Sunday, 31 May, 2020
رسول اکرمؐ اور شہادت امام علیؑ کی پیشگوئی

رسول اکرمؐ اور شہادت امام علیؑ کی پیشگوئی
تحریر: سید ثاقب اکبر

 

متعدد ایسی روایات شیعہ سنی کتب میں نقل ہوئی ہیں جن کے مطابق رسول اکرمؐ نے مختلف مقامات پر حضرت علیؑ کی شہادت کی پیش گوئی کی ہے۔ بعض ایسی روایات بھی ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ آپ کی شہادت رمضان شریف میں وقوع پذیر ہوگی۔ روایات سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ امام علی کی شہادت اس صورت میں ہوگی کہ آپ کے سر پر ایک شقی تلوار کی ضرب لگائے گا اور اس خون سے ریش مبارک رنگین ہو جائے گی۔ آئیے اس سلسلے میں چند ایک روایات کا مطالعہ کرتے ہیں:

آنحضرتؐ کا ایک نہایت مشہور خطبہ ہے جسے خطبہئ شعبانیہ کہتے ہیں۔ یہ خطبہ ایک ایسے موقع پر دیا گیا جب ماہ شعبان ختم ہو رہا تھا اور رمضان المبارک کی آمد آمد تھی۔ آنحضرتؐ نے صحابہ کرامؓ کو آنے والے مہینے کی خصوصیات سے آگاہ فرمایا اور بتایا کہ یہ مہینہ برکت، رحمت اور مغفرت کا پیغام بن کر آرہا ہے۔ آپؐ نے یہ بھی فرمایا کہ یہ اللہ کے نزدیک بہترین مہینہ ہے اور اس کے دن دیگر مہینوں کے دنوں سے بہتر اور اس کی راتیں دیگر مہینوں کی راتوں سے افضل ہیں۔ آپؐ نے فرمایا کہ اس مہینے میں اللہ نے بندوں کو اپنا مہمان ہونے کی دعوت دی ہے۔ آپؐ نے یہ بھی فرمایا کہ اس مہینے میں تمھاری سانسیں تسبیح قرار پائیں گی اور تمھاری نیند عبادت بن جائے گی۔ اسی طرح آپؐ نے اس مہینے کی دیگر خصوصیات بیان فرمائیں۔ 

یہ خطبہ حضرت علیؑ سے بھی منقول ہے وہ کہتے ہیں کہ آپ کا خطبہ تمام ہوا تو میں کھڑا ہو گیا اور عرض کی: یا رسول اللہ! اس مہینے میں بہترین کام کون سا ہے؟

آپؐ نے فرمایا: اے ابو الحسن! اس مہینے میں بہترین کام اللہ کی حرام کی ہوئی چیزوں سے پرہیز کرنا ہے۔ 

یہ جملہ ختم کرکے آنحضرتؐ رونے لگے۔

میں نے عرض کی یا رسول اللہؐ آپ کے رونے کا سبب کیا ہے؟

فرمایا: اے علی! میں اس بات پر رویا ہوں کہ تمھاری حرمت اس مہینے میں ضائع کی جائے گی۔

میں گویا دیکھ رہا ہوں کہ تم اللہ کے حضور حالت نماز میں ہو کہ اولین و آخرین میں سے ایک بدبحت ترین شخص جو حضرت صالح کی اونٹنی کو قتل کرنے والے قوم ثمود کے شخص کا بھائی ہے کھڑا ہو گیا ہے اور اس نے تمھارے سر پر ایک ضرب لگائی ہے اور تمھاری ریش تمھارے خون سے رنگین ہو گئی ہے۔ 

حضرت علیؑ کہتے ہیں میں نے عرض کی:

یا رسول اللہؐ!کیا اس حالت میں میرا دین تو سالم ہو گا؟

آنحضرتؐ نے فرمایا: ہاں تمھارا دین سالم ہوگا۔

پھر مزید فرمایا: اے علی! جس نے بھی تجھے قتل کیا، اس نے گویامجھے قتل کیا اور جو بھی تجھے دشمن رکھتا ہے وہ مجھے دشمن رکھتا ہے اور جو کوئی تجھے برا کہتا ہے وہ مجھے برا کہتاہے کیونکہ تو مجھ سے ہے،تو میری جان کی طرح ہے، تیری روح میری روح سے ہے اور تیری سرشت میری سرشت سے ہے۔ (عیون اخبار الرضا،ج۱)

ایک اور روایت کے مطابق جب سورہ عنکبوت کی پہلی دو آیات نازل ہوئیں تو رسول اکرمؐ نے حضرت علی ؑکو ان کی شہادت کی خبر دی۔ یاد رہے کہ ان آیات میں مومنین کے امتحان کا ذکر کیا گیا ہے۔ 

بیان کیا گیا ہے کہ جب جنگ احد تمام ہوئی تو حضرت علیؑ نے نبی کریمؐ کی خدمت میں عرض کی: یا رسول اللہؐ!کیا آپ نے مجھے بشارت نہیں دی تھی کہ شہادت تیرے انتظار میں ہے؟

رسول اللہؐ نے فرمایا: ہاں اسی طرح ہے۔

مجھے بتاؤ کہ جب ایسا موقع آئے گا”فکیف صبر ک اذن“(توتمھارے صبر کی کیا حالت ہوگی؟) 

حضرت علیؑ نے عرض کی: شہادت مقام صبر نہیں بلکہ مقام شکر ہے۔ (نہج البلاغہ، خطبہ ۶۵۱،بحارالانوار،ج ۱۴)

جابر بن عبداللہ انصاری سے ایک اور روایت میں ہے کہ آپؐ نے امام علیؑ سے فرمایا تم میرے خلیفہ ہو، تمھیں قتل کردیا جائے گا اورتمھاری داڑھی تمھارے سر کے خون سے خضاب ہوگی۔(المعجم الکبیر،ج۲) 

ام المومنین حضرت عائشہؓ سے بھی ایک روایت ہے:

”رایت النبی التزم علیا وقبّلہ“ (میں نے رسول  اللہ کودیکھا کہ آپ علی کوآغوش میں لیے ہوئے تھے اور ان کا بوسہ لے رہے تھے اور فرما رہے تھے۔

”بابی الوحید الشہید“(میرا باپ شہید تنہا پر فدا ہو)(تاریخ دمشق،ج۲۴)

طبقات ابن سعد کی ایک روایت میں ہے کہ نبی کریمؐ نے حضرت علیؑ سے فرمایا:

اے علی! تمھیں معلوم ہے کہ اولین اور آخرین میں سے سب سے شقی کون ہے؟ 

حضرت علی نے عرض کی: اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔

تب اللہ کے رسولؐ نے فرمایا:

أشقی الأولین عاقر الناقۃ وأشقی الآخرین الذی یطعنک یا علی، و أشارہ الی حیث یطعن

اولین میں سے سب سے شقی حضرت صالح کی ا ونٹنی کو کاٹنے والا ہے جب کہ آخرین میں سے سب سے زیادہ بدبخت وہ ہے جو اے علی تمھیں ضرب لگائے گا،یہ کہتے ہوئے آپ ؐ نے ضرب کا مقام کی طرف اشارہ کیا۔

اس حدیث کو محدث البانی نے صحیح قرار دیا ہے۔ (السلسلۃ الصحیحہ،ج۳)

رسول اللہ سے منقول ایسی متعدد روایات ہیں جن میں آنحضرتؐ نے امیرالمومنین امام علیؑ کے قاتل کو شقی ترین اور بدبخت ترین شخص قرار دیا ہے۔ اس سلسلے میں کچھ روایات ہم اوپر درج کر چکے ہیں مزید دیکھیے:

اسد الغابہ، ج۴،تاریخ دمشق، ج۲۴۔ السیرۃ النبویہ ابن ہشام، ج۲۔

ان کے علاوہ بھی متعدد کتب میں حضرت علیؑ کے قاتل کے بارے میں اس طرح کے الفاظ آئے ہیں:

أشقی الآخرین

یعنی آخرین میں سے شقی ترین شخص۔ 

متعدد محدثین نے ان روایات کو صحیح قرار دیا ہے۔ چنانچہ حافظ ابن حجر عسقلانی الاصابۃ میں ابن ملجم کے بارے میں لکھتے ہیں: 

و ھو اشقی ھذہ الأمۃ بالنص الثابت عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم بقتل علی بن أبی طالب۔

رسول اللہؐ سے ثابت شدہ نص کے مطابق حضرت علی ابن ابی طالب کے قتل کی وجہ سے ابن ملجم اس امت کا شقی ترین اور بدبخت ترین شخص ہے۔ 

ان روایات سے یہ پتہ چلتا ہے کہ آنحضرتؐ کو حضرت علی سے بے پناہ محبت تھی۔ یہاں تک کہ آپؐ ان کی شہادت کا ذکر کرتے ہوئے گریہ فرماتے تھے۔ ظاہر ہے کہ امام علیؑ کی شہادت کے بعد اس دل فگار سانحہ کو یاد کرکے آنسو بہانا آنحضرتؐ ہی کی سنت ہے اور اسلامی فطرت کا تقاضا ہے۔ 

مندرجہ بالا روایات سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ حضرت علیؑ خود بھی راہ خدا میں اپنی شہادت کے مشتاق تھے۔ یہ بات بہت ایمان افروز ہے کہ جب رسول اکرمؐ نے خطبہئ شعبانیہ ارشاد فرما کر امام علیؑ کی شہادت کی خبر دی تو آپؐ نے فقط یہ پوچھا کہ کیا اس وقت میرا ایمان تو سالم ہوگا تو آنحضرتؐ نے فرمایا کہ تمھارا دین اور ایمان سالم ہوگا۔ حضرت علیؑ کا ابن ملجم کی ضرب کے بعد یہ کہنا (فزت و رب الکعبہ) یعنی رب کعبہ کی قسم میں کامیاب ہوگیا، بعید نہیں کہ اسی پیشگوئی کے پس منظر میں ہو۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نوٹ: مضمون نگار ’’مبصر ڈاٹ کام‘‘ کے چیف ایڈیٹر ہیں اور البصیرہ کے سربراہ ہیں۔ مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھ info@mubassir.com پر ای میل کریں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  73053
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
علامہ اقبال ۹ نومبر ۷۷۸۱ء کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے اور انکے والد شیخ نور محمد متقی و درویش عاشق رسولؐ عارف مسلک شخص تھے۔ اقبال کہتے ہیں (ایک مرتبہ) دوران گفتگو (والد صاحب) کہنے لگے معلوم نہیں بندہ اپنے رب سے کب کا بچھڑا ہوا ہے اس خیال سے اس قدر متاثر ہوئے کہ تقریباً بے ہوش ہو گئے اور رات دس گیارہ بجے تک یہی کیفیت رہی۔ اپنی والدہ کے بارے میں اقبالؒ نے معروف مرثیے ”والدہ مرحومہ کے نام“ میں لکھا ہے:
سانحہ پشاور میں کتنے لوگ سازش میں شریک تھے؟ کس نے کیا کردار اداکیا،کیاذمہ داری نبھائی؟ سہولت کار کون تھا؟ ایسے بے شمار سوالات ہیں جن کے جوابات نہیں آئے ۔الٹا شہید بچوں کی برسی '' دھوم دھام'' سے منائی جارہی ہے۔کیا یہ ظلم نہیں؟
اگر امریکی اور نیٹو فضائیہ اپنی فائر پاور سے عراق اور افغانستان میں جنگ نہیں جیت سکیں تو داعش کیسے اس فضائی طاقت سے خوف زدہ ہوسکتی ہے۔اب تک اسے فضائی حملوں سے کیا نقصان پہنچایا گیاہے ،اس بارے میں زمینی حقائق خاموش ہیں۔
امریکہ اور یورپ ،پیرس حملوںکے بعد آسمان سر پر اٹھائے ہوئے ہیں ،دہشت گردی کے خلاف لڑنے کا ' عزم' دہرارہے ہیں۔دنیا کو بے وقوف بنانے کے لیے اس واقعہ سے ہمدردیاں بٹورنے کی کوشش کررہے ہیں

مقبول ترین
پاکستان مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما راجہ ظفر الحق کا کہنا ہے کہ ایٹمی دھماکوں کا کریڈٹ سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کو جاتا ہے۔ میڈیا کے مطابق وزیر ریلوے شیخ رشید نے دعویٰ کیا تھا کہ ملک میں ایٹمی دھماکے انہوں نے، گوہر ایوب اور
وزیر ریلوے شیخ رشید احمد کا کہنا ہے کہ ساری قوم کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ ایٹمی دھماکا راجا ظفر الحق، گوہر ایوب اور میں نے کیا، نواز شریف سمیت ساری کابینہ ایٹمی دھماکے کے خلاف تھی۔ لاہور میں پریس کانفرنس کے دوران شیخ رشید احمد نے
معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا کا کہنا ہے کہ پاکستان میں کورونا کے مقامی سطح پر پھیلاؤ کی شرح 92 فیصد ہے لہٰذا عوامی مقامات پر ماسک کے استعمال کو لازمی قرار دے رہے ہیں۔ وزیراعظم کے معاونین خصوصی ڈاکٹر ظفر مرزا اور
وزیر مملکت برائے امور کشمیر شہریار آفریدی بھی کورونا کا شکار ہوگئے ہیں۔ وزیر مملکت نے قوم کے لیے دعا دی اور کہا رب ذوالجلال سے دعا ہے کہ وطن عزیز کو موذی وباء سے محفوظ بنائے۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں