Friday, 05 June, 2020
پاکستان کی مجموعی آبادی 21 کروڑ ہوگئی

پاکستان کی مجموعی آبادی 21 کروڑ ہوگئی

 

کراچی ۔ چھٹی مردم شماری 2017ء کے ابتدائی نتائج کے مطابق پاکستان کی آبادی13کروڑ 23 لاکھ سے بڑھ کر21 کروڑ 31 لاکھ سے زائد ہوگئی ہے، جبکہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان سمیت یہ آبادی 21کروڑ 90 لاکھ تک پہنچنے کا امکان ہے ، 1998ء سے 2017ء تک 7کروڑ 87لاکھ سے زائد افراد کا اضافہ ہوا ہے ۔ کراچی کی آبادی 98 لاکھ سے بڑھ کر ایک کروڑ 70 لاکھ سے زائد ہوگئی ہے ، مجموعی طور پر سندھ کا حصہ کل آبادی میں 23فیصد سے بڑھ کر 24 فیصد ہو گیا ہے ، آبادی میں پانچویں مردم شماری 1998ء کے مقابلے میں مجموعی طور پرتقریباً 60 فیصد اضافہ ہوا ہے ، پنجاب کے سوا دیگر صوبوں میں شرح اضافہ کافی زیادہ ہے۔

پاکستان کی چھٹی مردم شماری کے حوالے سے مختلف ذرائع سے میڈیا کو ملنے والے غیر حتمی اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کی کل آبادی پانچویں مردم شماری 1998ء کی 13کروڑ 23لاکھ کے مقابلے میں چھٹی مردم شماری2017ء میں بڑھ کر21 کروڑ 31لاکھ ہوگئی ہے ، اس میں آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کی آبادی شامل نہیں ہے جو 60 لاکھ کے قریب ہے اور مجموعی آبادی 21 کروڑ 90 لاکھ سے زائد ہونے کا امکان ہے ۔

ذرائع کے مطابق 1998ء میں پنجاب کی آبادی 7کروڑ 36لاکھ تھی ، جو چھٹی مردم شماری میں 11کروڑ 10لاکھ سے زائد ہوگئی ہے ۔ سندھ کی آبادی3کروڑ 4لاکھ تھی جو اب بڑھ کر5کروڑ 10لاکھ سے زائد ہوگئی ہے ۔ خیبر پختونخوا کی آبادی ایک کروڑ 77 لاکھ تھی ، جو چھٹی مردم شماری میں بڑھ کر3کروڑ 10لاکھ سے زائد ہوگئی ہے ۔ بلوچستان کی آبادی 65لاکھ تھی ، جو چھٹی مردم شماری میں بڑھ کرایک کروڑ15لاکھ سے زائد ہوگئی ہے ۔ فاٹا کی آبادی 31 لاکھ تھی ، جو چھٹی مردم شماری میں بڑھ کر55لاکھ سے زائد ہوگئی ہے ۔ 

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی آبادی 8لاکھ تھی جو چھٹی مردم شماری میں بڑھ کر21لاکھ سے زائد ہوگئی ہے ۔ اعداد و شمار کے مطابق 1998ء سے 2016ء تک 7کروڑ 87لاکھ سے زائد افراد کا اضافہ ہوا ہے ، جو مجموعی طور پرتقریباً 60 فیصد اضافہ ہے ۔ پنجاب میں یہ اضافہ 3 کروڑ 84لاکھ ہے ، جو 52فیصد سے زائد بنتا ہے ۔ سندھ میں یہ اضافہ 2 کروڑ 6لاکھ ہے جو68فیصد سے زائد بنتا ہے ۔ خیبر پختونخوا میں یہ اضافہ ایک کروڑ 33 لاکھ ہے ، جو 75 فیصد سے زائد بنتا ہے ۔

بلوچستان میں یہ اضافہ50لاکھ ہے جو 77 فیصد سے زائد بنتا ہے ۔ فاٹا میں یہ اضافہ24لاکھ ہے جو77 فیصد سے زائد بنتا ہے ۔ ملک کے اہم شہروں کے حوالے سے ملنے والے اعداد و شمار کے مطابق 1998ء میں وفاقی دارالحکومت کی آبادی 8 لاکھ تھی ، جو چھٹی مردم شماری میں بڑھ کر21 لاکھ سے زائد ہو گئی ہے ، اسلام آباد میں شرح اضافہ 162فیصد رہی ہے ۔ کراچی کی آبادی 98لاکھ سے بڑھ کرایک کروڑ 70لاکھ ہوگئی ہے اور یہاں شرح اضافہ 74فیصد رہی۔ لاہور کی آبادی 63لاکھ سے بڑھ کرایک کروڑ 20لاکھ ہوگئی ہے اور شرح اضافہ 90فیصد رہی۔ راولپنڈی کی آبادی 33 لاکھ سے 56لاکھ ہوگئی ہے اور شرح اضافہ 70 فیصد رہی۔ پشاور کی آبادی 20لاکھ تھی ، جو بڑھ کر40لاکھ ہوگئی ہے اور شرح اضافہ 100فیصد رہی۔ کوئٹہ کی آبادی 7 لاکھ60ہزار تھی ، جو اب بڑھ کر20لاکھ ہوگئی ہے اورشرح اضافہ 152فیصد رہی ۔

محکمہ شماریات کے حکام نے ان اعدادوشمار کی تردید یاتصدیق سے انکارکردیا ہے ۔ محکمہ شماریات کے ذرائع کے مطابق 1998ء کی شرح اضافہ جو 2.69فیصد تھی اس حساب سے آبادی میں اضافہ 51سے 53فیصد تک ہونا چاہئے تھا مگر مجموعی اضافہ 60فیصد رہا ہے ، جس کا واضح مطلب یہ ہے کہ پاکستان کی سالانہ شرح اضافہ میں بھی اضافہ ہوا ہے ۔ پانچویں مردم شماری 1998ء کی سالانہ شرح اضافہ کے مطابق پنجاب کا اضافہ ملتاجلتا ہے تاہم سندھ ،خیبر پختونخوا، بلوچستان اور فاٹا کی آبادی میں شرح اضافہ بہت زیادہ ہے ۔ مختلف ماہرین بھی پنجاب کے سوا دیگر صوبوں میں شرح اضافہ پر حیران ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بشکریہ ’’روزنامہ دنیا‘‘
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھ info@mubassir.com پر ای میل کریں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  13084
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
ان دنوں جب کہ فلسطینی مسلمانوں پر صہیونی ریاست اپنے مغربی آقاؤں کی سرپرستی میں آگ اور خون کی بارش جاری رکھے ہوئے ہے اور وحشت و درندگی اپنے عروج پر ہے اہل پاکستان کے لیے یہ جاننا بہت ضروری ہے کہ اس اسلامی ریاست کے بانیوں کا فلسطین اور صہیونی ریاست کے بارے میں کیا نظریہ رہا ہے تاکہ حکومت کے ذمے دار بھی اس آئینے میں اپنے آپ کو دیکھ سکیں اور پاکستانی بھی اپنے راہنماؤں کے جرأت مندانہ اوردوٹوک موقف سے آگاہ ہو سکیں۔ ان کے موقف سے آگاہی ہمارے جذبہ ایمانی ہی کو مہمیز کرنے کا ذریعہ نہیں بنے گی بلکہ ہمیں اس مسئلے میں اپنا لائحہ عمل طے کرنے میں بھی مدد دے گی۔ ہم نے اس سلسلے میں خاص طور پر حکیم الامت علامہ اقبال جنھیں بجا طور پر مصور پاکستان کہا جاتا ہے اور بابائے قوم قائداعظم محمد علی جناح کا انتخاب کیا ہے۔
’’کربلا کا ستارہ‘‘ صاحبزادہ ڈاکٹر ابو الخیرمحمد زبیر الوری کا ایک ایمان افروز خطبہ ہے جس میں امام حسین علیہ السلام کا ذکرِ منیر بڑی محبت اور کیف و مستی کے عالم میں کیا گیا ہے، جب کہ اس کے علمی و تحقیقی لوازم کو بھی پیش نظر رکھا گیا ہے۔ کربلا کی
محنت سے عاری، مایوسی کے پیکر، خود سے تنگ لوگوں کی زبان سے یہ جملہ اکثر سننے کو مل جاتا ہے کہ پاکستان نے ہمیں کیا دیا ؟ ملک کو ستر سال ہو چکے ہیں اور تمام مسائل اسی طرح کھڑے ہیں؟ تعلیم، صفائی، ٹرانسپورٹ
تاریخ کے صفحات پر سید الشہداء حضرت امام حسین ؑ کا موقف اور نقطہ نگاہ آج بھی اپنی پوری رعنائیو ں کے ساتھ رقم ہے۔ چنانچہ جب حاکم مدینہ کی طرف سے یزید کی بیعت کے لئے دباؤ ڈالا گیا

مقبول ترین
آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ پاک فوج ٹڈی دل کے خاتمے کیلئے سول انتظامیہ کی ہر ممکن مدد کرے گی۔ ملک میں فوڈ سیکیورٹی کو یقینی بنانے کیلئے موثر آپریشن ضروری ہے تاکہ معیشت پر منفی اثرات مرتب نہ ہوں۔ آرمی چیف نے کہا ہے
امریکی صدر جو سیاہ فام شہری کے قتل پر احتجاج کرنے والوں کو بار بار فوج تعینات کرنے کی دھمکیاں دے رہے تھے، اب یوٹرن لیتے ہوئے کہا ہے کہ جارج کے ساتھ جو ہوا وہ ایک خوفناک واقعہ تھا، ایسا کبھی نہیں ہونا چاہیے تھا۔
وفاقی وزیر ہوا بازی غلام سرور خان نے کراچی طیارہ حادثے کی رپورٹ بائیس جون کو پبلک کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ڈیٹا اور وائس باکس مل چکے، ابھی تک کسی پر ذمہ داری نہیں ڈالی گئی، جلد از جلد انکوائری مکمل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
ملک بھر میں ایس او پیز پر عملدرآمد نہ کرنے والی بڑی مارکیٹیں بند کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا۔ پنجاب اور خیبرپختونخوا کی بڑی مارکیٹس بند کرنے کیلئے آپریشن شروع کر دیا گیا۔ چیف سیکرٹری پنجاب نے این سی او سی میں بریفنگ دیتے ہوئے کہا غیر ذمہ داری

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں