Wednesday, 21 February, 2018
’’یوم یکجہتی کشمیر: ایک نئی آب و تاب‘‘

’’یوم یکجہتی کشمیر: ایک نئی آب و تاب‘‘
تحریر: ثاقب اکبر

 

 

دنیا بھر کی طرح پاکستان میں جس انداز سے اس مرتبہ یوم یکجہتی کشمیر منایا گیا وہ اپنی مثال آپ ہے۔ حکومتی سطح پر بھی اسے بہت اہمیت حاصل رہی اور سیاسی و مذہبی جماعتوں نے بھی اس کا بھرپور اہتمام کیا۔ پاکستان کی قومی سیاسی جماعتوں نے ماضی سے بڑھ چڑھ کر اس کے لیے اجتماعات اور ریلیوں کا انتظام کیا۔ عام طور پر پاکستان میں یہ دن مذہبی جماعتیں زیادہ اہتمام سے مناتی رہی ہیں اور اس کی بنیاد بھی جماعت اسلامی کے سابق امیر قاضی حسین احمد مرحوم نے رکھی تھی جسے عوامی اور سرکاری سطح پر پذیرائی حاصل ہو گئی۔ اس مرتبہ اس میں سیاسی جماعتوں کے علاوہ عوام کی شرکت بھی زیادہ دیکھنے میں آئی ہے۔ 

پاکستان مسلم لیگ( ن) نے اس موقع پر سب سے بڑا جلسہ مظفر آباد میں منعقدکیا جس سے مسلم لیگ ن کے صدر سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے خطاب کیا۔ مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف کا یہ جملہ بہت اہمیت اختیار کر گیا کہ مجھے پاکستان سے تو نکال دیا گیا ہے اب میری ڈیوٹی کشمیر میں لگا دیں۔

پاکستان پیپلز پارٹی کا بڑا اجتماع لاہور کے تاریخی موچی دروازہ میں منعقد ہوا جس سے سابق صدر اور پیپلز پارٹی کے کو چیئرمین آصف علی زرداری نے خطاب کیا۔ ان کا یہ جملہ دن بھر دوہرایا جاتا رہا کہ ’’کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہی نہیں پاکستان پیپلز پارٹی کی بھی شہ رگ ہے۔‘‘

شہر شہر ریلیاں منعقد ہوئیں۔ ’’کشمیر بنے گا پاکستان‘‘ کے نعروں سے سری نگر سے لے کر کراچی تک کی وادیاں، گلیاں اور کوچے گونج رہے تھے۔ 

پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے اس موقع پر کہا کہ بھارتی فوج کا جبر کشمیریوں کے جذبہ آزادی کو کچل نہیں سکتا۔ کشمیری عوام عالمی برادری کے جاگنے کا انتظار کررہے ہیں۔ 

تحریک انصاف نے بھی اس موقع پر کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا۔ کوہالہ پل پر کشمیریوں اور پاکستانیوں کا ایک بہت بڑا اجتماع منعقد ہوا۔ انھوں نے ہاتھوں کی زنجیر بنا کر یکجہتی کا مظاہرہ کیا۔

کشمیریوں کے ساتھ عالمی سطح پر پاکستانیوں کا جذبہ اظہار یکجہتی اور کشمیریوں کا پاکستان کے ساتھ ولولہ انگیز مظاہرۂ یکجہتی یہ ظاہر کررہا ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ کشمیریوں کا جذبہ آزادی نہ فقط سرد نہیں پڑا بلکہ یہ مزید شعلہ فشاں ہو رہا ہے۔ پاکستان سے الحاق کے لیے کشمیریوں کے نعروں میں نیا زور اور تنوع پیدا ہورہا ہے۔ کشمیر کا بچہ بچہ نعرہ زن ہے کہ ہم سب پاکستانی ہیں۔ پاکستان ہمارا ہے۔ ان کے قائد پیر سال سید علی گیلانی کا جذبۂ آزادی آج بھی جواں سال معلوم ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کشمیر کو پاکستان کے ساتھ ملحق کریں گے اور پاکستان کو بھی بہتر بنائیں گے۔ وہ پاکستان کو ایک عظیم اسلامی ریاست سمجھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان کی جوہری صلاحیت بھارت کی آنکھوں میں کھٹکتی ہے۔

یہ ساری ولولہ انگیز صورتحال بھارت کی ظالم اور درندہ صفت فوج کے منہ پر طمانچے کی حیثیت رکھتی ہے۔ ان کے تشدد اور پیلیٹ گنوں کی فائرنگ نے ان کی اپنی انسانیت کو اندھا ثابت کردیا ہے۔ کشمیریوں کے دل کی آنکھیں جذبۂ آزادی کے نور سے روشن ہیں۔ وہ اسی روشنی میں پاکستان کو اپنی منزل کے طور پر دیکھتے ہیں۔ انشاء اللہ تعالیٰ وہ دن جلد آئے گا جب ’’کشمیر بنے گا پاکستان‘‘ کا نعرہ حقیقت کا روپ ا ختیار کر لے گا۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھ info@mubassir.com پر ای میل کریں۔ ادارہ

 

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  60259
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے مطابق اگلے ماہ مارچ میں ہونے والے سینٹ انتخابات کی 52نشستوں کے لیے 144امیدواروں نے کاغذات نامزدگی جمع کروا دیے ہیں جس میں پنجاب سے 34، سندھ سے 47، بلوچستان سے 28 اور خیبر پختونخوا سے 34 امیدوار شامل ہیں
قومی اور بین الاقوامی حلقوں میں اس امر واقعہ کا ہنوز چرچا ہے کہ 25 دسمبر 2017ء کو اسلام آباد کے دفتر خارجہ میں بھارتی دہشت گرد جاسوس کل بھوشن یادیو کی ملاقات اس کی اہلیہ اوروالدہ سے کرائی گئی جبکہ اس موقع پر
عسکری امور اور جنگی حکمت عملی کے ماہرین اس بارے اتفاق رائے رکھتے ہیں کہ کسی بھی فوجی کی ذہنی توانائی اور حوصلہ مندی ہی اس کا اصل ہتھیار اور حربہ ہوتے ہیں۔ اس کی وضاحت یوں کی جاتی ہے کہ اگر کسی فوجی
تاریخی واقعات گواہ ہیں کہ بھارت کی ہر حکومت کا یہ چلن رہا کہ وہ پاکستان کو بدنام کرنے اور اس کے خلاف منفی پراپیگنڈہ کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتی جبکہ مودی سرکار نے تو اس سلسلے میں ماضی کے تمام ریکارڈ توڑ دیئے ہیں۔

مزید خبریں
افغانستان میں جنگ کو تیرہ برس گزرگئے اور 2014ء اس جنگ کے باقاعدہ اختتام کا سال ہے۔یہ برس عالمی تاریخ میں خاص اہمیت اختیار کرتاجارہا ہے۔پرائم ٹارگٹس پر مزاحمت کاروں کے حملے اس حقیقت کو واضح کرتے ہیں کہ طالبان آج تیر ہ سال بعد بھی افغانستان میں طاقت ورہیں۔
15 فروری 2014ء کو سندھ حکومت کے زیر انتظام دوہفتوں سے انعقاد پذیر ثقافتی سرگرمیوں کا میلہ ’’ سندھ فیسٹیول ’’ ختم ہوا تو صوبہ کے ایک دور افتادہ ضلع میں ’’ ڈیتھ فیسٹیول ‘‘ کا آغاز ہوچکا تھا۔
صحرائے تھر کی زمین پانی اور بچے دودھ کو ترس گئے، قحط سالی کے باعث بھوک نے انسانی زندگیوں کو نگلنا شروع کردیا ہے، حکومت نے تھرپارکر کو آفت زدہ تو قرار دے دیا مگر متاثرین کیلئے مختص گندم محکمہ خوراک کے گوداموں میں سڑ رہی ہے۔

مقبول ترین
پاک فوج کے اضافی دستے سعودی عرب بھیجنے پر قومی اسمبلی میں بحث ہوئی ہے۔ میڈیا کے مطابق قومی اسمبلی میں پاک فوج کو سعودی عرب بھیجنے کا معاملہ پھر زیر بحث آیا۔ پاکستان تحریک انصاف کی رکن شیریں مزاری نے اظہار
وزیر مملکت اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب کا کہنا ہےکہ تمام اداروں کو اپنی آئینی حدود میں رہنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن لیڈر نے درست کہا ہے کہ ہم سے بھی غلطیاں ہوئیں اور جب سیاست دانوں پربھینس چوری کے پرچی کٹے تو غلطی تب بھی ہوئی۔
ایرانی دار الحکومت تہران میں سکیورٹی فورسز اور صوفی عقیدت مندوں کے درمیان ہونے والی جھڑپوں میں 6 افراد جاں بحق ہوگئے۔ تہران پولیس کے ترجمان بریگیڈیئر سعید منتظرالمہدی نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ تہران کے
میڈیا کے مطابق سپریم کورٹ میں میڈیا کمیشن کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے کہ کل پیغام دیا گیا کہ عدالت قانون سازی میں مداخلت نہیں کر سکتی، میں نے بار بار کہا پارلیمنٹ سپریم ادارہ ہے

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں