Friday, 22 June, 2018
’’امریکہ ۔۔۔ گرداب میں‘‘

’’امریکہ ۔۔۔ گرداب میں‘‘
فائل فوٹو
تحریر: حافظ شاہد احمد

 

افغانستان کی زمیں کے بارے میں مشہور ہے کہ سکندراعظم بھی یہاں سے ناکام لوٹے تھے ۔اپنے وقت کا سپر طاقت برطانیہ کی اٹھارہ ہزار فوج کابل میں دفن ہے۔ رشیاکا توحال ہی دگرگوں کردیا ہے۔ مقتولین کا شمار چھوڑئیے رشیاکی زمین کے ٹکڑے ٹکڑے کردیاہے۔ یہاں کے باشندے نیک دل ،صاف گو اور بہادر ہیں۔

روس چین اور ایران کا راستہ روکنے کیلئے اور پاکستانی ایٹم بم پر نظررکھنے کیلئے اسامہ کا بہانہ بناکر امریکہ نے نہتے طالبان افغانستان پر حملہ کیا ۔ طالبان نے جاتے جاتے ایک حکمت عملی کے تحت گھر گھر وہ اسلحہ واپس کردیا جو انہوں نے لوگوں سے جمع کیا تھا اس معذرت کیساتھ کہ افسوس ہے ہم آپکو مزید امن میں نہیں رکھ سکتے لہذا آپ اپنا اسلحہ وصول کرلیں ۔ یوں طالبان نے قبضہ چھو ڑ دیا۔ امریکی خوردہ نوش افغانستان کے سیاہ وسفید کے مالک ہوگئے سڑکیں بن گئیں، یونیورسٹیاں شروع ہوگئیں بڑے بڑے ہوٹلوں میں بڑے بڑے پروگرام ہونے لگے۔ لیکن افغانی ذہن نے امریکی قبضہ قبول نہیں کیا۔ علماء وفضلاء تو کیا عوام الناس حتی کہ فوج کے جوانوں نے بھی اس قبضہ پر شدید احتجاج کیا ۔امریکہ ٹھس سے مس نہیں ہوا۔

امریکی یہ سمجھتے تھے کہ چند دن یا چند سالوں بعد اس شدت میں کمی آئے گی۔ لوگوں کے دلوں میں ہماری لئے کوئی جگہ بن جائے گی۔ لیکن افغانیوں کے دلوں میں موجود نفرت مزید راسخ ہوگیا ۔آئے روز کوئی نیا حادثہ ہوجاتا ہے ۔آج انہیں طالبان سے امن کی بھیگ مانگ رہے ہیں۔

انہیں ایام میں امریکہ نے پاکستان کے طول وعرض میں شدت پسندانہ عزائم کو ہوا دی ۔ پاکستان کے اینٹ سے اینٹ بجانے کی کوشش کی گئیں۔پھر انڈیا کے شہ پر بلوچستان میں باغیانہ سرگیوں کا حصہ بنا لیکن ہاتھ کچھ نہیں آیا البتہ پاکستانی قوم اور فوج نے ملکر دہشت گردوں کا مقدوربھر صفایا کیا۔اور دنیاکو باور کرایا کہ پاکستانی قوم اپنی دفاع خود کرنا جانتی ہیں۔ امریکہ پاکستان کو پھساکر سزا دینا چاہتا ہے مگر اسکا ہرچال الٹ چلتا ہے۔

امریکہ اپنی اوچھے ہتھکنڈوں سے باز نہیں آتا۔اس نے دوسرا محاذ عراق وشام میں کھولا۔داعش کی صورت میں عراق وشام کی تقسیم بھرپو ر کوشش کی انکی دامے درہمے سخنے ہرممکن مدد کی یہاں تک کہ داعش کے سپاہ کا علاج معالجہ تلابیب میں ہوتا رہا۔لیکن ایرانی ملیشانے ایک ایک کرکے داعش کو اس ارض پاک سے بھگایا جس میں کچھ مدت کیلئے انکے قدم راسخ ہوگئے تھے۔ہرمیدان میں ہرمحاذ پر امریکہ کو ہزیمت اٹھانی پڑی اوریہ ہزیمت انکا مقدر بن گیا ہے۔

سب سے دلچسپ صورتحال شام میں ہے جہاں بشمول اسرائیل وسعودیہ اسد کے خلاف محاذ کھولا گیا لاکھوں لوگ بے گھر ہوئے،لاکھوں مہاجر بن کے یورپ کو پیارے ہوگئے، لاکھوں زخمی اور معذور ہوئے بے تحاشہ پیسا بھایاگیا ، لوگ خریدے گئے اور لڑتے لڑتے موت کے گھاٹ اتر گئے ۔ امریکہ ملک پر قبضہ کرنے گیا تھا ۔ ترکی پیارے، اسرائیل اور مصر کی حمایت اور سعودیہ کی ولولہ انگیز قیادت مگر یہاں ڈھیر ہوگئی اور بالاخر حکومتی اتحاد روس، ایران اور شامی فوج نے امریکی قبضہ چھڑایا۔ شام کے مسئلہ پر آج تنہا رہ گیا ہے۔ امریکی جھنڈا سرنگون ہے سوگ منایا جارہا ہے ہائے ہم اکیلے ہیں ہائے ہم اکیلے ہیں۔ ویتنام سے لیکر شام تک کوئی جنگ نہیں ہے جو امریکہ نے جیتا ہو۔

اصل بات یہ ہے کہ جس طرح اقوام متحدہ امریکہ کی لونڈی بنی ہوئی ہے بالکل اسی طرح امریکہ اسرائیل کی لونڈی بنی ہوئی ہے ۔ صیہونیوں نے امریکہ کو کسی کومنہ دکھانے کے قابل نہیں چھوڑا لیکن یہ وفادار لونڈی ہے ۔ اپنے محبوب پر جان دیں گی ہی دیں گی۔ 

سوال یہ ہے کہ امریکی قیادت کیوں یہ نہیں سمجھتی کہ ہم کب تک اسرائیل کیلے لڑتے رہیں گے ہم کب تک ایک ناجائز قبضہ مافیا کو بچاتے رہیں گے امریکی عوام اور قیادت ملکر اپنی غریب اقوام کیلے کچھ کریں لڑائی جھگڑوں سے ملک کے ملک برباد ہوتے ہیں انسانیت تباہ ہوجاتی ہے۔

سوچنے کی بات ہے ذرا سوچ!

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھ info@mubassir.com پر ای میل کریں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  31874
کوڈ
 
   
مزید خبریں
افغانستان میں جنگ کو تیرہ برس گزرگئے اور 2014ء اس جنگ کے باقاعدہ اختتام کا سال ہے۔یہ برس عالمی تاریخ میں خاص اہمیت اختیار کرتاجارہا ہے۔پرائم ٹارگٹس پر مزاحمت کاروں کے حملے اس حقیقت کو واضح کرتے ہیں کہ طالبان آج تیر ہ سال بعد بھی افغانستان میں طاقت ورہیں۔
15 فروری 2014ء کو سندھ حکومت کے زیر انتظام دوہفتوں سے انعقاد پذیر ثقافتی سرگرمیوں کا میلہ ’’ سندھ فیسٹیول ’’ ختم ہوا تو صوبہ کے ایک دور افتادہ ضلع میں ’’ ڈیتھ فیسٹیول ‘‘ کا آغاز ہوچکا تھا۔
صحرائے تھر کی زمین پانی اور بچے دودھ کو ترس گئے، قحط سالی کے باعث بھوک نے انسانی زندگیوں کو نگلنا شروع کردیا ہے، حکومت نے تھرپارکر کو آفت زدہ تو قرار دے دیا مگر متاثرین کیلئے مختص گندم محکمہ خوراک کے گوداموں میں سڑ رہی ہے۔

مقبول ترین
گڈانی میں سمندر میں نہاتے ہوئے ایک ہی خاندان کے 17 افراد ڈوب گئے، جن میں سے 4 خواتین کی لاشیں نکال لی گئیں۔ ریسکیو ذرائع کے مطابق ایک بچے کو بے ہوشی کی حالت میں جبکہ باقی 10 افراد کو صحیح سلامت ریسکیو کرلیا گیا۔
اب اس وقت بھی یہ فیچر استعمال کرسکتے ہیں۔ واضح رہے کہ بی ٹا ٹیسٹ کے لیے ایک نیا واٹس ایپ ورژن 2.18.189 پیش کیا گیا ہے جبکہ وائس کال کا نیا ورژن v2.18.192 ہے۔ اس کا اصل ورژن بعد میں آئے گا اور ابھی ٹیسٹ کے لیے بی ٹا ورژن گوگل پلے اسٹور پر ریلیز کیا گیا ہے۔
گلوبل آئل اینڈ گیس ڈسکوریز ریویو 2017 کی رپورٹ کے مطابق سال 2017 کی تیسری سہ ماہی کے دوران پاکستان نے تیل و گیس کے 2 بڑے ذخائر دریافت کیے ہیں جبکہ سال کے آخری 3 ماہ کے دوران تیل و گیس کے 4 مزید نئے ذخائر دریافت کیے۔
مقبوضہ کشمیر میں قابض بھارتی فوج کی فائرنگ سے 4 افراد شہید اور متعدد زخمی ہوگئے۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق مقبوضہ کشمیر کے ضلع اننت ناگ میں قابض بھارتی فوج نے محاصرہ کیا اور سرچ آپریشن کے دوران رہائشی علاقے میں فائرنگ

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں