Friday, 18 October, 2019
پاکستان کی مجموعی آبادی 21 کروڑ ہوگئی

پاکستان کی مجموعی آبادی 21 کروڑ ہوگئی

 

کراچی ۔ چھٹی مردم شماری 2017ء کے ابتدائی نتائج کے مطابق پاکستان کی آبادی13کروڑ 23 لاکھ سے بڑھ کر21 کروڑ 31 لاکھ سے زائد ہوگئی ہے، جبکہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان سمیت یہ آبادی 21کروڑ 90 لاکھ تک پہنچنے کا امکان ہے ، 1998ء سے 2017ء تک 7کروڑ 87لاکھ سے زائد افراد کا اضافہ ہوا ہے ۔ کراچی کی آبادی 98 لاکھ سے بڑھ کر ایک کروڑ 70 لاکھ سے زائد ہوگئی ہے ، مجموعی طور پر سندھ کا حصہ کل آبادی میں 23فیصد سے بڑھ کر 24 فیصد ہو گیا ہے ، آبادی میں پانچویں مردم شماری 1998ء کے مقابلے میں مجموعی طور پرتقریباً 60 فیصد اضافہ ہوا ہے ، پنجاب کے سوا دیگر صوبوں میں شرح اضافہ کافی زیادہ ہے۔

پاکستان کی چھٹی مردم شماری کے حوالے سے مختلف ذرائع سے میڈیا کو ملنے والے غیر حتمی اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کی کل آبادی پانچویں مردم شماری 1998ء کی 13کروڑ 23لاکھ کے مقابلے میں چھٹی مردم شماری2017ء میں بڑھ کر21 کروڑ 31لاکھ ہوگئی ہے ، اس میں آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کی آبادی شامل نہیں ہے جو 60 لاکھ کے قریب ہے اور مجموعی آبادی 21 کروڑ 90 لاکھ سے زائد ہونے کا امکان ہے ۔

ذرائع کے مطابق 1998ء میں پنجاب کی آبادی 7کروڑ 36لاکھ تھی ، جو چھٹی مردم شماری میں 11کروڑ 10لاکھ سے زائد ہوگئی ہے ۔ سندھ کی آبادی3کروڑ 4لاکھ تھی جو اب بڑھ کر5کروڑ 10لاکھ سے زائد ہوگئی ہے ۔ خیبر پختونخوا کی آبادی ایک کروڑ 77 لاکھ تھی ، جو چھٹی مردم شماری میں بڑھ کر3کروڑ 10لاکھ سے زائد ہوگئی ہے ۔ بلوچستان کی آبادی 65لاکھ تھی ، جو چھٹی مردم شماری میں بڑھ کرایک کروڑ15لاکھ سے زائد ہوگئی ہے ۔ فاٹا کی آبادی 31 لاکھ تھی ، جو چھٹی مردم شماری میں بڑھ کر55لاکھ سے زائد ہوگئی ہے ۔ 

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی آبادی 8لاکھ تھی جو چھٹی مردم شماری میں بڑھ کر21لاکھ سے زائد ہوگئی ہے ۔ اعداد و شمار کے مطابق 1998ء سے 2016ء تک 7کروڑ 87لاکھ سے زائد افراد کا اضافہ ہوا ہے ، جو مجموعی طور پرتقریباً 60 فیصد اضافہ ہے ۔ پنجاب میں یہ اضافہ 3 کروڑ 84لاکھ ہے ، جو 52فیصد سے زائد بنتا ہے ۔ سندھ میں یہ اضافہ 2 کروڑ 6لاکھ ہے جو68فیصد سے زائد بنتا ہے ۔ خیبر پختونخوا میں یہ اضافہ ایک کروڑ 33 لاکھ ہے ، جو 75 فیصد سے زائد بنتا ہے ۔

بلوچستان میں یہ اضافہ50لاکھ ہے جو 77 فیصد سے زائد بنتا ہے ۔ فاٹا میں یہ اضافہ24لاکھ ہے جو77 فیصد سے زائد بنتا ہے ۔ ملک کے اہم شہروں کے حوالے سے ملنے والے اعداد و شمار کے مطابق 1998ء میں وفاقی دارالحکومت کی آبادی 8 لاکھ تھی ، جو چھٹی مردم شماری میں بڑھ کر21 لاکھ سے زائد ہو گئی ہے ، اسلام آباد میں شرح اضافہ 162فیصد رہی ہے ۔ کراچی کی آبادی 98لاکھ سے بڑھ کرایک کروڑ 70لاکھ ہوگئی ہے اور یہاں شرح اضافہ 74فیصد رہی۔ لاہور کی آبادی 63لاکھ سے بڑھ کرایک کروڑ 20لاکھ ہوگئی ہے اور شرح اضافہ 90فیصد رہی۔ راولپنڈی کی آبادی 33 لاکھ سے 56لاکھ ہوگئی ہے اور شرح اضافہ 70 فیصد رہی۔ پشاور کی آبادی 20لاکھ تھی ، جو بڑھ کر40لاکھ ہوگئی ہے اور شرح اضافہ 100فیصد رہی۔ کوئٹہ کی آبادی 7 لاکھ60ہزار تھی ، جو اب بڑھ کر20لاکھ ہوگئی ہے اورشرح اضافہ 152فیصد رہی ۔

محکمہ شماریات کے حکام نے ان اعدادوشمار کی تردید یاتصدیق سے انکارکردیا ہے ۔ محکمہ شماریات کے ذرائع کے مطابق 1998ء کی شرح اضافہ جو 2.69فیصد تھی اس حساب سے آبادی میں اضافہ 51سے 53فیصد تک ہونا چاہئے تھا مگر مجموعی اضافہ 60فیصد رہا ہے ، جس کا واضح مطلب یہ ہے کہ پاکستان کی سالانہ شرح اضافہ میں بھی اضافہ ہوا ہے ۔ پانچویں مردم شماری 1998ء کی سالانہ شرح اضافہ کے مطابق پنجاب کا اضافہ ملتاجلتا ہے تاہم سندھ ،خیبر پختونخوا، بلوچستان اور فاٹا کی آبادی میں شرح اضافہ بہت زیادہ ہے ۔ مختلف ماہرین بھی پنجاب کے سوا دیگر صوبوں میں شرح اضافہ پر حیران ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بشکریہ ’’روزنامہ دنیا‘‘
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھ info@mubassir.com پر ای میل کریں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  51763
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
محنت سے عاری، مایوسی کے پیکر، خود سے تنگ لوگوں کی زبان سے یہ جملہ اکثر سننے کو مل جاتا ہے کہ پاکستان نے ہمیں کیا دیا ؟ ملک کو ستر سال ہو چکے ہیں اور تمام مسائل اسی طرح کھڑے ہیں؟ تعلیم، صفائی، ٹرانسپورٹ
تاریخ کے صفحات پر سید الشہداء حضرت امام حسین ؑ کا موقف اور نقطہ نگاہ آج بھی اپنی پوری رعنائیو ں کے ساتھ رقم ہے۔ چنانچہ جب حاکم مدینہ کی طرف سے یزید کی بیعت کے لئے دباؤ ڈالا گیا
عراق کی سیکورٹی کونسل، وزیراعظم العبادی اور عراقی پارلیمنٹ نے عراق کے نیم خود مختار علاقے کردستان کے صدر بارذانی کی طرف سے 25 ستمبر کو اعلان کردہ ریفرنڈم کی مخالفت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر علیحدگی کیلئے اعلان کردہ ریفرنڈم نے صورتحال خراب کی تو عراقی حکومت فوجی طاقت کو بروئے کار لائے گی۔
پاکستانی قوم اس وقت جن باغیانہ اور دہشت گردانہ سرگرمیوں کے ساتھ اندرونی سیاسی انتشار اور خلفشار سے دو چار ہے وہ نہایت افسوسناک ہے، اس سے ملک و ملت کے استحکام اور بقا اور ملی یکحہتی کو سخت نقصان پہنچا ہے

مقبول ترین
وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ یہ پہلی اسمبلی ہے جو’ڈیزل‘ کے بغیر چل رہی ہے اگر فضل الرحمان کے لوگ میرٹ پر ہوئے تو انہیں بھی قرضے دیے جائیں گے۔ وزیراعظم عمران خان نے نوجوانوں کے لیے ’کامیاب جوان پروگرام‘ کا افتتاح کردیا ہے۔
وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت تحریک انصاف کی کورکمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں پنجاب اور خیبر پختونخوا کے وزرائے اعلیٰ اورتین گورنرز نے شرکت کی۔ حکومت نے مولانا فضل الرحمان سے مذاکرات کے لیے کمیٹی بنانے کا فیصلہ کیا ہے
اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے فواد چوہدری نے کہا کہ نوکریاں حکومت نہیں نجی سیکٹر دیتا ہے یہ نہیں کہ ہر شخص سرکاری نوکر ی ڈھونڈے ، حکومت تو 400 محکمے ختم کررہی ہے مگرلوگوں کا اس بات پر زور ہے کہ حکومت نوکریاں دے۔
وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ پاکستان خطے میں امن اور استحکام کے لئے اپنا کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔ ایرانی صدر سے ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ایرانی صدر حسن روحانی نے کہا کہ پاکستان اور

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں