Friday, 16 November, 2018
’’قیام امام حسین ؑ کے مقاصد‘‘

’’قیام امام حسین ؑ کے مقاصد‘‘
تحریر: ثاقب اکبر

 

امام عالی مقام سید الشہدؑ اء کے قیام کے مقاصد کیا تھے، اس سلسلے میں آپؑ کی شہادت کے دن سے گفتگو جاری ہے اوررہتی دنیا تک جاری رہے گی۔یہ واقعہ ہی اتنا اہم ہے کہ اس کی طرف سے صرف نظر کر کے تاریخ گزر سکتی تھی نہ تاریخ کے تجزیہ نگار، اس سے ادیب غمض نظر کرسکتے ہیں نہ حساس دل رکھنے والے شاعر۔ اتنا ہی نہیں یہ حادثۂجاں فگار تو اپنے بعد کی انسانی تاریخ کے لیے ایک سرچشمہ بن گیا۔ تاریخ اور تاریخی تحریکات سرچشمے سے پھوٹنے لگیں۔ اس واقعے کے علل و اسباب پر بہت کچھ لکھا گیا ہے اورقیام حسینی کے مقاصد کو طرح طرح سے بیان کیا گیا ہے۔

حصولِ حکومت:

اس واقعے پر حسین ؑ کے چاہنے والوں نے بھی لکھا اور نواصب بھی اپنے بغض کا اظہارکرنے سے باز نہیں آئے۔ ان میں سے بعض نے آپؑ کے قیام کا مقصد حصولِ حکومت قراردیا۔ اس سلسلے میں یہ بات اہم ہے کہ مخالفین نے بطور الزام یہ بات کہی۔ جنھوں نے واقعہ کربلا کو خاکم بدہن دوشہزادوں کے مابین معرکہ قراردیا، وہ یہی کہنا چاہتے ہیں کہ امام حسینؑ اپنی حکومت کے قیام کے لیے اور طلبِ سلطنت میں مدینے سے نکلے۔ اسی فکر کے حامیوں کا بطلان ظاہر کرتے ہوئے حکیم الامت علامہ اقبالؒ کہتے ہیں:

مدّعایش سلطنت بودی اگر

خود نکردی باچنین سامان سفر

یعنی اگر امام حسینؑ کا مدّعا ومقصد حصول سلطنت ہوتا تو ایسے سازوسامان کے ساتھ آپ ہرگز سفر پر نہ نکلتے۔

اسلامی حکومت کا قیام:

دوسری طرف آپؑ کے بعض حامیوں کا کہنا ہے کہ آپؑ یزید کی باطل اورظالمانہ حکومت کے مقابلے میں اسلام کی عادلانہ حکومت قائم کرنے کے لیے نکلے تھے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اگرآپؑ اس مقصد کے لیے قیام کرتے تو برحق ہوتا۔ ظالم حکمرانوں اوراستحصالی نظاموں سے اللہ کے بندوں کو نجات دلانے اور انسانی مساوات پر مبنی عادلانہ حکومت قائم کرنے کے لیے انبیاء بھی جدوجہد کرتے رہے ہیں۔ امام عالی مقام ؑ کی شہادت کے بعد بھی ایسی تحریکیں چلتی رہی ہیں۔ آپؑ ایسا اقدام کرتے اور اس کے لیے جدوجہد کرتے تو اس میں کوئی مضائقہ نہ تھا بلکہ انسانوں کو ضرورت تھی کہ انھیں ایسے عظیم انسان کی عملی امامت اورقیادت میسرآتی اور وہ یزید جیسے مستبد حکمران سے نجات پاتے لیکن اگر، اس دور کے زمینی حقائق کو پیش نظررکھا جائے، حالات و اقعات کا جائزہ لیا جائے اور فرزندِ رسولؐ امام عالی مقامؑ کے خطبات پر نظر ڈالی جائے تو یہ نہیں کہاجاسکتا کہ آپؑ نے تشکیل حکومت کو اپنا مقصود نظرقرار دیا ہو۔ حالات اس اقدام کے لیے موید نہ تھے۔ اس دور میں امت اسلامیہ کی مجموعی کیفیت ایسی نہ تھی کہ جس کے بھروسے پر ایسی کوئی تحریک برپاکی جاتی۔ یہ درست ہے کہ آپؑ کے پاس کوفہ سے بہت سے خطوط پہنچے تھے اورآپؑ نے بھی اہل کوفہ اوراہلِ بصرہ کے نام مکتوب روانہ کیے تھے اور خلافت وحکومت کے لیے اپنے سزاوار ہونے کا ذکر کیا تھا لیکن ان کا مقصد حکمرانوں کی حقیقت کو آشکار کرنا، اپنی حیثیت کی طرف متوجہ کرنا اور حجت تمام کرنا تھا وگرنہ بہت سے دلائل ایسے ہیں جو اس امر کو ثابت کرنے کے لیے کافی ہیں کہ آپؑ کے علم میں تھا کہ آپؑ نے شہادت کا سفراختیارکیا ہے۔ ذیل میں چند ایک کی طرف اشارہ کیا جارہا ہے:

۱۔ آپؑ کے خاندان میں تواتر سے آپؑ کی شہادت کی خبریں چلی آرہی تھیں بلکہ سرزمین کربلا کا ذکربھی چلا آرہا تھا۔ روایات میں ہے کہ جبریل امینؑ کربلا کی مٹی رسول اکرمؐ کے پاس لائے تھے اور کہا تھا کہ یہ اس سرزمین کی مٹی ہے جہاں آپؑ کے نواسے حسینؑ کو شہید کیا جائے گا۔ آنحضرتؑ نے یہ مٹی اپنی زوجہ محترمہ حضرت ام سلمی علیھا السلام کے حوالے کی تھی اورفرمایا تھا کہ جب حسین ؑ شہید ہوں گے تو یہ مٹی سرخ ہوجائے گی۔ 

ایسی اوربھی بہت سے روایات موجود ہیں۔

۲۔ امام عالی مقامؑ ۲۸رجب ۶۰ھ کو مدینہ منورہ سے مکہ مکرمہ کے لیے روانہ ہوئے۔ روانہ ہونے سے قبل آپؑ اپنے نانا اللہ کے رسولؐ کی قبر اطہر پر الوداع کے لیے آئے۔ آپؑ نے اپنے نانا کی بارگاہ میں عرض کی:

میرے ماں باپ آپ پرقربان ہوں یارسول اللہ!

میں آپ کے جوار سے مجبوراً جارہا ہوں۔ مجھے شرابی اور فاجر یزید کی بیعت پر مجبورکیا جارہا ہے۔ اگر میں یزید کی بیعت کروں تو یہ کفر ہے اوراگر انکارکروں تو قتل کردیا جاؤں گا۔ پس میں حالت اکراہ میںآپ کے جوار سے جداہورہا ہوں۔ آپ پر میراسلام ہو یارسول اللہ!

نانا اور نواسہ کے مابین تو کوئی تکلف نہ تھا، یہ تو دل کی بات تھی،حقیقت کا آئینہ تھا۔ اس میں مدینہ چھوڑ نے کی وجہ صاف صاف دیکھی جاسکتی ہے۔

۳۔ مدینہ سے جاتے ہوئے آپؑ نے اپنے بھائی محمد بن الحنفیہ کے نام وصیت لکھی۔ اس کی عبارت ملاحظہ کیجئے:

یہ حسین بن علی کی وصیت ہے اپنے بھائی محمد بن حنفیہ کے نام:

حسین گواہی دیتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ وحدہ لاشریک ہے اور گواہی دیتا ہے کہ محمد اللہ کے رسول اور اس کے عبد ہیں، وہ حق کے ساتھ حق کی طرف سے آئے اور یہ بھی گواہی دیتا ہے کہ جنت حق ہے، دوزخ حق ہے، قیامت آنے والی ہے، اس میں کوئی شک نہیں، اللہ مردوں کو قبور سے اٹھائے گا۔ میں ہواوہوس اورکسی ذاتی مفاد کے لیے نہیں نکل رہا۔ نہ فساد میرا مقصد ہے اور نہ ظلم، میں تو اپنے جدکی امت کی اصلاح کے لیے نکل رہا ہوں۔ میں چاہتا ہوں کہ امربالمعروف اورنہی عن المنکر کروں اور اپنے نانا اورباباعلی ابن ابی طالب کی سیرت اختیارکروں۔ اگر کوئی شخص میری اس دعوت کو حق ہونے کی بنا پر قبول کرتا ہے تو خدا ہمیشہ سے حق کا مددگار ہے اور اگر کوئی میری دعوت کو قبول نہ کرے تو میں صبر سے کام لوں گا یہاں تک کہ خدا میرے اوراس قوم کے مابین فیصلہ کردے۔

اس وصیت میں آپ نے اپنا قیام کا مقصد وضاحت سے بیان کردیا ہے۔ اس وصیت کے جملوں میں جھانک کردیکھا جائے تو صاف طور پر ظاہر ہوجاتا ہے کہ آپ کو اپنے انجام کا علم ہے۔ آپ اپنے برحق ہونے اور اپنی دعوت کے برحق ہونے پر بھی ایمان رکھتے تھے اور یہ بھی جانتے تھے کہ اس کا انجام کیا ہونے والا ہے، خاص طور پر آخری جملے سے یہ حقیقت واضح طور پر سامنے آرہی ہے۔

۴۔ امام عالی مقامؑ ۳شعبان ۶۰ہجری کو مکہ پہنچے۔ کوفہ والوں کی طرف سے پہلا مکتوب ۱۰رمضان المبارک کو آپؑ کے پاس پہنچا۔ اس دوران میں آپؑ نے عراق کی طرف روانہ ہونے کا اعلان نہیں فرمایا تھا۔ تاہم خط وکتابت کا سلسلہ شروع ہوچکا تھا۔ یہاں تک کہ ماہ ذوالحجہ آپہنچا۔ آپؑ نے حج کے ارادے سے احرام باندھ لیا تھا لیکن پھر حج تمتع کا ارادہ عمرے سے بدل لیا اوراچانک مکہ مکرمہ سے نکل جانے کا فیصلہ کیا۔ ۸ذوالحجہ کو آپؑ مکہ سے نکلے۔ اب آپؑ کا رخ کوفہ کی طرف تھا۔ یہاں یہ بات یاد رکھنے کے قابل ہے کہ امام حسینؑ نے پچیس حج مدینہ سے یا پیادہ کیے تھے۔خانۂ خدا سے آپؑ کا عشق کسی سے مخفی نہ تھا، ایسے میں اچانک اوروہ بھی حج سے دو دن پہلے مکہ سے نکل کھڑا ہونا بڑا معنی خیز تھا۔ لہٰذا آپؑ سے اس کی وجہ پوچھی گئی تو آپؑ نے فرمایا کہ یزید ابن معاویہ نے کچھ افراد حاجیوں کے بھیس میں بھیجے ہیں تاکہ وہ طواف کے دوران اچانک حملہ کرکے مجھے قتل کردیں۔ آپؑ کے علم میں یہ بھی تھا کہ آپؑ کے نانا نے فرمایا تھا کہ خانہ کعبہ میں ایک ’’مینڈھا‘‘ قتل کیا جائے گا۔ آپؑ نے فرمایا کہ میں وہ مینڈھا نہیں بننا چاہتا جس کا خون بہانے سے حرم الٰہی کی حرمت پامال ہو۔

متعدد دیگر تاریخی اسناد کے مطابق یزید یہ فیصلہ کرچکا تھا کہ آپؑ کو ہرصورت میں شہید کردیا جائے۔ آپؑ کے پاس صرف یہ صورت باقی تھی کہ اپنی شہادت کے طریقِ کار کا انتخاب کریں۔ آپؑ نے اپنی شہادت کے طریقِ کار کا ایسا انتخاب کیا جس سے آپؑ کے مقاصد بہتر طور پر حاصل کئے جاسکیں۔

۵۔ دورانِ سفر فرزندرسول امام حسینؑ کو معلوم ہوگیا کہ آپ کے نمائندہ حضرت مسلم بن عقیل کو کوفہ میں شہید کردیا گیا ہے اور کوفہ والوں نے بے وفائی کی ہے۔ آپؑ نے اس موقع پر ارشاد فرمایا:

جو حق مسلم پر تھا وہ اس سے سبکدوش ہوگئے اورجو حق خداوندی ہم پر ہے وہ ہمارے ذمے باقی ہے۔

۶۔ دوران سفر ایک موقع پر آپؑ کی آنکھ لگ گئی تھی۔ آنکھ کھلی تو آپؑ کی زبان مبارک پر یہ کلمات جاری تھے:

انا للہ وانا الیہ راجعون

آپؑ کے فرزند حضرت علی اکبرؑ نے اس کی وجہ پوچھی تو ارشاد فرمایا: میں نے خواب میں دیکھا ہے کوئی کہہ رہا ہے کہ یہ قافلہ جارہا ہے اورموت اس کے تعاقب میں ہے۔

حضرت علی اکبرؑ نے عرض کی: بابا! کیا ہم حق پر نہیں ہیں؟

آپؑ نے فرمایا: کیوں نہیں، ہم حق پرہیں۔

اس موقع پرحضرت علی اکبرؑ نے اپنا یہ مشہور جملہ کہا:

اگر ہم حق پرہیں تو پرواہ نہیں کہ موت ہم پر آپڑے یا ہم موت پر جاپڑیں۔

یہ اور اس طرح کی اوربھی بہت سی شہادتیں تاریخ کے سینے میں محفوظ ہیں جن سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ امام عالی مقامؑ کو یقین تھا کہ ان کے قیام کے نتیجے میں آپؑ کی قیادت میں اسلامی حکومت قائم نہیں ہوگی۔

امت کی بخشش کے لیے:

بعض لوگوں کا خیال ہے کہ امام حسینؑ نے اپنے نانا کی امت کو بخشوانے کے لیے قربانی پیش کی۔ گویا آپؑ کی قربانی امت کے گناہوں کا کفارہ بن گئی ہے۔ یہ نظریہ عیسائیت سے مسلمانوں میں آگیا ہے۔ عیسائی بھی یہ نظریہ رکھتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ ابن مریم کی قربانی ان کے ماننے والوں کے گناہوں کا کفارہ ہے۔ یہ نظریہ سادہ لوحی، حماقت یا اپنے گناہوں کو بھونڈی تاویل اورانھیں بے اثر ظاہرکرنے کی کوشش پر مبنی ہے۔ یہ نظریہ انبیاء الٰہی کی تعلیمات کے صریح برخلاف ہے۔ عدل الٰہی کا عقیدہ اس خیال کی نفی کے لیے کافی ہے۔ قرآن حکیم تو کہتا ہے:

کوئی شخص دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔

نیز فرماتا ہے: جس کسی نے ذرہ بھر برائی کی ہوگی وہ اسے دیکھ لے گا اورجس کسی نے ذرہ بھر بھلائی کی ہوگی وہ اسے دیکھ لے گا۔

اسی عقیدے کا اظہار حکیم الامت علامہ اقبال نے اپنے اس مشہور شعر میں کیا ہے:

عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی

یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے

قرآن حکیم نے بارہا ایمان کے ساتھ عمل صالح کا ذکر کیا ہے۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایمان کافی نہیں۔ سورہ والعصر کے مطابق توخسارے اورزیان سے بچنے کے لیے ایمان، عمل صالح، ایک دوسرے کو حق کی وصیت کرنا اور ایک دوسرے کو صبرواستقامت کی نصیحت کرنا ضروری ہے۔ ایک مقام پر قرآن کہتا ہے:

اے ایمان لانے والو! ایمان لاؤ۔

یعنی حقیقی ایمان لاؤ اور حقیقی ایمان کا ثمرعمل صالح ہے۔ لہٰذا کفارے کا نظریہ بہرصورت باطل ہے۔

یہاں یہ بات کہنے میں کوئی حرج نہیں کہ امام حسینؑ اورانبیاء و اولیاء کی پوری جدوجہد اورتعلیمات ہمیں بخشش کا راستہ دکھانے کے لیے ہیں۔ ان کی راہ اپنانے میں ہی بخشش کا راز مضمر ہے۔ ان کی تعلیمات پر عمل کرنے سے انسان اپنے آپ کو پروردگار کی مغفرت ورحمتِ دائمی کا حقدار بنالیتا ہے لیکن یہ بات درست نہیں کہ وہ ساری زحمتیں اٹھاگئے ہیں اب ہمیں کسی زحمت کی ضرورت نہیں، بس ان کی محبت کا دم بھرتے رہیں ،ان کے مومن کہلاتے رہیں، پھر کوئی پریشانی نہیں چاہے جو بھی گناہ کریں اورچاہے کسی کا حق مارلیں اوردوسروں پر ظلم وزیادتی روارکھیں، سیدھا جنت میں جائیں گے۔ ایسا عقیدہ احمقوں کی جنت میں بسنے کے مترادف ہے۔

مقام شہادت پر فائز ہونے کے لیے:

بعض لوگوں کا خیال ہے کہ امام عالی مقامؑ کے قیام کا مقصد ہی شہادت کی بلند منزلت پر فائز ہونا تھا۔ اس خیال کی ایک وجہ یہ ہے کہ اسلام نے راہ خدا میں شہادت کی بڑی عظمت بیان کی ہے۔ قرآن حکیم کی بہت سی آیات شہیدِ راہِ خدا کے بلند مرتبے کی گواہی دیتی ہیں۔ قرآن کہتا ہے:

جو لوگ اللہ کے راستے میں قتل ہوجاتے ہیں انہیں مردہ مت کہو، وہ تو زندہ ہیں، تمھیں ان کی زندگی کا شعور نہیں۔

ایک اور مقام پر آخری جملہ کچھ یوں ہے:

۔۔۔ اور وہ اللہ کے حضور رزق پاتے ہیں۔

اللہ کے راستے میں قربانیاں پیش کرنے والوں اورصبرواستقامت کا مظاہرہ کرنے والوں کو قرآن حکیم نے بشارتوں سے نوازا ہے۔

شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی نے اپنے رسالہ’’سرالشہادتین‘‘ میں حضرت امام حسنؑ اورحضرت امام حسینؑ کی شہادت کو رسولِ خدؐا کے کمالاتِ روحانی کی تکمیل کنندہ قراردیا ہے۔ ان کی رائے کا خلاصہ یہ ہے کہ خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ ؐ میں وہ تمام اوصاف و کمالات موجودتھے جو ماقبل انبیاء میں تھے، سوائے شہادت کے۔آپؐ چونکہ آخری نبی تھی، اس لیے آپؐ کی شہادت اورآپؐ کا قتل ہوجانا اسلامی مقاصد کے لیے مناسب نہ تھا جبکہ دوسری طرف کئی انبیاء کو شہادت کا مقام حاصل ہوا۔قرآن حکیم نے ان میں سے حضرت یحییٰ علیہ السلام کا ذکر فرمایا ہے۔ اسی طرح متعدد مقامات پر ہے کہ بنی اسرائیل اپنے انبیاء کو قتل کرتے رہے ہیں۔ بعض روایات کی بنا پر حضرت ہابیل بھی نبی تھے۔ آج بھی دمشق میں جہاں ایک قبر ان سے منسوب ہے ،کو ’’ہابیل نبی‘‘ کی قبر کہا جاتا ہے۔ بہرحال اس سے قطع نظر ان کے مظلومانہ قتل کا ذکر قرآن کریم میں موجود ہے۔

شاہ عبدالعزیزمحدث دہلوی کے نزدیک امام حسنؑ اور امام حسینؑ نبی کریمؐ کے نواسے ہونے کی بنا پرآپؐ ہی کے وجود ذیجود کا حصہ ہیں اورآپؐ کے وجود مبارک ہی کی توسیع ہیں۔ اس لیے حکمت الٰہی یہ قرار پائی کہ ان فرزندوں کی شہادت کے توسط سے شہادت کا کمال بھی آنحضرتؐ کو حاصل ہوجائے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ راہ خدا میں قتل ہونا بہت بڑی سعادت ہے۔ شہادت کی عظمت کا ذکر خود امام عالی مقامؑ نے بھی کہاہے۔ مقام ذوحسم پر خطبہ دیتے ہوئے آپؑ نے ارشاد فرمایا:

کیا تم دیکھتے نہیں کہ حق پر عمل نہیں ہورہا اور باطل سے پرہیز نہیں کیا جارہا پس مومن کو چاہیے کہ حق پررہتے ہوئے لقائے الٰہی کی تمنا کرے۔ میں ایسے میں موت کو سوائے سعادت کے کچھ نہیں سمجھتا اورظالموں کے ساتھ زندگی کو سوائے ناگوار چیز اورہلاکت کے کچھ نہیں جانتا۔

کربلا میں اپنے ساتھیوں سے خطاب کرتے ہوئے بھی آپؑ نے ایسے جملے ارشاد فرمائے تھے۔

تاہم اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ خودطلبِ موت یا طلب شہادت کوئی ایسا مقصد نہیں کہ اسے عظمت سے یاد کیا جائے۔ راہِ حق پر چلتے ہوئے، صبرواستقامت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اور باطل کا انکارکرتے ہوئے شہادت سے ہمکنار ہوجانا اور اس عظمت کو پاجانا ایک اورچیز ہے اورشہادت کو مقصد قراردے کر اس کے لیے گھر سے نکلنا ایک دوسری بات ہے۔ امام حسینؑ ایک عظیم مقصد کے لیے نکلے، آپؑ حق کی سربلندی کے لیے نکلے، آپؑ نے باطل کے سامنے سرجھکانے سے انکارکردیا اوراس راستے میں موت آئی تو اسے سعادت سمجھ کر سینے سے لگالیا، نہ یہ کہ آپؑ نکلے ہی شہادت کے حصول کے لیے تھے۔ رضائے الٰہی آپ کا مقصود تھا اور اسے پانے کے لیے شہادت کو قبول کرنا پڑاتو آپؑ نے اسے خوشی سے قبول کرلیا۔

رہی وہ بات جو شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی نے کہی ہے تو اس میں کوئی شک نہیں کہ قرآن حکیم نے سورہ آل عمران کی آیت مباہلہ میں امام حسنؑ اور امام حسینؑ کو رسول کریمؐ کے فرزند قراردیا ہے۔ متعدد روایات میں پیغمبر گرامیؐ نے خود بھی دونوں کو اپنا فرزند قراردیا ہے۔ ان دونوں فرزندوں کا وجود آپؐ ہی کے وجود مبارک کا پرتو ہے۔ آپؐ ہی کی لائی ہوئی تعلیمات نے دونوں کو بلند مرتبوں پر فائز کیا اور ان کے دلوں میں عشق الٰہی کا چراغ روشن کیا اور انھیں راہ حق میں قربانی پیش کرنے کے لیے تیار کیا۔ گویا دونوں کا وجود آپؐ ہی کا فیضان تھا اور دونوں کی شہادت نے آپؐ کے دین کو زندہ و باقی رکھنے میں بنیادی کردار اداکیا لیکن اس نظریے کی عقلی بنیادوں پر تائید نہیں کی جاسکتی کہ خودشہادت کو ان بزرگواراماموں کی زندگی کا مقصد قرار دے دیا جائے۔

امربالمعروف ونہی عن المنکر:

ایک نظریہ یہ ہے کہ امام عالی مقامؑ کے قیام کامقصد’’امربالمعروف ونہی عن المنکر‘‘ تھا۔ یہ نظریہ دراصل خود امامؑ کے اقوال و فرمودات ہی سے ماخوذ ہے۔ گذشتہ سطور میں ہم نے امام علیہ السلام کا اپنے بھائی محمد بن حنفیہ کے نام وصیت نامہ درج کیا ہے۔ اس میں بھی آپ ؑ نے اپنے قیام کا یہ مقصد بیان فرمایا ہے۔خیرامت کے لیے یہ مقصد خود قرآن حکیم نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے:

تم بہترین امت ہو جسے انسانوں کے لیے لایا گیا ہے۔ تم نیکیوں کا حکم دیتے ہو اوربرائیوں سے منع کرتے ہو اور اللہ پرایمان رکھتے ہو۔

(آل عمران)

چونکہ امام حسینؑ نے اپنے قیام کا یہ مقصد خود بیان کیا ہے کہ اس سے انکار کی گنجائش نہیں ہے البتہ اس سلسلے میں چند باتیں بطوروضاحت مفید معلوم ہوتی ہیں: 

ہم تمام انبیاء کی تعلیمات کا خلاصہ’’ امر بالمعروف ونہی عن المنکر‘‘ میں بیان کرسکتے ہیں ۔وہ اسی مقصد کیلئے آئے کہ انسانوں کو اچھائی کاراستہ اختیار کرنے کی دعوت دیں اور برائی کی راہ سے روکیں ۔ ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ انبیاء اوران کے اوصیاء پہلے مرحلے میں ان لوگوں سے مخاطب ہوتے ہیں جو معاشرے میں سب سے زیادہ موثر ہوں، اگرچہ ان کی دعوت تو سب لوگوں کے لئے ہوتی ہے ۔ وہ برائی کے سرچشموں کو خوب پہچانتے ہیں اور انہیں برائی، فساد اورخرابی کا راستہ ترک کرنے کی دعوت دیتے ہیں۔ ایسے ہی لوگ انبیاء کی تعلیمات کو اپنی عیش وعشرت اور دولت وسطوت کے لئے خطرے کی علامت سمجھتے ہوئے ان کے مقابل آن کھڑے ہوتے ہیں۔ حضرت ابراہیم ؑ کو دیکھیں تو آپ ؑ نمرود کے سامنے سینہ سپر ہیں اور حضرت موسی ؑ کو دیکھیں تو فرعون کے سامنے ایستادہ ہیں۔ اس سلسلے میں دوسری اہم بات ’’امر بالمعروف ونہی عن المنکر‘‘ کے مصادیق اور موضوعات سے متعلق ہے۔ ہم نے عام طورپر ان باتوں کو معروف ومنکر کا موضوع بنارکھا ہے جو یا تو دین میں کوئی حیثیت ہی نہیں رکھتیں یا پھر ان کی اہمیت اتنی نہیں ہوتی جبکہ دوسری طرف ہم نے اہم تر موضوعات کو نظر انداز کیاہوا ہے ۔ ہمارے لفظوں اور اصطلاحوں کے مفہوم ہی دگرگوں ہوگئے ہیں ۔ صبر کا مفہوم یہ ہوگیا ہے کہ بے انصافی ہوتی رہے ‘ہم دیکھتے رہیں اور کوئی ردعمل نہ کریں جبکہ صبر کا ایک پہلو یہ ہے کہ ہم بے انصافی کو روکنے کی جدوجہد کریں اور اس راہ میں جو مشکلات آئیں انہیں حوصلے سے برداشت کریں اوراستقامت کا مظاہرہ کریں ۔یہی وجہ ہے کہ سورہ عصر میں ایمان ، عمل صالح اور ایک دوسرے کو وصیتِ حق کے بعد باہم صبر کی تلقین کا ذکر ہوا ہے یعنی جب ہم ایمان لائیں گے ، عمل صالح کریں گے اور حق کی وصیت کریں گے تو مشکلات آئیں گی۔ جنھیں جھیلنے کیلئے صبر کی ضرورت پڑے گی۔ 

تقدیر کے نظریے کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا ہے ۔ اس پر مولانا الطاف حسین حالی نے خوبصورت تنقید کی ہے ۔ وہ کہتے ہیں:

نہیں کرتے کھیتی میں جو جانفشانی 

نہ ہل جوتتے ہیں نہ دیتے ہیں پانی

پہ جب یاس کرتی ہے ان پہ گرانی

تو کہتے ہیں حق کی ہے نامہربانی

نہیں لیتے کچھ کام تدبیر سے وہ

سدا لڑتے رہتے ہیں تقدیر سے وہ

امر بالمعروف ونہی عن المنکر کا تصور بھی بعض نے نہایت محدود یا پست کردیا ہے ،مثلاً کسی نے داڑھی نہیں رکھی یا ہمارے فقہی تصور کے مطابق نہیں رکھی تو اسے امرونہی کیاجائے ‘ ممکن ہو تو ایسے مسلمان مرد کو اس وقت تک پس دیوار زنداں رکھاجائے جب تک اس کی داڑھی ہماری خواہش کے مطابق نہیں ہوجاتی۔ اسی طرح کھڑے ہوکر پانی پینے والے کو نہی کی جائے یا ٹخنوں کے اوپر آجانے والی شلوار یا پاجامہ کو اوپر کرنے کے لئے کہا جائے ۔ امام حسین ؑ اپنے اقدام کو امر بالمعروف ونہی عن المنکر قرار دیتے ہیں تو یہ حضرت ابراہیم ؑ اور حضرت موسی ؑ کے درجے کا امرونہی ہے۔ امام حسین ؑ کے ماننے والوں کے ذمے ہے کہ وہ آج کے یزیدوں کو پہچانیں اور امرونہی کے درجے کا درست تعین کریں۔ استبداد، بے انصافی اور انحراف کو روکنے کا عزم کریں۔ انسانوں کو آزادی وحریت کا پیغام دیں۔امام حسین ؑ کی تحریک ایک الٰہی اورہمہ گیرانسانی تحریک ہے ۔ اس کا محتویٰ ومقصود سمجھ کر عام کرنے کی ضرورت ہے ۔ اسی میں پسی ہوئی انسانیت کی نجات کا راز مضمر ہے۔ انبیاء بندوں کو بندوں کی غلامی سے نجات دلانے کے لئے آئے ۔ امام عالی مقام ؑ نے یزید کی بیعت کا انکار کرکے زمین پر خدا بن بیٹھنے والے فرعون عصر کی غلامی کو قبول کرنے سے انکار کردیا۔ گمراہ لوگوں کے سامنے یزید کی ماہیت کو آشکار کردیا۔ آپ نے حرصِ دنیا، طلبِ جاہ، بزدلی اور ابن الوقتی کے خلاف جنگ کی۔ آپ نے شجاعت وشہامت کا راستہ دکھایا۔ آپ ؑ نے فرمایا کہ یزید کی بیعت کرنا ذلت قبول کرنا ہے اور میں اسے قبول نہ کروں گا۔یہ کہہ کر آپ نے شرف انسانی کی حفاظت کی ہے۔

آپ ؑ نے منافقت کے خلاف سچائی اورصداقت کا ہتھیار استعمال کیا۔یزید جو اپنے آپ کو امیر المومنین کہلوا رہاتھا نواسہ رسول ؑ نے اس کی بیعت سے انکار کرکے یہ ثابت کردیا کہ اس کا محمد رسول اللہ ؐ کے لائے ہوئے دین سے کوئی تعلق نہیں۔ جب جوانان جنت کا سردار یزید کو اسلامی نمائندہ قبول کرنے سے انکار کردے تو یزید کی کیا آبرو باقی رہ جاتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ واقعہ کربلا کے بعد کبھی بھی نبیِ برحق خاتم النبیین ؐکی امت نے یزید کو اسلام یا اسلامی خلافت کا نمائندہ نہیں سمجھا ۔بات یہیں پر ختم نہ ہوگئی بلکہ 

نام یزید داخلِ دشنام ہوگیا

اور امام حسین ؑ کا پاک خون یزید کے ظلم کی تلوار پر غالب آگیا اور بقول اقبالؒ :

بہرحق درخاک وخون غلطیدہ است

پس بنائے لا الٰہ گردیدہ است

حسین علیہ السلام نے بیعت یزید کیوں نہ کی ٗ ناقابل برداشت مصیبتیں اٹھائیں ٗ لیکن بادشاہ وقت کی اطاعت کو منظور نہ فرمایا۔اپنا ،اپنی اولاد کا ،اپنے عزیزوں کا، رفیقوں کا قتل ٗ اپنے گھر کی بربادی ٗ پسماندوں کی اسیری اور توہین سب قبول کیا مگر انکار بیعت پر آخر تک وہی ثابت قدمی دکھائی اور استقلال کا مظاہرہ کیا۔آخر اس میں کیا مصلحت اور حکمت تھی اور بیعت کرنے میں کس خرابی اور قباحت کا اندیشہ تھا۔ یہی سب سے زیادہ اہم رمز ہے جس پر غور و خوض کرنے کی ضرورت ہے۔

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھ info@mubassir.com پر ای میل کریں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  25337
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
اگرچہ خلقتِ انسان کے بعد مختلف زمانوں میں مختلف انبیاء و رسل نے انسانی معاشروں کی اصلاح اور رہنمائی کے لیے اللہ کے احکامات کے تحت اجتماعی نظام قائم کیے اور ریاست و حکومت کے ذریعے لوگوں کے اندر عدل و انصاف کو رواج دیا لیکن تکمیلِ دین و اکمالِ
امام حسینؑ نے اپنے خطبوں اور مکتوبات میں اپنے قیام اور اقدام کے مقاصد بہت واضح طور پر بیان کئے ہیں۔ آپ نے اپنے بھائی حضرت محمد حنفیہ کے نام اپنے ایک مکتوب میں صراحت سے لکھا کہ میں امربالمعروف اور نہی عن المنکر کیلئے جارہا ہوں
امام حسینؑ نے یزید کی بیعت سے انکار کردیا، یہ جانتے ہوئے کہ اس کا نتیجہ سوائے موت کے کچھ نہیں نکلے گا جیسا کہ تارمتعدد مواقع پراس کی شہادت دیتی ہے۔ یہاں تک کہ جب امام حسینؑ مدینہ سے ہجرت کرکے مکہ تشریف لے گئے تو وہاں پر بھی آپ کو قتل کرنے
آئیں امام حسینؑ کا غم مل کر منائیں، اس لیے کہ ہم سب اس رسولؐ کی امت ہیں حسینؑ جس کے نواسے ہیں، اس لیے کہ امام حسینؑ کا غم واقعۂ کربلا کے وقوع پذیر ہونے سے پہلے خود نبی اکرمؐ نے منایا۔ اس طرح حسینؑ کا غم منانا اور حسینؑ کے غم میں آنسو بہانا

مزید خبریں
افغانستان میں جنگ کو تیرہ برس گزرگئے اور 2014ء اس جنگ کے باقاعدہ اختتام کا سال ہے۔یہ برس عالمی تاریخ میں خاص اہمیت اختیار کرتاجارہا ہے۔پرائم ٹارگٹس پر مزاحمت کاروں کے حملے اس حقیقت کو واضح کرتے ہیں کہ طالبان آج تیر ہ سال بعد بھی افغانستان میں طاقت ورہیں۔
15 فروری 2014ء کو سندھ حکومت کے زیر انتظام دوہفتوں سے انعقاد پذیر ثقافتی سرگرمیوں کا میلہ ’’ سندھ فیسٹیول ’’ ختم ہوا تو صوبہ کے ایک دور افتادہ ضلع میں ’’ ڈیتھ فیسٹیول ‘‘ کا آغاز ہوچکا تھا۔
صحرائے تھر کی زمین پانی اور بچے دودھ کو ترس گئے، قحط سالی کے باعث بھوک نے انسانی زندگیوں کو نگلنا شروع کردیا ہے، حکومت نے تھرپارکر کو آفت زدہ تو قرار دے دیا مگر متاثرین کیلئے مختص گندم محکمہ خوراک کے گوداموں میں سڑ رہی ہے۔

مقبول ترین
لاپتہ ہونے والے ڈپٹی ڈائریکٹر ایاز خان خان پورڈیم پر تعینات تھے، سی ڈی اے کے افسر ایازخان کی بیٹی کی کل شادی ہے۔ اہلیہ نے پولیس کو بیان دیتے ہوئے کہا جمعرات کی شام ساڑھے 4 بجے میرے خاوند دفتر سے نکلے، خاوند نے جی 13 میں واقع اپنے گھر آنا تھا
سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں زلفی بخاری کے بطور معاون خصوصی وزیراعظم تقرری کی نااہلی کے لیے درخواستوں پر چیف جسٹس پاکستان ثاقب نثار کی سربراہی میں سماعت ہوئی، زلفی بخاری سماعت کے دوران عدالت میں وکیل اعتزاز احسن
سپریم کورٹ آف پاکستان میں تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے نومبر 2017 میں فیض آباد دھرنے کے معاملے پر لیے گئے از خود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران اٹارنی جنرل کی غیرموجودگی پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ
غیر ملکی خبر ایجنسیوں کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نے جمال خاشقجی کے قتل کے ردِ عمل میں پہلی مرتبہ عملی قدم اٹھاتے ہوئے ان 17 سعودی شہریوں پر پابندیاں عائد کی ہیں جو صحافی کے قتل کا منصوبہ بنانے اور اسے عملی جامہ پہنانے والی ٹیم کا حصہ تھے۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں