Tuesday, 11 August, 2020
اسلام کا تصورِاخلاق

اسلام کا تصورِاخلاق
تحریر: سید ثاقب اکبر

 

۱۔احکام اخلاق اور علم اخلاق میں فرق

 ہم شروع ہی میں اپنے عام قارئین کے لیے یہ بات واضح کردیں کہ احکام اخلاق و نظام اخلاق اورعلم اخلاق دو مختلف چیزیں ہیں۔ ہم روزمرہ ’’اخلاق‘‘ کے حوالے سے جس موضوع سے واقف ہیں وہ احکام اخلاق سے متعلق ہے اور مختلف مکاتب فکر و نظر ان احکام پر مشتمل اپنا اپنا نظام اخلاق رکھتے ہیں۔

            احکام اخلاق میں ہمارے ہاں کہا جاتا ہے کہ اخلاق دو طرح کا ہوتا ہے:

اخلاق حسنہ اوراخلاق سیئہ

یعنی اچھا اخلاق اور برا اخلاق۔

            اچھا اخلاق اپنانے سے انسان اچھا کہلاتا ہے۔ہم اسے’’ خلیق‘‘ بھی کہتے ہیں۔برااخلاق اپنانے سے وہ ’’بدخلق ‘‘کہلاتا ہے۔

            قرآن حکیم میں رسول کریم(ص) کے بارے میں ہے:

وَاِِنَّکَ لَعَلٰی خُلُقٍ عَظِیْمٍ۔(القلم۔۴)

یقینا آپ خلق عظیم کی منزلت پر فائز ہیں۔

            خود رسول کریمؐسے بھی ایک حدیث مروی ہے جو نہایت مشہور ہے:

بعثتُ لِا تَمم مَکَارِمَ  الاَخلا’ق(ابوبکربزار، مسند البزار، مکتبۃ العلوم والحکم مدینہ (ط۱،۲۰۰۹م)ج۱۵،ص ۳۶۴،ح۸۹۴۹)

میں اچھے اخلاق کی تکمیل کے لیے مبعوث ہوا ہوں۔

            یعنی اللہ کے پاک رسولؐ کے بعثت کا مقصد ہی انسانوں کو اچھا اخلاق سکھانا اور اچھے اخلاق سے انھیں سنوار کر انھیں اچھا انسان بنانا ہے۔اخلاق بھی ایسا جو اپنی اچھائی میں ناقص نہ ہو بلکہ ہر جہت سے مکمل اور کمال یافتہ ہو تاکہ انسان اسے اپناکر انفرادی طور پر بھی ایک کامل انسان بن جائے اور معاشرہ اسے اپنا کر ترقی و کمال کے زینے طے کرنے لگے۔

            بہرحال یہ ساری گفتگو اخلاق،احکام اخلاق اور نظام اخلاق کے حوالے سے ہے۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ علم اخلاق کیا ہے؟

 

۲۔علم اخلاق کے اہم سوالات

            علم اخلاق کا موضوع انسان ہے کیونکہ بعض جانوروں کو سکھایا اور سدھایا تو ضرور جاسکتا ہے لیکن ان کے دل و دماغ میں کسی کام کے اچھا ہونے یا برا ہونے کا تصور پیدا کرکے یا انھیں اچھائی اور برائی کا مفہوم سکھا کر آزاد ارادے کے ذریعے اچھے اخلاق کی توقع نہیں کی جاسکتی۔ جانوروں کے فعل ان کی جبلی سطح سے بلند نہیں ہوتے جبکہ انسان کے بارے میں اسے لائق تعلیم و تربیت سمجھنے والوں کا یہ تصور نہیں ہے۔بہتر الفاظ میں ہم اسے یوں کہ سکتے ہیں کہ جو روح الٰہی انسان میں پھونکی گئی ہے اور عقل و فہم کی جو وسعت اور گہرائی بخشی گئی ہے وہ مخلوقات میں سے کسی اور کو نہیں بخشی گئی۔ اسی لیے

جن کے رتبے ہیں سوا، ان کو سوا مشکل ہے

            اسی پس منظرمیں پہلا سوال یہی ابھرتا ہے کہ کیا انسان اس قابل ہے کہ اسے اچھے اخلاق کی تعلیم دی جائے؟کیا اچھے اخلاق کی تعلیم کے ذریعے انسان تبدیل ہوسکتا ہے؟

            ایک لحاظ سے اسی سوال میں ضمنی طور پر یہ سوال بھی آجاتا ہے کہ کیا انسان کی تقدیر متعین ہے یا غیر متعین۔کیا قسمت میں ہر مسئلے کا فیصلہ پہلے ہی سے کیا جاچکا ہے یا انسان اپنے فکر و عمل سے اپنی قسمت بناتا چلا جاتا ہے۔

            علم اخلاق میں ہمیں ایک اور اہم سوال کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور وہ یہ کہ کیا حالات کے بدلنے سے اخلاق اور اس کے پیمانے بدل جاتے ہیں؟کیا زمان و مکان کے تغیر سے اخلاق حسنہ،اخلاق سیئہ بن سکتا ہے اور اخلاق بد،اخلاق نیک میں تبدیل ہوسکتا ہے؟

 

۳۔علم اخلاق اور معرفت الانسان

            یاد رہے کہ اخلاق کا موضوع چونکہ انسان ہے لہذا ہم کہہ سکتے ہیں کہ علم اخلاق بلاواسطہ انسان شناسی کی ایک برانچ ہے یعنی’’علم معرفت الانسان‘‘ہی کا ایک حصہ ہے۔ ہم جس طرح سے انسان کو پہچانیں گے اسی طرح سے اخلاق کے حوالے سے اس کے بارے میں فیصلے کریں گے۔

 

۴۔کیا انسان روح رکھتا ہے؟

            انسان کی شناخت کے حوالے سے علم اخلاق میں ایک بنیادی سوال ہمیں یہ درپیش ہے کہ کیا انسان روح رکھتا ہے یا نہیں؟

            یاد رہے کہ روح کی ماہیت پر ہم بات نہیں کررہے، اس کی ماہیت کے سوال پر تو قرآن حکیم بھی ایک اجمالی جواب دے کر آگے بڑھ گیا ہے:

            ترجمہ : اے رسولؐ !یہ لوگ)آپ سے روح کے بارے میں پوچھتے ہیں۔

 قُلِ الرُّوْحُ مِنْ اَمْرِ رَبِّیْ وَ مَآ اُوْتِیْتُمْ مِّنَ الْعِلْمِ اِلَّا قَلِیْلًا (بنی اسرائیل۔۸۵)

کہیے:روح میرے پروردگار کے امر میں سے ہے اور تمھیں بس تھوڑا سا علم دیا گیا ہے۔

            ہمیں یہاں روح کے کردار کے حوالے سے کچھ بات کرنا ہے۔وہ روح جس کے ارادے سے انسان حرکت کرتا ہے۔وہ روح،بدن جس کے تصرف میں ہے۔وہ روح جو کمال و زوال کے مرحلوں سے گزرتی ہے لیکن جسے موت نہیں آتی۔بدن کم وبیش ہوتا ہے۔اس کے خلیے بدلتے رہتے ہیں لیکن روح اپنی ماہیت میں خلیوں پر مبنی نہیں ہے۔شعور،دانائی،بصیرت،ایمان اور ارادے کا تعلق روح سے ہے۔خوابوں کا تعلق بنیادی طور پر روح کے ملکات، آگاہیوں، خواہشوں،شعور اور لاشعور سے ہے۔

            علم اخلاق میں روح کی شناخت ایک بنیادی بحث کی حیثیت رکھتی ہے۔اگر انسان ایک ایسا وجود ہے کہ اس کے اندر روح موجود ہے تو پھر ہماری یہ بحث کسی اور نتیجے پر پہنچے گی اور اگر انسان ایک ایسا وجود ہے کہ اس میں کوئی روح موجود نہیں تو یہ موضوع کسی اور نتیجے پر منتج ہوگا۔ کیا انسان روبوٹ کی طرح ہے جو بجلی یا اس جیسی کسی چیز سے حرکت کرتا ہے اور اس کی حرکت کمپیوٹرائزڈ ہوتی ہے؟اس کے اندر ہر چیز فیڈ کردی گئی ہوتی ہے۔وہ اسی کے تحت حرکت کرتا ہے؟اس کا اپنا کوئی آزاد ارادہ نہیں ہوتا،اسے سکھانے والے کے ارادے کے مطابق ہی حرکت کرنا ہے۔وہ ایسا نہیں کرسکتا کہ آپ اس سے کچھ تقاضا کریں اور وہ کچھ اور عمل کرے۔آپ کا تقاضا وہ سبق ہے جو آپ اسے سکھاچکے ہیں۔ادھر سوئچ آف ہوجائے تو وہ کوئی حرکت نہیں کرتا۔ کیا انسان ایسا ہی ہے؟کیا جب موت آتی ہے تو گویا ایسے ہے جیسے سوئچ آف ہوجاتا ہے؟کیا روح اس معنی میں جس میں ہم نے پہلے بیان کیا ہے ایک حقیقت اور وجود خارجی رکھتی ہے؟ یہ سوال بہت بنیادی ہے۔انسانی زندگی کی تعریف ایک بہت بنیادی مسئلہ ہے۔ انسان کی حیات کو سمجھنا شروع ہی سے بہت اہم مسئلہ رہا ہے۔اسی سوال کے جواب پر انسانی کاروان کی سمت اور اس کا آگے بڑھنا منحصر ہے اور اسی پر انسانی زندگی کے زوال کا بھی انحصار ہے۔یا یہ کہ انسان اپنی زندگی اور اپنے معاشرے اور اپنی دنیا کی کیسے تعمیر کرتا ہے،اس کا تعلق اسی سوال کے جواب سے ہے۔ اگر ایک انسان اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ وہ روح رکھتا تو وہ اور طرح کی دنیا تعمیر کرے گا۔ مطلب یہ ہے کہ کیا موت کے آنے سے انسان کی زندگی کا خاتمہ ہو جائے گا اور انسان کی تخلیق کا عمل جو مٹی اور پانی کے ملاپ سے شروع ہوا، اس دنیاوی زندگی کاخاتمہ ہی اس سارے عمل اور تسلسل کا خاتمہ اور اس کے اعمال، کردار، سوچیں اور خواہشیں سب ختم ہوجاتی ہیں۔سب کچھ ملیامیٹ ہوجاتا ہے اور انسانی زندگی ایک حسرتناک اور تاریک انجام سے دوچار ہوجاتی ہے۔ یا پھر بقول میرؔ

موت اک زندگی کا وقفہ ہے

یعنی آگے چلیں گے دم لے کر

            علامہ اقبال کہتے ہیں:

یہ نکتہ سیکھا میں نے بوالحسن سے

کہ جاں مرتی نہیں مرگ بدن سے

            میر کا شعر پوری طرح حق ادا تو نہیں کرتا لیکن مطلب کو ذہن کے قریب ضرور کرتا ہے۔ کسی کے آنسو دیکھ کر دوسرا انسان تڑپ اٹھتا ہے۔ روبوٹ ایسا نہیں ہے ۔روبوٹ کا ذکر یہاں بطور علامت ہے۔ایک روح والے اوربے روح وجود میں فرق کرنے کے لیے ہم نے روبوٹ کو علامت کے طور پر ذکر کیا ہے۔ یعنی کیا انسان ایسا ہے کہ ادھر کوئی سوئچ آف ہوا اور ادھر قصہ تمام؟

ہم دیکھتے ہیں کہ انسان کے سینے میں ارمان ہوتے ہیں۔خواہشات ہوتی ہیں۔غالب کے بقول  ؎

ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے

بہت نکلے مرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے

            یہی وجہ ہے کہ ایک روایت کا مفہوم کچھ اس طرح سے ہے کہ کسی نے امام جعفر صادقؑ سے پوچھا کہ انسان گناہ تو چند سال کرتا ہے پھر وہ دائمی طور ر جہنم کا حقدار کیسے بن جاتاہے اور اعمال نیک بھی چند سال کرتا ہے، وہ دائمی طور پر جنت کا مستحق کیونکر قرار پاتاہے؟امام نے فرمایا کہ گناہ کرنے والے نے برائی کا ایک راستہ اس طرح سے اختیار کرلیا ہوتا ہے کہ اسے جتنی بھی زندگی ملے وہ اسی راستے پر بسر کرتا جائے گا۔اپنی نیتوں اور خواہشوں کی وجہ سے وہ دائما دوزخ میں رہے گا اور جنت میں بھی دائمی طور پر وہی رہے گا جس نے اپنی آرزو اور آزاد انتخاب سے ہمیشہ کے لیے نیکی کا راستہ اختیار کرلیا ہو۔

            اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایسا شخص جو بدن کی موت سے روح کی موت کا قائل نہیں بلکہ وہ حیات بعد از ممات کا قائل ہے تو پھر اس زندگی کی خواہشیں اور تمنائیں اس کے لیے اور طرح کی حقیقت رکھتی ہیں۔

            ایک او رحدیث میں ہے:

نیۃ المومن خیر من عملہ (الکافی، ج۲، ص ۸۴، ح۲)

مومن کی نیت اس کے عمل سے اچھی ہوتی ہے۔

            ایک مومن بہت اچھی نیت رکھتا ہے۔کثرتِ عمل خیر کی خواہش رکھتا ہے۔کثرتِ عبادت کی آرزو رکھتا ہے۔ بندگان خدا کے زیادہ سے زیادہ دکھ بانٹنا چاہتا ہے لیکن ظاہر ہے اسے اتنا موقع میسر نہیں آتا اور وہ اپنی ساری خواہشوں کو پورا نہیں کرپاتا۔لہذا اس کی نیت بہرحال اس کے عمل سے بہتر ہوتی ہے۔بساعمل کی کیفیت اور نیت کی کیفیت میں بھی ایسا ہی فرق رہ جاتا ہے۔

 

۵۔خوابوں کی دنیا

            تو کیا ہم ایسے ارمانوں بھرے وجود کو بے روح سمجھ سکتے ہیں؟انسان خواب بھی دیکھتا ہے،روبوٹ خواب نہیں دیکھتا۔انسان گذشتہ دور کے بارے میں ،موجودہ دور کے بارے میںاور آنے والے دور کے بارے میں خواب دیکھتاہے۔قرآن نے جس کہانی کو ’’احسن القصص‘‘ کہا ہے وہ ہر خواب پر ایک نیا موڑ مڑتی ہے۔یوسف(ع)اپنے بچپن میں ایک خواب دیکھتے ہیں۔یہ کہانی کی ابتداہے، اٹھان ہے،پیش گوئی ہے،ایک عظیم مستقبل کا سہانا سپنا ہے۔کہتے ہیں:بابا!میں نے خواب دیکھا ہے کہ سورج،چاند اور گیارہ ستارے میرے سامنے سجدہ ریز ہیں۔ان کے بابا یعقوبؑ کہتے ہیں۔بیٹا:یہ خواب اپنے بھائیوں کو نہ سنانا۔

            پھر یوسفؑ کے زندان کے دو ساتھی خواب دیکھتے ہیں تو کہانی ایک نیا موڑ مڑجاتی ہے۔پھر بادشاہِ مصر ایک خواب دیکھتا اور کہانی ایک نیا موڑ مڑتی ہے۔انسان خواب دیکھتا ہے،یہ خواب اس کی زندگی کے آگے بڑھنے، اس کی نشوونما میں اور اس کے تکامل میں ایک کردار ادا کرتے ہیں۔

            یہاں تک ہم نے بات کی کہ انسان روح دار ہے تو پھر موت کس کو آتی ہے؟اگر ایک اعتبار سے دیکھا جائے تو روح اور بدن کا رشتہ منقطع ہوتا ہے۔ ایک جہت سے موت آتی ہے اور دوسری جہت سے انسانی بدن تخلیق حیات کے ایک تازہ سلسلے میں شامل ہوجاتا ہے۔یہ خاک ایک نئی زندگی کی تعمیر میں شامل ہوجاتی ہے۔روح اپنا ایک نیا سفر حیات شروع کرتی ہے۔

            روحوں سے ارتباط کا بھی بہت سے انسانوں کو تجربہ ہے۔یہ روحیں کچھ نہ کچھ کردار ادا کررہی ہوتی ہیں اور کچھ نہ کچھ کردار ادا کرسکتی ہیں۔

            خواب کو بدن اور روح کی جدائی کا ابتدائی مرحلہ قرار دیا جاسکتاہے۔یہ شباہت ایک پہلو سے ہے۔تاہم خواب کا تعلق بیشتر اس مادی زندگی سے ہوتا ہے کیونکہ عام روحیں اتنی ترقی یافتہ ہی نہیں ہوتیں کہ وہ جہانِ ماورائے مادہ کے اعلیٰ حقائق درک و جذب کرسکیں۔

            بھارت کا ایک مشہور ریاضی دان تھا۔اپنی ابتدائی زندگی میں اس نے گریجوایشن مکمل کرلی تھی۔اس کا ذہن حساب میںخوب چلتا تھا۔ وہ مزید تعلیم حاصل کرنا چاہتا تھا لیکن ایک غریب آدمی تھا۔ وہ عارضی طور پر محکمہ ڈاک میں بھرتی ہوگیا۔ڈاکیے کی حیثیت سے سائیکل چلارہا ہوتا تھا لیکن دماغ ریاضی کے فارمولوں میں الجھا رہتا تھا۔اس نے انگلستان کی ایک یونیورسٹی کو خط لکھا اور داخلے کی خواہش کی اور اپنا کچھ کام بھی شعبۂ ریاضی کے سربراہ کو بھیجا۔اس نے اندازہ لگا لیا کہ وہ ایک ذہین اور لائق طالب علم ہوسکتا ہے۔ انھوں نے داخلہ اور وظیفہ دینے کی حامی بھر لی لیکن اس کی ماں اسے باہر جانے کی اجازت نہ دیتی تھی۔ یہ ایک ہندو خاندان تھا۔ ایک روز بوڑھی والدہ نے خواب دیکھا کہ وہ جس دیوی کی پوجا کرتی ہے وہی اسے کہ رہی ہے کہ اپنے بیٹے کو باہر جانے دو۔ ماں جاگی تو وہ بیٹے کو اجازت دینے پر آمادہ ہوچکی تھی۔ بیٹا باہر چلا گیا اور آخر کار ایک نامور ریاضی دان بن گیا۔

            شاید ایک کوتاہ نظر انسان کی رائے میں یہ ’’ دیوی ‘‘ کا کمال ہے لیکن خدائے واحد قہار نے انسانی قافلے کو کمال و ارتقا کے سفر میں آگے بڑھانے کا فیصلہ کر رکھا ہے۔ اللہ کی کبریائی کو کوئی فرق نہیں پڑتا کہ وہ خواب میں اسی کو دکھادے جس کا خواب دیکھنے والا احترام کرتا ہے۔وہ انسانی سطح فکر و خیال کے لحاظ ہی سے اسے ایک مرحلے سے دوسرے مرحلے کی طرف آگے بڑھاتا رہتا ہے۔پوری کائنات کا ایک ہم آہنگ پروگرام ہے۔ اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ خواب انسانی زندگی اور پوری انسانی سوسائٹی کے ارتقا میں بھی اپنا کردار ادا کررہے ہوتے ہیں۔

            فی الحال ہماری گفتگو اس بارے میں ہے کہ انسان ایک سادہ مادی وجود نہیں۔اس کے خوابوں ہی کی عظیم کائنات اسے تمام دیگر موجوادات سے ممتاز ثابت کرنے کے لیے ایک روشن دلیل ہے۔ انسان کی حیات،حیات کی دیگر معلوم اقسام سے بہت مختلف ،پیچیدہ،وسیع،عمیق اور ترقی یافتہ ہے۔اسی پہلو سے ہم انسان کو ایک روح دار موجود سمجھتے ہیں۔ قرآن کا نظریہ یہ ہے کہ انسان کے اعمال ہی نہیں،آثار بھی لکھے جاتے ہیں۔ارشاد الٰہی ہے:

 اِنَّا نَحْنُ نُحْیِ الْمَوْتٰی وَ نَکْتُبُ مَا قَدَّمُوْا وَ اٰثَارَھُمْ وَ کُلَّ شَیْئٍ اَحْصَیْنٰہُ فِیْٓ اِمَامٍ مُّبِیْنٍ۔(یٰسین:۱۲)

بیشک ہم مردوں کو زندہ کرتے ہیں اور ہم ان کے اعمال بھی لکھتے ہیں اور ان کے آثار بھی۔

            روح انسانی اس قدر ذمہ دار ،اس قدر فاعل مختار، اس قدر دارائے حیات اور اس درجہ مسئول ہے۔ایسی حیات کے لیے ایک اندھی موت،ایک بے انجام اور ایک تاریک خاتمے سے ہمکنار ہوجانے کا نظریہ کس قدرو حشت آور ہے۔

            اسی نظریے سے قیامت اور جنت وجہنم پر ایمان وابستہ ہے۔ اسی نظریے سے توحید و رسالت پر ایمان وابستہ ہے اور انسان کی موت کے بعد مسئولیت کا نظریہ ہی بتاتاہے کہ انسان اس دنیا میںمحض ایک متعین تقدیر لے کر نہیں آیا۔

 

۶۔انسان لائق تربیت ہے

            اسی سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ انسان لائق تربیت بھی ہے۔ انسان لائقِ تربیت نہ ہوتا تو اسے وعظ و نصیحت کی ضرورت بھی نہ تھی اور انبیاء کا سلسلہ بھی عبث تھا۔ پھر درس اخلاق کی بھی ضرورت نہ تھی۔ کوئی درس اخلاق دیتا نہ کوئی درس اخلاق لیتا۔اخلاقی تربیت کے سلسلے تو اُ ن معاشروں نے بھی شروع کررکھے ہیں جو تعبیرکائنات کے ماورائے مادہ تصور کو سرکاری طور پر قبول نہیں کرتے۔

            اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان بدلتا ہے ۔ہم نے انسانوں کو بدلتے ہوئے دیکھا ہے۔ہم نے اپنے آپ کو بدلتے ہوئے دیکھا ہے۔ایک ایک خواب اور ایک ایک واقعہ زندگی کو بدل دیتا ہے۔ آپ اپنی زندگی میں جھانک کر دیکھیں۔ ایسی بہت سی مثالیں آپ کو مل جائیں گی۔کبھی کسی ایک واقعے نے،کسی مختصر سی تحریر نے،کسی ایک مصرعے نے کہاں اور کس موڑ پر آپ کی زندگی کا رخ بدل دیا، آپ کی حیات کا دھارا بدل دیا، آپ کی کایاپلٹ دی۔انسان کا انفرادی طور پر اور قوموں کا ارادہ بدل جاتا ہے۔ تبھی تو انھیں انسانی حقوق یاد دلائے جاتے ہیں، ان کی تبلیغ کی جاتی ہے اور ان کے احترام کا تقاضاکیا جاتا ہے۔

            اسی پر پوری دنیا کے عدالتی نظام کی بنیاد ہے۔جزاو سزا کا سارا نظام اس نظریے پر استوار ہے کہ انسان کی تقدیر متعین نہیں ہے،انسان فاعل مختار ہے اور انسان اپنے آپ کو تبدیل کرنا چاہے تو کرسکتا ہے۔سزائوں کے عدالتی فیصلوں کو دوسروں کے لیے عبرت اور درس اخلاق بھی قرار دیاجاتا ہے۔گویاجب کوئی عدالت کسی مجرم کو سزا دے رہی ہوتی ہے تو سارے انسانوں سے کہ رہی ہوتی ہے کہ دیکھو اپنے اختیار اور ارادے کو مثبت راستے میں بروئے کار لائو تو تمھیں آزاد ارادے کے ساتھ پیدا کیا گیا ہے۔

اس طرح سے ہم نے نہ صرف ان لوگوں کے نظریے کو باطل ثابت کردیا بلکہ ان کے نقطہء نظر کو بھی جو کہتے ہیں کہ انسان کو چونکہ تبدیل نہیں کیا جاسکتا اس لیے اسے کسی درس اخلاق کی ضرورت نہیں۔ شروع سے آج تک اور ہر علاقے میں انسانوں کے ہاں رائج نظام عدالت اور نظام جزاوسزانے عملی طور پر ان نظریات کے بطلان پر مہر ثبت کردی ہے۔

 

۷۔کیا اخلاق بدلتا رہتا ہے؟

            اب ہم اس سوال کا جائزہ لیتے ہیں کہ کیا اخلاق بدلتا رہتا ہے؟کیا زمان و مکان کے تغیر سے اخلاق بھی متغیر ہوجاتاہے؟کیا اخلاق کے پیمانے بدل جاتے ہیں؟

            یہ سوال مربوط ہے ایک اور سوال سے اور وہ یہ کہ کیا شروع سے آخر تک یعنی ہمیشہ سے اور ہمیشہ کے لیے انسان کی ایک ہی فطرت ہے؟اگر فطرت بدلتی ہے تو اخلاق بدلتا ہے اور اگر فطرت نہیں بدلتی تو اخلاق اور اس کے پیمانے نہیں بدل سکتے ۔

            اس سلسلے میں ایک اور بھی سوال ہے اور وہ یہ کہ کیا زندگی میں سب کچھ متغیر ہے،سب کچھ دگرگوں ہے یا بعض چیزیں متغیر ہیں اور بعض غیر متغیر یا پھر کچھ بھی نہیں بدلتا۔ ہم دوسری صورت کو اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں اور مشاہدہ کر رہے ہیں۔یعنی کچھ چیزیں نہیں بدلتیں۔ فطرت نہیں بدلتی، انداز بدلتے ہیں۔ایک اور انداز سے ہم یوں کہے دیتے ہیںکہ انسان کے اندر جو چیز نہیں بدلتی اسی کو ہم فطرت کہتے ہیں۔عادتیں بدل جاتی ہیں۔راقم ہی کاایک شعرہے:

وہی باتوں میں آنے کی عادت

ان کے کہنے پہ عادتیں بدلیں

            اسی غزل کا ایک اور شعر ہے:

بدلی بدلی لگے گی یہ دنیا

جب دعائوں نے قسمتیں بدلیں

            اخلاق کا تعلق ان چیزوں سے ہے جو نہیں بدلتیں۔مثلاً جھوٹ ،جھوٹ کی حیثیت سے،مجموعی طور پر انسان کے لیے ناپسندیدہ رہا ہے۔ یہاں تک کہ جو بولتے ہیں وہ بھی پسند نہیں کرتے کہ انھیں جھوٹا کہا یا سمجھا جائے۔وہ بھی چاہتے ہیں کہ دوسرے ان سے سچ کہیں۔افتخار عارف کہتے ہیں:

میں اس سے جھوٹ بھی بولوں وہ مجھ سے سچ بولے

مرے مزاج کے سب موسموں کا ساتھی ہو

            اسی غزل کا مطلع ہے:

دیار نور میں تیرہ شبوں کا ساتھی ہو

کوئی تو ہو جو مری وحشتوں کا ساتھی ہو

            یعنی انسان کو جھوٹ اچھا نہیں لگتا، سچ اسے اچھا لگتا ہے۔ یہ اس امر کی دلیل ہے کہ اخلاق اور اس کے پیمانے نہیں بدلتے اور اس کے پیچھے اس کی نہ بدلنے والی فطرت کارفرما ہے۔سچ ہر دور میں انسان کو اچھا لگا اور جھوٹ ہر دور میں انسان کوبرالگا۔

            ظلم وعدل کے حوالے سے غور کریں۔ایک ظالم بھی پسند نہیں کرتا کہ اسے ظالم کہا یا سمجھا جائے۔اس کی یہی آرزو ہوتی ہے کہ اس کے عدل کے چرچے ہوں۔

            انسان کے ساتھ بھلائی اور اچھائی،غریبوں اور محروموں کی دستگیری،کسی گرتے کا ہاتھ تھامنا اور نابینا کو سڑک پار کروانا،اسی طرح بھوکے، یتیم،مسکین اور اسیر کو کھانا کھلانا ہمیشہ سے اچھا ہے۔ہر کہیں اچھا ہے۔قرآن بنت رسولؐ فاطمہ زہراؑکے گھرانے کے ایثار کی تصویر ان الفاظ میں کھینچتاہے:

یہ لوگ اللہ کی محبت میں اور اپنی ضرورت کے باوصف مسکین،یتیم اور اسیر کو کھانا کھلاتے ہیں۔

            ایسے مناظر ہر دور میں انسانی ضمیر کو بھلے لگتے ہیں۔ ایسا کام ہر دور میں فطرت انسانی کا تقاضا ہے اور یہ اعلیٰ انسانی اخلاق کا ایک نمونہ ہے۔کسی محروم ومحتاج کی دستگیری کرنا، ہرمقام پر اور ہر دور میں حسن خلق ہے، کسی دکھی کو دیکھ کر دکھی ہونا،کسی کے دکھ پر انسان کا اس کی دلجوئی کرنا،اظہار ہمدردی کرنا ،آپ اس کی مدد کرسکتے ہوں یا نہ کرسکتے ہوں،یہ حسن خلق ہے۔مثلاً کشمیر سے اٹھنے والی چیخیں،وہاں لٹ جانے والی عصمتیں، وہاں پر اجڑنے والی بستیاں اور وہاں راکھ کے ڈھیر میں بدل جانے والے بازار آپ کو بے قرار کرتے ہیں یا نہیں ،آپ کے سینوںکو ویران کرتے ہیں یا نہیں،آپ کی آنکھوں کو اشکبار کرتے ہیں یا نہیں؟اگر کرتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ضمیر انسانی آپ کے اندر زندہ ہے اور یہ آپ کے اندر حسن خلق کے جلوہ گر ہونے کی علامت ہے۔یادرکھیے کہ اگر اس کی حقیقی تصویر دیگر ممالک کے باشندوں تک پہنچے،یہاں تک کہ بھارت کے انسانوں تک بھی اس صورت حال کو صحیح طور پر پہنچایا جائے تو ان کا ردعمل بھی آپ جیسا ہوگا۔ کبھی ترجیح کا مرحلہ درپیش ہوتا ہے، البتہ اخلاق کے پائیدار اور نا پائیدار ہونے کی بحث گاہے ایک اشتباہ کی وجہ سے الجھ جاتی ہے۔ یہ اشتباہ پیدا ہوتا ہے جہاں انسان کسی چوراہے یا جنکشن پر پہنچتا ہے اور فیصلہ کرنا ہوتا ہے کہ کس سمت جانا ہے۔ فقہ میں یہ موضوع مرجحات کی بحث میں آتا ہے، جہاں دو حدیثیں مختلف اور متصادم حکم دے رہی ہوں تو وہاں فیصلہ کرنا ہوتا ہے کہ دونوں کو چھوڑ دیں یا ایک کو ترجیح دیں۔ ایسے میں علماء کہتے ہیں جہاں تک ممکن ہو جمع کی صورت نکالی جائے ورنہ ایک کو ترجیح ہوگی۔ اصول فقہ میں ایک بحث حکومت کی بھی ہے، جس میں کہا جاتا ہے کہ دو میں سے ایک کو دوسرے پر ترجیح ہوگی۔ اخلاقی اصولوں میں بھی ایسا ہی ہوتاہے۔ اس ساری گفتگومیں ہم اس نتیجے پر پہنچے کہ اخلاق اور اس کے پیمانے نہیں بدلتے ۔

            پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ بدلتا کیا ہے؟

            بدلتا کیا ہے؟مثلاً پہلے دور میں خچروں،گھوڑوں،اونٹوںاور گدھوں پر سواری ہوتی تھی اور آج بسوں،ویگنوں،کاروں،اور ہوائی جہازوں پر سواری ہوتی ہے۔لباس کا انداز اور کیفیت بدل جاتی ہے۔ہاتھ کی جگہ آج مشین نے لے لی ہے۔ یہ چیزیں بدلنے والی ہیں۔تہذیب کے یہ مظاہراور انسانی زندگی کے رہنے  سہنے کے آداب اور طریقے بدلتے ہیں۔انسان کی فطرت نہیں بدلتی۔یہ تبدیلیاں بھی انسان کی فطرت کے تقاضے کے باعث ہیں۔فطرت کے تقاضے اپنی اصلیت میں ایک ہیں۔انسان بہت سے کام کرنا چاہتا ہے،وہ جلدی سے منزل پر پہنچنا چاہتا ہے۔وہ آرام وآسائش چاہتا ہے۔ انسان نے اپنی اسی خواہش کے پیش نظر نوبنو چیزیں بنائی ہیںاور اپنے جہان کو طرح طرح سے خراشا اور تراشا ہے۔گویا فطرت تو ایک ہی ہے۔

            قرآن حکیم میں ہے:

            ترجمہ: اللہ نے انسان کو اپنی فطرت پرپیدا کیا ہے۔(روم۔۳۰)

            اور اللہ کی فطرت نہیں بدلتی۔علامہ اقبال کہتے ہیں:

حقیقت ابدی ہے مقام شبیری

بدلتے رہتے ہیں انداز کوفی و شامی

            شبیری مقام دراصل انسان کا وہ مقام ہے جس میں الہیٰ فطرت انسان کے اندر پوری قوت سے جلوہ گر ہوتی ہے۔ لہٰذا یہ حقیقت ابدی ہے۔

            یہاں سے ہم یہ بات سمجھ گئے کہ انسان کا نظریۂ اخلاق انسانی زندگی پر کیا اثرات مرتب کرتا ہے۔جو لوگ اخلاق سے خالی ہوتے ہیںوہ چیچنیا والوں سے اور طرح کا سلوک کرتے ہیںاور مشرقی تیمور والوں سے اور طرح کا سلوک کرتے ہیں۔وہ کویت پر عراق کے قبضے کے خلاف اور طرح کا ردعمل ظاہر کرتے ہیںاور کشمیر میں سات لاکھ کیل کانٹے اور جدید اسلحہ سے لیس منظم فوج کی درندگی اور بہیمیت کو اور نظر سے دیکھتے ہیں۔

۸۔روحانی نظریہ اخلاق میں عالم بشر کی نجات ہے

            اگر کوئی شخص انسان کو دارائے روح سمجھتا ہے اور بقائے روح کا قائل ہے،اخلاق کو پائیدار حقیقتوں سے عبارت سمجھتا ہے ۔جوانسان کو فاعل مختار اور مسئول سمجھتا ہے وہ اور طرح کا جہان تعمیر کرتا ہے۔جہان کو فقط مادی نظر سے دیکھنے والا اگر کسی فلسفۂ اخلاق کا بظاہر قائل بھی ہو تو یہ اخلاق نمائشی ہوگا اور اس کے پردے کی اوٹ میں طاغوت کار فرما ہوگا۔انسانی حقوق کے نعرے کے ساتھ امریکہ اور اس کے حواری صفحۂ عالم پر اپنے اخلاق کی جو تصویر بنارہے ہیں و ہ آپ کے سامنے ہے۔انسانی تقدیر اگر ماورائے مادہ جہان کے کسی محکم تصور سے عاری انسانوں کے ہاتھ میں رہے گی تو دنیا کا چلن یہی رہے گالیکن اگر روحانی نظریہ ٔاخلاق کے ہاتھ میں دنیا کی باگ ڈور آگئی تو پھر اس کی حامل قیادت:

            دنیا جیسے ظلم و جور سے بھری ہوگی وہ اسے ویسے ہی عدل و داد سے بھر دے گی۔

            اسی کو مسلمانوں کی مذہبی اصطلاح میں نظریہء مہدویت کہتے ہیں۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نوٹ: مضمون نگار ’’مبصر ڈاٹ کام‘‘ کے چیف ایڈیٹر ہیں اور البصیرہ کے سربراہ ہیں۔ مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھ info@mubassir.com پر ای میل کریں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  56907
کوڈ
 
   
مقبول ترین
ادارہ التنزیل اور خادمان قرآن کے زیر اہتمام قرآنی ویبینار کا انعقاد کیا گیا جس میں ملک بھر سے قرآنی اداروں کے سربراہان نے شرکت کی۔ ویبینار میں قرآنی معاشرے کی تشکیل اور اس کے خدوخال کے موضوع پہ مقررین نے خطاب کیا۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے صدر وولکن بوزکر نے کہا ہے کہ دنیا کو کورونا سے نمٹنے کے لیے پاکستان کی کوششوں سے سیکھنے کی ضرورت ہے۔ کورونا وائرس سے نمٹنا دنیا بھر کےممالک کے لیے چیلنج ہے۔
شہر قائد میں مسلسل تیسرے روز بھی وقفے وقفے سے کہیں تیز اور کہیں ہلکی بارش کا سلسلہ جاری ہے جب کہ اس دوران پیش آنے والے حادثات و واقعات میں جاں بحق افراد کی تعداد ۹ ہوگئی ہے۔ کراچی سمیت سندھ اور بلوچستان کے بیشتر اضلاع میں مون سون بارشوں کا سلسلہ جاری ہے۔
پاکستان کے وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے چند روز قبل نجی ٹی وی چینل پر کشمیر اور مسلم ممالک پر مشتمل اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) سے متعلق ایک بیان دیا جسے بعدازاں چینل نے سینسر کر دیا گیا۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں