Tuesday, 18 December, 2018
کیا میں انسان نہیں ہوں ۔۔۔؟؟؟

کیا میں انسان نہیں ہوں ۔۔۔؟؟؟
تحریر: شہباز علی عباسی

 

پوری دنیا میں ہر سو جنگ و جدل کا سلسلہ جاری ہے۔ طاقتور کمزور کو دبوچنے میں مصروف ہے۔ دشمن اپنے دشمن کی زندگی اجیرن بنانے میں انتھک کوشش میں مگن ہے۔ مارو مارو اور بس مارو کا بازار گرم دکھائی دیتا ہے۔ مگر ایک طرف وہ لوگ بھی مصروف عمل ہیں جو انسان اور انسانی اقدار کو جگانے اور پروان چڑھانے میں اپنا کردار ادا کررہے ہیں۔ موجودہ دور میں چونکہ ترقی عروج پرہے۔ ہر شعبہ ہائے زندگی میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے اور ہر نیا نکلنے والا سورج حیات انسانی کے لیے سہولیات اور آرائش لے کر طلوع ہوتا ہے۔

تعلیم و تعلم کا سلسلہ بھی قدرے حوصلہ افزا ہے۔ پڑھنے لکھنے اور آگے بڑھنے کی جستجو عموماً ہر شخص کو بے قرار کیے ہوئے ہے۔ سائنسی ترقی نے انسانوں کو اس قدر قریب اور ایڈوانس کرکے رکھ دیا ہے کہ آپ دنیا میں جہاں بھی ہوں آپ اپنے اعزواقرباء اور دنیا سے رابطے میں رہتے ہیں۔ اس قدر بہتری ہونے کے باوجود انتہائی افسوسناک ہے کہ ہم انسانیت اور احترام انسانیت کو بھول بیٹھے ہیں۔ 

ہم نے دوسرے کی قدرومنزلت،عزت اور اپنے شر سے اسے محفوظ رکھنے کے لیے اپنے تئیں معیارات مقرر کررکھے ہیں جو ہماری فہم اور سوچ کے مطابق ہو اور افعال و اعمال کے پیرائے میں ہم سے ملتا جلتا ہو بس وہی شاید انسان اور صف انسانیت میں شامل ہے بقیہ تو کیڑے مکوڑے اور حشرات الارض کی مانند ہیں۔ اسی قسم کا واقعہ گذشتہ روز سرگودھا میں پیش آیا جہاں ایک خواجہ سرا زخمی حالت میں سڑک پر پڑا تھا اس کا جسم بری طرح ٹارچر تھا ہر طرف زخم ہی زخم تھے اور وہ زخموں سے کرّا رہا تھا جسے فوراً گوجرانوالہ کے ہسپتال میں پہنچایا گیا اور فوری طبی امداد کے ذریعے اس کی جان بچانے کی کوشش کی گئی۔ 

اس مریض کے باقی ساتھی ہسپتال میں تالیاں بجا کر اپنا احتجاج ریکارڈ کروا رہے تھے مجھے بڑا تعجب ہوا خود پر ان کے اس اقدام کو دیکھ کر کہ وہ مجھ سے کس قدر بہتر ہیں جو ظلم کے خلاف اپنا حصہ ڈال رہے ہیں اور میں تحریر وتقریر کے باوجود خاموش ہوں زخمی حالت میں پڑا وہ شخص جو خواجہ سرا ہے اس کا زخموں سے چور جسم مجھ سے سوال کررہا تھا، میرا قصور کیا ہے۔ 

اگر مجھے تیسری دنیا میں پیدا ہونا نصیب ہوا اگر مجھے باوقار اور باعزت زندگی نہیں ملی تو میرا کیا قصور۔ کیوں مجھے کبھی حوس کی بھینٹ چڑھایا جاتا ہے تو کبھی حقارت کے طعنے کبھی مجھے کھلونا سمجھا جاتا ہے تو کبھی بکھرتی پتیوں کی مانند پاؤں تلے روندا جاتا ہے آخر کیوں؟ کیا میں انسان نہیں ہوں؟

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کسی بھی خبر سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ علاوہ ازیں آپ بھی اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر info@mubassir.com پر ای میل کر سکتے ہیں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  66541
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
افغانستان کی زمیں کے بارے میں مشہور ہے کہ سکندراعظم بھی یہاں سے ناکام لوٹے تھے ۔اپنے وقت کا سپر طاقت برطانیہ کی اٹھارہ ہزار فوج کابل میں دفن ہے ۔رشیاکا توحال ہی دگرگوں کردیا ہے۔
محنت سے عاری، مایوسی کے پیکر، خود سے تنگ لوگوں کی زبان سے یہ جملہ اکثر سننے کو مل جاتا ہے کہ پاکستان نے ہمیں کیا دیا ؟ ملک کو ستر سال ہو چکے ہیں اور تمام مسائل اسی طرح کھڑے ہیں؟ تعلیم، صفائی، ٹرانسپورٹ
پاکستانی قوم اس وقت جن باغیانہ اور دہشت گردانہ سرگرمیوں کے ساتھ اندرونی سیاسی انتشار اور خلفشار سے دو چار ہے وہ نہایت افسوسناک ہے، اس سے ملک و ملت کے استحکام اور بقا اور ملی یکحہتی کو سخت نقصان پہنچا ہے
دنیا کا واحد ملک پاکستان ہے جو دہشت گردی کے خلاف یکسوئی کے ساتھ نبرد آزما ہے ہزاروں شہریوں اور ہزاروں سیکورٹی اہلکاروں نے اپنی جانوں کا نذارانہ دے کر دہشت گردوں کو ناکام بنایا ہے پاکستان ہی وہ دنیا کا

مزید خبریں
افغانستان میں جنگ کو تیرہ برس گزرگئے اور 2014ء اس جنگ کے باقاعدہ اختتام کا سال ہے۔یہ برس عالمی تاریخ میں خاص اہمیت اختیار کرتاجارہا ہے۔پرائم ٹارگٹس پر مزاحمت کاروں کے حملے اس حقیقت کو واضح کرتے ہیں کہ طالبان آج تیر ہ سال بعد بھی افغانستان میں طاقت ورہیں۔
15 فروری 2014ء کو سندھ حکومت کے زیر انتظام دوہفتوں سے انعقاد پذیر ثقافتی سرگرمیوں کا میلہ ’’ سندھ فیسٹیول ’’ ختم ہوا تو صوبہ کے ایک دور افتادہ ضلع میں ’’ ڈیتھ فیسٹیول ‘‘ کا آغاز ہوچکا تھا۔
صحرائے تھر کی زمین پانی اور بچے دودھ کو ترس گئے، قحط سالی کے باعث بھوک نے انسانی زندگیوں کو نگلنا شروع کردیا ہے، حکومت نے تھرپارکر کو آفت زدہ تو قرار دے دیا مگر متاثرین کیلئے مختص گندم محکمہ خوراک کے گوداموں میں سڑ رہی ہے۔

مقبول ترین
سابق وزیراعظم نواز شریف کے سیکیورٹی گارڈ نے صحافی کو بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا جس کے خلاف صحافیوں نے شدید احتجاج کیا۔ مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف پارلیمنٹ ہاؤس پہنچے جہاں انہوں نے شہباز شریف سے ملاقات کی جس کے بعد ان
ترجمان پاک فوج میجر جنرل آصف غفور نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی ریاستی دہشتگردی کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بندوق کی گولیاں آزادی کے غیر مسلح بہادر حریت پسندوں کو کبھی کچل نہیں سکتیں۔
فیصل رضا عابدی نے چیف جسٹس پاکستان کے خلاف ایک ویب چینل کو انٹرویو دیا تھا اور اس معاملے میں ان پر آج فرد جرم عائد کی گئی ہے، تاہم انہوں نے صحت جرم سے انکار کر دیا ہے۔ باس موقع پر عدالت نے آئندہ سماعت پر استغاثہ کے گواہوں کو طلب کرلیا ہے۔
پاکستان کے تعاون سے آج سے شروع ہونے والے امریکا طالبان مذاکرات کا امریکا کی جانب سے خیر مقدم کیا گیا ہے جب کہ طالبان نے بھی امریکی حکام کے ساتھ مذاکرات میں شرکت کی تصدیق کردی۔ ہائی پیس کونسل کے ڈپٹی چیف

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں