Monday, 16 December, 2019
’’آلِ سعود سے آلِ سلمان تک کا سفر‘‘

’’آلِ سعود سے آلِ سلمان تک کا سفر‘‘
تحریر: مفتی امجد عباس

 

ماضی قریب کے سعودی بادشاہ عبداللہ قدرے مناسب حکمران تھے۔ اُن کی وفات کے بعد سعودیہ میں بہت تبدیلیاں آئی ہیں اور یہ سلسلہ ابھی تک جاری ہے۔ مرحوم شاہ عبداللہ کے دور میں ایران اور خطے کے دیگر ممالک سے سعودیہ کے تعلقات مثالی نہ بھی ہوں تو مناسب ضرور تھے۔

اب اُن کے بعد موجودہ ایران، قطر، یمن، مصر، شام اور عراق سمیت کئی مُسلم پڑوسی ممالک سعودی سازشوں کا شکار ہیں۔


یمن پر سعودی حملہ، پھر مُسلسل گھیراؤ بھی جاری ہے۔ عراق اور شام میں سعودی مداخلت، مسلح دہشت گردوں کی مکمل حمایت میں اسرائیل، امریکہ اور سعودیہ ایک صفحہ پر ہیں۔ مصر میں اخوان المُسلمین کی حکومت کو گرانے میں سعودی حکمران پیش پیش رہے۔ قطر کا بائیکاٹ ابھی کل کی بات ہے۔

اب سعد حریری جو لبنان کے وزیر اعظم ہیں، وہ سعودیہ میں جا کے، استعفیٰ دے چکے ہیں، گویا اب لبنان کی تاراجی بھی آلِ سعود کا منصوبہ ہے۔ آلِ سعود کے حکمران خاندان کے ریشہ دوانیوں سے اُن کے اپنے عزیز و اقارب محفوظ نھیں ہیں۔

ولی عہد شہزادہ محمد، رفتہ رفتہ مکمل اختیارات اپنے ہاتھوں لیکر، اقتدار آلِ سعود کے بجائے اِسے اپنے گھر میں محدود کرنے پر تلے ہیں۔ اب شاہ سلمان کے بیٹے کا نشانہ اپنے ہی خاندان آلِ سعود میں ممکنہ سیاسی اور تجارتی مخالفین ہیں۔ سابق بادشاہ عبداللہ کے بیٹے مکمل زد پر ہیں، شہزادہ طلال بن ولید سمیت درجنوں شہزادے گرفتار ہو چکے ہیں۔ یہ وہ خبریں ہیں جو سامنے آئی ہیں۔

موجودہ ولی عہد، اورنگزیب عالمگیر کی سیرت پر عمل پیرا ہے، تاہم عالمگیر خالص مذہبی آدمی تھا، بقولِ خواجہ حسن نظامیؒ، بادشاہ عالمگیر نے اللہ کی خاطر ایک نماز نہ چھوڑی اور اقتدار کی خاطر ایک بھائی نہ چھوڑا۔ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان شاید اس قدر مذہبی نہ ہوں کہ وہ اعلان کر چکے ہیں کہ اب سعودیہ "معتدل" اسلام کی طرف بڑھے گا۔

واقفینِ حال کا کہنا ہے کہ سعودی شہزادہ، ولی عہد، محمد بن سلمان اپنی بادشاہت کو پختہ کرنے کے لیے بہت جوا کھیل رہے ہیں، وہ یا تو بہترین فاتح قرار ہائیں گے یا بدترین شکست سے دور چار ہوں گے، درمیانی راستہ باقی نھیں بچا، آلِ سعود کا شاہ سلمان خاندان یا مکمل طور پر سعودیہ کو اپنے قبضے میں لے گا، دیگر شہزادوں اور عزیزوں کو اقتدار میں سے کچھ نہ ملے گا یا ایسی کاروائیوں کے نتیجے میں سعودی خاندان کو حجاز مقدس سے دست بردار ہونا پڑ سکتا ہے۔

ملحوظ رہے سعودی بادشاہ یا ولی عہد کے خلاف لکھنے پر دس سال قید کی سزا ہو سکتی ہے۔

غیر مُصدقہ اطلاعات کے مطابق، شاہ سلمان کے قتل کا منصوبہ بھی آشکار ہوا ہے، سعودی امیر البحر کو عہدے سے ہٹانا اِسی سلسلے کی کڑی تھا۔ سعودی حکمرانوں کے حالیہ اقدامات سے اسلام، مسلمان اور حکمران تینوں خطرے میں ہیں۔

شاہ سلمان نے اقتدار سنبھالتے ہی ایک طرف سعودیہ کو خطے کا مضبوط عسکری طاقت والا ملک بنانے پر توجہ دی، اِسی کے پیش نظر اکتالیس ممالک کا فوجی اتحاد بھی سعودی چھتری تلے ترتیب دیا گیا، دوسری طرف وہ اقتدار کو بلا شرکتِ غیر، اپنے گھر تک محدود رکھنا چاہتے ہیں، گویا اب آلِ سعود کے بجائے "آلِ سلمان" کا حجاز شمار کیا جانا چاہیے۔ 

تاہم یہ دیکھنا باقی ہے کہ آلِ سعود سے آلِ سلمان تک کے سفر میں سعودیہ، آلِ سعود، اسلام، مسلمانوں اور خطے کے دیگر ممالک پر کیا بیتتی ہے۔ حالات سے آگاہ رہیے، آنے والے دن سعودیہ اور اُمت مسلمہ کے لیے ہرگز اچھے نھیں ہیں۔


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھ info@mubassir.com پر ای میل کریں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  35966
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی نے 10دسمبر2017 کو ایران کی پارلیمان سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ سعودی عرب سے اپنے تعلقات بہتر کر سکتے ہیں اگر وہ اسرائیل
ایرانی وزیرخارجہ جواد ظریف کا اس سے قبل کہنا تھا، ’’ایران اس اجلاس کو سعودی عرب پر تنقید کے لیے استعمال نہیں کرنا چاہتا، مگر سعودی عرب نے شام اور لبنان میں فائربندی کی ہرکوشش کو مسترد کیا ہے۔‘‘
مکہ مکرمہ اور مدینہ منورة وہ شہر ہیں جہاں غیرمسلموں کو داخلے کی اجازت نہیں اور یہی وجہ ہے کہ روس میں پیدا ہونے والے اسرائیلی یہودی شخص کی مسجد نبوی کے اندر لی جانے والی
کچھ دن پہلے سعودی عرب کے کلچرل چینل الثقافیہ نے کئی دہائیوں بعد مصر کی مشہور مغنیہ ام کلثوم کا گانا چلایا جسے پورے دنیا میں حیرت کی نظر سے دیکھا گیا۔ سنا یہ گیا ہے کہ اس سال کے آخر میں

مقبول ترین
16 دسمبر سال 2014ء کا روز، تاریخ میں سیاہ ترین دن کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ جب سفاک دہشت گردوں نے پشاور کے آرمی پبلک اسکول میں وحشت اور بربریت کی انتہا کر دی اور 149 گھروں میں صف ماتم بچھا دی گئی۔
معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ اگر لاڑکانہ میں بھٹو زندہ ہے تو غریب مر چکے ہیں۔ بلاول نے کرپشن سے اپنا رشتہ ابھی تک نہیں توڑا۔ پیپلز پارٹی نے بھٹو کے نظریے کو ختم کر دیا ہے۔
نریندر مودی کی اگلی جیت ہندوستانی شہریت کا ترمیمی ایکٹ ہے، جس نے آسام اور پورے ہندوستان کے مسلمانوں کے اندر بے چینی کو جنم دے دیا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ مودی جی اور کون کون سی غلطیوں کی اصلاح کرتے ہیں۔ ناگالینڈ، ٹیپورہ، خالصتان بھی مودی کا منہ تک رہے ہیں۔ امید ہے فاتح ہندوستان جلد یا بدیر ان غلطیوں کی اصلاح کی بھی کوشش کرینگے۔ آئینی جنگ تو وہ شاید جیت جائیں، تاہم انکے ان اقدامات کے سبب وہ وقت دور نہیں کہ جب ہندوستان کی ساجھے کی ہانڈی بھرے چوراہے میں پھوٹے گی اور تاریخ ایک مرتبہ پھر ہندوستان کی تقسیم کا منظر اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کریگی۔
بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی) مینگل کے سربراہ سردار اختر مینگل کا کہنا ہے کہ ہم چاہتے ہیں جنوبی پنجاب بھی برابرکا ترقی یافتہ ہو، سی پیک سے لاہور میٹروٹرین چلائی گئی لیکن بلوچستان میں کیکڑا بس بھی نہیں دی گئی۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں