Friday, 18 October, 2019
’’مودی کا دورہ اسرائیل اور مسئلہ کشمیر ‘‘

’’مودی کا دورہ اسرائیل اور مسئلہ کشمیر ‘‘
رپورٹ: مرتضیٰ عباس

 

ملی یکجہتی کونسل پاکستان کے زیر اہتمام ’’مودی کا دورہ اسرائیل اور مسئلہ کشمیر‘‘ کے موضوع پر ایک روزہ سیمینار نیشنل پریس کلب، اسلام آباد میں منعقد کیا گیا۔ جس میں ملی یکجہتی کونسل میں شامل جماعتوں کے مرکزی قائدین نے خطاب کیا۔

سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے ملی یکجہتی کونسل پاکستان اور جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل لیاقت بلوچ نے کہا ہے کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کا دورہ اسرائیل حقیقت میں مسلمانوں کے مفادات کو نقصان پہچاننے کے لیے ہے۔ امریکا کی طرف سے کشمیر جہاد کونسل کے سربراہ سید صلاح الدین کو دہشت گرد قراردینا اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی اور پروفیسرحافظ سعید کی نظربندی بھارت کوخوش کرنے کی کوشش ہے۔ 

ان کا کہنا تھا کہ امریکا پوری دنیا میں اپنی بالا دستی چاہتا ہے۔ امریکا اسرائیل اور بھارت کے الگ الگ مفادات کے باوجود مسلمانوں کے خلاف سب ایک ہیں۔ بھارت خطے میں زیادتی کرنے والا، انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرنے والا ملک ہے۔ آج ہماری حکومت خارجہ پالیسی کے حوالے سے پارلیمیٹ کواعتمادمیں نہیں لے رہی۔انھوں نے کہاکہ کشمیریوں نے جو لازوال قربانیاں دی ہیں انھوں نے مودی کی پالیسیوں کوآشکارکردیاہے۔ عالمی سطح پر تبدیلی آرہی ہے نئے دوست اور دشمن بن رہے ہیں۔سرد جنگ کے خاتمے کے بعد امریکا بھی نئی صف بندی کے لیے آگے بڑھ رہا ہے۔

سیمینار میں اظہار خیال کرتے ہوئے جمعیت اہل حدیث کے ناظم اعلی ابتسام الٰہی ظہیر نے کہا کہ آج روئے زمین پر گائے کے تقدس کی قائل صرف دو قومیں ہیںایک یہودی اور دوسرے ہندو۔ اسلام ایک آفاقی دین ہے ۔

فلسطینی اور کشمیری دونوں مظلوم قومیں ہیں جو اسرائیل اور بھارت کے مظالم کا شکار ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ملی یکجہتی کونسل نے تمام مکتب فکر کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کردیاہے۔ اسلام آباد کو صحیح معنوں میں اسلام آ باد بنایا جائے گا۔انشا اللہ کشمیر پاکستان کا حصہ بن کر رہے گا۔

کونسل کے ڈپٹی سیکریٹری جنرل ثاقب اکبرنے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ امریکی صدر ٹرمپ ریاض کے دورے کے بعد جب تل ابیب پہنچے توایسے لگاکہ جیسے اپنے گھر پہنچ گئے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ کسی امریکی صدر نے فلسطین کے حوالے سے دو ریاستی نظریے کی جگہ یک ریاستی نظریے کی بات کی ہے۔ 

انھوں نے کہا کہ گجرات کے قاتل بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کا دورہ اسرائیل موساد اور را کے دیرینہ تعلقات میں اضافے کے لیے تھا۔انھوں نے کہا کہ پاکستان کو اپنی خارجہ پالیسی پر نظر ثانی کرنا ہوگی کیونکہ بھارت مسئلہ کشمیر پر بات کرنے کو تیار نہیں ہے۔ برہان وانی کی شہادت کے بعد کشمیر کی آزادی کی تحریک میں تیزی آئی ہے۔ امریکا کی مسئلہ کشمیر پر ثالثی بھارت کو مشکل سے نکالنے کے لیے اور بھارتی مفادات کا تحفظ کرنے کے لیے ہوگی۔

جماعت اسلامی کے نائب امیر اسد اللہ بھٹو نے کہا کہ امریکا بھارت اسرائیل کٹھ جوڑ دنیا کے امن کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے۔ یہ گٹھ جوڑ امت مسلمہ کو ختم کرنا چاہتا ہے۔ مسئلہ کشمیراہم ترین مسئلہ ہے مگر برطانوی وزیراعظم نے بھارت کے دورے کے دوران کشمیر میں بھارتی مظالم پر ایک لفظ تک نہیں کہا۔

کشمیر میڈیاسروس کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر شیخ تجمل الاسلام نے بھارت اور اسرائیل کے باہمی روابط اور تاریخ پر روشنی ڈالی۔ انھوں نے کہا کہ پیلٹ گن اور کشمیریوں کے خلاف استعمال ہونے والے دوسرے ہتھیار اور ٹیکنالوجی اسرائیل نے بھارت کو مہیاکی ہے ۔

تقریب سے ملی یکجہتی کونسل پاکستان کے دیگر قائدین نے بھی خطاب کیا جن میں تنظیم اسلامی کے خالد محمود عباسی، پاکستان عوامی تحریک کے قاضی شفیق الراحمن ،اتحاد علمائے پاکستان کے نائب صدر مولانا عبدالجلیل نقشبندی، تحریک جوانان پاکستان کے مولانا محمد عمران سندھو بھی شامل ہیں ۔

اس تقریب میں کونسل کے اراکین ، کشمیری حریت راہنماﺅں اور عوام کی ایک کثیر تعداد نے شرکت کی ۔سیمینار کے اختتام پر مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا۔

مشترکہ اعلامیہ کے نکات درج ذیل ہیں
1۔ ملی یکجہتی کونسل پاکستان میں شامل تمام جماعتیں اور ادارے تحریک آزادی کشمیر کی بھرپور حمایت کرتے ہیں اور آزادی کی تحریک میں آنے والی اس نئی اٹھان کو کشمیری عوام کے جذبوں کی ترجمان کے طور پر دیکھتے ہیں ۔ اس عوامی اٹھان نے یہ ثابت کیا ہے کہ کشمیری عوام خود سے اپنے حق خود ارادیت کے حصول کے لیے یک سو و یک زبان ہیں ۔

2۔ پاکستان بدلتی ہوئی عالمی اور خطہ کی صورتحال کے پیش نظر ، خاص طور پر امریکہ ، بھارت اور اسرائیل کے بڑھتے ہوئے تعامل کے پیش نظر اپنی خارجہ پالیسی پر ایک جامع اور عمیق نظر ثانی کرے اور پاکستان کے مفاد میں ،پاکستان کے دفاعی اور تزویراتی مقاصد کو سامنے رکھتے ہوئے اور کشمیر کے پاکستان کے ساتھ الحاق اور کشمیری عوام کے حق خود ارادیت کے حصول کے لیے اپنی خارجہ حکمت عملی کے خدو خال واضح کرے۔ اس سلسلے میں ساری پاکستانی قوم کو ، سیاسی قیادت کو اور قومی و ریاستی اداروں کی آراء کو پیش نظر رکھنے اور ان کا اعتماد حاصل کرنے کی ضرورت ہے تاکہ خارجہ پالیسی حقیقی معنی میں ایک قومی خارجہ پالیسی کی حیثیت اختیار کرے جو کسی خارجی دباؤ کے تحت تغیر و تبدل کا شکار نہ ہوتی رہے۔

3۔ پاکستان کا کشمیر کے مسئلے پر موقف ہمیشہ حق و صداقت پر مبنی رہا ہے ۔پاکستان نے کشمیریوں کے حق خود ارادیت کی حمایت عالمی سطح پر قبول شدہ قوموں کے حقوق اور اصولوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے کی ہے جبکہ بھارت نے کشمیر کے مسئلہ پر ہمیشہ جارحانہ موقف اختیار کیا ہے ۔ پاکستان نے اپنے مبنی برحق موقف کے باوجود دفاعی حکمت عملی اختیار کیے رکھی ہے لیکن کشمیری عوام نے اپنی مسلسل جدوجہد سے اس حکمت عملی کی کمزوری کو واضح کر دیا ہے خاص طور پر ایک سال پہلے برہان مظفر وانی کی جرأت مندانہ جدوجہد اور حریت پسندانہ شہادت نے کشمیری عوام کے جذبۂ آزادی کو جس انداز سے انگیخت کیا ہے اور وہ جیسے خود جوش طریقے سے کشمیر کی سرزمین پر آشکار ہوئی ہے اس کا تقاضا ہے کہ کہ پاکستان کشمیر کے بارے میں اقدام پر مبنی جرأت مندانہ موقف اختیار کرے۔ اس سلسلے میں پاکستان کے عوام یکسو ہیں مذہبی اور سیاسی قیادت کو بھی اس سلسلے میں یکسو ہو کر عوام کی ترجمانی کا فریضہ انجام دینا ہو گا۔

4۔ بھارت اور اسرائیل کے بڑھتے ہوئے تعلقات نہایت تشویشناک ہیں۔ یہ اہل ظلم کا اتحاد ہے۔ یہ اجلاس نہ صرف اس اتحاد کی مذمت کرتا ہے بلکہ عالم اسلام کے ممالک سے بھی مطالبہ کرتا ہے کہ وہ اس اس ظالمانہ اتحاد کے خلاف مشترکہ حکمت عملی وضع کریں ۔

5۔ یہ اجلاس جماعۃ الدعوۃ کے امیر اور ملی یکجہتی کونسل پاکستان کی مجلس قائدین کے رکن جناب حافظ محمد سعید کی بلا جواز نظر بندی کی شدید مذمت کرتا ہے اور حکومت پاکستان سے مطالبہ کرتا ہے کہ فی الفور ان کی نظر بندی کا خاتمہ کیا جائے ۔

6۔ یہ اجلاس حزب المجاہدین اور جہاد کونسل کے سربراہ سید صلاح الدین کو امریکا کی جانب سے دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کیے جانے کے فیصلے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہے ۔ یہ اعلان امریکا ، اسرائیل اور بھارت گٹھ جوڑ کی بین دلیل ہے ۔ سید صلاح الدین تحریک آزادی کشمیر کے عظیم راہنما اور مجاہد ہیں ان کے خلاف کوئی اقدام تحریک آزادی کشمیر کے خلاف اقدام ہے۔ اس استعماری اتحاد نے حریت پسندوں کو دہشت گرد قرار دینے اور آزادی کی تحریکوں کو دہشت گردی کی تحریکیں قرار دینے کی جو روش اختیار کی ہے وہ انسانی اقدار کی نفی اور انسانی حقوق کی پامالی کے مترادف ہے جب کہ یہی ممالک خصوصا امریکا دنیا میں دہشت گردی کے فروغ اور دہشت گردوں کی تربیت میں بنیادی کردار ادا کر رہے ہیں ۔

7۔ یہ اجلاس مسئلہ کشمیر پر امریکا کی جانب سے ثالثی کی پیشکش کو امریکا کے حالیہ اقدام ، ماضی کی روش نیز بھارت نوازی کے پیش نظر مسترد کرتا ہے اور حکومت پاکستان سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ اس قسم کی کسی تجویزکو قبول نہ کرے کیونکہ امریکہ کشمیری عوام کے حق خودارادیت کے حصول میں تعاون نہیں کرے گا ۔امریکا جب بھی اس مسئلے میں مداخلت کرے گا وہ بھارت کے مفاد میں، اسے مشکلات سے نکالنے اور تحریک آزادی کو سبوتاژ کرنے کے لیے کوشش کرے گا۔

8۔ یہ اجلاس برہان مظفر وانی شہید کی پہلی برسی کے موقع پر بھارتی افواج کی جانب سے تشدد کی نئی لہر کی شدیدالفاظ میں مذمت کرتا ہے اور انسانی حقوق کے اداروں سے تقاضا کرتا ہے کہ وہ بھارت کو ان جارحانہ اور ظالمانہ اقدامات سے باز رکھنے میں اپنا کردار ادا کریں ۔

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  15048
کوڈ
 
   
مقبول ترین
وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ یہ پہلی اسمبلی ہے جو’ڈیزل‘ کے بغیر چل رہی ہے اگر فضل الرحمان کے لوگ میرٹ پر ہوئے تو انہیں بھی قرضے دیے جائیں گے۔ وزیراعظم عمران خان نے نوجوانوں کے لیے ’کامیاب جوان پروگرام‘ کا افتتاح کردیا ہے۔
وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت تحریک انصاف کی کورکمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں پنجاب اور خیبر پختونخوا کے وزرائے اعلیٰ اورتین گورنرز نے شرکت کی۔ حکومت نے مولانا فضل الرحمان سے مذاکرات کے لیے کمیٹی بنانے کا فیصلہ کیا ہے
اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے فواد چوہدری نے کہا کہ نوکریاں حکومت نہیں نجی سیکٹر دیتا ہے یہ نہیں کہ ہر شخص سرکاری نوکر ی ڈھونڈے ، حکومت تو 400 محکمے ختم کررہی ہے مگرلوگوں کا اس بات پر زور ہے کہ حکومت نوکریاں دے۔
وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ پاکستان خطے میں امن اور استحکام کے لئے اپنا کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔ ایرانی صدر سے ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ایرانی صدر حسن روحانی نے کہا کہ پاکستان اور

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں