Monday, 18 February, 2019
بھارت کی سفارتی دہشتگردی اور ویانا کنونشن

بھارت کی سفارتی دہشتگردی اور ویانا کنونشن
تحریر: ابو علی صدیقی

 

یہ حقیقت کسی تشریح اور وضاحت کی محتاج نہیں ہے کہ مودی سرکار کی اشتعال انگیز بلکہ جارحانہ پالیسی کے نتیجے میں پاکستان اور بھارت کے درمیان سفارتی اور عسکری سطح پر کشیدگی میں تشویشناک حد تک اضافہ ہو چکا ہے۔ اس کا اندازہ یوں کیا جا سکتا ہے کہ 13 جنوری (اتوار) کے روز بھارتی اہلکاروں نے نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن میں تعینات اہلکار کو گرفتار کرکے کئی گھنٹے تک حبس بیجا میں رکھا تاہم پاکستان حکام کی جانب سے معاملہ بھارتی وزارت خارجہ کے سامنے اٹھانے پر پاکستانی اہلکار کی رہائی عمل میں آئی۔ پاکستان نے ہائی کمیشن کے اہلکار کی گرفتاری پر بھارت سے شدید احتجاج کیا اور اس گرفتاری کو ویانا کنونشن کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے بھارت پر واضح کر دیا کہ ایسے کسی بھی واقعہ پر جواب کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق سفارتکار معمول کی شاپنگ کے لئے نئی دہلی کی ایک مارکیٹ میں گئے جہاں طے شدہ منصوبہ کے تحت ایک بھارتی خاتون جان بوجھ کر پاکستانی سفارتکار کے ساتھ ٹکرائی اور گالی گلوچ شروع کر دی۔ پاکستانی سفارتکار نے اپنی غلطی نہ ہونے کے باوجود اس خاتون سے معذرت کی لیکن اس خاتون نے وہاں پر لوگوں کی بھیڑ اکٹھی کر لی جس کے بعد پولیس بھی وہاں پر آگئی اور پاکستانی سفارتکار کو زبردستی اپنی گاڑی میں بٹھا کر مقامی تھانے لے گئی۔ پاکستانی سفارتکار نے اس کارروائی پر سخت احتجاج کیا لیکن بھارتی پولیس نے ان کا احتجاج نظرانداز کرتے ہوئے ان کے ساتھ انتہائی نامناسب رویہ اختیار کیا اور بعدازاں ان سے دو سادہ کاغذات پر دستخط کروائے گئے۔ ادھر بھارتی دفتر خارجہ کے حکام نے پاکستانی سفارتکار کو گرفتار کئے جانے کی تردید کی اور کہا کہ واقعہ کا بھارتی حکام سے کوئی تعلق نہیں کیونکہ مذکورہ واقعہ کی ایک عام شہری نے درخواست دی جس پر پولیس نے کارروائی کی۔

پاکستان کے سفارتی عملے کے ساتھ بھارتی حکام کا ناروا سلوک اور توہین آمیز رویہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ ایسے واقعات بھی ریکارڈ کا حصہ ہیں کہ پاکستانی سفارتی عملے کو ذہنی کوفت پہنچانے اور ان کو اپنے فرائض کی ادائیگی سے روکنے کے لئے ان کے گھروں کی بجلی، پانی اور گیس کی فراہمی میں رکاوٹ پیدا کی گئی، ان کے مہمانوں کو ہراساں کیا گیا اور ان کی آزادانہ نقل و حرکت کی بھی حوصلہ شکنی کی گئی۔ ایسے واقعات کی سفارتی سطح پر مذمت کی گئی اور عالمی برادری میں ان واقعات کو ناپسندیدگی کی نگاہ سے دیکھا گیا لیکن بھارت کے رویہ میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ اس صورتحال کا ایک فکرانگیز پہلو یہ بھی ہے کہ مودی سرکار اپنی ان غیر شائستہ اور غیر مہذب حرکات سے مقبوضہ ریاست جموں و کشمیر میں اپنے بہیمانہ مظالم کی پردہ پوشی کے لئے کوشاں ہے۔ اس تناظر میں نہایت وثوق سے کہا جا سکتا ہے کہ بھارتی حکومت نے ویانا کنونشن اور دیگر سفارتی آداب و قوانین کو یکسر فراموش کرنے کی افسوسناک بلکہ شرمناک راہ اختیار کر رکھی ہے۔
گذشتہ برس 10 مارچ کو پاکستان نے بھارت کی حکومت سے اس بارے احتجاج کیا تھا کہ نئی دہلی میں موجود پاکستان کے سفارتی عملے اور ان کے اہل خانہ کو ہراساں کیا جا رہا ہے اور اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو مذکورہ سفارتی عملے کے اہل خانہ کو واپس وطن بلا لیا جائے گا۔ اس سلسلے میں جو احتجاجی مراسلہ بھارتی حکام کے حوالے کیا گیا اس میں واضح کیاگیا تھا کہ سفارتی عملے کو ہراساں کئے جانے کے واقعات میں اضافے کے نتیجے میں ان کے اہل خانہ کے لئے وہاں پر قیام ممکن نہیں رہا۔ یہ نشاندہی بھی کی گئی تھی کہ گذشتہ تین دنوں میں ایسے واقعات رونما ہوئے جن میں پاکستان کے ڈپٹی ہائی کمشنر کے بچوں کو اپنے سکول جاتے ہوئے روک کر ہراساں کیا گیا۔ اسی طرح ایک اور سینئر سفارتکار کو اس وقت ہراساں کیا گیا جب وہ دہلی میں ہی سفر کر رہے تھے۔ اس کے علاوہ پاکستانی ہائی کمیشن کی گاڑیوں کو غیر ضروری طور پر روک کر ان کی تلاشی لی گئی۔ اس پر مستزاد یہ کہ کئی مرتبہ گاڑی میں موجود سفارتی عملے کے ساتھ سرعام توہین آمیز سلوک روا رکھا گیا اور ایسے میں کئی گاڑیاں حادثات کا شکار بھی ہوگئیں۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ پاکستانی ہائی کمیشن میں کام کرنے والے بھارتی ملازمین نے بھی یہ شکایت کی کہ ان کو اپنے کام کے سلسلے میں آتے اور جاتے وقت بھارتی حکام کی طرف سے ہراساں کیا جاتا ہے۔اس سلسلے میں یہ حقیقت بھی نہایت قابل توجہ تصور کی گئی کہ 2003ء کے بعد 2017ء میں لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری پر بھارت کی طرف سے سب سے زیادہ تعداد میں خلاف ورزیاں کی گئیں جن کے نتیجے میں 87 افراد ہلاک ہوگئے۔ اس صورتحال میں 30 مارچ کو پاکستان اور بھارت نے اس بات پر ا تفاق کیا کہ دونوں ممالک ایک دوسرے کے سفارتکاروں اور عملے کے ساتھ اس 12 نکاتی معاہدے کے تحت سلوک روا رکھیں گے جو 25 برس قبل یعنی 1992ء میں طے پایا تھا۔ اس معاہدے میں دیگر امور کے علاوہ طے پایا تھا کہ سفارتی عملے اور دیگر اہلکاروں کی سخت یا غیر ضروری نگرانی نہیں کی جائے گی، اسی طرح ان کی گاڑیوں کا تعاقب نہیں کیا جائے گا اور ان کو ہراساں بھی نہیں کیا جائے گا۔ اگر کسی مرحلے پر اس معاہدے کی خلاف ورزی کی گئی تو رسمی احتجاج کرنے سے پہلے ہائی کمیشن کو اس کی پیشگی اطلاع دی جائے گی۔ ایک فریق کی طرف سے احتجاج کی صورت میں دوسرا فریق معاملے اور شکایت کی چھان بین کرے گا اور صورتحال کی بہتری اور اصلاح کے لئے اقدامات کرے گا۔ دونوں ممالک غیر ضروری ’’بڑھاوے‘‘ کو نظرانداز کریں گے۔ 

ان حالات میں چند ماہ کے بعد اس وقت ایک اہم تبدیلی مشاہدہ کی گئی جب 11 جولائی کو 6 پاکستانی سفارتکاروں کے نئی دہلی سے وطن واپس آنے کے بعد 8 بھارتی سفارتکاروں کی واپسی کی خبریں منظر عام پر آگئیں۔ ان خبروں سے یہ حقیقت اجاگر ہوئی کہ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی سطح پر نہ صرف کشیدگی بدستور موجود ہے بلکہ اس میں قابل ذکر اضافہ بھی ہو رہا ہے۔ پاکستان کا حقیقت پر مبنی موقف یہی تھا کہ اس کے سفارتکاروں اور دیگر عملے کو اس بناء پر نئی دہلی سے واپس بلایا گیا ہے کہ ان کے لئے وہاں پر اپنے فرائض سرانجام دینا ممکن نہیں رہا۔ بھارت سے واپس آنے والے سفارتکاروں میں کمرشل قونصلر سید فرخ حبیب اور فرسٹ سیکرٹریز خادم حسین، مدثر چیمہ اور شاہد اقبال شامل تھے۔ دریں اثناء اسلام آباد میں سفارتی حلقوں میں یہ خبر بھی عام رہی کہ بھارت نے اپنے جن سفارتکاروں کو واپس بلانے کا فیصلہ کیا ان پر پاکستان کی طرف سے تخریب کاری کی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا الزام عاید کیا گیا تھا۔ ان بھارتی سفارتکاروں میں پی کے اگنی ہوتری اور بلبیر سنگھ کے نام شامل تھے تاہم سرکاری طور پر پاکستان کی طرف سے کسی بھارتی سفارتکار پر تخریب کاری میں ملوث ہونے کا الزام عاید نہیں کیا گیا تھا۔ 

ڈاکٹر نشانک متوانی بھارت کے ممتاز دانشور اور تجزیہ کار ہیں جبکہ ان کو سفارتی اور بین الاقوامی امور کا ماہر بھی تسلیم کیا جاتا ہے۔ گذشتہ برس اکتوبر میں انہوں نے اپنے ایک تجزیہ میں اس خیال کا اظہار کیا تھا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان بڑھتی ہوئی سفارتی کشیدگی کی طرف بلاتاخیر توجہ دی جانی چاہئے کیونکہ ایسے احوال کسی طور خوشگوار نتائج مرتب نہیں کرتے۔ انہوں نے اس خدشے کا اظہار بھی کیا تھا کہ اگر یہ صورتحال یعنی پاک بھارت کشیدگی کا سلسلہ جاری رہا تو دونوں ممالک کے درمیان ایک ایسے عسکری تصادم کا راستہ ہموار ہو سکتا ہے جو ممکن ہے محدود پیمانے پر ہو لیکن اس سے دونوں ممالک کو ناقابل تلافی نقصان ضرور ہوگا۔ بھارتی دانشور کا یہ تجزیہ اس حقیقت کی روشنی میں نہایت فکرانگیز قرار دیا گیا کہ 28 جون 1914ء کو بوسنیا کے دارالحکومت سراجیوو میں آسٹریا کے ایک سفارتکار آرک ڈیوک فرانزفرنینانڈ کو ان کی اہلیہ سوفی سمیت اس وقت قتل کر دیا گیا تھا جب وہ سرکاری دورے پر تھے۔ اس قتل کے نتیجے میں ہی اس خطے میں حالات بڑی تیزی کے ساتھ یوں تبدیل ہوئے کہ اگست کے اوائل میں پہلی جنگ عظیم کا آغاز ہو گیا۔ 
حالات حاضرہ اور بین الاقوامی امور کا ایک عام طالب علم بھی اس حقیقت سے خوب آگاہ ہے کہ موجودہ دور میں ویانا کنونشن کے تحت 2 ممالک کے درمیان تعلقات قائم کرنے اور ان تعلقات کو استوار رکھنے کے لئے کوششیں کی جاتی ہیں۔ یہ ایک بین الاقوامی معاہدہ ہے جس میں 2 آزاد ریاستوں کے درمیان سفارتی تعلقات کے باب میں طریقہ کار کی وضاحت کی گئی ہے چنانچہ اس میں سفارتی عملے اور اہلکاروں کے استحقاق کے بارے میں بھی وضاحت موجود ہے اور اس امر کی تشریح بھی کی گئی ہے کہ مذکورہ عملہ کس طرح کسی خوف و ہراس کے بغیر اپنے فرائض انجام دے گا۔ مزید برآں مذکورہ عملے کو حاصل استثنیٰ کے حوالے سے بھی معلومات فراہم کی گئی ہیں۔ اس معاہدے (ویانا کنونشن) پر 18 اپریل 1961ء کو دستخط کئے گئے تھے تاہم اس کا اطلاق 24 اپریل 1964ء کو ہوا تھا۔ اکتوبر 2018ء میں اس پر 192 ریاستوں کی طرف سے دستخط کئے جا چکے تھے۔ مذکورہ کنونشن کی حقیقی روح یہی ہے کہ ہر ریاست اور حکومت اپنے یہاں غیر ملکی سفارتکاروں کو اپنا مہمان تصور کرے اور ان کے ساتھ ہر ممکن مہذب اور شائستہ رویہ اختیار کرے۔ اس سلسلے میں پہلی کوشش اور سفارتی قانون 1815ء میں وضع کیا گیا تھا جس میں 1928ء میں ہوانا میں مزید بہتری لائی گئی تھی۔ موجودہ ویانا کنونشن کا مسودہ ایک انٹرنیشنل لاء کمیشن نے تیار کیا تھا جس کی منظوری اقوام متحدہ کی کانفرنس برائے سفارتی تعلقات نے دی تھی۔ ویانا کنونشن میں مجموعی طور پر 53 آرٹیکلز شامل کیے گئے ہیں۔ بین الاقوامی سفارتی حلقوں میں یہ تاثر عام ہے کہ بھارت کو پاکستان کے خلاف ’’سفارتی دہشتگردی‘‘ کی اشتعال انگیز پالیسی بلاتاخیر تبدیل کرنا چاہئے تاکہ اس خطے میں امن کی کوششیں ثمربار اور کامیاب ہو سکیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کسی بھی خبر سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ علاوہ ازیں آپ بھی اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر info@mubassir.com پر ای میل کر سکتے ہیں۔ ادارہ 

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  60345
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
فلسطین فاونڈیشن کے زیر اہتمام اسلام آباد میں منعقدہ سے افتتاحی خطاب میں فلسطین فاونڈیشن پاکستان کے مرکزی ترجمان صابر ابومریم کا کہنا تھاکہ فلسطینی آج بھی ظالم صہیونیوں کے ٹینکوں کے مقابل ڈٹے ہوئے ہیں
جدوجہد آزادی ہندوستان میں تمام علماء ومشائخ نے بھرپور کردار ادا کیا ہے لیکن ایک بڑا طبقہ گاندھی جی کی زلفوں کا اسیر ہوچکا تھا اور ایک خاص طبقہ کے علماء ومشائخ نے حضرت قائداعظم ؒ کا ساتھ دیا۔
بحرینی عوام نے 14 فروری 2011 میں ا پنے جمہوری حقوق اور سماجی انصاف کے حصول کے لئے عوامی تحریک کا آغاز کیا تھا ۔ تمام تر حکومتی ہتھکنڈوں کے باوجود یہ تحریک اپنا وجود نہ صرف برقرار رکھے ہوئے ہے
دنیا بھر کی طرح پاکستان میں جس انداز سے اس مرتبہ یوم یکجہتی کشمیر منایا گیا وہ اپنی مثال آپ ہے۔ حکومتی سطح پر بھی اسے بہت اہمیت حاصل رہی اور سیاسی و مذہبی جماعتوں نے بھی اس کا بھرپور اہتمام کیا۔ پاکستان کی قومی

مزید خبریں
افغانستان میں جنگ کو تیرہ برس گزرگئے اور 2014ء اس جنگ کے باقاعدہ اختتام کا سال ہے۔یہ برس عالمی تاریخ میں خاص اہمیت اختیار کرتاجارہا ہے۔پرائم ٹارگٹس پر مزاحمت کاروں کے حملے اس حقیقت کو واضح کرتے ہیں کہ طالبان آج تیر ہ سال بعد بھی افغانستان میں طاقت ورہیں۔
15 فروری 2014ء کو سندھ حکومت کے زیر انتظام دوہفتوں سے انعقاد پذیر ثقافتی سرگرمیوں کا میلہ ’’ سندھ فیسٹیول ’’ ختم ہوا تو صوبہ کے ایک دور افتادہ ضلع میں ’’ ڈیتھ فیسٹیول ‘‘ کا آغاز ہوچکا تھا۔
صحرائے تھر کی زمین پانی اور بچے دودھ کو ترس گئے، قحط سالی کے باعث بھوک نے انسانی زندگیوں کو نگلنا شروع کردیا ہے، حکومت نے تھرپارکر کو آفت زدہ تو قرار دے دیا مگر متاثرین کیلئے مختص گندم محکمہ خوراک کے گوداموں میں سڑ رہی ہے۔

مقبول ترین
وزیراعظم عمران خان سے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے ون آن ون ملاقات کی۔ وزیراعظم اور سعودی ولی عہد کی ملاقات وزیراعظم ہاؤس اسلام آباد میں ہوئی۔ ملاقات میں پاک سعودی تعلقات اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کا طیارہ جیسے ہی پاکستانی فضائی حدود میں داخل ہوا تو معززمہمان کا شایان استقبال شروع کر دیا گیا۔ پاک فضائیہ کے ایف 16 اور جے ایف 17 تھنڈر طیاروں نے شاہی طیارے کو اپنے حصار میں لے لیا۔
چین کے ڈپٹی چیف آف مشن چاؤ لی جیان کا کہنا ہے کہ سعودی عرب سمیت کوئی بھی ملک چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے (سی پیک) کا حصہ بن سکتا ہے۔ میڈیا کے مطابق جیو ٹی وی کے پروگرام جیو پارلیمنٹ میں گفتگو کرتے ہوئے ڈپٹی چیف
ترجمان قومی اسمبلی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ قومی اسمبلی کے پیر کو ہونے والے اجلاس کا شیڈول تبدیل کر دیا گیا ہے۔ قومی اسمبلی کا پیر کی شام 4 بجے ہونے والا اجلاس اب بدھ کی شام 4 بجے ہو گا۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں