Friday, 18 October, 2019
’’سعودی عرب سے صلح کے لیے ایرانی صدر کی شرائط‘‘

’’سعودی عرب سے صلح کے لیے ایرانی صدر کی شرائط‘‘
خصوصی تحریر: ثاقب اکبر

 

اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی نے 10دسمبر2017 کو ایران کی پارلیمان سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ سعودی عرب سے اپنے تعلقات بہتر کر سکتے ہیں اگر وہ اسرائیل کے ساتھ دوستی چھوڑ دے اور یمن پر بمباری بند کردے۔ بی بی سی کے مطابق انھوں نے مزید کہا کہ پہلے صہیونیوں سے غلط دوستی ترک کریں اور دوسرے یمن پر غیر انسانی بمباری بند کریں۔ ایسے میں ہمیں سعودی عرب سے کوئی مسئلہ نہیں۔ ہم سعودی عرب سے اپنے تعلقات بحال کر سکتے ہیں اور ان سے اچھا رشتہ رکھ سکتے ہیں۔

سعودی عرب اور ایران کے درمیان اگرچہ تعلقات کی کشیدگی کے دور کا آغاز1979ء میں ایران میں بادشاہت کے خاتمے اور اسلامی حکومت کے قیام سے ہوتا ہے تاہم ان دنوں یہ کشیدگی اپنے عروج پر پہنچی ہوئی ہے یہاں تک کہ کہا جاتا ہے کہ سعودی عرب کی قیادت میں قائم ہونے والا 41رکنی فوجی اتحاد دراصل ایران کے خلاف ہی بنایا گیا ہے۔ ان حالات میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد کہ وہ اسرائیل میں قائم اپنا سفارت خانہ بیت المقدس منتقل کررہے ہیں، ایران کی جانب سے سعودی عرب کی طرف مشروط ہی سہی، دوستی کا ہاتھ بڑھانا بہت معنی خیز ہے۔

ہمارے قارئین جانتے ہوں گے کہ امریکا کے اس فیصلے کے بعد تقریباً تمام ممالک نے امریکی فیصلے کی مخالفت کی ہے جس میں سعودی عرب بھی شامل ہے۔ ایران تو ہمیشہ فلسطین کی حمایت میں پیش پیش رہا ہے اور امریکا کے خلاف اس کی نفرت کوئی ڈھکی چھپی نہیں لیکن سعودی عرب کی طرف سے اس فیصلے کی مخالفت کا اظہار یقینی طور پر اس کی روایتی امریکا دوستی کے پس منظر میں قابل توجہ ہے۔ سعودی عرب کے شاہ سلمان نے مسٹر ٹرمپ کے اس فیصلے کو بلاجواز اور غیر ذمہ دارانہ قرار دیا ہے۔

کم ازکم لفظوں کی حد تک ایران اور سعودی عرب کے مابین یہ ایک نقطۂ اشتراک پیدا ہو گیا ہے۔ صدر روحانی کی صلح کی پیش کش کو اس نقطۂ اشتراک کے پھیلاؤ کی ایک کوشش قرار دیا جاسکتا ہے۔ اگرچہ ابھی تک اس کا جواب سعودی عرب کی طرف سے آنا باقی ہے۔ تاہم اس پس منظر سے یہ بات ضرور واضح ہو گئی ہے کہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا امریکی فیصلہ، عالم اسلام کے اتحاد و وحدت کے لیے ایک موقع بن سکتا ہے۔اگر اس فیصلے کی مخالفت کرنے میں چند مسلمان ملک بھی سنجیدہ ہوئے تو دیگرکے پاس اس کی حمایت یا خاموش رہنے کے سوا کوئی چارہ نہیں رہے گا کیونکہ قبلۂ اول کا مسئلہ مسلمانوں کے ایمانیات سے تعلق رکھتا ہے۔

13دسمبر2017 کو او آئی سی کا ترکی میں ہونے والا اجلاس مزید حقائق کو اجاگر کرے گا اور واضح ہو جائے گا کہ کیا امت اسلامیہ کے ’’اجتماعی ضمیر‘‘ نام کی کوئی چیز ابھی تک موجود ہے یا نہیں۔ یہ بات ہم حکمرانوں کو سامنے رکھتے ہوئے کہہ رہے ہیں ورنہ ہمیں کوئی شک نہیں کہ مسلمان عوام فلسطین، خصوصاً بیت المقدس کی آزادی کی تڑپ دل میں رکھتے ہیں جس کا اظہار دنیا بھر میں ٹرمپ کے حالیہ فیصلے کے خلاف مظاہروں کی شکل میں ہو رہا ہے۔

ہم سمجھتے ہیں کہ اس وقت جب کہ یمن پر سعودی عرب اور اس کے حامیوں کی یلغار کے خلاف اقوام متحدہ کی طرف سے بھی احتجاج کیا جارہا ہے اور بظاہر سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے ہاتھ اس یک طرفہ جنگ اور یمن کی ہولناک تباہی سے رسوائی کے سوا کچھ آیا ہی نہیں تو اس وقت صلح کے نام پر ایک آبرو مندانہ عذر پیدا ہو سکتا ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیوگو تریز نے امریکی چینل سی این این کو 10اگست کو دیے گئے اپنے انٹرویو میں کہا ہے کہ میں سمجھتا ہوں کہ یہ ایک بے وقوفانہ جنگ ہے۔ میرے خیال میں یہ جنگ سعودی عرب اور امارات کے مفاد کے خلاف ہے اور یمن کے لوگوں کے بھی۔

بجائے اس کے کہ یمن کے حوالے سے رسوائیوں میں اضافہ ہوتا رہے جس کا بہت امکان ہے، ایران کے صدر روحانی کی پیش کش کا لحاظ کرتے ہوئے امت کے اتحاد اور مشکلات کے ازالے کی طرف قدم اٹھانا چاہیے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مضمون نگار ’’مبصر ڈاٹ کام‘‘ کے چیف ایڈیٹر ہیں۔ مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھ info@mubassir.com پر ای میل کریں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  3162
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
ایرانی وزیرخارجہ جواد ظریف کا اس سے قبل کہنا تھا، ’’ایران اس اجلاس کو سعودی عرب پر تنقید کے لیے استعمال نہیں کرنا چاہتا، مگر سعودی عرب نے شام اور لبنان میں فائربندی کی ہرکوشش کو مسترد کیا ہے۔‘‘
مکہ مکرمہ اور مدینہ منورة وہ شہر ہیں جہاں غیرمسلموں کو داخلے کی اجازت نہیں اور یہی وجہ ہے کہ روس میں پیدا ہونے والے اسرائیلی یہودی شخص کی مسجد نبوی کے اندر لی جانے والی
ماضی قریب کے سعودی بادشاہ عبداللہ قدرے مناسب حکمران تھے۔ اُن کی وفات کے بعد سعودیہ میں بہت تبدیلیاں آئی ہیں اور یہ سلسلہ ابھی تک جاری ہے۔ مرحوم شاہ عبداللہ کے دور میں ایران اور خطے کے دیگر ممالک
کچھ دن پہلے سعودی عرب کے کلچرل چینل الثقافیہ نے کئی دہائیوں بعد مصر کی مشہور مغنیہ ام کلثوم کا گانا چلایا جسے پورے دنیا میں حیرت کی نظر سے دیکھا گیا۔ سنا یہ گیا ہے کہ اس سال کے آخر میں

مقبول ترین
وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ یہ پہلی اسمبلی ہے جو’ڈیزل‘ کے بغیر چل رہی ہے اگر فضل الرحمان کے لوگ میرٹ پر ہوئے تو انہیں بھی قرضے دیے جائیں گے۔ وزیراعظم عمران خان نے نوجوانوں کے لیے ’کامیاب جوان پروگرام‘ کا افتتاح کردیا ہے۔
وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت تحریک انصاف کی کورکمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں پنجاب اور خیبر پختونخوا کے وزرائے اعلیٰ اورتین گورنرز نے شرکت کی۔ حکومت نے مولانا فضل الرحمان سے مذاکرات کے لیے کمیٹی بنانے کا فیصلہ کیا ہے
اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے فواد چوہدری نے کہا کہ نوکریاں حکومت نہیں نجی سیکٹر دیتا ہے یہ نہیں کہ ہر شخص سرکاری نوکر ی ڈھونڈے ، حکومت تو 400 محکمے ختم کررہی ہے مگرلوگوں کا اس بات پر زور ہے کہ حکومت نوکریاں دے۔
وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ پاکستان خطے میں امن اور استحکام کے لئے اپنا کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔ ایرانی صدر سے ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ایرانی صدر حسن روحانی نے کہا کہ پاکستان اور

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں