Friday, 18 October, 2019
نریندر مودی کا دورہ اسرائیل اور برہان وانی کی برسی

نریندر مودی کا دورہ اسرائیل اور برہان وانی کی برسی
سید ثاقب اکبر

 

بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی 4 سے 6جولائی 2017تک اسرائیل کا تین روزہ دورہ کر کے واپس بھارت پہنچ چکے ہیں۔ ان کے واپس آتے ہی کشمیریوں کی مشکیں مزید کسنے کا عمل شروع ہو گیا ہے کیونکہ کشمیری اپنے جواں سال شہید ہیرو برہان مظفر وانی کی پہلی برسی جوش اور ولولے کے ساتھ منانے کا ارادہ کیے ہوئے ہیں۔ نریندر مودی پہلے بھی ایک قاتل کی شہرت رکھتے ہیں اور اب تو ایک دوسرے وحشی نیتن یاہو سے مصافحے اور معانقے کرکے واپس آئے ہیں جس سے ان کی خون آشامی دو آتشہ ہو چکی ہے۔ 

بھارت جو گاندھی جی کو اپنا باپو قرار دیتا ہے ،فلسطین کے مسئلے پر ان کی پالیسی سے انحراف کرتے ہوئے اب صہیونی ریاست کا خطے میں سب سے بڑا ساجھے دار بن چکا ہے۔ گاندھی جی فلسطین کو عربوں کی سرزمین قرار دیتے تھے اور صہیونی ریاست کے قیام کی کوششوں کے کھلے بندوں ناقد اورمخالف تھے۔ اس سلسلے میں ان کی تحریریں اور تقریریں دیکھی جا سکتی ہیں لیکن باپو کا راستہ چھوڑ کر بیٹے کسی اور طرف چل پڑے ہیں۔امریکا کے بعد بھارت ہولناک اسلحوں کی سب سے زیادہ خریداری گزشتہ کئی برسوں سے اسرائیل ہی سے کررہا ہے۔ 

مودی پہلے بھارتی وزیراعظم ہیں جو تل ابیب سے ہو آئے ہیں اور یہ پہلے بھارتی راہنما ہیں جنھوں نے تل ابیب جانے کے بعد آزاد فلسطینی خطے میں جانے کا تکلف بھی ضروری نہیں سمجھا۔ نریندر مودی جب صہیونی ریاست کے غاصب عہدیداروں سے مل رہے تھے فلسطین کے عوام ان کے خلاف مظاہرے کر رہے تھے اور جب وہ واپس پہنچے ہیں تو کشمیر کے عوام ان کے خلاف نعرہ زن ہیں۔ 

امریکی صدر ٹرمپ کے بعد مودی کا تل ابیب میں سب سے زیادہ والہانہ استقبال کیا گیا ہے۔ ان کے استقبال کے لیے وزیراعظم اپنی کابینہ سمیت دیگر اہم صہیونی راہنماؤں کے ساتھ ان کے لیے چشم براہ تھے۔ مودی کے دورہ اسرائیل کے متعلق رپورٹوں کا باریک بینی سے مطالعہ کیا جائے تو یہ بات ڈھکی چھپی نہیں رہتی کہ دونوں نے پاکستان کے خلاف مشترکہ حکمت عملی پر اتفاق کیا ہے ۔ کشمیر کی تحریک حریت کو دبانے کے لیے بھی ان کے مابین ہم آہنگی جو پہلے سے موجود تھی، مزید گہری ہو گئی ہے۔ 

اس بارے میں ایکسپریس نے ایک خبر میں بتایا ہے کہ بھارت اور اسرائیل کے مابین خفیہ معلومات کا تبادلہ بھی اس دورے کے نتیجے میں بہت بڑھ سکتا ہے جب کہ اسرائیل نے سفارتی، سیاسی اور دفاعی حوالوں سے بھارت پر واضح کردیا ہے کہ جس طرح اس کے ارد گرد کئی اسلامی ممالک ہیں اسی طرح بھارت کے سامنے بھی ’’اسلامی خطرہ‘‘ موجود ہے۔

ہم تجزیہ نگاروں کی اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ نریندر مودی کا دورہ اسرائیل اس پورے خطے کے لیے دور رس نتائج کا باعث بن سکتا ہے اور ممکنہ طور پر اس کے اولین اثرات مقبوضہ کشمیر میں اضافی بھارتی مظالم ا ور پاک بھارت سرحد پر جاری کشیدگی کی صورت میں ظاہر ہوسکتے ہیں۔ 

مختلف خبررساں اداروں کے مطابق اسرائیل نے پاکستان کے خلاف بھارت کو ہر ممکن مدد فراہم کرنے کا اعلان کردیا ہے۔ اسرائیلی وزارت خارجہ کے ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل مارک صوفر نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہاکہ اسرائیل دہشت گردی کے خلاف بھارت کا بھرپور ساتھ دے گا اور دہشت گردی کے خلاف بھارت کی غیر مشروط حمایت کا اعلان کرتا ہے۔

انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ بھارت کو پاکستان کی جانب سے دہشت گردی کا سامنا ہے جس سے نمٹنے کے لیے اسرائیل، بھارت کو مکمل مدد فراہم کرے گا۔

اسرائیلی وزارت خارجہ کے ڈپٹی ڈائریکٹر کا مزید کہنا تھا کہ لشکر طیبہ اور حماس میں کوئی فرق نہیں۔ دونوں گروہ دہشت گردی پھیلانے میں مصروف ہیں۔ ایک گروہ بھارت کے خلاف جب کہ دوسرا گروہ اسرائیل کے خلاف دہشت گردی میں ملوث ہے۔ انھوں نے کہا کہ بھارت اور اسرائیل دونوں ہم خیال ممالک ہیں جب کہ دونوں ممالک دہشت گردی کے خلاف مشترکہ جدوجہد کا آغاز کریں گے۔ 

اسرائیل اور بھارت کی اس ہم آہنگی کو سامنے رکھتے ہوئے اگر مقبوضہ کشمیر میں قابض انتظامیہ کے تازہ ترین اقدامات کو دیکھا جائے تو یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ نریندر مودی کشمیر کی تحریک آزادی کو دبانے کے لیے ایک نیا طاغوتی ارادہ اور منصوبہ لے کر تل ابیب سے واپس دہلی پہنچے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ برہان مظفر وانی کی شہادت کی پہلی برسی کے موقع پر مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فورسز ہزاروں کشمیری جوانوں کو پکڑ چکی ہے، ان کی موٹر سائیکلیں چھین لی گئی ہیں۔ حریت قائدین کو قید یا نظر بند کردیا گیا ہے۔ فورسز کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔ اضافی نفری تعینات کر دی گئی ہے۔ کرفیو سمیت سخت پابندیاں عائد کی جارہی ہیں اور انٹرنیٹ سروس سمیت موبائل سروس معطل کر دی گئی ہے۔

تاہم حقیقت یہی ہے کہ آزادی کے جذبوں پر کوئی قدغن نہیں لگا سکتا ۔ جب 70برس سے زیادہ عرصے میں کشمیریوں اور فلسطینیوں کے جذبوں کو خون خوار سنگینوں اور آتش زا بارود سے سرد نہیں کیا جاسکا اور دونوں خطوں کی تیسری نسل اپنے بزرگوں کے ولولوں کو سینوں میں لیے سینہ سپر ہے اور کسی ظلم کے سامنے سر جھکانے کو تیار نہیں تو پھرآخر کار باطل اور ظلم کو ہی سرنگوں ہونا ہے۔ یہی اللہ کا اپنے بندوں سے وعدہ ہے۔ ایک دن آنے والا ہے جب فلسطین اور کشمیر کے آسمانوں سے ہاتف کی صدا گونجے گی ۔

جَآءَ الْحَقُّ وَ زَھَقَ الْبَاطِلُ اِنَّ الْبَاطِلَ کَانَ زَھُوْقًا
آ گیا حق اور مٹ گیا باطل، باطل کو تو مٹنا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مضمون نگار مبصر ڈاٹ کام کے چیف ایڈیٹر ہیں۔ مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھ info@mubassir.com پر ای میل کریں۔ ادارہ

نریندر مودی کا دورہ اسرائیل اور برہان وانی کی برسی
اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  20433
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
پاکستان مسلم لیگ ن کے امیدوار شاہد خاقان عباسی ملک کے اٹھارویں وزیراعظم منتخب ہو گئے ہیں۔ یکم اگست 2017 کو پارلیمنٹ کے ایوان زیریں نے شاہد خاقان عباسی کے حق میں 221 ووٹ دے کر
پارا چنار شہر کے مرکزی بازار میں دھماکے کے نتیجے میں آج ہونے والے ہولناک دھماکے میں اب تک کی اطلاعات کے مطابق 25 سے زیادہ افراد شہید ہو چکے ہیں جب کہ زخمیوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔
سانحہ اے پی ایس کے شہدا کی برسی کے موقع پرملك بھر میں سیاسی و سماجی تنظیموں ،سول سوسائٹی ،این جی اوزاور تعلیمی اداروں كے زیر اہتمام مختلف تقریبات كا اہتمام كیا گیا
جنرل راحیل شریف کے بھارتی مداخلت سے متعلق بیان کے فوراً بعد پاکستان کے دوشہروں میں دہشت گردی کے واقعات پیش آنا دو جمع دو چار کی طرح ظاہرکرتاہے کہ ان کارروائیوں کے پیچھے بھارت ہے۔

مقبول ترین
وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ یہ پہلی اسمبلی ہے جو’ڈیزل‘ کے بغیر چل رہی ہے اگر فضل الرحمان کے لوگ میرٹ پر ہوئے تو انہیں بھی قرضے دیے جائیں گے۔ وزیراعظم عمران خان نے نوجوانوں کے لیے ’کامیاب جوان پروگرام‘ کا افتتاح کردیا ہے۔
وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت تحریک انصاف کی کورکمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں پنجاب اور خیبر پختونخوا کے وزرائے اعلیٰ اورتین گورنرز نے شرکت کی۔ حکومت نے مولانا فضل الرحمان سے مذاکرات کے لیے کمیٹی بنانے کا فیصلہ کیا ہے
اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے فواد چوہدری نے کہا کہ نوکریاں حکومت نہیں نجی سیکٹر دیتا ہے یہ نہیں کہ ہر شخص سرکاری نوکر ی ڈھونڈے ، حکومت تو 400 محکمے ختم کررہی ہے مگرلوگوں کا اس بات پر زور ہے کہ حکومت نوکریاں دے۔
وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ پاکستان خطے میں امن اور استحکام کے لئے اپنا کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔ ایرانی صدر سے ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ایرانی صدر حسن روحانی نے کہا کہ پاکستان اور

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں