Tuesday, 18 December, 2018
’’آلِ سعود سے آلِ سلمان تک کا سفر‘‘

’’آلِ سعود سے آلِ سلمان تک کا سفر‘‘
تحریر: مفتی امجد عباس

 

ماضی قریب کے سعودی بادشاہ عبداللہ قدرے مناسب حکمران تھے۔ اُن کی وفات کے بعد سعودیہ میں بہت تبدیلیاں آئی ہیں اور یہ سلسلہ ابھی تک جاری ہے۔ مرحوم شاہ عبداللہ کے دور میں ایران اور خطے کے دیگر ممالک سے سعودیہ کے تعلقات مثالی نہ بھی ہوں تو مناسب ضرور تھے۔

اب اُن کے بعد موجودہ ایران، قطر، یمن، مصر، شام اور عراق سمیت کئی مُسلم پڑوسی ممالک سعودی سازشوں کا شکار ہیں۔


یمن پر سعودی حملہ، پھر مُسلسل گھیراؤ بھی جاری ہے۔ عراق اور شام میں سعودی مداخلت، مسلح دہشت گردوں کی مکمل حمایت میں اسرائیل، امریکہ اور سعودیہ ایک صفحہ پر ہیں۔ مصر میں اخوان المُسلمین کی حکومت کو گرانے میں سعودی حکمران پیش پیش رہے۔ قطر کا بائیکاٹ ابھی کل کی بات ہے۔

اب سعد حریری جو لبنان کے وزیر اعظم ہیں، وہ سعودیہ میں جا کے، استعفیٰ دے چکے ہیں، گویا اب لبنان کی تاراجی بھی آلِ سعود کا منصوبہ ہے۔ آلِ سعود کے حکمران خاندان کے ریشہ دوانیوں سے اُن کے اپنے عزیز و اقارب محفوظ نھیں ہیں۔

ولی عہد شہزادہ محمد، رفتہ رفتہ مکمل اختیارات اپنے ہاتھوں لیکر، اقتدار آلِ سعود کے بجائے اِسے اپنے گھر میں محدود کرنے پر تلے ہیں۔ اب شاہ سلمان کے بیٹے کا نشانہ اپنے ہی خاندان آلِ سعود میں ممکنہ سیاسی اور تجارتی مخالفین ہیں۔ سابق بادشاہ عبداللہ کے بیٹے مکمل زد پر ہیں، شہزادہ طلال بن ولید سمیت درجنوں شہزادے گرفتار ہو چکے ہیں۔ یہ وہ خبریں ہیں جو سامنے آئی ہیں۔

موجودہ ولی عہد، اورنگزیب عالمگیر کی سیرت پر عمل پیرا ہے، تاہم عالمگیر خالص مذہبی آدمی تھا، بقولِ خواجہ حسن نظامیؒ، بادشاہ عالمگیر نے اللہ کی خاطر ایک نماز نہ چھوڑی اور اقتدار کی خاطر ایک بھائی نہ چھوڑا۔ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان شاید اس قدر مذہبی نہ ہوں کہ وہ اعلان کر چکے ہیں کہ اب سعودیہ "معتدل" اسلام کی طرف بڑھے گا۔

واقفینِ حال کا کہنا ہے کہ سعودی شہزادہ، ولی عہد، محمد بن سلمان اپنی بادشاہت کو پختہ کرنے کے لیے بہت جوا کھیل رہے ہیں، وہ یا تو بہترین فاتح قرار ہائیں گے یا بدترین شکست سے دور چار ہوں گے، درمیانی راستہ باقی نھیں بچا، آلِ سعود کا شاہ سلمان خاندان یا مکمل طور پر سعودیہ کو اپنے قبضے میں لے گا، دیگر شہزادوں اور عزیزوں کو اقتدار میں سے کچھ نہ ملے گا یا ایسی کاروائیوں کے نتیجے میں سعودی خاندان کو حجاز مقدس سے دست بردار ہونا پڑ سکتا ہے۔

ملحوظ رہے سعودی بادشاہ یا ولی عہد کے خلاف لکھنے پر دس سال قید کی سزا ہو سکتی ہے۔

غیر مُصدقہ اطلاعات کے مطابق، شاہ سلمان کے قتل کا منصوبہ بھی آشکار ہوا ہے، سعودی امیر البحر کو عہدے سے ہٹانا اِسی سلسلے کی کڑی تھا۔ سعودی حکمرانوں کے حالیہ اقدامات سے اسلام، مسلمان اور حکمران تینوں خطرے میں ہیں۔

شاہ سلمان نے اقتدار سنبھالتے ہی ایک طرف سعودیہ کو خطے کا مضبوط عسکری طاقت والا ملک بنانے پر توجہ دی، اِسی کے پیش نظر اکتالیس ممالک کا فوجی اتحاد بھی سعودی چھتری تلے ترتیب دیا گیا، دوسری طرف وہ اقتدار کو بلا شرکتِ غیر، اپنے گھر تک محدود رکھنا چاہتے ہیں، گویا اب آلِ سعود کے بجائے "آلِ سلمان" کا حجاز شمار کیا جانا چاہیے۔ 

تاہم یہ دیکھنا باقی ہے کہ آلِ سعود سے آلِ سلمان تک کے سفر میں سعودیہ، آلِ سعود، اسلام، مسلمانوں اور خطے کے دیگر ممالک پر کیا بیتتی ہے۔ حالات سے آگاہ رہیے، آنے والے دن سعودیہ اور اُمت مسلمہ کے لیے ہرگز اچھے نھیں ہیں۔


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھ info@mubassir.com پر ای میل کریں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  11037
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
تقریبا سوسال پہلے سعودی عرب ایک مملکت کے طور پر صفحہ ہستی پر وجود میں آیا ۔سعودی عرب کا وجود بذات خود خلافت اسلامیہ کے ٹوٹنے کے اسباب میں سے ایک ہے۔ اسلئے دینی طبقہ نے ابتداء میں اسکو پذیرائی نہیں بخشی۔
سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے حکم پر کرپشن الزامات میںزیر حراست الولید بن طلال دوران حراست شدید غصہ دکھائے جا رہے ہیں اور وہ اپنی حراست کو توہین سمجھتے ہوئے اپنا غصہ تھوکنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔
اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی نے 10دسمبر2017 کو ایران کی پارلیمان سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ سعودی عرب سے اپنے تعلقات بہتر کر سکتے ہیں اگر وہ اسرائیل
ایرانی وزیرخارجہ جواد ظریف کا اس سے قبل کہنا تھا، ’’ایران اس اجلاس کو سعودی عرب پر تنقید کے لیے استعمال نہیں کرنا چاہتا، مگر سعودی عرب نے شام اور لبنان میں فائربندی کی ہرکوشش کو مسترد کیا ہے۔‘‘

مزید خبریں
افغانستان میں جنگ کو تیرہ برس گزرگئے اور 2014ء اس جنگ کے باقاعدہ اختتام کا سال ہے۔یہ برس عالمی تاریخ میں خاص اہمیت اختیار کرتاجارہا ہے۔پرائم ٹارگٹس پر مزاحمت کاروں کے حملے اس حقیقت کو واضح کرتے ہیں کہ طالبان آج تیر ہ سال بعد بھی افغانستان میں طاقت ورہیں۔
15 فروری 2014ء کو سندھ حکومت کے زیر انتظام دوہفتوں سے انعقاد پذیر ثقافتی سرگرمیوں کا میلہ ’’ سندھ فیسٹیول ’’ ختم ہوا تو صوبہ کے ایک دور افتادہ ضلع میں ’’ ڈیتھ فیسٹیول ‘‘ کا آغاز ہوچکا تھا۔
صحرائے تھر کی زمین پانی اور بچے دودھ کو ترس گئے، قحط سالی کے باعث بھوک نے انسانی زندگیوں کو نگلنا شروع کردیا ہے، حکومت نے تھرپارکر کو آفت زدہ تو قرار دے دیا مگر متاثرین کیلئے مختص گندم محکمہ خوراک کے گوداموں میں سڑ رہی ہے۔

مقبول ترین
سابق وزیراعظم نواز شریف کے سیکیورٹی گارڈ نے صحافی کو بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا جس کے خلاف صحافیوں نے شدید احتجاج کیا۔ مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف پارلیمنٹ ہاؤس پہنچے جہاں انہوں نے شہباز شریف سے ملاقات کی جس کے بعد ان
ترجمان پاک فوج میجر جنرل آصف غفور نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی ریاستی دہشتگردی کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بندوق کی گولیاں آزادی کے غیر مسلح بہادر حریت پسندوں کو کبھی کچل نہیں سکتیں۔
فیصل رضا عابدی نے چیف جسٹس پاکستان کے خلاف ایک ویب چینل کو انٹرویو دیا تھا اور اس معاملے میں ان پر آج فرد جرم عائد کی گئی ہے، تاہم انہوں نے صحت جرم سے انکار کر دیا ہے۔ باس موقع پر عدالت نے آئندہ سماعت پر استغاثہ کے گواہوں کو طلب کرلیا ہے۔
پاکستان کے تعاون سے آج سے شروع ہونے والے امریکا طالبان مذاکرات کا امریکا کی جانب سے خیر مقدم کیا گیا ہے جب کہ طالبان نے بھی امریکی حکام کے ساتھ مذاکرات میں شرکت کی تصدیق کردی۔ ہائی پیس کونسل کے ڈپٹی چیف

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں