Wednesday, 14 November, 2018
’’سینیٹ انتخابات اور ہارس ٹریڈنگ کا دھندہ‘‘

’’سینیٹ انتخابات اور ہارس ٹریڈنگ کا دھندہ‘‘
تحریر: سید اسد عباس

 

الیکشن کمیشن آف پاکستان کے مطابق اگلے ماہ مارچ میں ہونے والے سینٹ انتخابات کی 52نشستوں کے لیے 144امیدواروں نے کاغذات نامزدگی جمع کروا دیے ہیں جس میں پنجاب سے 34، سندھ سے 47، بلوچستان سے 28 اور خیبر پختونخوا سے 34 امیدوار شامل ہیں جب کہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سے ٹیکنوکریٹ کی سیٹ کے لیے ایک امیدوار سامنے آیا ہے۔الیکشن کمیشن آف پاکستان کے مطابق سینیٹ کے لیے انتخابات کی پولنگ 3 مارچ کو ہوگی اور امیدواروں کی حتمی فہرست 15 فروری کو جاری کی جائے گی۔ جبکہ امیدوار 16فروری تک کاغذات نامزدگی واپس لے سکیں گے۔سینٹ پاکستان کی پارلیمان کا ایوان بالا ہے یہ دو ایوانی مقننہ کا اعلیٰ حصہ ہے۔ اس کے انتخابات ہر تین سال بعدمدت پوری کرنے والے امیدواروں کی خالی نشستوں پر منعقد کیے جاتے ہیں۔ ممبران کی مدت 6سال کے لیے ہوتی ہے۔ سینٹ کا سربراہ ملک کے صدر کا قائم مقام ہوتا ہے۔

پارٹی تناسب کے اعتبار سے سینیٹ انتخابات میں مسلم لیگ ن کو 19 نشستیں، پاکستان پیپلز پارٹی کو 7، پاکستان تحریک انصاف کو 7، متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کو 4، جے یو آئی (ف) کو 2، پختونخواہ ملی عوامی پارٹی کو 3، نیشنل پارٹی کو 2 نشستیں ملیں گی۔ ان انتخابات کے بعد ایوان بالا میں حکومتی جماعت ن لیگ کے سینیٹرز کی کل تعداد 37، پیپلز پارٹی کے سینیٹرز کی کل تعداد 15، تحریک انصاف کی 13، جے یو آئی ف کی 4، ایم کیو ایم کی 8، پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے سینیٹرز کی تعداد 6 تک پہنچ جائے گی۔

اس وقت سینیٹ میں ن لیگ کے ارکان کی تعداد 26 ہے جبکہ 11 مارچ کو مسلم لیگ ن کے 9 سینیٹرزاپنی مدت پوری کریں گے۔ ن لیگ کو پنجاب میں 6 جنرل، دو ٹیکنوکریٹ ، دو خواتین ایک اقلیتی نشست ملے گی، ن لیگ کو خیبر پختونخواسے ایک جنرل نشست، دارالحکومت میں ایک جنرل اور ایک ٹیکنوکریٹ جبکہ بلوچستان میں سیاسی حالات ن لیگ کیلئے ساز گار رہنے کی صورت میں2 جنرل ، ایک خاتون اور ایک ٹیکنوکریٹ نشست مل سکتی ہے۔فاٹا سے بھی ن لیگ کو ایک یا ایک سے زائد نشستیں مل سکتی ہے مگر گزشتہ انتخابات میں ن لیگ کے تین ایم این ایز ہونے کے باجود فاٹا سے کوئی نشست نہیں ملی تھی۔

مارچ میں پیپلز پارٹی کے سب سے زیادہ سینیٹر ریٹائر ہونگے جن کی تعداد 18ہے۔ حالیہ انتخابات میں پیپلز پارٹی کو 7 نئی نشستیں ملنے کا امکان ہے، ان میں سندھ سے 4 جنرل ، ایک خاتون، ایک ٹیکنوکریٹ ایک اقلیتی نشست شامل ہے۔ تحریک انصاف کو خیبر پختونخوا سے 4 جنرل، ایک خاتون، ایک ٹیکنوکریٹ نشست ملے گی جبکہ ایک جنرل نشست پنجاب میں سیاسی اتحاد کی صورت میں ملنے کا امکان ہے۔ تحریک انصاف کے صرف ایک سینیٹر ریٹائر ہونگے جس کے بعد سینیٹ میں اسکے ارکان کی کل تعداد 13 ہو جائے گی۔ ایم کیو ایم کو سندھ سے 2 جنرل جبکہ 2 مخصوص نشستیں ملیں گی، ایم کیو ایم کے 8 میں سے 4 سینیٹرز ریٹائر ہونگے اسکے بعد متحدہ قومی موومنٹ کے سینیٹرز کی تعداد 8 ہی رہے گی۔

جے یو آئی (ف) کو بلوچستان اور خیبر پختونخوا سے ایک ایک جنرل نشست ملے گی۔ جے یو آئی ف کے تین سینیٹرز مارچ میں ریٹائر ہو جائیں گے اور اسکے سینیٹرز کی تعداد چار ہو جائے گی۔ اے این پی کے 5 سینیٹرز ریٹائر ہونے کے بعد ایوان بالا میں اس جماعت کے سینیٹرز کی تعداد ایک رہ جائے گی اور اے این پی کو انتخابات میں نئی نشست ملنے کے امکانات انتہائی کم ہیں۔ مسلم لیگ ق کے چار سینیٹرز اپنی مدت پوری کر لیں گے جسکے بعد سینیٹ میں مسلم لیگ ق کا کوئی سینیٹر نہیں رہے گا۔ پختونخوا ملی عوامی پارٹی کو بلوچستان سے 3 نشستیں ملیں گی جسکے بعد اسکے سینیٹرز کی تعداد 6 ہو جائے گی۔ نیشنل پارٹی کو بلوچستان سے 2 نشستیں ملنے کے بعد اسکے سینیٹرز کی تعداد 5 ہو جائے گی۔ پنجاب میں جنرل نشست کیلئے 53 ووٹ، مخصوص نشست کیلئے 185 ووٹ درکار ہونگے۔ سندھ میں جنرل نشست کیلئے 24 ارکان صوبائی اسمبلی جبکہ مخصوص نشست کیلئے 84 ارکان صوبائی اسمبلی کے ووٹ درکار ہونگے۔بلوچستان میں جنرل نشست کیلئے 9 ووٹ جبکہ مخصوص نشست کیلئے 32 ووٹ درکار ہونگے۔ خیبر پختونخوا میں جنرل نشست کیلئے 17 ووٹ جبکہ مخصوص نشست کیلئے 62 ووٹ درکار ہونگے۔ فاٹا کیلئے تین ارکان قومی اسمبلی کے ووٹ سے ایک سینیٹر منتخب ہو گا۔

مبصرین کی رائے میں سینیٹ انتخابات میں سیاسی جماعت کے عددی حیثیت سے بڑھ کر ووٹ لینے پر کرپشن یا ہارس ٹریڈنگ کے شواہد واضح ہوجائیں گے ۔ ایسی صورت میں اگر ہارس ٹریڈنگ کا معاملہ اعلیٰ عدالت میں گیا تو عدالت جیت کے اسباب طلب کرسکتی ہے۔یہ بات واضح ہے کہ3مارچ کے انتخابات میں اگر کسی سیاسی جماعت نے کسی بھی صوبے میں اپنی عددی حیثیت سے ہٹ کر سینیٹ کی سیٹییں حاصل کیں تو اس جیت پر شکوک و شبہات پیدا ہو سکتے ہیں۔

سینیٹ کے الیکٹورل کالج میں صوبائی اسمبلیوں میں ہر سیاسی جماعت سے تعلق رکھنے والے ارکان اسمبلی کی تعداد عموما سب کے علم میں ہوتی ہے۔پولنگ سے قبل ہی یہ بات واضح ہوتی ہے کہ کون سے سیاسی جماعت کتنے سینیٹرز منتخب کراسکے گی۔انتخابات سے قبل ہر جماعت اپنے صوبائی اراکین کے گروپ بناتی ہے تاکہ انہیں علم ہوجائے کہ وہ کس امیدوار کو ووٹ دیں گے۔اس بات کا فیصلہ بھی ہوجاتا ہے کہ اگر انہیں کسی دوسری سیاسی جماعت کے امیدوار کو ووٹ دینا ہو تو ان کی پہلی اور دوسری ترجیح کیا ہوگی،یعنی انتخابی عمل سے قبل ہی ہر چیز واضح ہوتی ہے۔اگر کوئی جماعت توقعات کے برعکس ووٹ حاصل کرے تو اس میں شک کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہ جاتی کہ کرپشن اور ہارس ٹریڈنگ کے سبب ایسا ہوا ہے۔

قبل ازیں ایسا ہمیشہ ڈھکے چھپے کیا جاتا رہا ، جس کی خبریں بعد میں منظر عام پر آئیں۔ ایسی بھی مثالیں موجود ہیں جب کچھ سیاسی جماعتیں باضابطہ طور پر کچھ صوبائی اسمبلیوں میں امیدوا روں کی امداد سے اجتناب کرتی ہیں ، جہاں کہ ان کی تعداد بہت کم ہوتی ہے، تاہم وہ آزاد امیدواروں کو پیسوں کے بل بوتے پر وہاں اپنے ہمراہ کرلیتے ہیں اور انتخابات کے بعد وہ امیدوار ان ہی پارٹیوں میں شمولیت اختیار کرلیتے ہیں۔مثلاًیہ حقیقت ہے کہ پیپلز پارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ سندھ اسمبلی میں اکثریت میں ہیں۔اگر یہ عمل شفاف رہا تو وہ اپنی حیثیت کے مطابق سینیٹرز منتخب کرالیں گے۔چھوٹی جماعتیں جن میں ن لیگ، پی ٹی آئی، مسلم لیگ (فنکشنل)اگر ایک امیدوار پر متفق ہوجائیں تو ایک سیٹ حاصل کرسکتی ہیں۔پیسوں کے استعمال کا سب سے بڑا معاملہ بلوچستان میں سامنے آیا، جہاں ماضی میں بھی ووٹوں کی خرید وفرو خت کے الزامات سامنے آتے رہے ہیں تاہم اس حوالے سے وہاں کوئی اقدام نہیں کیا گیا۔بلوچستان اسمبلی میں ن لیگ کے ارکان اسمبلی کی تعداد کے حساب سے انہیں چار سے زائد سیٹیں ملنی چاہئیں تھیں تاہم اسے شدید مشکلات کا سامنا اس وقت کرنا پڑا جب کچھ ارکان اسمبلی نے پوری پارلیمانی جماعت کے خلاف بغاوت کردی اور وزیر اعلیٰ نواب ثنا اللہ زہری کو عہدہ چھوڑنا پڑا اور ان کی جگہ عبدالقدوس بزنجو جو کہ ق لیگ کے ہیں وزیر اعلیٰ منتخب ہوگئے جب کہ ان کی اسمبلی میں صرف چار سیٹیں ہیں۔

21ارکان اسمبلی ن لیگ کے ٹکٹ پر منتخب ہوئے تھے ، جس کی وجہ سے ن لیگ صوبائی اسمبلی کی واحد بڑی جماعت بن کر سامنے آئی تھی۔ان کی بغاوت کو مدنظر رکھتے ہوئے سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا وہ اپنے نامزد کیے گئے امیدوار کو ووٹ دیں گے یا نہیں۔معاملہ چاہے کچھ بھی ہو اپنی عددی قوت کی بنیاد پر ن لیگ جتنے زیادہ ممکن امیدواروں سے تعاون کرے گی،جے یو آئی(ف)، نیشنل پارٹی اور پختونخوا ملی عوامی پارٹی سے تعلق رکھنے والے بلوچستان کے ارکان اسمبلی یقیناًاپنی پارٹیوں کے نامزد امیدواروں کے حق میں ہوں گے۔جبکہ پیپلز پارٹی کا کوئی بھی رکن ، اسمبلی میں نہیں ہے۔کسی بھی آزاد امیدوار یا پارٹیوں کی جانب سے نامزد امیدوار کا منتخب ہونا ، جس کی بلوچستان اسمبلی میں کم وبیش یا نا ہونے کے برابر حمایت حاصل ہو ، اس پورے عمل پر شدید شکوک وشبہات پیدا کرے گا۔بلوچستان میں بطور امیدوار ، پیسوں کے بل پر سینیٹ میں پہنچنا آسان ہے۔ایک سینیٹر کے انتخاب کے لیے تقریباًچھ ارکان کافی ہوتے ہیں۔جب کہ دیگر صوبائی اسمبلیوں میں ان کی زیادہ تعداد کی ہوتی ہے۔اسی طرح پنجاب اسمبلی میں بھی ن لیگ کی اکثریت ہے ، اس لیے وہاں سے بھی سینیٹ کے زیادہ ارکان ان کے ہی منتخب ہوں گے۔پی ٹی آئی جو کہ پنجاب اسمبلی کی دوسری بڑی قوت ہے، اگر وہ پیپلز پارٹی اور دیگر چھوٹی جماعتوں سے اتحاد کرلے تو وہ بھی وہاں سے ایک سیٹ جیت سکتی ہے۔اسی طرح خیبر پختونخوا اسمبلی میں پی ٹی آئی واحد بڑی جماعت ہے۔

ایوان بالا ہو یا ایوان زیریں ہمارے یہاں ہونے والی ہارس ٹریڈنگ اور دھاندلی ہمارے معاشرے کا ہی خاصہ نہیں ہے یہ عمل تقریبا سبھی جمہوریتوں میں عام ہے ، جو جمہوریت کے چہرے کو انتہائی بدنما کر دیتا ہے ۔ان حالات کو دیکھتے ہوئے واضح نظر آتا ہے کہ جمہوریت کا معاشرتی رویوں اور اخلاقیات سے گہرا تعلق ہے ۔ جس معاشرے میں اعلی اخلاقی اقدار اور معتدل معاشرتی رویے موجود ہوں گے وہاں یہ رویے اور اقدار ہر جمہوری عمل میں نظر آئیں گے اور جس معاشرے میں ان کا فقدان ہو وہاں یہ فقدان ہر سطح پر عیاں ہوگا، چاہے قومی اسمبلی کا انتخاب ہو یا سینیٹ کا انتخاب ، ججوں کی تقرری ہو یا یونیورسٹی کے وائس چانسلرز کا تعین ، وزراء کی تنصیب ہو یا کوئی اور عوامی یا حکومتی عہدہ ۔جیسی روح ویسے فرشتے کا محاورہ تو ہم نے سن ہی رکھا ہوگا ،ہماری جمہوریت اور ریاست بھی اس کے دائرہ کار سے باہر نہیں ۔ ہم شفافیت ، عدل ، انصاف چاہتے تو ہیں تاہم ہمارے عمومی اور عملی رویے اس کے بالکل برعکس ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھ info@mubassir.com پر ای میل کریں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  12662
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
اگرچہ خلقتِ انسان کے بعد مختلف زمانوں میں مختلف انبیاء و رسل نے انسانی معاشروں کی اصلاح اور رہنمائی کے لیے اللہ کے احکامات کے تحت اجتماعی نظام قائم کیے اور ریاست و حکومت کے ذریعے لوگوں کے اندر عدل و انصاف کو رواج دیا لیکن تکمیلِ دین و اکمالِ
امام حسینؑ نے اپنے خطبوں اور مکتوبات میں اپنے قیام اور اقدام کے مقاصد بہت واضح طور پر بیان کئے ہیں۔ آپ نے اپنے بھائی حضرت محمد حنفیہ کے نام اپنے ایک مکتوب میں صراحت سے لکھا کہ میں امربالمعروف اور نہی عن المنکر کیلئے جارہا ہوں
امام حسینؑ نے یزید کی بیعت سے انکار کردیا، یہ جانتے ہوئے کہ اس کا نتیجہ سوائے موت کے کچھ نہیں نکلے گا جیسا کہ تارمتعدد مواقع پراس کی شہادت دیتی ہے۔ یہاں تک کہ جب امام حسینؑ مدینہ سے ہجرت کرکے مکہ تشریف لے گئے تو وہاں پر بھی آپ کو قتل کرنے
امام عالی مقام سید الشہدؑ اء کے قیام کے مقاصد کیا تھے، اس سلسلے میں آپؑ کی شہادت کے دن سے گفتگو جاری ہے اوررہتی دنیا تک جاری رہے گی۔یہ واقعہ ہی اتنا اہم ہے کہ اس کی طرف سے صرف نظر کر کے تاریخ گزر سکتی تھی نہ تاریخ کے تجزیہ نگار

مزید خبریں
افغانستان میں جنگ کو تیرہ برس گزرگئے اور 2014ء اس جنگ کے باقاعدہ اختتام کا سال ہے۔یہ برس عالمی تاریخ میں خاص اہمیت اختیار کرتاجارہا ہے۔پرائم ٹارگٹس پر مزاحمت کاروں کے حملے اس حقیقت کو واضح کرتے ہیں کہ طالبان آج تیر ہ سال بعد بھی افغانستان میں طاقت ورہیں۔
15 فروری 2014ء کو سندھ حکومت کے زیر انتظام دوہفتوں سے انعقاد پذیر ثقافتی سرگرمیوں کا میلہ ’’ سندھ فیسٹیول ’’ ختم ہوا تو صوبہ کے ایک دور افتادہ ضلع میں ’’ ڈیتھ فیسٹیول ‘‘ کا آغاز ہوچکا تھا۔
صحرائے تھر کی زمین پانی اور بچے دودھ کو ترس گئے، قحط سالی کے باعث بھوک نے انسانی زندگیوں کو نگلنا شروع کردیا ہے، حکومت نے تھرپارکر کو آفت زدہ تو قرار دے دیا مگر متاثرین کیلئے مختص گندم محکمہ خوراک کے گوداموں میں سڑ رہی ہے۔

مقبول ترین
خیبر پختون خوا پولیس کے اعلیٰ افسر ایس پی طاہر داوڑ کا جسد خاکی افغانستان نے پاکستان کے حوالے کردیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ شہید ایس پی طاہر داوڑ کا جسد خاکی جلال آباد میں پاکستان قونصل خانے کے اعلیٰ عہداروں کے حوالے کر دیا گیا ہے
سابق وزیراعظم نواز شریف نے العزیزیہ ریفرنس میں صفائی کا بیان قلمبند کرانا شروع کر دیا۔ پہلے روز 50 عدالتی سوالات میں سے 45 کے جواب ریکارڈ کرا دیئے۔ باقی سوالات پر وکیل خواجہ حارث سے مشاورت کے لیے وقت مانگ لیا۔
فلسطین میں قابض اسرائیلی فوج کے معاملے پر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا بند کمرا اجلاس بے نتیجہ ختم ہوگیا۔ میڈیا کے مطابق غزہ میں قابض اسرائیلی فوج نے ظلم وبربریت کی انتہا کررکھی ہے، آئے دن نہتے فلسطینیوں کو فائرنگ کرکے موت کے گھاٹ
چند روز قبل اسلام آباد سے اغوا ہونے والے خیبر پختونخوا پولیس کے ایس پی طاہر خان داوڑ کو مبینہ طور پر افغانستان میں قتل کر دیا گیا۔ خیبر پختونخوا پولیس کے ایس پی طاہر خان داوڑ 27 اکتوبر کو اسلام آباد سے لاپتہ ہوئے تھے۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں