Sunday, 19 January, 2020
’’سانحہ اے پی ایس: پانچ سال بیت گئے‘‘

’’سانحہ اے پی ایس: پانچ سال بیت گئے‘‘

 

پشاور ۔ سانحہ آرمی پبلک سکول کے شہدا کی پانچویں برسی آج منائی جائے گی۔ سانحے میں شہید ہونے والے اپنے پیاروں کی یاد میں والدین اور پوری قوم کی آنکھیں آج بھی پرنم ہیں۔ اس دن کی مناسبت سے ملک بھر میں خصوصی دعائیہ تقریبات انعقاد ہوگا جن میں شہدا کی روح کو ایصال ثواب کے لئے فاتحہ اور قرآن خوانی کا اہتمام بھی ہوگا۔

دسمبر کا مہینہ شروع ہوتے ہی 16 کی تاریخ ذہن میں تازہ ہوجاتی ہے، جب انسانیت کے دشمنوں نے پشاور میں آرمی پبلک سکول کو مقتل گاہ میں بدل دیا تھا۔

16 دسمبر سال 2014ء کا روز، تاریخ میں سیاہ ترین دن کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ جب سفاک دہشت گردوں نے پشاور کے آرمی پبلک اسکول میں وحشت اور بربریت کی انتہا کر دی اور 149 گھروں میں صف ماتم بچھا دی گئی۔

سانحہ اے پی ایس نے ملک سمیت دنیا بھر کے کروڑوں انسانوں کی آنکھوں کو نم کر دیا۔ شہدا میں ایک پرنسپل اور 16 سٹاف ممبرز سمیت 132 طلبہ شامل تھے۔ پانچ سال پورے ہونے کے بعد آج بھی بچھڑنے والوں کا غم اسی طرح تروتازہ ہے۔

آرمی پبلک سکول شہدا کے والدین سانحہ کے نفسیاتی اثرات سے نہیں نکل سکے۔ دسمبر کا مہینہ آتے ہی ان کا غم دوبارہ لوٹ آتا ہے۔ 16 دسمبر کے ہولناک سانحے میں شہید ہونے والے منوں مٹی تلے سو گئے لیکن ان کی یادیں آج بھی پہلے دن کی طرح تازہ ہیں۔

شہید بچوں کے والدین کیلئے دن جیسے تھم سے گئے ہیں۔ ان کی یادیں، شرارتیں اور اشیا آج بھی اسی طرح سنبھال کر رکھیں گئی ہیں۔

سانحہ اے پی ایس جہاں کئی گھر اجاڑ گیا، وہیں ایسے بھی طالب علم ہیں جو اس سانحہ میں بچ جانے کے بعد آج زندگی کی جانب واپس لوٹ آئے ہیں اور ان کے حوصلے بھی بلند ہیں۔

سانحہ آرمی پبلک سکول کے غازی احمد نواز برطانیہ میں تعلیمی میدان کے ساتھ ساتھ سماجی کاموں میں بھی کامیابی کے جھنڈے گاڑ رہے ہیں۔ کئی عالمی ایوارڈ اپنے نام کرنے والے احمد نواز کا کہنا ہے کہ وہ پاکستان اور دنیا بھر کے نوجوانوں کے لیے کام کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے حکومت کو پیغام دیتے ہوئے کہا کہ آپس کی مخالفت کو بھول کر نوجوان نسل کے لیے کام کریں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مضمون نگار ’’مبصر ڈاٹ کام‘‘ کے چیف ایڈیٹر ہیں۔ مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھ info@mubassir.com پر ای میل کریں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  22823
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
ایران کے روحانی پیشوا آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے گزشتہ دنوں کشمیر کے مظلوم مسلمانوں کی حمایت میں دو مرتبہ پے درپے گفتگو کی اس کی بازگشت ابھی تک دنیا میں جاری ہے۔ اگرچہ وہ اس سے قبل بھی کئی مرتبہ کشمیر
اسلام آباد پولیس کی رپورٹ میں انکشاف ہواہے کہ پنجاب کے کئی گاؤں ایسے ہیں جہاں لوگوں کا صرف ایک گردہ ہے ، اسلام آباد ، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں بھی گردوں کی فروخت کا کاروبار جاری ہے ۔ ایس ایس پی اسلام آباد ساجد کیانی کہتے ہیں
سانحہ اے پی ایس کے شہدا کی برسی کے موقع پرملك بھر میں سیاسی و سماجی تنظیموں ،سول سوسائٹی ،این جی اوزاور تعلیمی اداروں كے زیر اہتمام مختلف تقریبات كا اہتمام كیا گیا
مقبوضہ کشمیر میں جاری ہندوستانی بربریت کی نئی لہر کو 100 روز مکمل ہو گئے لیکن وادی کے حالات بدستور کشیدہ ہیں جب کہ حالیہ کشیدگی میں قابض فوج کے ہاتھوں اب تک 110 کشمیر شہید اور 12 ہزار سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔

مقبول ترین
وزیراعظم, عمران خان, ملائشین وزیراعظم, مہاتیر محمد, اسلامی دنیا, تجربہ کار, حکمران, مسائل,
وزیرِ اعظم عمران خان کی معاونِ خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کہتی ہیں کہ میڈیا پر آٹا سپلائی سے متعلق منفی پروپیگنڈا چل رہا ہے۔
صوبائی وزیر خوراک سمیع اللہ چودھری نے کہا ہے کہ لاہور میں سستا آٹا وافر مقدار میں موجود ہے، آٹے کا مصنوعی بحران پیدا کرنے کی کوشش کی گئی، منافع خوروں کیخلاف کریک ڈاون جاری ہے۔
وزیر اعظم عمران خان نے لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر بھارت کی جانب سے مستقل اشتعال انگیزی پر عالمی برادری کو خبردار کیا ہے کہ اگر بھارت کی جانب سے حملوں اور نہتے شہریوں کو نشانہ بنانے کا سلسلہ نہ رکا تو پاکستان کے لیے خاموش رہنا مشکل ہو جائے گا۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں