Wednesday, 14 November, 2018
’’آئیں حسینؑ کا غم مل کر منائیں‘‘

’’آئیں حسینؑ کا غم مل کر منائیں‘‘
تحریر: ثاقب اکبر

 

آئیں امام حسینؑ کا غم مل کر منائیں، اس لیے کہ ہم سب اس رسولؐ کی امت ہیں حسینؑ جس کے نواسے ہیں، اس لیے کہ امام حسینؑ کا غم واقعۂ کربلا کے وقوع پذیر ہونے سے پہلے خود نبی اکرمؐ نے منایا۔ اس طرح حسینؑ کا غم منانا اور حسینؑ کے غم میں آنسو بہانا پیغمبراکرمؐ کی سنت ہو گیا۔ امام حسینؑ پیدا ہوئے، جب نبی اکرمؐ کی گود میں آئے تو آپؐ اپنے اس نواسے کو چومتے بھی جاتے تھے اور روتے بھی جاتے تھے۔ حضرت اسماؓء بنت عمیس جو امام حسینؑ کی تائی جان تھیں، نے حیرت سے پوچھا کہ یا رسول اللہ! اللہ نے آپؐکو یہ فرزند عطا فرمایا ہے آپ اس پر رو کیوں رہے ہیں؟ آپؐ نے فرمایا کہ یہ میرا بیٹا شہید ہو جائے گا۔ 

آنحضرتؐ سے مروی احادیث میں یہ بھی ہے کہ آپؐ نے فرمایا کہ جبرائیل میرے پاس آئے ہیں اور انھوں نے بتایا کہ میرا یہ فرزند کربلا میں شہید ہوگا۔ نیز جبرائیل اس سرزمین کی مٹی بھی لے کر آئے ہیں۔ پھر آپؑ نے یہ مٹی ام المومنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے سپرد کردی اور فرمایا کہ اسے سنبھال کر رکھیں جب حسینؑ شہید ہو جائیں تو یہ مٹی خون بن جائے گی۔ پھر ایک دن آیا جب وہ مٹی خون بن گئی۔ ام سلمہؓ کے دل پر کیا گزری یہ تو وہی جانتی ہیں۔ انھوں نے روز عاشور عصر کے قریب خواب دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے ہیں اور ان کے بال اور ریش مبارک مٹی سے اٹی ہوئی ہے۔ آپؐ نہایت غم زدہ ہیں۔ ام سلمہؓ کہتی ہیں کہ یہ کیفیت مجھ پر بڑی شاق گزری اور میں نے پوچھا: یا رسول اللہؐ! یہ آپ کی کیا حالت ہے تو آپؐ نے فرمایا کہ میں ابھی کربلا سے آرہا ہوں جہاں میرے حسینؑ کو شہید کردیا گیا ہے۔ 

ہاں یہ اُسی حسینؑ کی سوگواری کے دن ہیں جن کے غم میں سید المرسلینؐ سوگوار ہیں لہٰذا امت محمدیہؐ کا سوگوار ہونا ایمان کا ایک فطری تقاضا ہے۔ یہ وہی حسینؑ ہیں جن کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: حسین مجھ سے ہیں اور میں حسین سے ہوں۔ آپؐ نے یہ بھی فرمایا: حسینؑ ہدایت کا چراغ اور نجات کا سفینہ ہیں۔ آپؐ نے حسنین کریمینؑ کے بارے میں فرمایا کہ حسن اور حسین جوانانِ جنت کے سردار ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ساری امت امام حسنؑ اور حسینؑ سے پیار کرتی ہے۔ ساری امت ان کی خوشی میں خوشی اور ان کے غم میں غم کرتی ہے۔ حسنؑ اور حسینؑ سب کے ہیں اس لیے کہ وہ رب کے ہیں اور رب کے رسولؐ کے پیارے ہیں۔ ان کی محبت پر کسی کی اجارہ داری نہیں۔ اسی لیے ضروری ہے کہ ہم مل جل کر محرم الحرام میں سید الشہداؑ ء کا غم منائیں۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ محبتوں کی ادائیں مختلف ہوتی ہیں اور محبت مختلف اداؤں سے ظہور پذیر ہوتی ہے۔ اسی لیے امام حسینؑ کی یاد منانے کے لیے پورے عالم اسلام میں اور پوری دنیا میں جہاں جہاں مسلمان ہیں مختلف انداز سے آپؑ کی یاد منائی جاتی ہے، مختلف طرح سے آپؑ کو خراج عقیدت پیش کیا جاتا ہے اور مختلف طریقے سے آپؑ کی المناک شہادت پر اظہار غم کیا جاتا ہے۔ یہ ہر معاشرے، علاقے اور قوم کی اپنی اپنی روایات ہیں، وہ اپنے اپنے طریقے سے سیدالشہداؑ ء سے اپنی قلبی وابستگی کا اظہار کرتی ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم کسی پر اپنے طریقے کو مسلط نہ کریں اور خود بھی ایسا طریقہ اختیار کریں کہ جس سے دوسروں کو کوئی تکلیف نہ پہنچے، اس لیے کہ کوئی گروہ بھی جب امام حسینؑ کی یاد مناتا ہے تو اس کا مقصد نبی کریمؐ اور ان کے اہل بیتؑ سے اپنی محبت اوروفاداری کے اظہار کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ اس لیے اس اظہار کا تمام دوسرے لوگ احترام بھی کریں اور اس محبت کا اظہار کرنے والے بھی دوسروں کا خیال رکھیں۔ یقیناً یہ طرزعمل آنحضرتؐ کی بھی خوشنودی کا باعث بنے گا اور اس پروردگار کی رضا کا بھی جس کی رضا کے لیے ہی سیدالشہداؑ ء نے عظیم الشان قربانی پیش کی ہے۔

ان ایام میں امام حسین علیہ السلام کے قیام اور شہادت کے مقاصد کو پیش نظر رکھنے اور زیادہ سے زیادہ بیان کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ سوال ان دنوں میں زیادہ واضح ہو کر سامنے آنا چاہیے کہ امام حسینؑ نے یزید کی بیعت کیوں نہیں کی۔ نیز یہ بھی جاننے کی ضرورت ہے کہ آخر ایک امام حسینؑ یزید کی بیعت نہ کرتے تو یزید کو کیا فرق پڑتا تھا۔ یزید نے آخر کیوں اصرار کیا کہ امام حسینؑ اس کی بیعت کریں۔ یہ اصرار اُس خط سے آشکار ہوتا ہے جو یزید نے اقتدار سنبھالنے کے بعد اپنے گورنر ولید کو مدینہ میں لکھا، جس میں واضح کیا گیا کہ حسینؑ بیعت نہ کریں تو پھر ان کا سر مجھے ملنا چاہیے۔ امام حسینؑ نے بیعت کے مطالبے میں وہیں پر کہہ دیا تھا کہ مجھ جیسا یزید جیسے کی بیعت نہیں کر سکتا۔ 

یزید جس انداز سے برسراقتدار آیا اسے امت کے تمام اہل علم و فضل نے مسترد کردیا۔ اس لیے کہ اس کا اقتدار رسول اسلامؐ کے راستے سے بہت بڑا انحراف تھا۔ پھر یہی وہ یزید تھا جو سرعام حدود الٰہی کو پامال کرتا تھا۔ وہ ناحق قتل کرتا، حلال و حرام کی تمیز اس کے ہاں سے اٹھ گئی تھی، وہ سرعام شراب پیتا، اس نے بندر پال رکھے تھے جن کے سر پرعمامہ رکھتا اور کھیل تماشوں میں مگن رہتا۔ ایسے میں اس کی یہ بھی خواہش تھی کہ اسے خلیفہ رسول کہا جائے اور امیرالمومنین کہہ کر پکارا جائے۔ وہ امام حسینؑ کی بیعت اس لیے چاہتا تھا کہ اس سارے طرز عمل کی تائید رسول اللہ کے خاندان سے حاصل کر سکے۔ اس نے سارے انسانوں کو گویا اپنا غلام سمجھ لیا تھا۔ اسی لیے امام حسینؑ نے فرمایا: مجھ جیسا یزید جیسے کی بیعت نہیں کر سکتا۔ یزید نے بیت المال کو اپنا مال سمجھ لیا تھا۔ اس کے نزدیک وہی حق تھا جو وہ سمجھتا تھا، نہ کہ وہ جسے اللہ اور رسولؐ حق قرار دیں۔ اسی لیے امام حسینؑ نے فرمایا کہ ان ظالموں نے مجھے دو چیزوں میں سے ایک کے اختیار کرنے پر مجبور کردیا ہے ، اول یہ کہ میں یزید کی بیعت کروں یا پھر قتل کے لیے تیار ہو جاؤں۔ آپؑ نے فرمایا: ھیھات مناالذلہ یعنی ہمیں ذلت قبول نہیں۔

گویا امام عالی مقامؑ یزید کی بیعت کرنے کو ذلت قبول کرنے کے برابر سمجھتے تھے اور آپؑ یہ جانتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں ایک عزت والے گھرانے میں پیدا کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن حکیم میں ارشاد فرمایا ہے کہ عزت اللہ کے لیے ہے، اس کے رسول کے لیے ہے اور ایمان لانے والوں کے لیے ہے۔ قرآن کا عاشق اور قاری یہ حسینؑ کس طرح سے ذلت قبول کر سکتا تھا۔ انھوں نے اللہ کے راستے میں عزت کی موت کو اختیار کیا اور ذلت ہمیشہ کے لیے یزید کے نام کے ساتھ مختص ہو کر رہ گئی۔

آئیے اس عزت والے پیشوا امام حسینؑ کی یاد مناتے ہوئے ہم پوری دنیا میں عزت سے رہنے کا فیصلہ کریں ہم یزیدی اور طاغوتی قوتوں کے سامنے سر جھکانے سے انکار کردیں۔ ہم ہر سامراج اور استکبار و استعمار کے سامنے نہ کہہ دیں۔ پورا عالم اسلام عزت و افتخار کا راستہ اختیار کرے کیونکہ یہی راستہ ہمارے پیشوا نے اختیار کیا اور اس پر کاربند رہنے کے لیے ہر طرح کا ظلم و ستم سہ لیا۔ اگر آج عالم اسلام سید الشہداء امام حسین ؑ کا راستہ اختیار کرلے تو پھر عزت ہی ہمیں نصیب ہو گی اور اللہ کا وعدہ ہے کہ تمھیں سربلند رہو گے، اگر تم مومن ہو۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھ info@mubassir.com پر ای میل کریں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  4522
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
اگرچہ خلقتِ انسان کے بعد مختلف زمانوں میں مختلف انبیاء و رسل نے انسانی معاشروں کی اصلاح اور رہنمائی کے لیے اللہ کے احکامات کے تحت اجتماعی نظام قائم کیے اور ریاست و حکومت کے ذریعے لوگوں کے اندر عدل و انصاف کو رواج دیا لیکن تکمیلِ دین و اکمالِ
امام حسینؑ نے اپنے خطبوں اور مکتوبات میں اپنے قیام اور اقدام کے مقاصد بہت واضح طور پر بیان کئے ہیں۔ آپ نے اپنے بھائی حضرت محمد حنفیہ کے نام اپنے ایک مکتوب میں صراحت سے لکھا کہ میں امربالمعروف اور نہی عن المنکر کیلئے جارہا ہوں
امام حسینؑ نے یزید کی بیعت سے انکار کردیا، یہ جانتے ہوئے کہ اس کا نتیجہ سوائے موت کے کچھ نہیں نکلے گا جیسا کہ تارمتعدد مواقع پراس کی شہادت دیتی ہے۔ یہاں تک کہ جب امام حسینؑ مدینہ سے ہجرت کرکے مکہ تشریف لے گئے تو وہاں پر بھی آپ کو قتل کرنے
امام عالی مقام سید الشہدؑ اء کے قیام کے مقاصد کیا تھے، اس سلسلے میں آپؑ کی شہادت کے دن سے گفتگو جاری ہے اوررہتی دنیا تک جاری رہے گی۔یہ واقعہ ہی اتنا اہم ہے کہ اس کی طرف سے صرف نظر کر کے تاریخ گزر سکتی تھی نہ تاریخ کے تجزیہ نگار

مزید خبریں
افغانستان میں جنگ کو تیرہ برس گزرگئے اور 2014ء اس جنگ کے باقاعدہ اختتام کا سال ہے۔یہ برس عالمی تاریخ میں خاص اہمیت اختیار کرتاجارہا ہے۔پرائم ٹارگٹس پر مزاحمت کاروں کے حملے اس حقیقت کو واضح کرتے ہیں کہ طالبان آج تیر ہ سال بعد بھی افغانستان میں طاقت ورہیں۔
15 فروری 2014ء کو سندھ حکومت کے زیر انتظام دوہفتوں سے انعقاد پذیر ثقافتی سرگرمیوں کا میلہ ’’ سندھ فیسٹیول ’’ ختم ہوا تو صوبہ کے ایک دور افتادہ ضلع میں ’’ ڈیتھ فیسٹیول ‘‘ کا آغاز ہوچکا تھا۔
صحرائے تھر کی زمین پانی اور بچے دودھ کو ترس گئے، قحط سالی کے باعث بھوک نے انسانی زندگیوں کو نگلنا شروع کردیا ہے، حکومت نے تھرپارکر کو آفت زدہ تو قرار دے دیا مگر متاثرین کیلئے مختص گندم محکمہ خوراک کے گوداموں میں سڑ رہی ہے۔

مقبول ترین
خیبر پختون خوا پولیس کے اعلیٰ افسر ایس پی طاہر داوڑ کا جسد خاکی افغانستان نے پاکستان کے حوالے کردیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ شہید ایس پی طاہر داوڑ کا جسد خاکی جلال آباد میں پاکستان قونصل خانے کے اعلیٰ عہداروں کے حوالے کر دیا گیا ہے
سابق وزیراعظم نواز شریف نے العزیزیہ ریفرنس میں صفائی کا بیان قلمبند کرانا شروع کر دیا۔ پہلے روز 50 عدالتی سوالات میں سے 45 کے جواب ریکارڈ کرا دیئے۔ باقی سوالات پر وکیل خواجہ حارث سے مشاورت کے لیے وقت مانگ لیا۔
فلسطین میں قابض اسرائیلی فوج کے معاملے پر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا بند کمرا اجلاس بے نتیجہ ختم ہوگیا۔ میڈیا کے مطابق غزہ میں قابض اسرائیلی فوج نے ظلم وبربریت کی انتہا کررکھی ہے، آئے دن نہتے فلسطینیوں کو فائرنگ کرکے موت کے گھاٹ
چند روز قبل اسلام آباد سے اغوا ہونے والے خیبر پختونخوا پولیس کے ایس پی طاہر خان داوڑ کو مبینہ طور پر افغانستان میں قتل کر دیا گیا۔ خیبر پختونخوا پولیس کے ایس پی طاہر خان داوڑ 27 اکتوبر کو اسلام آباد سے لاپتہ ہوئے تھے۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں