Tuesday, 15 October, 2019
ہم نے پاکستان کو کیا دیا؟؟؟

ہم نے پاکستان کو کیا دیا؟؟؟
تحریر: ڈاکٹر ندیم عباس

 

محنت سے عاری، مایوسی کے پیکر، خود سے تنگ  لوگوں کی زبان سے یہ جملہ اکثر سننے کو مل جاتا ہے کہ پاکستان نے ہمیں کیا دیا ؟ ملک کو ستر سال ہو چکے ہیں اور تمام مسائل اسی طرح کھڑے ہیں؟  تعلیم، صفائی، ٹرانسپورٹ، رہائش غرض جس طرف دیکھیں مسائل ہی مسائل نظر آتے ہیں۔ کچھ مغرب زدہ دانشور  صبح شام ٹی وی پر بیٹھ کر وطن عزیز کو گالی نکالنا اپنا فرض سمجھتے ہیں اور اپنے خود ساختہ زعم دانشوری  میں دنیا کے تمام مسائل کا حل مغربیت کو قرار دیتے ہیں۔ بار بار ہندوستان کی مثال دی جاتی ہے کہ وہاں تو گویا ترقی کا سیلاب آیا ہوا ہے۔ تھوڑا سا غور کرتے ہیں کہ  پاکستان نے ہمیں کیا دیا؟ کیا ان لوگوں کے اعتراضات میں کوئی جان ہے؟ کیا ہمارا پڑوسی  کہیں بہت آگے نکل گیا ہے ؟یا  یہ لوگ صرف سستی شہرت  کے لیے وطن کو بدنام کرنا اپنا فرض سمجھتے ہیں؟

اسی ہفتے کی دو خبروں نے مجھے بہت متاثر کیا   پہلی خبر ملاحظہ ہو کہ ہندوستان میں  آبادی کا ایک بڑا حصہ گھر میں لیٹرین کی سہولت سے محروم ہے اور وہ رفع حاجت کے لیے  سڑکوں کے کنارے، ریلوے پٹڑیوں  یا   شہر کے قریب موجود فصلوں کو استعمال کرتے ہیں جس سے شہروں  کے اردگرد اور  سڑکوں کے کناروں پر گندی  ہی گندگی نظر آتی ہے ۔ اس بری عادت سے جان چھڑانے کے لیے بہت سی ریاستوں میں ایک مہم چلائی گئی ہے جسے ہلا بول مہم کا نام دیا گیا ہے  جس میں سڑک کنارے اور فصلوں میں رفع حاجت کرنے والوں کی توہین کی جاتی ہے  ان پر جرمانہ عائد کیا جاتا ہے اور جب ان لوگوں سے پوچھا گیا کہ آپ ایسا کیوں کرتے ہیں تو سب کا جواب تھا کہ ہمارے گھروں میں لیٹرین ہی نہیں۔ انڈیا کی آبادی کا ایک بڑا حصہ ایسا ہے جسے سرے سے  لیٹرین کی سہولت ہی حاصل  نہیں ۔ستر سالوں میں ہندوستان اس قابل نہیں ہوا کہ سارے شہریوں کو صرف لیٹرین کی سہولت ہی فراہم کر دے۔

دوسری خبر یہ ہے کہ  اس وقت دنیا میں چار کروڑ انسان غلام ہیں اور حیران کن بات یہ ہے کہ اس کا نصف یعنی دو کروڑ لوگ  انڈیا میں غلام ہیں جو اس کے آبادی کا ڈیڑھ فیصد بنتا ہے ۔ انڈیا میں آزادی اظہار کا دعوی کیا جاتا ہے مگر اس خبر  کو چند اخبارات کے علاوہ کسی نے شائع ہی نہیں کیا کہ کہیں کوئی بین الاقومی پریشر نہ آ جائے ۔اس سے انڈیا میں انسانی اقدار کی تباہی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اکیسویں صدی میں بھی وہاں دو کروڑ غلام ہیں۔

یہ ہمارے ساتھ آزاد ہونے والے انڈیا کی حالت ہے ویسے  تو بہت دل فریب نعرے لگا رہا ہے مگر زمینی حقائق یہ ہیں ۔صرف  سیارے خلا میں بھیج لینے اور بڑے بڑے جنگی سودے کر لینے سے قومیں ترقی نہیں کرتیں بلکہ  قوموں کی ترقی ریاست میں بسنے والے انسانوں کی دی گئی سہولیات سے جانی جاتی ہے۔یہی وسائل اگر انسانی ترقی میں خرچ کیے ہوتے تو صورت حال مختلف ہوتی۔

اب ذرا مسلمانوں کی صورت حال کو بھی ملاحظہ کر لیں ہزاروں مسلمان شک کی بنیاد پر جیلوں میں موجود بند ہیں ۔ کچھ عرصہ پہلے بی بی سی نے ایک نوجوان کی کہانی شئر کی تھی کہ  کس طرح اسے چودہ  سال جیل میں رکھا گیا اور آخر کار سپریم کورٹ نے اسے بے گناہ قرار دیا ۔مقبوضہ کشمیر میں  سینکڑوں جوانوں اور بچوں کو بیلٹ گنز کے ذریعے نابینا کر دیا گیا،کشمیر میں فوجی گاڑی کے سامنے ایک نہتے کشمیری کو باندھ کر بطور انسانی ڈھال استعمال کیا گیا۔ترقی کے مواقع میں مسلمانوں کو دانستہ پیچھے رکھا جاتا ہے اس کا اندازہ اسی بات سے لگا لیں  ہندوستانی کرکٹ ٹیم میں کتنے مسلمان ہیں؟ ہندوستانی مسلمانوں کی تعداد پاکستان کی تعداد سے زیادہ ہے پاکستان سے اتنے انٹرنیشنل پلئرز نکلے ہیں اور ہندوستانی مسلمانوں کی تعداد انگلیوں پر گنی جا سکتی ہے۔

مایوسی ایک ناسور ہے اسی پھیلانے سے گریز کرنا چاہیے پاکستان میں  بہت سے مسائل ہیں  ہم ان تمام مسائل سے بیک وقت لڑ رہے ہیں۔ پاکستان نے ہمیں شناخت دی ہے وہ شناخت جس پر ہم فخر کرتے ہیں ،دنیا کی پہلی اسلامی  ایٹمی طاقت  ہم ہیں،خطے کی ابھرتی ہوئی معیشت ہم ہیں،انڈیا جن مسائل میں ابھی تک پھنسا ہوا ہے ہمارے ہاں وہ مسائل ہی نہیں ہیں۔دنیا  جن مسائل سے نظریں چرا رہی ہےدنیا جن کو شکست نہیں دے سکی ہماری مسلح افواج نے ان کو  سوات اور فاٹا میں شکست دی ہے۔ہمارے طالب علم آکسفورڈ اور دیگر یونیورسٹیوں کے ریکارڈ توڑ رہے ہیں، ہماری بچیاں  فوج سے لیکر  میڈیکل تک میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہی ہیں۔ یہ بدلتا پاکستان ہے جو ہمارے شب روز تبدیل کر رہا ہے جس کی شناخت پر ہمیں فخر ہے۔ پاکستان نے ہمیں سب کچھ دیا اب اس بات کا وقت ہے کہ ہم یہ سوچیں ہم نے پاکستان کو کیا دیا؟ صبح شام مایوسی پھیلانے والوں کو مایوسی ہو گی اور سبز ہلالی پرچم سربلند رہے گے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھinfo@mubassir.com پر ای میل کریں۔ ادارہ

ہم نے پاکستان کو کیا دیا؟؟؟
اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  67808
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
تاریخ کے صفحات پر سید الشہداء حضرت امام حسین ؑ کا موقف اور نقطہ نگاہ آج بھی اپنی پوری رعنائیو ں کے ساتھ رقم ہے۔ چنانچہ جب حاکم مدینہ کی طرف سے یزید کی بیعت کے لئے دباؤ ڈالا گیا
عراق کی سیکورٹی کونسل، وزیراعظم العبادی اور عراقی پارلیمنٹ نے عراق کے نیم خود مختار علاقے کردستان کے صدر بارذانی کی طرف سے 25 ستمبر کو اعلان کردہ ریفرنڈم کی مخالفت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر علیحدگی کیلئے اعلان کردہ ریفرنڈم نے صورتحال خراب کی تو عراقی حکومت فوجی طاقت کو بروئے کار لائے گی۔
پاکستانی قوم اس وقت جن باغیانہ اور دہشت گردانہ سرگرمیوں کے ساتھ اندرونی سیاسی انتشار اور خلفشار سے دو چار ہے وہ نہایت افسوسناک ہے، اس سے ملک و ملت کے استحکام اور بقا اور ملی یکحہتی کو سخت نقصان پہنچا ہے
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پاکستان کے خلاف بیان اور دھمکیوں کے بعد پاکستان کے سیاسی و عسکری قائدین کی طرف سے بیانات اور ردعمل کا سلسلہ جاری ہے۔ ایسے میں 23اگست 2017کو ایوان بالا میں

مقبول ترین
وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ پاکستان خطے میں امن اور استحکام کے لئے اپنا کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔ ایرانی صدر سے ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ایرانی صدر حسن روحانی نے کہا کہ پاکستان اور
اسلام آباد میں وزیراعظم آفس کے سامنے مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی مظالم کیخلاف انسانی زنجیر بنائی گئی۔ وزیراعظم عمران خان نے بھی اس تقریب میں شرکت کی اور قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی فوج نے مقبوضہ کشمیر میں
برطانوی پولیس نے 2016 میں برطانیہ سے بیٹھ کر پاکستان میں نفرت انگیز تقریر کرنے سے متعلق تفتیش میں متحدہ قومی مومنٹ (ایم کیو ایم) کے بانی الطاف حسین پر دہشت گردی کی دفعہ کے تحت فرد جرم عائد کردی۔
وزیراعظم کی چین کے صدر شی جن پنگ سے ملاقات ہوئی جس میں مقبوضہ کشمیر کی صورت حال اور علاقائی سیکیورٹی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیراعظم عمران خان اور چین کے صدر شی جن پنگ کے درمیان بیجنگ کے اسٹیٹ گیسٹ ہاؤس میں ملاقات ہوئی۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں