی اور امریکی بینکوں سے قرض لینے پر مجبور ہو جائے، تاکہ اسے عرب ممالک میں جو بالادستی حاصل ہے، اس کا خاتمہ ہو جائے۔
 
تیل کی سیاست کے علاوہ ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں، ابھی تو صدر ٹرمپ نے اس قانون کا ذکر نہیں کیا، جس کے تحت وہ 9/11 کے واقعے میں مارے جانے والے 2500 افراد اور بیس ہزار زخمیوں اور عمارات کے نقصان کا ہرجانہ سعودی عرب سے وصول کرنا چاہتے ہیں۔ اس ہرجانے کا تخمینہ کئی سو ارب ڈالر بنتا ہے۔ یاد رہے کہ اس ارادے کا اظہار بھی وہ اپنی انتخابی مہم کے دوران میں کرچکے ہیں۔ مسئلہ فقط ترجیحات کا ہے، جو مکھن اس ہرجانے سے پہلے سیدھی یا ٹیڑھی انگلیوں سے نکالا جاسکتا ہے، شاید صدر ٹرمپ پہلے وہ نکالنا چاہتے ہیں۔ ہم لکھ چکے ہیں کہ صدر ٹرمپ نے انتخابی ریلی سے اپنے خطاب میں یہ بھی کہا ہے کہ اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ اگر سعودیہ پر حملہ ہوگیا تو اس کا کیا بنے گا۔ ہم یہ کہیں گے کہ سعودیہ پر امریکی حملہ ہوچکا ہے، اللہ ہی جانتا ہے کہ اس کا کیا بنے گا۔ البتہ ”کیا بنے گا“ کا اعلان بھی خود صدر ٹرمپ کرچکے ہیں، جیسا کہ ہم نے شروع میں لکھا ہے کہ وہ اپنی انتخابی مہم کے دوران میں کہہ چکے ہیں کہ سعودی عرب ہمارے لئے ایک دودھ دینے والی گائے ہے۔ ہم جب بھی چاہیں گے، اس سے سونا اور ڈالر دوہیں گے اور جب اس کا دودھ ختم ہو جائے گا، ہم اسے ذبح کر دیں گے۔ اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ سفاک قصاب کس بے دردی سے چھری چلائے گا۔ بہ شکریہ اسلام ٹائمز

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھ info@mubassir.com پر ای میل کریں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  29463
کوڈ
 
   
مزید خبریں
افغانستان میں جنگ کو تیرہ برس گزرگئے اور 2014ء اس جنگ کے باقاعدہ اختتام کا سال ہے۔یہ برس عالمی تاریخ میں خاص اہمیت اختیار کرتاجارہا ہے۔پرائم ٹارگٹس پر مزاحمت کاروں کے حملے اس حقیقت کو واضح کرتے ہیں کہ طالبان آج تیر ہ سال بعد بھی افغانستان میں طاقت ورہیں۔
15 فروری 2014ء کو سندھ حکومت کے زیر انتظام دوہفتوں سے انعقاد پذیر ثقافتی سرگرمیوں کا میلہ ’’ سندھ فیسٹیول ’’ ختم ہوا تو صوبہ کے ایک دور افتادہ ضلع میں ’’ ڈیتھ فیسٹیول ‘‘ کا آغاز ہوچکا تھا۔
صحرائے تھر کی زمین پانی اور بچے دودھ کو ترس گئے، قحط سالی کے باعث بھوک نے انسانی زندگیوں کو نگلنا شروع کردیا ہے، حکومت نے تھرپارکر کو آفت زدہ تو قرار دے دیا مگر متاثرین کیلئے مختص گندم محکمہ خوراک کے گوداموں میں سڑ رہی ہے۔

مقبول ترین
لندن کی وارک یونیورسٹی میں خطاب کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ دنیا میں القاعدہ کو کبھی بھی پاکستان کی مددکے بغیر شکست نہیں ہوسکتی تھی دہشتگردی کے خاتمے کے لیے دنیا کو پاکستان کا شکریہ ادا کرنا چاہیے۔
وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ حکومت نے مسلم لیگ (ن) کے دور حکومت میں لگائے گئے بجلی کے تمام منصوبوں کے آڈٹ کا فیصلہ کیا ہے جب کہ 2 منصوبے کے آڈٹ کا آغاز بھی ہوچکا ہے۔ پریس کانفرنس کے دوران فواد چوہدری نے
بین الاقوامی برادری میں یہ تاثر عام ہے کہ بھارتی قیادت علاقائی بالادستی حاصل کرنے کے زعم میں یوں مبتلا ہو چکی ہے کہ اس پر کسی نفسیاتی غلبہ اور سیاسی و سفارتی عارضہ کا گمان ہوتا ہے۔ وزیراعظم مودی نے اپنے دور حکومت میں نیپال، بنگلہ دیش
غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق فرانس کے شمالی علاقے ٹریب میں سیلاب کے باعث 13 افراد ہلاک اورمتعدد زخمی ہوگئے۔ فرانسیسی وزارت داخلہ کے مطابق متاثرہ علاقوں میں محض چند گھنٹوں کے دوران اتنی بارش ہوئی جو عام طورپر3 ماہ سے زائد

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں