Wednesday, 14 November, 2018
پاک فوج کی جرأت مندانہ للکار

پاک فوج کی جرأت مندانہ للکار
تحریر: ابو علی صدیقی

 

بین الاقوامی برادری میں یہ تاثر عام ہے کہ بھارتی قیادت علاقائی بالادستی حاصل کرنے کے زعم میں یوں مبتلا ہو چکی ہے کہ اس پر کسی نفسیاتی غلبہ اور سیاسی و سفارتی عارضہ کا گمان ہوتا ہے۔ وزیراعظم مودی نے اپنے دور حکومت میں نیپال، بنگلہ دیش، سری لنکا اور مالدیپ کے ساتھ جو رویہ اختیار کیا اس کو نرم سے نرم الفاظ میں غیر دوستانہ اور جارحانہ ہی کہا جا سکتا ہے۔ موصوف نے پاکستان اور چین کے ساتھ بھی کشیدگی کے ماحول کو فروغ دینے کے لئے اشتعال انگیز اقدامات کئے لیکن ان دونوں حکومتوں نے اس باب میں صبر و تحمل کی پالیسی پر عملدرآمد کیا اور یوں بھارتی قیادت کے توسیع پسندانہ عزائم کو خاک میں ملا دیا۔ ایسے میں نئی دہلی کے ارباب بست و کشاد نے یہ ہرزہ سرائی بھی کی کہ بھارتی فوج نے سرجیکل اسٹرائیک کرکے پاکستان کو سبق سکھایا ہے۔ ظاہر ہے کہ وطن عزیز کی سیاسی اور عسکری قیادت نے اس کذب گوئی کا سختی سے نوٹس لیا جس کے بعد بھارت کی طرف سے خاموشی اختیار کی گئی۔ 

حال ہی میں پاک فوج کے سپہ سالار جنرل قمر جاوید باجوہ نے برطانیہ کا دورہ کیا جس کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان عسکری اور دفاعی شعبوں میں پہلے سے موجود تعاون کو وسیع کرنا تھا۔ ان کے ہمراہ مسلح افواج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل، میجر جنرل آصف غفور بھی تھے۔ انہوں نے لندن میں بین الاقوامی میڈیا کے روبرو اظہار خیال کرتے ہوئے اہم نوعیت کے قومی امور بارے اظہار خیال کیا۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ کرپشن کے خلاف مہم میں فوج کا کوئی کردار نہیں، انتخابات شفاف تھے مگر فوج پر دھاندلی کا الزام لگایا گیا، ن لیگ نے ہماری ہر ضرورت پوری کی، مضبوط جمہوریت چاہتے ہیں، کسی کو نہیں کہا کہ کس کو ووٹ دو کس کو نہ دو، ووٹ کی طاقت کے ذریعے پہلے مسلم لیگ(ن) نے حکومت کی، پھر تحریک انصاف نے اور مستقبل میں کوئی اور کرے گا، فوج کا احتسابی نظام ملک میں لاگو کر دیا جائے تو تمام مسئلے حل ہو جائیں گے، سیاسی اختلافات جمہوریت کا حسن لیکن اخلاقیات کے دائرے میں ہونے چاہئیں، سرحد پر باڑ لگانے سے افغانستان، پاکستان میں امن آئے گا، بھارت نے ایک سرجیکل اسٹرائیک کی تو ہم 10 کریں گے، فوج کا احتساب سب سے قوی اور سخت ہے، فوج اس حقیقت پر یقین رکھتی ہے کہ جمہوریت ہی آگے بڑھنے کا راستہ ہے، آرمی چیف بیرون ملک جب بھی کسی سے بات کرتے ہیں پاکستان کی بات کرتے ہیں فوج کی نہیں، پاک فوج سی پیک کی محافظ ہے، کراچی میں جرائم میں کمی آئی ہے، انٹرنیشنل میڈیا میں پاکستان سے متعلق مثبت خبروں کو اجاگر نہیں کیا جاتا۔ مغربی میڈیا میں ہمیشہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی پر مبنی الزامات لگائے جاتے رہے، سرحد پر باڑ 2 ملکوں کے درمیان تقسیم نہیں۔ ہم اپنی سرحد کھلی نہیں چھوڑ سکتے۔ 

انہوں نے کہا کہ عام انتخابات میں فوج نے ممکن بنایا کہ ہر شخص اپنی مرضی کے مطابق ووٹ دے، پاکستان کے متعدد حصوں سے ریکارڈ ووٹرز ٹرن آؤٹ رہا۔ بیوروکریسی اور نظام سے متعلق پاکستان مسلم دنیا میں واحد ملک ہے جس نے کامیابی حاصل کی، 5 سال سے نظام نے بہتر کام کرنا شروع کیا ہے لیکن اس میں مزید بہتری کی ضرورت ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں معاشرے کے ہر طبقے نے حصہ لیا اور پاکستان میں امن و استحکام کے لئے 76 ہزار جانیں دی گئیں، بیوروکریسی اور دیگر اداروں نے کراچی کے امن کے لئے مل کر کام کیا تاہم مزید بہتری کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج کا پاکستان ماضی سے بہتر ہے، ہم اچھے حالات کی جانب گامزن ہیں، بطور ادارہ پاکستان کا تشخص بلند کرنا ہمارا اولین فرض ہے۔ ہماری فوج اور پولیس دہشت گردوں کے خلاف کئی برسوں سے لڑ رہے ہیں۔ فوج دہشت گردوں سے لڑ سکتی ہے لیکن یہ کام پولیس کا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فوج کا احتسابی نظام کثیر جہتی ہے جس سے کوئی ماورا نہیں۔ آصف غفور نے کہا کہ عدالتی اصلاحات ہو جانی چاہئیں تھیں تاہم اصلاحات اور قانون سازی حکومت کا کام ہے۔ 

سرجیکل اسٹرائیک کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ وہ صرف دیومالائی کہانی ہے، بھارت جھوٹ بول رہا ہے، کوئی بھی مہم جوئی کی گئی تو ہم 10 گنا زیادہ طاقت سے جواب کی صلاحیت رکھتے ہیں اور ہماری طاقت پر کوئی شک نہیں ہونا چاہیے۔پاکستان میں سیاسی تقسیم کے حوالے سے سوال پر انہوں نے کہا کہ دنیا کا کوئی بھی ملک ایسا نہیں جس میں سیاسی اختلافات نہ ہوں، یہ جمہوریت کا حسن ہے اور پاکستان میں بھی ایسا ہی ہے لیکن یہ اختلافات اخلاقیات کے دائرے میں ہونے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ فوج کفایت شعاری پر یقین رکھتی ہے جب تک ادارے ساتھ نہیں کھڑے ہوں گے ترقی ممکن نہیں۔ لاپتہ افراد سے متعلق سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ شناخت کوئی نہیں بتاتا کہ کون ’’مسنگ پرسن‘‘ ہے۔پاکستان کو پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) سے کوئی مسئلہ نہیں بلکہ ان کے کام کے طریقہ کار اور ان کے پیغام سے اختلاف ہے جس سے وہ سادہ لوح اور محب وطن پاکستانیوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ مسئلہ گہرا اور کسی فرد سے بڑھ کر ہے، فاٹا اور دیگر علاقوں کو دہشت گردوں نے پاکستان ہی کے خلاف اپنی محفوظ پناہ گاہ بنایا ہوا تھا اور ان علاقوں کو شدت پسندوں سے پاک کرنے کے لئے ہماری فوج نے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ہم کبھی نہیں بھول سکتے کہ ان علاقوں میں پاک فوج اور پاکستانیوں پر حملے کئے گئے اور پھر ان کے سروں سے فٹبال کھیلی گئی۔ جب ان علاقوں میں دہشت گردی ہو رہی تھی تو اس وقت کسی نے آواز بلند نہیں کی لیکن جب ہم نے ان علاقوں کو محفوظ اور امن کا گہوارہ بنا دیا ہے تو ہمارے دشمن پاکستانیوں کے درمیان اختلافات کے بیج بونے کے لئے اپنی کوششیں کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کی آزادی کشمیریوں کے ڈی این اے میں شامل ہے، کشمیریوں کی آزادی کی جدوجہد میں بیرونی پشت پناہی شامل نہیں، بھارت جانتا ہے کشمیریوں کی جدوجہد حق پر ہے۔ 

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ 13 اکتوبرکو ایبٹ آباد میں پاکستان ملٹری اکیڈمی (پی ایم اے) میں 138 ویں لانگ کورس کی پاسنگ آؤٹ پریڈ کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل زبیر محمود حیات نے کہا کہ ہمارے سپاہی دشوار ترین حالات میں بہترین نتائج حاصل کرنے کا اعزاز رکھتے ہیں، پاک فوج کے سپاہی جذبہ قربانی اور حب الوطنی سے لبریز ہیں اور ایسے شجاع اور دلیر سپاہیوں کی کمان حاصل کرنا آپ لوگوں کی خوش قسمتی ہے۔وثوق سے کہا جا سکتا ہے کہ پاک فوج کی اس جرات مندانہ للکار سے اہل وطن کے حوصلے بلند ہوئے ہیں اور احمد ندیم قاسمی (مرحوم) کے اس شعر کی صورت میں دشمن کو یہ واضح پیغام پہنچ گیا ہے کہ:

میرا دشمن مجھے للکار کے جائے گا کہاں
خاک کا طیش ہوں، افلاک کی دہشت ہوں میں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھ info@mubassir.com پر ای میل کریں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  38099
کوڈ
 
   
مزید خبریں
افغانستان میں جنگ کو تیرہ برس گزرگئے اور 2014ء اس جنگ کے باقاعدہ اختتام کا سال ہے۔یہ برس عالمی تاریخ میں خاص اہمیت اختیار کرتاجارہا ہے۔پرائم ٹارگٹس پر مزاحمت کاروں کے حملے اس حقیقت کو واضح کرتے ہیں کہ طالبان آج تیر ہ سال بعد بھی افغانستان میں طاقت ورہیں۔
15 فروری 2014ء کو سندھ حکومت کے زیر انتظام دوہفتوں سے انعقاد پذیر ثقافتی سرگرمیوں کا میلہ ’’ سندھ فیسٹیول ’’ ختم ہوا تو صوبہ کے ایک دور افتادہ ضلع میں ’’ ڈیتھ فیسٹیول ‘‘ کا آغاز ہوچکا تھا۔
صحرائے تھر کی زمین پانی اور بچے دودھ کو ترس گئے، قحط سالی کے باعث بھوک نے انسانی زندگیوں کو نگلنا شروع کردیا ہے، حکومت نے تھرپارکر کو آفت زدہ تو قرار دے دیا مگر متاثرین کیلئے مختص گندم محکمہ خوراک کے گوداموں میں سڑ رہی ہے۔

مقبول ترین
خیبر پختون خوا پولیس کے اعلیٰ افسر ایس پی طاہر داوڑ کا جسد خاکی افغانستان نے پاکستان کے حوالے کردیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ شہید ایس پی طاہر داوڑ کا جسد خاکی جلال آباد میں پاکستان قونصل خانے کے اعلیٰ عہداروں کے حوالے کر دیا گیا ہے
سابق وزیراعظم نواز شریف نے العزیزیہ ریفرنس میں صفائی کا بیان قلمبند کرانا شروع کر دیا۔ پہلے روز 50 عدالتی سوالات میں سے 45 کے جواب ریکارڈ کرا دیئے۔ باقی سوالات پر وکیل خواجہ حارث سے مشاورت کے لیے وقت مانگ لیا۔
فلسطین میں قابض اسرائیلی فوج کے معاملے پر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا بند کمرا اجلاس بے نتیجہ ختم ہوگیا۔ میڈیا کے مطابق غزہ میں قابض اسرائیلی فوج نے ظلم وبربریت کی انتہا کررکھی ہے، آئے دن نہتے فلسطینیوں کو فائرنگ کرکے موت کے گھاٹ
چند روز قبل اسلام آباد سے اغوا ہونے والے خیبر پختونخوا پولیس کے ایس پی طاہر خان داوڑ کو مبینہ طور پر افغانستان میں قتل کر دیا گیا۔ خیبر پختونخوا پولیس کے ایس پی طاہر خان داوڑ 27 اکتوبر کو اسلام آباد سے لاپتہ ہوئے تھے۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں