Sunday, 05 April, 2020
کرونا کے زیر سایہ عراق میں امریکا کے نئے اقدامات

کرونا کے زیر سایہ عراق میں امریکا کے نئے اقدامات
تحریر: ثاقب اکبر

 

اِدھر پوری دنیا میں کرونا کرونا کا شور مچا ہوا ہے اور مشرق و مغرب میںخوف و دہشت کی فضا موجود ہے ، اُدھر عراق میں امریکا نئے سے نئے فوجی اقدامات کررہا ہے۔ یہ اقدامات خاصے خفیہ اور پیچیدہ ہیں۔ تمام حقائق سامنے نہیں آرہے۔ مختلف خبروں کے ٹکڑوں کو جوڑ کر تصویر بنانے کی کوشش کی جاسکتی ہے۔ صرف عراق ہی نہیں صدر ٹرمپ کرونا کی وحشت انگیزیوں کے دوران میں اپنے کئی حریفوں کے خلاف پے در پے کارروائیاں کررہے ہیں۔ چین کے خلاف ہرزہ سرائیوں پر ایک دنیا انگشت بدنداں ہے اور ایران میں کرونا کی ہولناکیوں کے دوران میں اس پر پابندیوں کی مزید بجلیاں گرانے کے سلسلے جاری ہیں۔ زیر نظر سطور میں ہم عراق میں ہونے والی حالیہ پیش رفت کا جائزہ لینے کی کوشش کرتے ہیں۔

جنوری 2020 کے شروع میں بغداد ایئرپورٹ پر ایران کی قدس فورس کے کمانڈر جنرل قاسم سلیمانی اور عراق کی الحشد الشعبی کے نائب کمانڈر ابو مہدی المہندس کی امریکی بمباری کے نتیجے میں شہادت کے بعد عراق کی پارلیمان نے امریکی افواج کے نکل جانے کی حمایت میں قرارداد منظور کی۔ عراق کے عبوری وزیراعظم عادل المہدی نے بھی بغداد میں موجود امریکی سفیر کو اپنے دفتر میں طلب کرکے اپنی پارلیمان کا یہ فیصلہ ان کے سامنے رکھا اور مطالبہ کیا کہ امریکی افواج عراق سے نکل جائیں۔ 

اس موقع پر عراقی وزیراعظم نے کہا کہ عراق میں غیر ملکی فوج کی موجودگی دہشت گردی کے خلاف جنگ سے دور ہو چکی ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ غیر ملکی فوجیوں کی بے دخلی عراق کوایک ممکنہ تصادم سے بچائے گی۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ یہ کشیدگی سے بچنے کا واحد راستہ ہے۔ اس موقع پر وزیراعظم عبدالمہدی نے یہ تصدیق بھی کی کہ انھیں امریکی کمانڈ کا عراق سے فوجیوں کے انخلا کے بارے میں ایک پیغام موصول ہوا تھا لیکن پھر چند گھنٹوں کے بعد امریکا کی جانب سے کہا گیا کہ وہ پیچھے ہٹ گئے ہیں اور پیغام غلط تھا۔

واضح رہے کہ 5 جنوری کو عراقی پارلیمینٹ نے اس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا تھا جس میں بغداد میں امریکی فضائی حملے میں عراقی ملیشیا کتائب حزب اللہ کے رہنما ابو مہدی المہندس اور ایرانی کمانڈر قاسم سلیمانی کی شہادت کے بعد حکومت سے غیر ملکی فوجیوں کو ملک سے نکالنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

اس مطالبے کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اگر عراق نے غیر دوستانہ طریقے سے امریکی افواج کو چلے جانے کو کہا تو ہم ان پر ایسی پابندیاں لگائیں گے جو انھوں نے پہلے کبھی نہیں دیکھی ہوں گی۔ ایران پر عائد پابندیاں بھی ان پابندیوں کے سامنے کچھ نہیں ہوں گی۔انھوں نے یہ بھی کہا کہ وہاں ہمارا بہت مہنگا فضائی اڈہ ہے جس کی تعمیر پر اربوں ڈالر لگے ہیں۔ ہم اس وقت تک نہیں نکلیں گے جب تک وہ اس کی قیمت ادا نہیں کر دیتے۔

ایک طرف عراقی حکومت اور پارلیمان کا مطالبہ اور دوسری طرف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا جواب، یہ ظاہر کرنے کے لیے کافی ہے کہ 2جنوری کے بعد عراق اور امریکا ایک دوسرے کے معاون، حلیف یا دوست نہیں رہے بلکہ ایک دوسرے کے آمنے سامنے آ گئے ہیں۔ پھر آج تک جو کچھ ہوا وہ اسی امر کی تصدیق کر رہا ہے۔ امریکا عراق میں فوجی طاقت کے سہارے رہنا چاہتا ہے اور عراقی اسے ہر صورت میں نکالنے کے لیے بے تاب ہیں۔ 

بی بی سی کی ایک رپورٹر نفیسہ کونوادر نے اپنی ایک تفصیلی رپورٹ میں اس صورت حال کا تجزیہ پیش کیا ہے۔ انھوں نے لکھا ہے کہ رواں سال میں عراقی رضا کار فورسز نے خطے میں امریکی موجودگی پر اپنی مخالفت کا اظہار کرنا شروع کر دیا تھا ان کا موقف تھا کہ وہ دولت اسلامیہ کا خود ہی مقابلہ کر سکتے ہیں۔ کتائب حزب اللہ نامی ان کے ایک ذیلی گروپ کا کہنا تھا کہ امریکا شامی سرحد پران کی تنصیبات کو نشانہ بنا رہا ہے۔ رپورٹر کا کہنا ہے: رضا کار فورسز جنھیں پی ایم ایف (Popular Movement Force) کہا جاتا ہے، کے بغداد میں صدر دفترمیں ایک انٹرویو کے دوران ابو آمنہ نامی کتائب حزب اللہ کے ایک کمانڈر نے ہمیں بتایا کہ اگر وہ جانا نہیں چاہتے تو ہم انھیں جانے پر مجبور کر دیں گے۔ اس وقت عراق میں سرکاری طور پر 5200امریکی فوجی ہیں۔ تاہم تازہ ترین اطلاعات کے مطابق خلیج کے بعض اڈوں سے کچھ تازہ دم دستے اور جدید ترین اسلحہ عین الاسد اور اربیل کے امریکی فوجی اڈوں تک پہنچایا گیا ہے۔ 

امریکی منصوبہ یہ معلوم ہوتا ہے کہ نسبتاً چھوٹے اڈوں کو عراقی فورسز کے حوالے کر دے، یہ ایسے اڈے ہیں جو شام کی سرحد کے قریب واقع ہیں یا پھر زیادہ اہم نہیں اور امریکی یہاں پر اپنے آپ کو زیادہ غیر محفوظ سمجھتے ہیں۔ ان اڈوں سے ایئرڈیفنس کا نظام دیگر اڈوں میں منتقل کر دیا گیا ہے اور اب یہ کہا جارہا ہے کہ تمام تر تنصیبات سمیت انھیں عراقی سیکورٹی فورسز کے حوالے کیے جارہا ہے۔ 

امریکا نے شام سے جو فوج نکالی ہے اور جو اہم اسلحہ جات وہاں سے واپس لائے گئے ہیں، انھیں بھی عراق میں منتقل کیا جاچکا ہے۔ یاد رہے کہ عراق میں امریکا کے آٹھ فوجی اڈے موجود ہیں جن میں سے سب سے اہم عین الاسد ہے جس پر ایران اپنے شہید کمانڈر کا بدلا لینے کے لیے حملہ کر چکا ہے۔ اس اڈے کا ڈیفنس سسٹم بہتر بنایا جارہا ہے۔ یہاں پر پیٹریاٹ ڈیفنس سسٹم کو نصب کیا جارہا ہے۔

علاوہ ازیں چند روز پہلے امریکا نے عراق میں کچھ عرصے کے لیے ایئر ٹریفک پر پابندی عائد کی تھی۔ اس دوران میں عین الاسد میں بمبار B52 طیارے منتقل کیے گئے ہیں، نیز امریکا کا آرمڈ ڈویژن 101جسے Roraing Eaglesکہا جاتا ہے کو یہاں منتقل کیا گیا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ ملٹری ڈویژن خاص طرح کی تربیت کا حامل ہے جس کے ذریعے اہم ترین اور کلیدی تنصیبات پر قبضہ کیا جاسکتا ہے۔ علاوہ ازیں متحدہ عرب امارات سے امریکی نیوی کے میرینز بھی عین الاسد میں پہنچا دیے گئے ہیں۔ 

اس سے پہلے امریکی فوجی اڈے التاجی پر حملے کی خبر آئی تھی۔ اس کے بارے میں بعض تجزیہ کاروں نے کہا تھا کہ یہ حملہ خاصا مشکوک ہے اور اس کی ذمہ داری کسی نے قبول نہیں کی ممکن ہے اس کا اہتمام خود امریکا نے کیا ہو تاکہ الحشد الشعبی کے اڈوں پر حملوں کا جواز پیدا کیا جاسکے۔

چنانچہ 12اور 13کی درمیانی رات امریکا کے جنگی طیاروں نے کتائب حزب اللہ اور الحشدالشعبی عراق کے مختلف مرکز پر حملہ کیا ان میں جرف الصخر اور شام کے مشرق میں البوکمال کے علاقے شامل ہیں۔ اس دوران میں امریکی طیاروں نے کربلا کے زیر تعمیر سویلین ہوائی اڈے کو بھی نشانہ بنایا۔ ان حملوں میں 6 افراد شہید اور 12زخمی ہوئے۔ 

اس کے بعد امریکی اڈے التاجی پر ایک اور راکٹ حملہ ہوا ۔کہا جاتا ہے کہ اس حملے میں 33راکٹ گرے۔ اس حملے کی ذمہ داری عصبۃ الثائرین نے قبول کی، تاہم اس گروہ کا الحشد الشعبی سے تعلق معلوم نہیں ہوتا۔ اس گروہ نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ غاصب امریکی اور غیر ملکی فورسز پر ایسے حملے جاری رہیں گے۔ 17مارچ کو بغداد کے جنوب مشرق میںواقع امریکا کے فوجی اڈے بسمایہ پر بھی راکٹ حملہ ہوا ہے۔

جہاں امریکا فوجی حوالے سے اقدامات کررہا ہے وہاں سیاسی میدان میں بھی وہ اپنے پیادے اور سوار آگے پیچھے کررہا ہے۔ امریکا کی کوشش یہ ہے کہ عراق میں اس کی مرضی کی حکومت قائم ہو جائے۔ اس وقت عراق کا صدر برہم صالح پہلے ہی امریکی حواریوں میں شمار ہوتا ہے۔ اب امریکا کی کوشش  ہے کہ وزیراعظم بھی اس کی مرضی کا آجائے چنانچہ عادل المہدی کی جگہ پہلے جس شخص کو وزیراعظم کے لیے نامزد کیا گیا تھا اس کے خلاف عراق کے منتخب اراکین نے یہی الزام عائد کیا کہ یہ امریکی کیمپ سے تعلق رکھتا ہے۔

ابھی حال ہی میں عراقی صدر برہم صالح نے الزرفی کو حکومت کی تشکیل کا ٹاسک سونپا ہے۔ الزرفی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان کی دوہری شہریت ہے، وہ عراقی کے علاوہ امریکی شہری بھی ہیں۔ چنانچہ امریکا اس نامزدگی کی حمایت کررہا ہے۔ دوسری طرف پارلیمینٹ میں موجود مختلف سیاسی جماعتوں نے صدر کے اس اقدام کو غیر قانونی قرار دیا ہے۔ اس طرح سے امریکا عراق میں سیاسی ڈیڈ لاک برقرار رکھنے کے درپے ہے یہاں تک کہ اس کی مرضی کی حکومت تشکیل پا جائے۔ 

اس اثنا میں امریکا نے تین چھوٹے فوجی اڈے عراقی فورسز کے حوالے کر نے کا فیصلہ کیا ہے ان میں شامی سرحد کے قریب القائم کا اڈہ اور موصل کے قریب القیارہ کا ہوائی اڈہ شامل ہے۔ کہا جاتا ہے کہ تیسرا اڈہ کرکوک کے قریب K-1 ہو سکتا ہے۔ پینٹا گون کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ عراق میں دہشت گردی کے خلاف واضح پیشرفت ہوئی ہے اور وہ اب داعش کے خلاف خود سے اقدام کر سکتے ہیں۔ یہ اس چیز کا اظہار معلوم ہوتا ہے کہ امریکا پہلے جو عراقی فورسز کے ساتھ مل کر بظاہر داعش کے خلاف کارروائی کرتا رہا ہے، اب وہ تکلف برطرف، خود سے جو کارروائی کرے گا اسے دہشتگردوں کے خلاف قرار دے گا۔ اس سلسلے میں اسے گویاعراقی فورسز سے ہم آہنگی کی ضرورت نہیں ہے۔ 

ان تمام خبروں اور صورتحال کو سامنے رکھ کر یہ اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ امریکا عراق میں ایک پیچیدہ اور خفیہ مشن کی تکمیل کے درپے ہے۔ وہ ہر اس قوت کو عراق سے ختم کر دینا چاہتا ہے جو اس کے عراق پر قبضے کے خلاف آواز اٹھا سکے یا اس کے استعماری مقاصد میں حائل ہو سکے۔ اس کے لیے اس کے پاس آسان راستہ یہ ہے کہ اس کے خلاف بولنے والے ہر فرد اور گروہ کو ایرانی ایجنٹ قرار دے دے حالانکہ عراق کی منتخب پارلیمان امریکی افواج کے عراق چھوڑنے کی قرارداد منظور کر چکی ہے اور اس کا تقاضا عراقی حکومت بھی کر چکی ہے۔ ویسے بھی عراق عراقیوں کا ہے، امریکیوں کا نہیں۔ امریکا کی کوشش یہ ہے کہ عراق کے وسائل اس کے گرفت میں رہیں، اس کے لیے اس کے کئی منصوبے ناکام ہو چکے ہیں۔ اس وقت عراقی عوام یہ فیصلہ کر چکے ہیں کہ امریکا کو اپنی سرزمین سے نکال کر دم لیں گے۔ دیکھنا یہ ہے کہ امریکا ان عراقی عوام کا مقابلہ کہاں تک اور کس طرح سے کرتا ہے۔ اسے بہرحال آج نہیں تو کل عراق سے نکلنا ہے اور ان شاء اللہ رسوا اور شکست خوردہ حالت میں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بشکریہ اسلام ٹایمز

نوٹ: مضمون نگار ’’مبصر ڈاٹ کام‘‘ کے چیف ایڈیٹر ہیں۔ مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھ info@mubassir.com پر ای میل کریں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  50545
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل فلسطین تنازع کے حل کیلئے اپنا دو ریاستی فارمولہ پیش کردیا، مشرق وسطیٰ کے لیے امن منصوبے کا اعلان کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ مقبوضہ بیت المقدس اسرائیل کا غیر منقسم دارالحکومت رہے گا۔
لیاقت با غ میں جیالوں کے نعروں نے بینظیر بھٹو کی تقریر تقریباً سمیٹی جا چکی تھی میں اور کبیر سرحدی دن بھر کی صحافتی مشقت سے ہلکان ہو چکے تھے اور چاہتے تھے کہ دفتر میں خبر فائل کرنے سے پہلے یہاں سے نکل کر ایک کپ چائے پی لیں۔
محنت سے عاری، مایوسی کے پیکر، خود سے تنگ لوگوں کی زبان سے یہ جملہ اکثر سننے کو مل جاتا ہے کہ پاکستان نے ہمیں کیا دیا ؟ ملک کو ستر سال ہو چکے ہیں اور تمام مسائل اسی طرح کھڑے ہیں؟ تعلیم، صفائی، ٹرانسپورٹ
پاکستانی قوم اس وقت جن باغیانہ اور دہشت گردانہ سرگرمیوں کے ساتھ اندرونی سیاسی انتشار اور خلفشار سے دو چار ہے وہ نہایت افسوسناک ہے، اس سے ملک و ملت کے استحکام اور بقا اور ملی یکحہتی کو سخت نقصان پہنچا ہے

مقبول ترین
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ہر قیمت پر اپنے عوام اور ان کے مفادات کا تحفظ کریں گے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو کی برسی کی مناسبت سے جاری بیان میں بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ
وفاقی حکومت کا کہنا ہے کہ 25 اپریل تک کورونا وائرس کے کیسز کی تعداد 50 ہزار تک پہنچنے کا خدشہ ہے۔ حکومت نے کورونا وائرس سے بچاؤ کے قومی ایکشن پلان کی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرا دی۔ حکومت کی جانب سے عدالت میں جمع کرائی
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج نے ریاستی دہشت گردی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 4 کشمیری نوجوانوں کو شہید کردیا۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق قابض بھارتی فوج نے جنت نظیر وادی کے ضلع کلگام کے خارجی اور داخلی راستوں کو بند
دفتر خارجہ کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق افغان حکومت کی جانب سے سرحد کھولنے کی درخواست کی گئی تھی۔ پاکستان افغانستان کے عوام کے ساتھ یکجہتی کرتا ہے، افغان حکومت کی خصوصی درخواست اور انسانی ہمدردی پر اس بات کا فیصلہ کیا گیا ہے

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں