Friday, 18 October, 2019
خود جوش تحریک آزادی اور کشمیری قیادت

خود جوش تحریک آزادی اور کشمیری قیادت
تحریر: مبشر کشمیری

 


کشمیر کی تحریک آزا دی کا عجیب موڑ آچکا ہے۔ یونیورسٹیز اور دیگر تعلیمی اداروں کی نواجون نسل آج ہر طرف آزادی کے جذبوں سے سرشارقابض بھارتی فوج اور پولیس سے نبرد آزما ہے اور یوں لگتا ہے کہ کشمیر کی مشہور اور پرانی مزاحمتی قیادت اس سب سے غیر متعلق ہو چکی ہے۔ حریت کانفرنس کا اس میں فیصلہ نظر آتا ہے نہ ارادہ۔ ہاں البتہ عوامی تحریک جو رخ اختیار کرتی ہے بعض قائدین اسے دیکھتے ہوئے بیان جاری کر دیتے ہیں۔ 

کشمیر کی تحریک میں موجودہ پیش رفت مظفر وانی کی شہادت سے شروع ہوئی اور مختلف مراحل سے گذرتی ہوئی آج جانباز تعلیم یافتہ جوانوں کے ہاتھ آچکی ہے ۔ اس کا کوئی مشخص قائداور لیڈر دکھائی نہیں دیتا۔ ان نوجوانوں کا وژن ،ان کا جذبہ، ان کا تاریخی شعور اور برہمنی سامراج کے بارے میں ان کی آگہی ہی ان کی رہنما ہے۔

کشمیر کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایسا ہوا کی مسلم اکثریتی ریاست میں ہندو انتہا پسند پارٹی بی جے پی شریک اقتدار ہے۔ ایک دنیا جانتی ہے کہ بی جے پی ایک مسلمان اکثریتی ریاست میں جمہوری انداز سے بر سر اقتدار نہیں آسکتی کیونکہ بی جے پی کی قیادت اسلام دشمنی میں جدید بھارتی تاریخ میں اپنا ثانی نہیں رکھتی۔ اس لیے کشمیر کے عوام سمجھتے ہیں کہ پہلے بلواسطہ برہمنی سامراج کا قبضہ ہوتا تھا اور آج بلاواسطہ وہ ہمارا حکمران بن گئے ہیں۔ موجودہ تحریک کو بعض کشمیری دانشور leaderless( بے رہنما) تحریک کہتے ہیں۔ 

بعض دانشوروں کی رائے میں اس خود جوش عوامی تحریک کی اگر کوئی تجربہ کار، سنجیدہ اور بابصیرت قیادت ہوتی تو راستہ بجا طور پر ایساہی ہوتا جو اس تحریک نے اختیار کیا ہے لیکن شاید اتنی قربانیاں نہ دینی پڑتیں جو اس وقت دی جارہی ہیں۔ اس رائے سے اختلاف کیا جا سکتا ہے لیکن اس سے یہ ضرور ثابت ہوتا ہے کہ پرانی قیادت اب غیر متعلق ہو کر رہ گئی ہے۔ اس کے کہنے سے نہ یہ تحریک رک سکتی ہے اور نہ کوئی نیا موڑ مڑ سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم دیکھتے ہیں کہ پہلی مرتبہ وہ بھارت نوازکشمیری قیادت جو ہمیشہ بھارتی آئین کی نگہبان رہی ہے اور بھارتی establishment کی زبان بولتی رہی ہے آج وہ بھی چیخ اٹھی ہے کہ اس مسئلے کا حل نکالا جائے۔ اس سلسلے میں سابق وزیر اعلٰی فاروق عبداللہ نے کہا ہے کہ پاکستان اور کشمیری قیادت سے بات کی جائے۔ نہیں تو کشمیر میں چلنی والی تحریک پر قابو نہیں پایا جاسکتا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ فاروق عبداللہ اور اس طرح کے دیگر لیڈر برہمنی سامراج ہی کے وفادار ہیں لیکن وہ بھی سمجھتے ہیں کہ اگر انہوں نے دو لفظ آزادی کی اس تحریک کی حمایت میں نہ بولے تو شاید وہ آئندہ سرینگر میں داخل بھی نہ ہوسکیں۔

اس تحریک کا یہ ایک انوکھا اور دکھ بھرا پہلو ہے کہ ہر طرز سے ایک جائز آزادی کی تحریک کو دنیا میں انسانی حقوق کے علمبردار کوئی سنجیدہ اہمیت دینے کو تیار نہیں ہیں۔ دوسری طرف آزادی کے متوالے نوجوان بھی عالمی اداروں کی طرف آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھتے اور نہ ان سے تقاضا کرتے ہیں کہ وہ کوئی lip service شروع کرے۔ وہ جانتے ہیں کہ آج کا ورلڈ آرڈر بھارتی سامراج کا ساجھے دار ہے اور اسے انسانی حقوق اور آزادی کی کسی جائز تحریک سے کوئی سروکار نہیں۔ پرانی مزاحمتی قیادت کا ہمیشہ یہ طریقہ کار رہا ہے کہ وہ کسی تحریکی اٹھان کے بعد یا بھارتی قابض افواج کی بربریت کے کسی واقعے کے بعد UNO کی طرف دیکھتے تھے یا بڑی طاقتوں کو مدد کے لیے پکارتے تھے ۔ تاریخ شاہد ہے کہUNO ہمیشہ اس مسئلے میں اس وقت شریک ہوا جب بھارت کو اس کی اور بڑی طاقتوں کی مدد کی ضرورت تھی اور آئیندہ بھی بڑی طاقتیں اور UNO اسی وقت کشمیر کا رخ کریں گے جب بھارت کو ان کی مدد کی ضرورت ہوگی۔ شاید امریکہ کو اس امر کا احساس ہو گیا ہے کہ اب بھارت کو اس کی مدد کی ضرورت ہے اسی سبب وہ ثالثی پر تیار ہو چکا ہے۔یہی وجہ ہے کہ وہ امریکہ جو ہمیشہ بھارتی موقف کی تائید میں پاکستان سے یہ کہتا رہا کہ کشمیر کا مسئلہ آپ دوطرفہ مذاکرات کے ذریعے حل کریں۔

بھارت یہی چاہتا ہے کہ عالمی قیادت یہی موقف اختیار کئے رکھے اور خود بھارت دوطرفہ مذاکرات کے لئے کوئی سنجیدہ اقدام نہ اٹھائے۔ جبکہ امریکہ آج یہ سمجھ چکا ہے کہ کشمیر میں اٹھنے والی موجودہ تحریک بھارت کے قابو میں نہیں آسکے گی۔ یہی وجہ ہے کہ حال ہی میں امریکی ترجمان نے کشمیر کے مسئلے میں ثالثی کا عندیہ دیا ہے۔ یہ پھر ایک تاریخی غلطی اور بدقسمتی ہوگی کہ ثالثی کے لئے بھارت کے قریبی دوستوں اور اس کی محافظ قوتوں کو آواز دی جائے۔ آزادی کا شعور رکھنے والے اور آزادی کی تڑپ رکھنے والے کشمیر کے عوام کو چاہیے کہ تاریخ کے اس موڑ پراپنی قیادت کو کسی غلط فیصلے کی اجازت نہ دیں ورنہ قربانیاں دینے والے پیچھے رہ جائیں گے اور مفادات کی سیاست کرنے والے ان کی قربانیوں کا سوداکر لیں گے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھ info@mubassir.com پر ای میل کریں۔ ادارہ

خود جوش تحریک آزادی اور کشمیری قیادت
اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  28831
کوڈ
 
   
مقبول ترین
وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ یہ پہلی اسمبلی ہے جو’ڈیزل‘ کے بغیر چل رہی ہے اگر فضل الرحمان کے لوگ میرٹ پر ہوئے تو انہیں بھی قرضے دیے جائیں گے۔ وزیراعظم عمران خان نے نوجوانوں کے لیے ’کامیاب جوان پروگرام‘ کا افتتاح کردیا ہے۔
وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت تحریک انصاف کی کورکمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں پنجاب اور خیبر پختونخوا کے وزرائے اعلیٰ اورتین گورنرز نے شرکت کی۔ حکومت نے مولانا فضل الرحمان سے مذاکرات کے لیے کمیٹی بنانے کا فیصلہ کیا ہے
اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے فواد چوہدری نے کہا کہ نوکریاں حکومت نہیں نجی سیکٹر دیتا ہے یہ نہیں کہ ہر شخص سرکاری نوکر ی ڈھونڈے ، حکومت تو 400 محکمے ختم کررہی ہے مگرلوگوں کا اس بات پر زور ہے کہ حکومت نوکریاں دے۔
وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ پاکستان خطے میں امن اور استحکام کے لئے اپنا کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔ ایرانی صدر سے ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ایرانی صدر حسن روحانی نے کہا کہ پاکستان اور

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں