Thursday, 24 May, 2018
’’یوم یکجہتی کشمیر: ایک نئی آب و تاب‘‘

’’یوم یکجہتی کشمیر: ایک نئی آب و تاب‘‘
تحریر: ثاقب اکبر

 

 

دنیا بھر کی طرح پاکستان میں جس انداز سے اس مرتبہ یوم یکجہتی کشمیر منایا گیا وہ اپنی مثال آپ ہے۔ حکومتی سطح پر بھی اسے بہت اہمیت حاصل رہی اور سیاسی و مذہبی جماعتوں نے بھی اس کا بھرپور اہتمام کیا۔ پاکستان کی قومی سیاسی جماعتوں نے ماضی سے بڑھ چڑھ کر اس کے لیے اجتماعات اور ریلیوں کا انتظام کیا۔ عام طور پر پاکستان میں یہ دن مذہبی جماعتیں زیادہ اہتمام سے مناتی رہی ہیں اور اس کی بنیاد بھی جماعت اسلامی کے سابق امیر قاضی حسین احمد مرحوم نے رکھی تھی جسے عوامی اور سرکاری سطح پر پذیرائی حاصل ہو گئی۔ اس مرتبہ اس میں سیاسی جماعتوں کے علاوہ عوام کی شرکت بھی زیادہ دیکھنے میں آئی ہے۔ 

پاکستان مسلم لیگ( ن) نے اس موقع پر سب سے بڑا جلسہ مظفر آباد میں منعقدکیا جس سے مسلم لیگ ن کے صدر سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے خطاب کیا۔ مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف کا یہ جملہ بہت اہمیت اختیار کر گیا کہ مجھے پاکستان سے تو نکال دیا گیا ہے اب میری ڈیوٹی کشمیر میں لگا دیں۔

پاکستان پیپلز پارٹی کا بڑا اجتماع لاہور کے تاریخی موچی دروازہ میں منعقد ہوا جس سے سابق صدر اور پیپلز پارٹی کے کو چیئرمین آصف علی زرداری نے خطاب کیا۔ ان کا یہ جملہ دن بھر دوہرایا جاتا رہا کہ ’’کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہی نہیں پاکستان پیپلز پارٹی کی بھی شہ رگ ہے۔‘‘

شہر شہر ریلیاں منعقد ہوئیں۔ ’’کشمیر بنے گا پاکستان‘‘ کے نعروں سے سری نگر سے لے کر کراچی تک کی وادیاں، گلیاں اور کوچے گونج رہے تھے۔ 

پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے اس موقع پر کہا کہ بھارتی فوج کا جبر کشمیریوں کے جذبہ آزادی کو کچل نہیں سکتا۔ کشمیری عوام عالمی برادری کے جاگنے کا انتظار کررہے ہیں۔ 

تحریک انصاف نے بھی اس موقع پر کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا۔ کوہالہ پل پر کشمیریوں اور پاکستانیوں کا ایک بہت بڑا اجتماع منعقد ہوا۔ انھوں نے ہاتھوں کی زنجیر بنا کر یکجہتی کا مظاہرہ کیا۔

کشمیریوں کے ساتھ عالمی سطح پر پاکستانیوں کا جذبہ اظہار یکجہتی اور کشمیریوں کا پاکستان کے ساتھ ولولہ انگیز مظاہرۂ یکجہتی یہ ظاہر کررہا ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ کشمیریوں کا جذبہ آزادی نہ فقط سرد نہیں پڑا بلکہ یہ مزید شعلہ فشاں ہو رہا ہے۔ پاکستان سے الحاق کے لیے کشمیریوں کے نعروں میں نیا زور اور تنوع پیدا ہورہا ہے۔ کشمیر کا بچہ بچہ نعرہ زن ہے کہ ہم سب پاکستانی ہیں۔ پاکستان ہمارا ہے۔ ان کے قائد پیر سال سید علی گیلانی کا جذبۂ آزادی آج بھی جواں سال معلوم ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کشمیر کو پاکستان کے ساتھ ملحق کریں گے اور پاکستان کو بھی بہتر بنائیں گے۔ وہ پاکستان کو ایک عظیم اسلامی ریاست سمجھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان کی جوہری صلاحیت بھارت کی آنکھوں میں کھٹکتی ہے۔

یہ ساری ولولہ انگیز صورتحال بھارت کی ظالم اور درندہ صفت فوج کے منہ پر طمانچے کی حیثیت رکھتی ہے۔ ان کے تشدد اور پیلیٹ گنوں کی فائرنگ نے ان کی اپنی انسانیت کو اندھا ثابت کردیا ہے۔ کشمیریوں کے دل کی آنکھیں جذبۂ آزادی کے نور سے روشن ہیں۔ وہ اسی روشنی میں پاکستان کو اپنی منزل کے طور پر دیکھتے ہیں۔ انشاء اللہ تعالیٰ وہ دن جلد آئے گا جب ’’کشمیر بنے گا پاکستان‘‘ کا نعرہ حقیقت کا روپ ا ختیار کر لے گا۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھ info@mubassir.com پر ای میل کریں۔ ادارہ

 

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  88122
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
جدوجہد آزادی ہندوستان میں تمام علماء ومشائخ نے بھرپور کردار ادا کیا ہے لیکن ایک بڑا طبقہ گاندھی جی کی زلفوں کا اسیر ہوچکا تھا اور ایک خاص طبقہ کے علماء ومشائخ نے حضرت قائداعظم ؒ کا ساتھ دیا۔
بحرینی عوام نے 14 فروری 2011 میں ا پنے جمہوری حقوق اور سماجی انصاف کے حصول کے لئے عوامی تحریک کا آغاز کیا تھا ۔ تمام تر حکومتی ہتھکنڈوں کے باوجود یہ تحریک اپنا وجود نہ صرف برقرار رکھے ہوئے ہے
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے مطابق اگلے ماہ مارچ میں ہونے والے سینٹ انتخابات کی 52نشستوں کے لیے 144امیدواروں نے کاغذات نامزدگی جمع کروا دیے ہیں جس میں پنجاب سے 34، سندھ سے 47، بلوچستان سے 28 اور خیبر پختونخوا سے 34 امیدوار شامل ہیں
قومی اور بین الاقوامی حلقوں میں اس امر واقعہ کا ہنوز چرچا ہے کہ 25 دسمبر 2017ء کو اسلام آباد کے دفتر خارجہ میں بھارتی دہشت گرد جاسوس کل بھوشن یادیو کی ملاقات اس کی اہلیہ اوروالدہ سے کرائی گئی جبکہ اس موقع پر

مزید خبریں
افغانستان میں جنگ کو تیرہ برس گزرگئے اور 2014ء اس جنگ کے باقاعدہ اختتام کا سال ہے۔یہ برس عالمی تاریخ میں خاص اہمیت اختیار کرتاجارہا ہے۔پرائم ٹارگٹس پر مزاحمت کاروں کے حملے اس حقیقت کو واضح کرتے ہیں کہ طالبان آج تیر ہ سال بعد بھی افغانستان میں طاقت ورہیں۔
15 فروری 2014ء کو سندھ حکومت کے زیر انتظام دوہفتوں سے انعقاد پذیر ثقافتی سرگرمیوں کا میلہ ’’ سندھ فیسٹیول ’’ ختم ہوا تو صوبہ کے ایک دور افتادہ ضلع میں ’’ ڈیتھ فیسٹیول ‘‘ کا آغاز ہوچکا تھا۔
صحرائے تھر کی زمین پانی اور بچے دودھ کو ترس گئے، قحط سالی کے باعث بھوک نے انسانی زندگیوں کو نگلنا شروع کردیا ہے، حکومت نے تھرپارکر کو آفت زدہ تو قرار دے دیا مگر متاثرین کیلئے مختص گندم محکمہ خوراک کے گوداموں میں سڑ رہی ہے۔

مقبول ترین
پاکستان تحریک انصاف کی رہنما فوزیہ قصوری نے پارٹی سے استعفٰی دے دیا۔ فوزیہ قصوری نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں لکھا کہ اپنا استعفیٰ پارٹی چیئرمین عمران خان اور دیگر پارٹی قائدین کو بھیج دیا ہے۔ فوزیہ قصوری نے سوشل میڈیا پر اپنے استعفے
گوگل کمپنی نے مصنوعی ذہانت یعنی آرٹیفیشل انٹیلیجنس کا استعمال کرتے ہوئے 'گوگل نیوز ایپ' کو اَپ ڈیٹ کر دیا ہے جس سے صارفین کو خبروں کے حصول میں مزید آسانی ہوگی۔
ملک پر قرضوں کے بوجھ میں خطرناک حد تک اضافہ ہوگیا اور غیر ملکی قرضوں کا حجم تاریخ کی بلند ترین سطح پر جا پہنچا، رواں مالی سال کے پہلے 9ماہ میں 5 ارب ڈالر غیر ملکی قرضوں کی مد میں ادا کیے گئے ہیں جبکہ مجموعی طورپر رواں مالی سال
دنیا بھر کے اسلامی ممالک میں جہاں رمضان المبارک کا استقبال مختلف طریقوں سے کیا جاتا ہے وہیں بعض ممالک میں اس ماہ مقدس کو لے کر کچھ روایتیں بھی عام ہیں جس کے تحت سعودی عرب میں برتنوں کو دھونی دینے کی ایک خاص روایت ہے۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں