Thursday, 24 May, 2018
پاکستان میں دہشت گردانہ سرگرمیوں کے اسباب کا جائزہ اور حل

پاکستان میں دہشت گردانہ سرگرمیوں کے اسباب کا جائزہ اور حل
فائل فوٹو
تحریر: پروفیسر( ر) عبد الخالق سہریانی بلوچ

 

پاکستانی قوم اس وقت جن باغیانہ اور دہشت گردانہ سرگرمیوں کے ساتھ اندرونی سیاسی انتشار اور خلفشار سے دو چار ہے وہ نہایت افسوسناک ہے، اس سے ملک و ملت کے استحکام اور بقا اور ملی یکحہتی کو سخت نقصان پہنچا ہے اور ملک نہایت خطرناک حالات سے گذر رہا ہے۔

اس صورت حال کا آغاز صوفی محمد کی تحریک نفاذ شریعت سے ہوا تھا، ان کی تحریک مقصد کے لحاظ سے تو صحیح تھی مگر طریقہ کار کے لحاظ سے اس کے نتائج بر عکس نکلے۔ صوفی محمد کا مطالبہ ان علاقوں میں مسلم پرسنل لا کا نفاذ تھا جس کو اس وقت کی حکومت نے بھی تسلیم کر لیا تھا اور شرعی عدالتیں قائم کرنے کا نوٹیفکیشن بھی جاری ہو گیا تھا مگر اس پر عمل در آمد کو اچانک روک لیا گیا جس سے افرا تفری پیدا ہوئی اور تحریک کے کارکن  اور حکومت باہم دگر متصادم ہو گئے، اس طرح محب وطن قبائلی لوگوں کے ساتھ ایک طرح کی غیر اعلانیہ جنگ کا آغاز ہو گیا۔

اس دوران امریکہ میں 11/9  کا واقعہ رو نما ہوا جس کی حقیقت سے اس دنیا کے سب لوگ واقف ہو گئے ہیں اس واقعہ کو بہانہ بنا کر اسامہ بن لادن کو اس حملہ کا سرغنہ قرار دے کر اس کی تلاش کا کام جاری ہو گیا اور اس کو پاکستان کے قبائلی علاقوں میں پائے جانے کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے امریکہ کی جانب سے قبائلی علاقوں پر ڈرون حملوں کا آغاز کر دیا گیا جن میں ہزاروں بے گناہ قبائلی مسلماں شہید ہو گئے، ان کے گھروں حتٰی کہ مساجد و مدارس تک کو مسمار کر دیا گیا، مگر ان حملوں کو روکا نہ جا سکا۔ یہ صورت حال جاری ہی تھی کہ سابق صدر جنرل مشرف کے دور میں لال مسجد اسلام آباد کا واقعہ رونما ہوا جس میں کافی شہادتیں ہوئیں، مسجد کے تقدس کو نقصان پہنچا، اس واقعہ نےبھی صورت حال کو مزید گنبھیر بنا دیا حکومت اور سیکیورٹی اداروں  کے خلاف ناراضگی میں اضافہ ہوا۔ اس موقع کو غنیمت جانتے ہوئے پاکستان مخالف غیر ملکی قوتیں متحرک ہو گئیں انہوں نے اپنی ایجنسیوں کے ذریعے ملک کے اندر تخریب کاری کا منصوبہ بنا لیا، مساجد و مدارس، اسکول اور کالجز، شہر اور بازاریں ان کے حملوں کی زد میں آگئیں ان کی ان سرگرمیوں کا الزام قبائلی مسلمانوں پر لگایا گیا اس لئے ان پر حملے تیز کرنے کا مطالبہ امریکہ کی طرف کیا گیا۔

اس وقت پاکستان دنیا میں وہ ملک ہے جسے امریکہ کی پس پردہ حکمران صیہونی لابی نے دوستی کے پردے میں ایک نہ بجھنے والی آگ کی لپیٹ میں دھکیلا ہوا ہے۔ امریکہ کا الزام ہے کہ پاکستان دہشت گردی کا سب سے بڑا  اڈہ ہے جس سے امریکہ اور دنیا کے دوسرے ممالک کو بڑا خطرہ ہے اس ہئے جب تک پاکستان سے آخری دہشت گرد ہلاک نہیں کر دیا جاتا اس وقت تک امریکہ اور نیٹو افواج کو پاکستان پر اپنے حملوں کا سلسلہ جاری رکھنے کا حق حاصل ہو گا۔ اور اس بات کو بہانہ بنا کر پاکستان کی مالی امداد روکنے کے فیصلے کئے گئے ہیں اور اس امداد کی DO MORE سے مشروط کر دیا گیا ہے۔ صدر ٹرمپ کی جانب سے حالیہ اعلان کردہ پالیسی کے بعد صورت حال مزید خطرناک ہو جائے گی۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس وقت متحارب گروہوں کی تعداد 50-60 سے متجاوز ہو چکی ہے۔ میری عاجزانہ رائے یہ ہے کہ اس متحارب گروہوں کی نصف تعداد ضرور ان ہی لوگوں پر مشتمل ہوگی جو پاکستان کے سرحدوں کے محافظ اور پکے مسلمان قبائلی لوگ تھے، جو ہماری سابقہ پالیسیوں کی وجہ سے معتوب ہوئے، ان کو سخت مصیبتوں کا سامنا کرنا پڑا، ان کے اموال اور گھر تباہ ہو گئے اس لئے انہوں نے  تنگ آید بجنگ آید کے اصول کے مطابق اپنی کار روائیاں شروع کیں۔

اس بات کا ایک واضح ثبوت یہ ہے کہ پاکستان کے سابق وزیر داخلہ نے کئی مرتبہ اپنے بیانات میں اچھے طالبان وغیرہ کے الفاظ بھی استعمال کئے تھے۔ ظاہر ہے کہ  اس سے مراد محب وطن پاکستانی قبائلی لوگ تھے۔
پھر ایک دور ایسا بھی گذرا ہے کہ حکومت پاکستان کی ایما پر پاکستان کی مقتدر دینی شخصیات نے اس تصادم کو روکنے کے لئے ان سے مذاکرات شروع کئے ان مذاکرات سے امید افزا حالات پیدا ہو رہے تھے اور معاملات سلجھنے کے قریب آئے تو اچانک مذاکرات روک لئے گئے اور فریق مخالف پر حملوں کا آغاز کر دیا گیا اور یہ تصادم اب تک مختلف صورتوں میں ملک میں جاری ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ ہم جذبات کی رو میں بہہ گئے اور اپنوں اور حقیقی دشمنوں میں تمیز کرنے سے قاصر ہو گئے اس طرح ہم ایک نہ ختم ہونے والی خانہ جنگی میں مبتلا ہو گئے۔ ظاہر ہے کہ جب تک ہم ناراض محب وطن پاکستانی قبائلیوں اور دشمن کی جانب سے بھیجے گئے تخریب کاروں میں فرق نہ کریں گے تو پھر یہ جنگ کبھی ِختم نہ ہو سکے گی اور ہم اپنی تباہی کا سامان اپنے ہی ہاتھوں سے کرتے رہیں گے۔ اب اس حقیقت کو سمجھنے کے لئے سنجیدہ ہونے کی ضرورت ہے۔

مذکورہ صورت حال میں افواج پاکستان کو ملک کی اندرونی امن و اماں کے مسائل حک کرنے کے لئے ذمہ داری سونپی گئی ہے، حالانکہ یہ کام افواج پاکستان کا نہیں ہے ان کی اصل ذمہ داری ملک کی سرحدوں کی حفاظت ہے جو آج کل نہایت ہی نازک ہو گئی ہے۔ افواج پاکستان کی جانب سے کئے گئے اقدامات ضرب عضب اور رد الفساد کی مہمیں جاری ہیں، ان کے ذریعے بڑی حد تک ملک میں امن و امان بحال ہو گیا ہے، اس کام میں افواج پاکستان کو بڑی قربانیان دینی پڑی ہیں، مگر مسئلہ کا اصل اور مستقل حل یہ نہیں ہے۔

میں انتہائی ادب کے ساتھ عرض کرونگا کہ جب بھی افواج پاکستان ان مہموں سے فارغ ہو کر واپس چلی گئیں تو پھر خدا نہ کرے کہ سابقہ فتنے اور فساد زیادہ طاقت سے ابھر کر سامنے نہ آجائیں جن کو روکنا حکومتی انتظامات سے ممکن نہ ہوگا۔ یہ صورت حال جب بھی پیش آئی ملک کے لئے نہایت خطرناک ثابت ہوگی۔ العیاذ باللہ

پاکستان کے اندرونی خلفشار کا دوسرا سب سے بڑا سبب مسلکی فرقہ واریت اور انتہا پسندی ہے یہ وبا پاکستان میں اس حد تک پھیل چکی ہے کہ اب پاکستان کے مسلمان فرقے ایک دوسرے کو مسلمان سمجھنے کے لئے تیار نہیں ہیں، یہ گروہ اور فرقے دوسرے ممالک میں بھی موجود ہیں مگر وہاں پر ایسی صورت حال نہیں ہے، خود ہندوستان میں یہ سب فرقے موجود ہیں مگر وہاں پر یہ تصادم اور ایک دوسرے پر حملوں کا کوئی وجود نہیں ہے۔

یہ سب کچھ کیوں ہوا؟ اس کا بڑا سبب یہ ہے کہ پاکستانی حکمرانوں نے ان مختلف فرقوں کی سرگرمیوں پر کوئی توجہ نہیں دی، ان کی فرقہ وارانہ تنظیموں کے خلاف کوئی اقدام کرنے سے گریز کرتے رہے، کیونکہ ان کو ان فرقوں کے ووٹ حاصل کرنے کی ضرورت تھی۔ جب یہ پودے تناور درخت کی صورت اختیار کر گئے اور ان کی سرگرمیوں سے ملک کا امن و امان خطرے میں پڑ گیا تو پھر نیشنل ایکشن پلان بنانے کی ضرورت محسوس کی گئی۔ حالانکہ یہ اقدام اس وقت ہونا ضروری تھا جب فرقہ وارانہ نرسریوں کا آغاز ہو رہا تھا، مگر سیاسی مصلحتوں کی وجہ سے اس سے اغماض برتا اور ہم اس وقت بیدار ہوئے جب یہ بات ہمارے ہاتھوں سے نکل چکی ہے۔ اب کوئی اصلاحی تدبیر موثر ثابت نہیں ہو رہی اور ہم ان فرقوں کے سامنے بے بس ہو کر رہ گئے ہیں۔

پاکستان میں ملک دشمن سرگرمیوں کو ہوا دینے کے اسباب میں تیسرا بڑا سبب پاکستان کے مختلف صوبوں کے غریب عوام کے ساتھ نا انصافی اور حقوق سے محرومی بھی ہے، اس احساس محرومی کے جذبات کو ابھار کر ان صوبوں کے قوم پرست اور موقع پرست سیاست دانوں نے صوبائی عصبیت کو ہوا دی اور ان کو اسلام اور پاکستان سے نفرت دلانے کی مہمیں چلائی تھیں اور عوام کو یہ تاثر دیا گیا تھا کہ یہ سب نا انصافیاں اور ظلم اسلام اور پاکستان کے نام پر ملک کے حکمراں آپ پر کر رہے ہیں، اس لئے اب اسلام اور پاکستان سے کسی بھی طرح نجات حاصل کرنے کی جدوجہد کی جائے، اس سلسلہ میں انہوں نے ماضی میں دشمن ملکوں کا تعاون حاصل کرنے کے لئے بھی کوششیں کیں۔

ان ہی بنیادوں پر مشرقی پاکستان میں لسانی اور معاشی حقوق کے حوالہ سے تحریک چلائی گئی تھی، ہندوستان سے مدد لی گئی یہاں تک کہ ۱۹۷۱ ء میں مشرقی پاکستان کا سقوط ہو گیا۔

یہ سب کچھ ہماری نا اہلی اور سیاسی قیادت کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے ہوتا رہا ہے مگر ہم نے اس سے بھی کوئی سبق نہ سیکھا اور ہم وہی غلطیاں دہراتے رہے جن کی وجہ سے ہم پہلے بھی خسارہ اٹھا چکے تھے۔

حیرت کی بات یہ ہے کہ ہمارے حکمران طبقے کے لوگ لا شعوری طور پر اپنی ان غلطیوں کا اعتراف بھی کرتے رہے ہیں مگر ان کا صحیح طور پر ازالہ کرنے میں نا کام رہے ہیں۔ اس کی ایک واضح مثال پاکستان کے ایک سابق وزیر اعظم محترم یوسف رضا گیلانی کا وہ اعلان جو رکارڈ پر بھی موجود ہے کہ ہم اب بلوچستان کے لوگوں تو ان کے حقوق دینے کا آغاز کر رہے ہیں۔ اس منصوبہ کا نام بھی آغاز حقوق بلوچستان رکھا گیا۔

اس اعلانِ اعتراف سے یہ بات صاف ظاہر اور ثابت ہو رہی تھی کہ ہم نے 70 برس تک بلوچستان کے عوام کو اپنے جائز سیاسی و معاشی حقوق سے اب تک محروم رکھا تھا اس لئے اس کا ازالہ کرنے کے لئے ان کو حقوق دینے کا آغاز اب کر رہے ہیں۔ گویا کہ ہم اپنے کئے گئے ظلم کا اعتراف کر رہے ہیں پھر مختلف ادوار میں صوبوں کو امداد دینے کا وہ طریقہ کار اختیار کیا جاتا رہا جس سے صوبوں کے سیاسی لیڈروں، صوبائی حکمرانوں، وڈیروں اور سرداروں اور بیوروکریسی نے ہی فائدہ اٹھایا۔ اور عوام تک اس کے ثمرات پہنچ نہ سکے اسی صورت حال میں علیحدگی کی تحریکوں کو قوت ملتی رہی اب ان کا نتیجہ ہمیں باغیانہ اور دہشت گردانہ سرگرمیوں کی صورت میں مل رہا ہے۔

چوتھا سبب: افواج پاکستان کو ضرب عضب اور رد الفساد کی مہموں میں عوامی اور متعلقہ سرکاری اداروں کی رہنمائی اور مدد کی سخت ضرورت ہے بظاہر اس میں بڑی کمی نظر آرہی ہے۔ سرکاری اداروں کے عدم تعاون کا سبب صوبائی حکومتوں کی سیاسی مصلحت ہے اور عوامی حمایت میں کمی کا سبب ڈر اور خوف ہے۔ اس سلسلہ میں خصوصی توجہ کی ضرورت ہے۔

متذکرہ صورت حال میں اس وقت پاکستان کے حالات نہایت گنبھیر ہو چکے ہیں، امریکہ، اسرائیل، ہندوستان اور افغانستان کی متحدہ جدوجہد پاکستان کے خلاف ظاہر ہو چکی ہے بد قسمتی سے ایسی صورت حال میں جبکہ اندرونی حالات نہایت مخدوش اور اندرونی سیاسی کشمکش بھی عروج پر ہے، ان حالات میں قوی امکان اس بات کا ہے کہ دشمن ہمارے اندرونی حالات اور نا کام خارجہ پالیسی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے پاکستان پر اچانک حملہ نہ کر دے جب کہ اس حملے کا پہلا ھدف کشمیر ہی ہوگا، ہندوستان کی جانب سے L.O.C.کی مسلسل خلاف ورزیاں ثابت کر رہی ہیں کہ ان کے عزائم بالکل خطرناک ہیں، ان حالات میں ان کی جانب سے کوئی بڑا جارحانہ اقدام غیر متوقع نہیں ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ ہندوستان کی جانب سے یک طرفہ مسلسل L.O.C. کی خلاف ورزیوں کے خلاف دنیا سے کوئی آواز نہیں اٹھ رہی حتٰی کہ ہمارے دوست مسلم ممالک بھی اس سلسلہ میں بالکل خاموش نظر آرہے ہیں۔

متذکرہ صورت حال کے پس منظر میں چند اصلاحی تجاویز پیش خدمت ہیں۔
۱۔ اس اپیل کے ساتھ عام معافی کا اعلان کر دیا جائے کہ جو محب وطن پاکستانی قبائلی گروہ کسی وجہ سے ناراض ہیں وہ ملک کے مفاد کی خاطر مذاکرات کے لئے رضامند ہو جائیں تا کہ ان کی شکایات کا ازالہ کیا جا سکے۔ اس طرح ان کو قومی دھارے میں دوبارہ لانے کی کوشش کی جائے۔ امید ہے کہ ان کے مذاکرات پر آمادہ ہو جانے سے بڑی حد تک منفی سرگرمیوں کا ازالہ ہو جائے گا۔

۲۔ ملک کے اندر فرقہ پرست گروہوں کی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھی جائے اور ملک کے نامور علمائے دین جو فرقہ پرستی کے خلاف ہیں ان سے فرقوں کے باہمی اتحاد اور ہم آہنگی کے لئے مدد لی جائے۔ اس سلسلہ میں ان کا ایک بورڈ بنایا جائے۔ اس کے ساتھ نیشنل ایکشن پلان کو مظبوطی سے نافذ کیا جائے۔

۳۔ اسلامی نظام عدل کے مطابق ملک کے صوبوں کے عوام کو ان کے علاقائی حقوق دینے کو یقینی بنایا جائے تا کہ ان کا احساس محرومی ختم ہو سکے، اس سلسلے میں ایسے اقدامات کئے جانے ضروری ہیں جن سے صوبوں کے وڈیروں، سرداروں، سیاسی لیڈران، صوبائی سربراہان حکومت اور بیوروکریسی ان مراعات کا استحصال نہ کر سکیں اور حکومتی مراعات اور اصلاحات کا فائدہ براہ راست صوبوں کے غریب عوام کو حاصل ہو سکے۔

۴۔ افواج پاکستان کو اپنی مہموں کے سلسلے میں عوام اور متعلقہ سرکاری اداروں کی جانب سے مکمل اور موثر رہنمائی اور تعاون فراہم کیا جائے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھ info@mubassir.com پر ای میل کریں۔ ادارہ

پاکستان میں دہشت گردانہ سرگرمیوں کے اسباب کا جائزہ اور حل
فائل فوٹو
اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  17169
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
کسی بھی ملک کا دوسرے ملک کیساتھ تعلقات مفادات کی بنیاد پر ہوتے ہیں۔پاک امریکہ تعلقات بھی اسی اصول کے تحت آگے بڑھتے اور پیچھے چلے جاتے ہیں امریکہ میں مگر طاقت کا نشہ زیادہ ہے انکے مفادات پر آنچ نہیں آنی چاہیئے
افغانستان کی زمیں کے بارے میں مشہور ہے کہ سکندراعظم بھی یہاں سے ناکام لوٹے تھے ۔اپنے وقت کا سپر طاقت برطانیہ کی اٹھارہ ہزار فوج کابل میں دفن ہے ۔رشیاکا توحال ہی دگرگوں کردیا ہے۔
ایک ایمبولینس بڑی تیزی سے کابل کے انتہائی محفوظ سمجھے جانے والے علاقے کی طرف بڑھ رہی ہے۔چیک پوسٹ پر اسے اہلکار روکتے ہیں اور ایمبولینس سمجھ کر زیادہ تحقیق مناسب نہیں سمجھتے اور آگے جانے کی اجازت دے دی جاتی ہے
محنت سے عاری، مایوسی کے پیکر، خود سے تنگ لوگوں کی زبان سے یہ جملہ اکثر سننے کو مل جاتا ہے کہ پاکستان نے ہمیں کیا دیا ؟ ملک کو ستر سال ہو چکے ہیں اور تمام مسائل اسی طرح کھڑے ہیں؟ تعلیم، صفائی، ٹرانسپورٹ

مزید خبریں
افغانستان میں جنگ کو تیرہ برس گزرگئے اور 2014ء اس جنگ کے باقاعدہ اختتام کا سال ہے۔یہ برس عالمی تاریخ میں خاص اہمیت اختیار کرتاجارہا ہے۔پرائم ٹارگٹس پر مزاحمت کاروں کے حملے اس حقیقت کو واضح کرتے ہیں کہ طالبان آج تیر ہ سال بعد بھی افغانستان میں طاقت ورہیں۔
15 فروری 2014ء کو سندھ حکومت کے زیر انتظام دوہفتوں سے انعقاد پذیر ثقافتی سرگرمیوں کا میلہ ’’ سندھ فیسٹیول ’’ ختم ہوا تو صوبہ کے ایک دور افتادہ ضلع میں ’’ ڈیتھ فیسٹیول ‘‘ کا آغاز ہوچکا تھا۔
صحرائے تھر کی زمین پانی اور بچے دودھ کو ترس گئے، قحط سالی کے باعث بھوک نے انسانی زندگیوں کو نگلنا شروع کردیا ہے، حکومت نے تھرپارکر کو آفت زدہ تو قرار دے دیا مگر متاثرین کیلئے مختص گندم محکمہ خوراک کے گوداموں میں سڑ رہی ہے۔

مقبول ترین
پاکستان تحریک انصاف کی رہنما فوزیہ قصوری نے پارٹی سے استعفٰی دے دیا۔ فوزیہ قصوری نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں لکھا کہ اپنا استعفیٰ پارٹی چیئرمین عمران خان اور دیگر پارٹی قائدین کو بھیج دیا ہے۔ فوزیہ قصوری نے سوشل میڈیا پر اپنے استعفے
گوگل کمپنی نے مصنوعی ذہانت یعنی آرٹیفیشل انٹیلیجنس کا استعمال کرتے ہوئے 'گوگل نیوز ایپ' کو اَپ ڈیٹ کر دیا ہے جس سے صارفین کو خبروں کے حصول میں مزید آسانی ہوگی۔
ملک پر قرضوں کے بوجھ میں خطرناک حد تک اضافہ ہوگیا اور غیر ملکی قرضوں کا حجم تاریخ کی بلند ترین سطح پر جا پہنچا، رواں مالی سال کے پہلے 9ماہ میں 5 ارب ڈالر غیر ملکی قرضوں کی مد میں ادا کیے گئے ہیں جبکہ مجموعی طورپر رواں مالی سال
دنیا بھر کے اسلامی ممالک میں جہاں رمضان المبارک کا استقبال مختلف طریقوں سے کیا جاتا ہے وہیں بعض ممالک میں اس ماہ مقدس کو لے کر کچھ روایتیں بھی عام ہیں جس کے تحت سعودی عرب میں برتنوں کو دھونی دینے کی ایک خاص روایت ہے۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں