Tuesday, 18 September, 2018
دینی جماعتیں ناکام کیوں ۔۔۔ ؟؟؟

دینی جماعتیں ناکام کیوں ۔۔۔ ؟؟؟
فائل فوٹو
تحریر: حافظ شاہد احمد

 

جدوجہد آزادی ہندوستان میں تمام علماء ومشائخ نے بھرپور کردار ادا کیا ہے لیکن ایک بڑا طبقہ گاندھی جی کی زلفوں کا اسیر ہوچکا تھا اور ایک خاص طبقہ کے علماء ومشائخ نے حضرت قائداعظم ؒ کا ساتھ دیا۔ پہلے طبقہ کو گانگریسی علماء کے لقب سے نوازاگیا اور مؤخرالذکر مسلم لیگ کے متوالے شمارہونے لگے۔ پاکستان بننے کے بعد بھی علماء کرام نے سیاست جاری رکھیں لیکن دینی جماعتوں کی سیاست کوبوجوہ قبول عام حاصل نہیں ہوسکیں۔

وجوہات بہت ہیں لیکن عوام نے اپنی پیٹ کی سوچ چھوڑکر''علماء کے اتحاد'' کو بھی غنیمت سمجھ کر ووٹ دیا۔ جوابا علماء کرام نظام حکومت چلانے میں بے ہنر ثابت ہوئے اور اپنے پیٹ پوجا میں لت گئے ۔فرقہ پرستی اور مسلکی مسائل کو ہوادینے میں لگ گئے ۔یوں اتحاد ٹوٹ گئی اور دوسیشن کو بھرپور نقصان کرنے کے بعد دینی جماعتیں پھر سے اتحاد بنانے میں مصروف ہوگئی۔چھ مہینے سے زائد گزرگئے اتحاد مگر اب بھی یقینی نہیں ہے۔لیکن کچھ آثار اور کچھ مجبوریاں ایسی ہیں کہ آئندہ انتخابات ایم ایم اے کے جھنڈے تلے منعقد ہونگے۔سوال یہ ہے کہ کیا اس بار'' ایم ایم اے '' دینی سوچ کو متأثر کرسکیں گی ؟ْ ؟؟

عوام اور علماء کے درمیان بہت بڑا خلیج پیدا کیا گیا ہے کچھ تو عالمی سازشوں کا نتیجہ ہے اور کچھ دینی جماعتوں کی فرقہ وارانہ سوچ ہے جس میں گزرتے وقت کیساتھ بھی کوئی نمایاں تبدیلی نہیں آرہی ہے جس سے عوام متأثر ہوں۔پندرہ سال دہشت گردی ہوتی رہیں اور ایم ایم اے میں موجود کچھ طبقات نے اس پر آنکھیں بند رکھی تھیں۔ پندرہ سال بعد جاکر حکومت اور ریسرچ ادارے اس قابل ہوئے کہ علماء کرام کو ئی متفقہ فتوی لے سکیں اور عوام کو امن و آشتی کا پیغام دے سکیں۔ دین اور دیندار طبقہ بدنام ہورہا تھا۔ اسلام کے شناسا لوگ تو محبت اور امن کی بات کرتے رہیں لیکن بے سود ۔ علماء کرام مگر ہاتھ پہ ہاتھ دھرے بیٹھے رہیں۔آج نقصان کس کا ہورہا ہے۔ عوام الناس علماء سے بیزار ہیں۔

دوسری بات یہ ہے کہ اتحاد بنانے میں وہ جذبات دکھائی نہیں دے رہے ہیں جو ایم ایم اے کے اول دور میں نمایاں تھے دینی طبقہ کے علاوہ علماء بیزار ایک طبقہ نے متأثر ہوکر ووٹ کیلئے دینی جماعتوں کے اتحاد کا انتخاب کیا تھا ۔ اسکی سمجھ یہ آتی ہیں کہ اس وقت شاہ احمدنورانی اور قاضی حسین جیسے لوگ آگے پچ پر کھیل رہے تھے جبکہ آج انکے وارث اس درجہ سیاسی بصیرت اسلام شناسی اور وحدت امت کیلے قربانی کا جذبہ بتمامہ نہیں رکھتے ہیں اسلئے عوام میں پذیرائی بھی نہیں ہورہی ہے۔اور لوگوں کی ترجیحات تبدیل ہوگئے ہیں جسکا دینی جماعتوں کو ادراک نہیں ہے۔

تیسری بات یہ ہے کہ دینی طبقات جب کرسی تک پہنچ جاتے ہیں تو وہ دیگر لوگوں سے ملکر وہی عمل شروع کرتے ہیں جو دوسرے طبقات کرتے ہیں ۔اپنے خاندان کو نوازنا ، کرپشن کرنا، اپنے مسلک اور اپنے علاقے کو ترجیح دینا جیسے ترجیحات سے ان سے منسوب عدل وانصاف کے دامن کو داغدار کرتے ہیں۔یہ عمل جہاں اپنے لوگوں کیلئے بیزاری کا سبب ہے وہاں مخالفین کے پروپیگنڈا کے لئے بڑا ہتھیار ہیں۔ ایم ایم اے کے دور حکومت میں یہ بدعملی دیکھی گئیں تھیں وہ لوگ جو اسلام کے لئے سرقربان کرنے کیلے تیار تھے وہ اسلام آباد پر فدا ہوگئے آج ان شہداء کا مطمح نظرپھر سے وہی قربانگاہ ہے سو دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے۔

سب سے اہم بات یہ ہے کہ دینی طبقات کے پاس کوئی بیانیہ نہیں ہے جو پیش کرکے عوام الناس کو متأثر کرسکیں۔ختم نبوت، یارسول اللہ ، نفاذ شریعت، نظام مصطفی کے منشور پر الیکشن لڑنا حماقت نہیں تو اور کیا ہے ۔ اس معاملے میں دو باتیں قابل مطالعہ ہے ایک یہ کہ دینی جماعتوں سے جب بھی قانون اسلام کا سوال ہوا یا اس حوالے کسی مسئلے پر بات ہوئی تو جواب ایک ہی آتا ہے کہ قانون تو پہلے سے قرآن کی شکل میں موجود ہے۔سوال یہ ہے کہ اگر قرآن کافی ہے تو احادیث کی کیا ضرورت ہے اور اگر صرف قرآن وحدیث کی نقل کرنے سے بات بنتی تو فقہ اور فقہاء کی کیا ضرورت ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ علماء کے پاس تحریری ایسی کوئی دستاویز نہیں ہے جو لوگوں کو مطالعہ کیلے پیش کریں اور ان سوالوں کا من وعن جواب دے سکیں جو حکومت چلانے کیلے از حد ضروری ہے۔ اس بات کا تجربہ ہمیں باربار ہوا ہے ۔ اس معاملے یہ طبقہ سہل پسندی کو پسندکئے ہوئے ہیں جس پر رویا جاسکتا ہے۔

اس دعوی کی دوسری دلیل یہ کہ سوائے ایک جماعت کے باقی تمام جماعتوں کا انٹرا الیکشن نظام مصطفی کے اصولوں کے تحت نہیں ہورہا ہے ۔پارٹی کے اندر نظام مصطفی کے مطابق عمل نہیں ہورہا ہے ہرپارٹی میں کرپشن اور بدنظمی کا ایک لامتناہی سلسلہ جاری ہیں اور نکلے ہیں اسلامی نظام نافذ کرنے کیلئے ، اسلئے تو عوام نے انکو وہ پذیرائی نہیں بخشی جسکی انکو ضرورت ہے پہلے شریعت ، نظام مصطفی، خلافت کے مطابق وہ اعمال کردکھائیں جو انفرادی اور جماعتی طور پر جماعتوں کے مسؤلین پر لاگو ہوتے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھ info@mubassir.com پر ای میل کریں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  69736
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
پاکستانی عوام کا دیرینہ مطالبہ تھا کہ علماء کرام اور دینی طبقات متحد ہوجائیں۔ عوام بھرپور تائید کریں گی ۔ مشرف کے دور میں دینی قوتوں نے اتحاد قائم کیا ۔اور پاکستان قائم ہونے کے بعد پہلی مرتبہ دائیں بازو کی قوتوں کو
صحافیوں کی بین الاقوامی تنظیم انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹس (آئی ایف جے) کا کہنا ہے کہ گذشتہ سال کے مقابلے سنہ 2014 میں دنیا بھر میں صحافیوں کے قتل میں اضافہ ہوا ہے اور پاکستان صحافیوں کے لیے سب سے خطرناک ملک ہے۔
جنوبی ایشیا کی لڑکیوں کی نصف تعداد کی شادی 18سال سے کم عمر میں ہو جاتی ہے۔ اقوام متحدہ کی ایک تازہ ترین رپورٹ میں اس رجحان کو لڑکیوں کے ساتھ نمایاں غیر مساوی سلوک قرار دیا گیا ہے۔

مزید خبریں
افغانستان میں جنگ کو تیرہ برس گزرگئے اور 2014ء اس جنگ کے باقاعدہ اختتام کا سال ہے۔یہ برس عالمی تاریخ میں خاص اہمیت اختیار کرتاجارہا ہے۔پرائم ٹارگٹس پر مزاحمت کاروں کے حملے اس حقیقت کو واضح کرتے ہیں کہ طالبان آج تیر ہ سال بعد بھی افغانستان میں طاقت ورہیں۔
15 فروری 2014ء کو سندھ حکومت کے زیر انتظام دوہفتوں سے انعقاد پذیر ثقافتی سرگرمیوں کا میلہ ’’ سندھ فیسٹیول ’’ ختم ہوا تو صوبہ کے ایک دور افتادہ ضلع میں ’’ ڈیتھ فیسٹیول ‘‘ کا آغاز ہوچکا تھا۔
صحرائے تھر کی زمین پانی اور بچے دودھ کو ترس گئے، قحط سالی کے باعث بھوک نے انسانی زندگیوں کو نگلنا شروع کردیا ہے، حکومت نے تھرپارکر کو آفت زدہ تو قرار دے دیا مگر متاثرین کیلئے مختص گندم محکمہ خوراک کے گوداموں میں سڑ رہی ہے۔

مقبول ترین
بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق شام میں روسی طیارہ بحيرہ روم کی ساحلی پٹی سے 35 کلوميٹر دور رڈار سے غائب ہو گيا تھا بعد ازاں طیارے کا ملبہ بحیرہ روم کے نزدیک مل گیا، طیارے میں سوار روسی فوج کے 15 اہلکار ہلاک ہوگئے۔
وزیراعظم عمران خان نے زلفی بخاری کو معاون خصوصی برائے سمندر پار پاکستانی مقرر کردیا۔ وزیراعظم ہاؤس کی جانب سے زلفی بخاری کی بطور وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے سمندر پار پاکستانی کی تقرری کا نوٹی فکیشن جاری کردیا گیا ہے۔
میڈیا کے مطابق سپریم کورٹ نے پانی کی کمی اور ڈیمزکی تعمیر سے متعلق کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کردیا ہے جبکہ ڈیمزکی تعمیر اورکام کی نگرانی کے لیےعملدرآمد کمیٹی بھی قائم کردی ہے۔ عدالتِ عظمیٰ کے تفصیلی فیصلے کے مطابق عملدرآمد کمیٹی
اسپیکر اسد قیصر کی زیر صدارت قومی اسمبلی کا اجلاس ہوا۔ وزیر خزانہ اسد عمر نے فنانس بجٹ میں ترامیم پیش کرتے ہوئے کہا کہ غریب اور متوسط طبقے کو بچانا ہے، بجٹ میں تبدیلی نہ کی گئی تو مشکلات پیدا ہوسکتی ہیں اور خسارہ 27 سو ارب روپے تک پہنچ سکتا ہے۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں