Friday, 14 August, 2020
’’سانحہ اے پی ایس: پانچ سال بیت گئے‘‘

’’سانحہ اے پی ایس: پانچ سال بیت گئے‘‘

 

پشاور ۔ سانحہ آرمی پبلک سکول کے شہدا کی پانچویں برسی آج منائی جائے گی۔ سانحے میں شہید ہونے والے اپنے پیاروں کی یاد میں والدین اور پوری قوم کی آنکھیں آج بھی پرنم ہیں۔ اس دن کی مناسبت سے ملک بھر میں خصوصی دعائیہ تقریبات انعقاد ہوگا جن میں شہدا کی روح کو ایصال ثواب کے لئے فاتحہ اور قرآن خوانی کا اہتمام بھی ہوگا۔

دسمبر کا مہینہ شروع ہوتے ہی 16 کی تاریخ ذہن میں تازہ ہوجاتی ہے، جب انسانیت کے دشمنوں نے پشاور میں آرمی پبلک سکول کو مقتل گاہ میں بدل دیا تھا۔

16 دسمبر سال 2014ء کا روز، تاریخ میں سیاہ ترین دن کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ جب سفاک دہشت گردوں نے پشاور کے آرمی پبلک اسکول میں وحشت اور بربریت کی انتہا کر دی اور 149 گھروں میں صف ماتم بچھا دی گئی۔

سانحہ اے پی ایس نے ملک سمیت دنیا بھر کے کروڑوں انسانوں کی آنکھوں کو نم کر دیا۔ شہدا میں ایک پرنسپل اور 16 سٹاف ممبرز سمیت 132 طلبہ شامل تھے۔ پانچ سال پورے ہونے کے بعد آج بھی بچھڑنے والوں کا غم اسی طرح تروتازہ ہے۔

آرمی پبلک سکول شہدا کے والدین سانحہ کے نفسیاتی اثرات سے نہیں نکل سکے۔ دسمبر کا مہینہ آتے ہی ان کا غم دوبارہ لوٹ آتا ہے۔ 16 دسمبر کے ہولناک سانحے میں شہید ہونے والے منوں مٹی تلے سو گئے لیکن ان کی یادیں آج بھی پہلے دن کی طرح تازہ ہیں۔

شہید بچوں کے والدین کیلئے دن جیسے تھم سے گئے ہیں۔ ان کی یادیں، شرارتیں اور اشیا آج بھی اسی طرح سنبھال کر رکھیں گئی ہیں۔

سانحہ اے پی ایس جہاں کئی گھر اجاڑ گیا، وہیں ایسے بھی طالب علم ہیں جو اس سانحہ میں بچ جانے کے بعد آج زندگی کی جانب واپس لوٹ آئے ہیں اور ان کے حوصلے بھی بلند ہیں۔

سانحہ آرمی پبلک سکول کے غازی احمد نواز برطانیہ میں تعلیمی میدان کے ساتھ ساتھ سماجی کاموں میں بھی کامیابی کے جھنڈے گاڑ رہے ہیں۔ کئی عالمی ایوارڈ اپنے نام کرنے والے احمد نواز کا کہنا ہے کہ وہ پاکستان اور دنیا بھر کے نوجوانوں کے لیے کام کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے حکومت کو پیغام دیتے ہوئے کہا کہ آپس کی مخالفت کو بھول کر نوجوان نسل کے لیے کام کریں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مضمون نگار ’’مبصر ڈاٹ کام‘‘ کے چیف ایڈیٹر ہیں۔ مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھ info@mubassir.com پر ای میل کریں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  9139
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
ہم شروع ہی میں اپنے عام قارئین کے لیے یہ بات واضح کردیں کہ احکام اخلاق و نظام اخلاق اورعلم اخلاق دو مختلف چیزیں ہیں۔ ہم روزمرہ ’’اخلاق‘‘ کے حوالے سے جس موضوع سے واقف ہیں وہ احکام اخلاق سے متعلق ہے اور مختلف مکاتب فکر و نظر ان احکام پر مشتمل اپنا اپنا نظام اخلاق رکھتے ہیں۔
یہ سوال اب کوئی نیا نہیں رہا کہ مذہب ایک مشکل ہے یا مشکل کا حل۔ اشتراکی فکر کا آغاز اسی نظریے سے ہوا کہ مذہب انسانی ترقی میں حائل ہے۔ مذہب ایک افیون ہے، مذہب کو ترک کیے بغیر تنزل یافتہ معاشرہ ارتقا پذیر نہیں ہوسکتا۔ اشتراکیت نے مذہب کے خلاف بڑی جنگ لڑی، یہاں تک کہ آدھی دنیا کو فکری طور پر ہی نہیں عملی طورپربھی تسخیر کر لیا۔
ایران کے روحانی پیشوا آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے گزشتہ دنوں کشمیر کے مظلوم مسلمانوں کی حمایت میں دو مرتبہ پے درپے گفتگو کی اس کی بازگشت ابھی تک دنیا میں جاری ہے۔ اگرچہ وہ اس سے قبل بھی کئی مرتبہ کشمیر
اسلام آباد پولیس کی رپورٹ میں انکشاف ہواہے کہ پنجاب کے کئی گاؤں ایسے ہیں جہاں لوگوں کا صرف ایک گردہ ہے ، اسلام آباد ، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں بھی گردوں کی فروخت کا کاروبار جاری ہے ۔ ایس ایس پی اسلام آباد ساجد کیانی کہتے ہیں

مقبول ترین
لاک ڈاؤن نے جہاں ہماری زندگی میں معیشت کا پہیہ جام کیا وہیں بہت سارے سبق بھی دے گیا۔ لاک ڈاؤن نہ ہوتا تو ہم شاید اپنی مصروف زندگی میں اتنے مصروف ہو جاتے کہ رشتوں، ناطوں کی اہمیت اور فیملی سسٹم کی خوبصورتی اور چاشنی سے مزید دور ہوتے چلے جاتے۔ وہ جو اک زندگی ہے نا کہ جس میں بیٹا دفتر جا رہا ہے، بیٹی یونیورسٹی جا رہی ہے، سب گھر والے ادھرادھر بکھرے پڑے ہیں۔
قومی اسمبلی سے انسداد دہشتگردی ترمیمی بل 2020 کو کثرت رائے سے منظور کرلیا گیا، شرکت داری محدود ذمہ داری سمیت پانچ بلز منظور کرلئے گئے۔ تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی میں انسداد دہشتگردی ترمیمی بل 2020 کو کثرت رائے سے منظور کرلیا گیا جس میں کمپنیز ترمیمی بل اور نشہ آور اشیا کی روک تھام کا بل بھی شامل ہے۔
وفاقی وزیر برائے مذہبی امور پیر نورالحق قادری نے کہا ہے کہ اسرائیل میں موساد کی ایک خاتون جعلی اکاؤنٹ سے فرقہ وارانہ مواد پھیلا رہی ہے۔ یہ خاتون فرقہ وارانہ موادسوشل میڈیا پربھیج دیتی ہے اورپھر آگے شیعہ اور سنی خود سے اسے پھیلاتے ہیں۔
سعودی عرب کے سابق انٹیلجنس افسر کی شکایت پر واشنگٹن کی ایک امریکی عدالت نے سعودی بن سلمان ولی عہد کو طلب کرلیا ہے۔ سابق سعودی انٹیلی جنس ایجنٹ کو مبینہ طور پر ناکام قاتلانہ حملے میں نشانہ بنایا گیا تھا۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں