Sunday, 24 March, 2019
جنوبی ایشیاء میں بھارت کا گھناؤنا کردار

جنوبی ایشیاء میں بھارت کا گھناؤنا کردار
تحریر: ابو علی صدیقی

 

بین الاقوامی امور اور حالات حاضرہ پر گہری نگاہ رکھنے والے اس حقیقت کا برملا اعتراف کرتے ہیں کہ موجودہ صدی ہر اعتبار سے ایشیاء کی صدی ہے۔ چین کی ہمہ جہت اور تیز رفتار ترقی نے مذکورہ تصور کو ہر اعتبار سے حقیقت کا روپ دے دیا ہے جبکہ تذویراتی اعتبار سے اس خطے میں افغانستان اور ایران کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔پاکستان اور چین کی بھرپور کوشش ہے کہ افغانستان میں مستقل امن اور ترقی کا راستہ ہموار کیا جائے یعنی وہاں سے غیر ملکی افواج کے انخلاء کے سلسلے میں اپنا کردار یوں ادا کیا جائے کہ افغانستان کی خود مختاری اور افغان عوام کی آزادی کو فوقیت حاصل رہے۔ 

اس کے برعکس بھارت نے افغانستان میں اپنے مفادات اور خاص طور پر پاکستان میں مداخلت کی خاطر افغان حکومت کو چکمہ دے رکھا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ وہ امریکہ کے ساتھ بھی روایتی مکاری کا مظاہرہ کر رہا ہے۔ اس صورتحال میں انتہا پسند ہندو عناصر کی اشتعال انگیز اور جارحانہ پالیسیوں کے نتیجے دیگر ممالک بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔ اگرچہ بھارت کی ہر حکومت نے پاکستان اور اسلام دشمنی میں اپنا مذموم کردار ادا کیا لیکن موجودہ مودی سرکار نے تو اس باب میں ماضی کے تمام ریکارڈ توڑ دیئے ہیں۔ بھارت میں اقلیتوں اور خاص طور پر مسلمان پر زندگی کا قافیہ مسلسل تنگ کیا جا رہا ہے۔ اس کا اندازہ یوں کیا جا سکتا ہے کہ گذشتہ دنوں بھارتی ریاست اترپردیش کے صنعتی شہر نوئیڈا کی پولیس نے کمپنیوں کو نوٹس جاری کیا ہے جس میں انہیں ہدایت کی گئی کہ ان کے ملازمین پارکوں کو نماز کی ادائیگی سمیت کسی قسم کی مذہبی سرگرمیوں کے لئے استعمال نہ کریں۔ دوسری طرف مقبوضہ ریاست جموں و کشمیر میں بھارتی سکیورٹی فورسز نے قیامت برپا کر رکھی ہے۔ مودی سرکار نے مقبوضہ کشمیر میں 275 کشمیریوں کو شہید کرنے کا اعتراف کر لیا اور شہید ہونے والے 238 نوجوانوں کو مجاہد قرار دے دیا جبکہ 37 عام شہریوں کو شہید کرنے کی تصدیق بھی کر دی۔ 

دریں اثناء بھارتی وزیراعظم نے ایک سے زائد مرتبہ سفارتی آداب اور بین الاقوامی قوانین کو بالائے طاق رکھتے ہوئے یہ ہرزہ سرائی کرنے میں کوئی مضائقہ محسوس نہ کیا کہ سقوط مشرقی پاکستان میں بھارت نے کلیدی کردار ادا کیا اور وہ موجودہ پاکستان میں بھی ایسا ہی کردار ادا کرنے میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کرے گا۔ گذشتہ دنوں موصوف نے ایک انٹرویو کے دوران یہ حیرت انگیز بیان دیا کہ اگرچہ پاکستان کے خلاف سرجیکل سٹرائیکس کا فیصلہ ایک بڑا خطرہ تھا لیکن وہ سیاسی خطرے کی فکر نہیں کرتے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ سرجیکل اسٹرائیکس کے جو مقاصد تھے کیا وہ حاصل ہوئے تو انہوں نے کہا کہ وہ اس بارے میں میڈیا سے بات نہیں کرنا چاہتے البتہ اس کے ساتھ ہی سیاق و سباق سے ہٹ کر یوں اظہار خیال کیا کہ یہ سوچنا بہت بڑی غلطی ہوگی کہ ایک لڑائی سے پاکستان سدھر جائے گا۔ 

مزید برآں بھارتی وزیر داخلہ راجنا تھ سنگھ نے بھی نئی دہلی میں صحافیوں سے گفتگو کے دوران کہا کہ پاکستان کی فائرنگ اور گولہ باری کا منہ توڑ جواب دینے کے لئے بھرپور اقدامات اٹھائے جائیں گے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ بھارتی ٹی وی سے بات چیت کرتے ہوئے بی جے پی رہنما سبرامنیم سوامی نے اپنی الیکشن پالیسی خود ہی بے نقاب کر دی جس سے خوب اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ بھارتی انتہا پسند حکمران جماعت آئندہ الیکشن جیتنے کے لئے اوچھے ہتھکنڈوں پر اتر آئی ہے۔اس سلسلے میں پاکستان کے خلاف جنگی جنون میں تیزی کا امکان ہے اور مسلمانوں سمیت اقلیتوں کو دبانے کے لئے خونریز فسادات کرائے جا سکتے ہیں۔ 

پاکستان کے خلاف جنگی جنون ابھارنے اور بھارتی مسلمانوں کو فرقہ وارانہ طور پر تقسیم کرنے کا منصوبہ بنا لیا ہے۔ مودی سرکار کی کارکردگی کو عوام نے پانچ ریاستوں کے حالیہ انتخابات میں مسترد کر دیا اور بی جے پی کو بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

گذشتہ دنوں نئی دہلی کی طرف سے جاسوس ڈرون طیارے پاکستان کی طرف روانہ کرنے کی اشتعال انگیز حرکت بھی کی گئی۔ وطن عزیز کی ہمہ وقت چوکس اور مستعد پاک فوج نے اس مہم جوئی کا جواب یوں دیا کہ صرف دو دن میں بھارت کے 2 جاسوس ڈرون طیارے مار گئے۔ اس حوالے سے پاک فوج کے ترجمان جنرل میجر جنر ل آصف غفور نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایک ڈرون واپس نہیں جا سکتا تو سرجیکل سٹرائیکس کرکے بھارتی کمانڈوز کیسے واپس جا سکتے ہیں۔ 

ہم بھارت کو بتانا چاہتے ہیں کہ باتوں سے سرجیکل سٹرائیکس نہیں ہوتا۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ عالمی سفارتی اور سیاسی حلقوں میں اس حقیقت کا اعتراف اب فراخدلی کے ساتھ اور برملا کیا جاتا ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج اور سکیورٹی فورسز نے دہشت گردی کے خاتمے کے لئے جو گرانقدر خدمات انجام دیں ان کے نتیجے میں عالمی امن کو فروغ اور استحکام میسر آیا ہے۔ پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار کانفلکٹ اینڈ سکیورٹی سٹڈیز (پکس) کی سالانہ سٹڈی رپورٹ کے مطابق 2018ء کے دوران سکیورٹی کی صورتحال میں غیر معمولی بہتری آئی ہے۔ 2017ء کے مقابلے میں 2018ء میں جنگجو حملوں میں 45 فیصد، مرنے والوں کی تعداد میں 37 فیصد اور زخمیوں کی تعداد میں 49 فیصد کمی واقع ہوئی۔ جون 2014ء میں ’’آپریشن ضرب عضب‘‘ شروع ہونے کے بعد سے عسکریت پسندوں کے حملوں میں مسلسل کمی کا رحجان ہے چنانچہ جنگجو حملوں کی ماہانہ اوسط 35 سے کم ہو کر 2018ء میں 19 پر آگئی۔ 

عالمی مبصرین بجا طور پر سمجھتے ہیں کہ افغانستان میں امن کا قیام نہ صرف اس ملک میں بلکہ اس خطے میں امن کے حق میں نیک فال ہے۔ امریکی حکومت نے افغانستان سے اپنی فوج کی واپسی کا جو عندیہ دیا ہے اس سے افغانستان میں امن کے امکانات کسی حد تک روشن ہوئے ہیں۔ دوسری طرف پاکستان کی بھرپور کوشش ہے کہ افغانستان کے حالات میں بہتری کے لئے فوجی نہیں بلکہ سیاسی راستہ اختیار کیا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ پاکستان نے افغانستان کے ساتھ سرحد پر باڑ لگانے کا کام بھی کامیابی سے جاری رکھا ہوا ہے تاکہ دہشت گردی اور دراندازی کے واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکے۔ 

جنوبی ایشیاء میں امن اور ترقی کے خواب کو شرمندۂ تعبیر کرنے کے لئے پاکستان اپنا فرض نہایت ذمہ داری کے ساتھ ادا کر رہا ہے۔ اس کا اندازہ یوں کیا جا سکتا ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے تو اپنے منصب کا حلف اٹھانے کے بعد اپنے خطاب میں کہا تھا کہ اگر بھارت ہماری طرف دوستی اور امن کی خاطر، ایک قدم بڑھائے گا تو ہم 2 قدم آگے بڑھ کر اس کا خیرمقدم کریں گے۔ بھارتی حکومت کی طرف سے تو اس جذبے کی کوئی قدر نہ کی گئی لیکن خود عمران خان نے کرتارپورہ راہداری کھولنے کا غیر معمولی فیصلہ کرکے نہ صرف دنیا بھر کے کروڑوں سکھوں کے دل جیت لیئے بلکہ ساری مہذب دنیا پر بھارت کا وہ گھناؤنا کردار بے نقاب کر دیا جو وہ جنوبی ایشیاء میں ادا کر رہا ہے۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھ info@mubassir.com پر ای میل کریں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  22277
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
افغانستان کی زمیں کے بارے میں مشہور ہے کہ سکندراعظم بھی یہاں سے ناکام لوٹے تھے ۔اپنے وقت کا سپر طاقت برطانیہ کی اٹھارہ ہزار فوج کابل میں دفن ہے ۔رشیاکا توحال ہی دگرگوں کردیا ہے۔
محنت سے عاری، مایوسی کے پیکر، خود سے تنگ لوگوں کی زبان سے یہ جملہ اکثر سننے کو مل جاتا ہے کہ پاکستان نے ہمیں کیا دیا ؟ ملک کو ستر سال ہو چکے ہیں اور تمام مسائل اسی طرح کھڑے ہیں؟ تعلیم، صفائی، ٹرانسپورٹ
پاکستانی قوم اس وقت جن باغیانہ اور دہشت گردانہ سرگرمیوں کے ساتھ اندرونی سیاسی انتشار اور خلفشار سے دو چار ہے وہ نہایت افسوسناک ہے، اس سے ملک و ملت کے استحکام اور بقا اور ملی یکحہتی کو سخت نقصان پہنچا ہے
دنیا کا واحد ملک پاکستان ہے جو دہشت گردی کے خلاف یکسوئی کے ساتھ نبرد آزما ہے ہزاروں شہریوں اور ہزاروں سیکورٹی اہلکاروں نے اپنی جانوں کا نذارانہ دے کر دہشت گردوں کو ناکام بنایا ہے پاکستان ہی وہ دنیا کا

مزید خبریں
افغانستان میں جنگ کو تیرہ برس گزرگئے اور 2014ء اس جنگ کے باقاعدہ اختتام کا سال ہے۔یہ برس عالمی تاریخ میں خاص اہمیت اختیار کرتاجارہا ہے۔پرائم ٹارگٹس پر مزاحمت کاروں کے حملے اس حقیقت کو واضح کرتے ہیں کہ طالبان آج تیر ہ سال بعد بھی افغانستان میں طاقت ورہیں۔
15 فروری 2014ء کو سندھ حکومت کے زیر انتظام دوہفتوں سے انعقاد پذیر ثقافتی سرگرمیوں کا میلہ ’’ سندھ فیسٹیول ’’ ختم ہوا تو صوبہ کے ایک دور افتادہ ضلع میں ’’ ڈیتھ فیسٹیول ‘‘ کا آغاز ہوچکا تھا۔
صحرائے تھر کی زمین پانی اور بچے دودھ کو ترس گئے، قحط سالی کے باعث بھوک نے انسانی زندگیوں کو نگلنا شروع کردیا ہے، حکومت نے تھرپارکر کو آفت زدہ تو قرار دے دیا مگر متاثرین کیلئے مختص گندم محکمہ خوراک کے گوداموں میں سڑ رہی ہے۔

مقبول ترین
یوم پاکستان کی مرکزی تقریب میں صدر، وزیراعظم، آرمی چیف، ملائیشین وزیراعظم مہاتیر محمد سمیت دیگر ممالک کی معزز شخصیات نے بھرپور شرکت کی۔ سپیکر قومی اسمبلی، چیئرمین سینیٹ، وفاقی وزراء، وزرائے اعلی، شوبز ستارے
نیوزی لینڈ کی تاریخ کی بدترین دہشت گردی کے ایک ہفتے بعد نہ صرف سرکاری طور پر اذان نشر کی گئی بلکہ مسجد النور کے سامنے ہیگلے پارک میں نمازِ جمعہ کے اجتماع میں وزیراعظم جیسنڈا آرڈرن کے علاوہ ہزاروں غیر مسلم افراد نے بھی شرکت کی۔
ملائیشیا کے وزیراعظم مہاتیر محمد کا سرمایہ کاری کانفرنس سے خطاب میں کہنا تھا کہ آزادی کے وقت ملائیشیا غریب ملک تھا۔ آزادی کے وقت طے کیا تھا کہ ملائیشیا ترقی کے مراحل طے کرے گا۔ ہم نے کوریا اور جاپانی لوگوں سے سبق لیا اور کام کیا۔
کراچی کی نیپا چورنگی پر ممتاز عالم دین مفتی تقی عثمانی قاتلانہ حملے میں محفوظ رہے جب کہ ان کے دو گارڈ جاں بحق ہو گئے۔ ابتدائی طور پر اطلاعات تھیں کہ مختلف مقامات پر فائرنگ کے دو واقعات پیش آئے ہیں لیکن ایس ایس پی گلشن اقبال طاہر

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں